موبائل ہاتھ میں آیا تو
کتاب کو بھول گیا
یوٹیوب پر "پڑھائی" سرچ کی
گیم کھیل کر سو گیا
نوٹیفیکیشن آئی "اسائنمنٹ جمع کرو"
ہم نے کہا "سر لائٹ نہیں تھی"
اصل میں تو نیٹ سارا
ریلز دیکھنے میں گیا

موبائل اور پڑھائی سنیں
موبائل ہاتھ میں آیا تو
کتاب کو بھول گیا
یوٹیوب پر "پڑھائی" سرچ کی
گیم کھیل کر سو گیا
نوٹیفیکیشن آئی "اسائنمنٹ جمع کرو"
ہم نے کہا "سر لائٹ نہیں تھی"
اصل میں تو نیٹ سارا
ریلز دیکھنے میں گیا
شاعر
محمد شہیر کی عمر 13 سال ہے ، ان کا تعلق لاہور سے ہے۔ آٹھویں جماعت میں پڑھتے ہیں۔ ذہین ہونے کی نشانی ہے کہ وہ نظمیں لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔