آئی ہے پھر گرمی کی رت سہانی
سورج نے پہنی چادر نورانی
سڑکیں تپتیں، چھتیں انگارہ
ہوا بھی جیسے مانگے سہارا
دوپہر ڈھلے تو سایہ ترسے
پرندے بھی اب پانی کو برسے
نلکے سے ٹھنڈا پانی آئے
جسم کی ساری تھکن بہا جائے
امی کی ہاتھ کی لسی ٹھنڈی
برف ڈلی ہو، دھوپ سے لڑتی
سکنجبین کے گھونٹ میٹھے
دل کو لگتے جیسے رشتے
آموں کا رس جب ہاتھوں بہے
فریج کی ٹھنڈک سانسوں میں رہے
بجلی جائے تو چھت کا کنارہ
تاروں تلے نیند کا نظار
شام کو جب سورج ڈھل جاتا
گلی کا ہر کونا پھر ہنس جاتا
بچوں کی کرکٹ، قہقہے، شور
گرمی میں بھی ہے اپنا ہی نور
گرمی سہی، پر شکوہ نہیں
اس موسم کی بھی بات نئی
صبر سے سہہ لیں، شکر کریں
رب کی ہر نعمت کا ذکر کریں
کیونکہ دھوپ کے بعد ہی آتی
بارش کی وہ ٹھنڈی راتیں
(ہادیہ شاہد۔ کلاس ششم ۔ لاہور)
