جنگل کے اِک کونے میں تھی دوستی اِک انوکھی
بھالو میاں تھے مست تو خرگوش بھی تھا جوشی
بھالو کی باتیں تھیں سدا سب کے لیے ہی پیاری
خرگوش کی چالیں بھی تھیں جنگل میں سب پر بھاری
بھالو نے اِک دِن کھایا جب شہد کا اِک چھتہ
خرگوش ہنس کر بول اُٹھا کیا خوب ہے یہ رشتہ
دونوں ہی مل کر کھیلتے سبزے کی اُس وادی میں
اِک خوشنما منظر تھا یہ قدرت کی اُس شادی میں
خرگوش جب بھی دَوڑتا بھالو بھی سنگ بھاگا
دونوں کی اِس پریت پہ جنگل کا جنگل جاگا
دُکھ سکھ کے یہ ساتھی سدا رہتے ہیں ہنستے گاتے
دُنیا کو سچی دوستی کا سبق یہ سکھاتے
اِس نظم کا کہنا سنو دوستی ہے اِک تحفہ
بھالو ہو یا خرگوش سب ہیں خدا کا جلوہ
