سر پر باندھی پگڑی دیکھو
باتیں اس کی تگڑی دیکھو
ہولے سے جب آنکھیں کھولے
خود کو آتا آتا بولے
بالوں کو پکڑے آپی کے
سب پھاڑے صفحے کاپی کے
اس کو چھیڑے اس کو چھیڑے
گھر میں ہر دم اس کے پھیرے
کب کچھ ہے دیکھے بھالے یہ
ہر شے ہی منہ میں ڈالے یہ
ہاں اٹھتی ہے پھر گرتی ہے
پھرکی کے جیسے پھرتی ہے
اس کے دم سے ہی راحت ہے
ہاں سب کے دل میں چاہت ہے
سر پر باندھی پگڑی دیکھو
باتیں اس کی تگڑی دیکھو

