شانی مکتب جاتا ہے
بستے کو لہراتا ہے
دل سے پڑھتا رہتا ہے
آگے بڑھتا رہتا ہے
بالوں میں کنگھی کر کے
آنکھوں میں سرمہ بھر کے
سیدھے رستے چلتا ہے
رب کے آگے جھکتا ہے
بل کھاتے اور لہراتے
پیارا اک نغمہ گاتے
شانی اچھلے اور کودے
مکتب کو آتے جاتے
جی جاں سے پڑھتا جائے
آگے وہ بڑھتا جائے
تارا بن کر چمکے گا
پیارا بن کر چمکے گا

