پورا محلہ سج چکا تھا۔ہر طرف سبز ہلالی پرچم لہرائے جاچکے تھے۔رحیم چچا معمول کے مطابق گلی کی نکڑ پر بنی چائے کی ٹپری پر بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لے رہے تھے۔آس پاس بچے اور بڑے سفید لباس ان پر پاکستانی بیج لگائے گھوم رہے تھے۔ایک نوجوان خامشی سے رحیم چچا کے سامنے اداس بیٹھا تھا۔
"بیٹا! تم کب سے یہاں اکیلے بیٹھے ہو،نہ کوئی دوست نہ ہی سفید لباس پر سجا ہوا کوئی بیج کیا ماجرا ہے؟"
"چچا! کیسی آزادی کیسے نعرے،جس ملک میں منتہیٰ کی عزت اور جان غیر محفوظ تھی۔"
