14 اگست تھا۔بینک کے باہر لمبی قطار تھی۔سب کے ہاتھوں میں چھوٹے جھنڈے تھے۔ نعرے بھی لگ رہے تھے'پاکستان زندہ باد'۔
قطار میں ایک بوڑھا چوکیدار بھی کھڑا تھا۔ پنشن لینے آیا تھا۔3گھنٹے بعد اس کی باری آئی تو کیشئر نے کہا:
''سرور! سسٹم ڈائون ہے، کل آنا۔''
بوڑھا خاموشی سے مڑ گیا۔جیب سے جھنڈا نکالا،چوما اور جیب میں رکھ لیا۔گھرگیا تو پوتے نے پوچھا:
''دادا! جشن کیسا تھا؟''
وہ بولا:
''بیٹا! جشن تب ہوگا، جب قطار میں امیر غریب ایک جیسے ہوں۔آزادی تب ہوگی، جب وعدے پورے ہوں گے۔
