''بتول بچے!اِن پرندوں کو قید کیوں کر رہی ہیں؟'' فا طمہ نے اپنی بیٹی سے سوال کیا۔وہ پرندوں کو قید کر رہی تھی۔
''ماما جان!یہ مجھے خوشی دے رہے ہیں ایسے قیدی بن کر۔'' بتول نے جواب دیتے ہوئے پنجرے کو مضبوطی سے بند کر دیا۔ فا طمہ بولیں:
''بتول!آپ کی خوشی ان پرندوں کی دل آزاری ہے۔ قید انسانوں کو ہی نہیں، پرندوں کو بھی اذیت دیتی ہے۔''
اُن کے اِس جواب پر اُس نے نم آنکھوں سے فوراً پنجرہ کھول کر تمام پرندوں کو آزاد کر دیا۔ آزادی انسانوں کے ساتھ پرندوں کو بھی پیاری ہے۔
