سرحد کے اُس پار رات خون میں ڈوبی تھی۔ قافلہ پاکستان کی طرف بڑھ رہا تھا۔اچانک حملہ ہوا، چیخیں بلند ہوئیں اور قافلہ بکھر گیا۔ایک بوڑھی ماں نے بیٹے کو دھکیل کر کہا:
''تم بھاگو! مجھے چھوڑ دو۔''
بیٹا روتا ہوا بولا:
'' اماں!آپ کے بغیر کیسے؟''
ماں نے ہاتھ سے اُس کے سینے پر سبز کپڑا باندھا:
''بیٹا!مجھے چھوڑو،اِس پرچم کو بچانا، یہی نسلوں کی پہچان ہے۔''
وہ صبح پاکستان پہنچا مگر ماں نہ مل سکی۔برسوں بعد بھی وہ ہر14اگست پرچم لہراتا تھا کیوں کہ وہ کپڑا نہیں،ماں کی دُعا تھی۔
