اُس نے پہلا قدم اُٹھایاتواِک منظر لہرایا :
''یہ ملک رہنے کے لائق نہیں ،کچھ نہیں یہاں۔'' کوئی نوجوان گولڈ میڈل پکڑے کہہ رہا تھا ۔
دوسرا قدم اک نیا منظر سامنے لایا :
''پرچم لگانے سے حالات نہیں سدھرتے۔''
پانچویں قدم پہ پانچواں منظر تھا ۔جب کرکٹ میچ جیتنے پر 'دِل دِل پاکستان'کا شور مچا مگر اسٹیڈیم سے نکلتے ہی ساری محبت ہوا ہو گئی۔وہ اس مسافت سے تھکنے لگا، تبھی اِک اور منظر سامنے تھا:
''شکریہ پاکستان!یہ پودا تمھارے لیے۔''وہ مسکرا اُٹھا ۔
آزادی کے قدر شناس نفوس ہی اس اُناسی سالہ وجود کی امنگ تھے۔
