کمرے سے نکلتے ہی وہ حیرت سے دیوار پر لگی جھنڈیاںاور غبارے دیکھ رہی تھیں:
''یہ سب کیا ہے؟''
''دادو! آج14اگست ہے اور آزادی کے نام پر یہ دن ہی تو ملتا ہے کہ ہم جشن منا سکیں۔''
وہ آبدیدہ ہو گئیں۔
''دادو کیا ہوا؟''وہ پریشان ہوا۔
''آج کے جشن کے لیے میرا سارا خاندان ختم ہوگیا۔ شروع کے دن خیمے میں گزارے، پھر لے پالک بیٹی بن گئی۔ اگرپتا ہوتا کہ آزادی صرف جشن منانے کے لیے ہے تو ہم کبھی بھی آزاد نہ ہوتے۔''
اُن کے آنسو دیکھ کر ارسم شرمندہ ہو گیا۔
(ایمن پارس پریہان،جڑانوالہ)
