چودہ اگست آتا ہے تو گلیاں پرچموں سے، فضائیں نغموں سے اور چہرے اُمیدوں سے سج جاتے ہیں؛ مگر دل کے اندر ایک سوال چراغ کی طرح جلتا ہے، کیا آزادی سرحد کے حصول کا نام ہے؟ اگر بیٹی کا تحفظ خواب، مزدور کی روٹی سوال، قلم کی صداقت پابند اور انصاف منتظر رہے تو جشن کی روشنی میں یہ اندھیرے کیوں دکھائی دیتے ہیں؟ آزادی وہ صبح ہے جہاں خوف بے گھر، ظلم بے توقیر اور انسان باوقار ہو۔
آئیے! پرچم لہرائیں مگر اپنے ضمیر میں آزادی کا چراغ روشن کریں؛ کیونکہ وطن زمین نہیں، ذمہ داری بھی ہے۔
