چودہ اگست کے جشن میں احمد اچانک ٹھٹھک کر رُک گیا۔ اُس نے دیکھا کہ کچھ بچے گلی میں گری ہوئی قومی جھنڈیوں کو قدموں تلے کچل رہے تھے۔ احمد نے اپنے ہاتھ میں پکڑی جھنڈی دیکھی تو اُس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اُس نے تڑپ کر زمین سے کچلی ہوئی جھنڈیاں اُٹھائیں اور چومنے لگا۔
سب بچے حیرت سے دیکھنے لگے تو احمد جذباتی انداز میں بولا:
"ہمارے بزرگوں نے اِس ملک کی خاطر خون بہایا تھا، ہم اپنے پرچم کو یوں پامال نہیں کر سکتے!"
اُس کے اِن سچے الفاظ نے تمام بچوں کو شرمندہ کر دیا۔ پھر وہ سب خاموشی سے زمین سے جھنڈیاں چننے لگے۔
