ارسلان ! ایک بار پھر سے سوچ لو.کہیں تم غلط تو نہیں کرنے جا رہے ہو۔
بھائی جان!مجھے بہتر مستقبل کے لیے اب باہر جانا ہی جانا ہے۔
ہم نے دن رات ایک کر کے تمہیں اعلیٰ تعلیم دلوائی تھی کہ تم ملک و قوم کی خدمت کرو گے۔
اس ملک نے ہمیں دیا ہی کیا ہے؟جو ہم اس کی خدمت کریں۔
بدلے میں تم ملک کو کیا دے کر جا رہے ہو۔
بھائی جان آپ نے میری آنکھیں کھول دی ہیں۔ اپنے ملک کو ہم نہیں تو اور کون سنوارے گا۔
ارسلان نے واپس مڑتے ہوئے کہا۔۔

