رحمت ، کسان اکبر کو ہمیشہ تنگ کرتا تھا۔ ایک دن وہ زبردستی اُس کی تیار فصل پر قبضہ کرنے آ گیا اور غرور سے للکارا:
''اگر تمھاری فصل پر قبضہ کرلوں تو تم میرا کیا کرلوگے؟''
اکبر نے آسمان کی طرف نظر اُٹھائی ، بولا:
''میں تو کچھ نہیں کر سکتا، لیکن وہ...''
رحمت اُس کا مذاق اُڑا کر چلا گیا۔ اگلے دن اُسے تاجر فضل سے بڑی رقم بطور قرض چاہیے تھی۔ تاجر نے کہا:
'' قرض چاہیے تو اکبر کسان کو لاؤ، مجھے تم پر بھروسا نہیں۔''
رحمت کے کانوں میں اکبر کا لفظ 'وہ' گونجنے لگا۔
