نذیر گھر کی دہلیز پر، ہاتھ میں آم لیے کھڑا تھا۔ وہ آم چوس رہا تھا۔ اُس کی نظر سامنے کھڑے ارشی پر پڑی۔ وہ دس سالہ لڑکا کیلا کھا رہا تھا۔ اچانک اُس نے کیلے کا چھلکا سڑک پر پھینک دیا۔ ریڑھی والے نے اُسے گھورا:
چھلکا زمین پر نہیں گراتے! کوئی گر جائے گا۔
ارشی بولا:
کوئی نہیں گرتا ، آپ اپنا کام کریں، ہوں!
اسی وقت اُس کے کانوں سے نذیر کی آواز ٹکرائی:
ارشی !کیلے والے بابا ٹھیک کہہ رہے ہیں۔
ارشی نے دیکھا ، وہ آم کا چھلکا نیچے گرا کر اندر جا رہا تھا۔
