قسط 15
دو فائر
ڈرائنگ روم کے بیرونی دروازے میں گامی ، شازی ہاتھوں میں جدید ریوالور لیے کھڑے تھے۔ اُن کے چہروں پر شیطانی مسکراہٹ تھی۔
''اوہ...ارے...تم...تم گامی اور شازی...'' الفاظ حمود کے حلق میں پھنس کر رہ گئے۔
''کک...کک...کیا ہوا...ڈر گئے...فاروق!'' گامی ہنسا۔
''کوئی ایسا ویسا...خوب ڈرا ہوں ...بلکہ مسلسل ڈرے جا رہا ہوں... یہ... یہ ...دیکھو...اب تو باقاعدہ کانپنے بھی لگاہوںمیں۔'' فاروق نے کہا ۔ وہ واقعی کانپنے لگا تھا۔
''تو اصل فساد کی جڑ تم ہو...اور تم شروع سے ہمارے ساتھ کھیل، کھیل رہے تھے...بل کہ ہمیں بے وقوف بنا رہے تھے...!'' فرحانہ نے غصے سے کہا۔
''بڑی سمجھ دار ہو فرحانہ...'' گامی ہنسا۔
''اور وہ تمھاری دَرد بھری کہانی...!''
''وہ جھوٹی تھی...''
''گویا تم اداکاری کرتے اور مسلسل جھوٹ بولتے رہے ہو۔''
''ہاں! مجھ سے زیادہ جھوٹا اور بڑا اداکار دُنیا میں کوئی نہ ہوگا۔'' وہ مسکرایا۔
''اوہ...تب تو تمھیں دینا بنتی ہے...'' فاروق نے خوش ہو کر کہا۔
''کیادینا بنتی ہے...؟اور تم اب بھی اِسے کچھ دینا چاہتے ہو؟پاگل آدمی۔'' فرحانہ غصے سے فاروق کی طرف پلٹی۔
''فکر نہ کرو فرحانہ...میں فضول خرچ نہیں ہوں...اِسے کوئی قیمتی چیز نہیں دینے والا...''
''تو پھر کیا دینے والے ہو...؟'' اُس نے تلملا کر کہا۔
''مبارک باد ...''وہ چونکی۔
''بھئی! دُنیا میں اِس سے زیادہ جھوٹا اور بڑا اداکار کوئی نہیں ہے، اِس پر مبارک باد تو بنتی ہے نا...وہ دینا چاہتاہوں،آخر اتنا وقت یہ ہمارے ساتھ رہا ہے۔'' فاروق کہتا چلا گیا اور فرحانہ منہ بنا کر رہ گئی۔
''بھب...بھب...بہت شکریہ فاروق۔''
''اب یہ شکریہ کس بات کے لیے...؟'' حمود نے جھلا کر پوچھا۔
''مبارک باد کے لیے شکریہ ادا کر رہاہوںحمود...'' وہ ہنسا۔پھر اُس نے خرم کو گھورا:
''خرم! میں تو تمھیں ایک بہادر آدمی سمجھتا تھا لیکن تم تو ٹھس نکلے...فوراً ہی ہار مان گئے۔'' گامی کی آواز قدرے بدلی ہوئی تھی۔
''اوہ...اوہ...! آپ...'' خرم زور سے اُچھلا۔
''تم سب مل کر مجھے مروانے والے تھے خرم...اس لیے مجبوراً مجھے سامنے آنا پڑا۔'' گامی نے جھلاتے ہوئے کہا۔
''وہ...وہ سر...پرویز اختر...!! '' خرم منمنایا۔
''بھاڑ میں جائے وہ اور سب...''
'' مطلب! اِس سارے کھیل کے پیچھے تم ہو؟'' انسپکٹر جنید مسکرائے۔
''ہاں! سب کچھ میرے اشاروں پر ہو رہا تھا۔''
''اور وہ موٹا باس...؟'' اکرام نے پوچھا۔
''وہ میرا بے خبر آدمی ہے...'' وہ ہنسا۔
''بے خبر...کیا مطلب!'' وہ چونکے۔
''اُسے اتناتو بتا یا گیا تھا کہ اصل کھیل کچھ اور ہے، کیا ہے...یہ نہیں بتایا گیا تھا... جو لوگ تم سے ٹکرائے،سب کٹھ پتلیاں تھیں میری۔''
''اوہ...اور وہ پرویز اختر...''
''عقل سے پیدل ایک امیر لیکن لالچی آدمی...چند لاکھ میں میرا ساتھ دینے پر فوراً آمادہ ہوگیاتھا...انسپکٹر جنید! پیسے میں بڑی طاقت ہے اور اس طاقت سے میں نے بہت سے شریف لوگوں کو بھی خریدا ہے...اُن کے ایمان اور حب ولوطنی ، سب کی قیمت لگائی ہے میں نے...میں تمھارے ساتھ رہا لیکن میرا مشن مسلسل آگے بڑھتا رہا ...'' گامی کہہ رہا تھا۔
''اوہ...اوہ...اتنے گہرے تھے تم...ہم جان ہی نہ سکے...افسوس!'' حمود نے کہا۔
''یہی گامی، شازی کا کمال ہے...کوئی ان کی سوچ تک نہیں پہنچ سکتا۔''
''لیکن پرویز اختراور باقی لوگ تو پولیس کے قبضے میں آ چکے ہیں۔ اُن کے سامنے تو مردے بول پڑتے ہیں،وہ سب بتا دیں گے تمھارے بارے میں۔''
''ہاہاہاہا...وہ کچھ نہیں بتا سکیں گے...میں ان کے سامنے کبھی گیا ہی نہیں ، بس کبھی کبھی میری آواز سنتے رہے ہیں وہ...'' گامی ہنسا۔
''اور انسپکٹر جنید! ہم تو اب یہی چاہتے ہیں...ہمارے سب لوگ پکڑے جائیں...''
''اوہ...بڑے پکے کام کئے ہیں تم نے...'' اکرام مسکرایا۔
''ہاں! لیکن آپ نے میرا نٹرویو کیوں شروع کر دیا۔ کہیں اخبار میں تو شائع نہیں کرانا چاہتے ...؟'' گامی ہنسا۔
''اوہ، نہیں...آپ کو بُرا لگ رہا ہے تو نہیں کرتے انٹرویو۔'' فاروق نے جلدی سے کہا۔
''اب پیچھے رہ کیا گیا ہے...دو یا تین سوال...جلدی سے وہ بھی کرلو ... کیوں کہ اِس کے بعد تو آپ سب نے اللہ کے پاس چلے جانا ہے۔''
''کک...کک...کیا مطلب..کیا تم ہمیں جان سے مارنے کا ارادہ رکھتے ہو؟'' فاروق گھبرا گیا۔
''ہاں! ایسا ہی پروگرام ہے میرا...اور مجھے یقین ہے، تم سب میرے ساتھ تعاون کرو گے۔'' گامی نے ہنستے ہوئے کہا۔
''تعاون...کیسا تعاون...!!'' خان رحمان نے چونک کر پوچھا۔
''یہ کہ تم اپنی جانیں میرے حوالے کر دو گے۔''
''ایسا بالکل نہیں ہوگا، یہ جانیں جس کی دی ہوئی ہیں، ہم تو اسی کے حوالے کریں گے...اور شوق سے کریں گے۔'' حمود نے کہا۔
''گامی!یہ بتاؤ، ہال کے پانچ دروازوں کا کیا راز ہے... مجھے یقین ہے، وہاں خفیہ راستا یا راستے ہوں گے...یا کوئی تہہ خانہ...'' انسپکٹر جنید کہہ رہے تھے کہ گامی مسکرانے لگا۔
''کیا ہوا...میں نے غلط کہا کیا...؟''
''نن...نہیں...آپ نے ٹھیک کہا انسپکٹر جنید...وہاں خفیہ راستے بھی ہیں اور تہہ خانہ بھی...پانچوں گلیوں کے نیچے ایک بہت بڑا تہہ خانہ ہے۔''وہ مسکرایا۔
''تو کیا موٹے باس کو ان کے بارے میں سب پتا تھا؟''
''نہیں ،اُسے صرف ایک راستے کا پتا تھا جو گلی نمبر پانچ میں موجود کمرے سے ہوتا ہوا ہال میں آتا تھا...یہ راستے اوپر اوپر سے ہال تک آتے ہیں...تہہ خانہ تو بہت نیچے ہے...''گامی کہہ رہا تھا۔
''اور اس تہہ خانے میں کیا ہے..کیا بتانا پسند کرو گے ؟'' فرحانہ نے کہا۔
''اس میں پڑوسی ملک کا بنا اسلحہ ہے اور...'' وہ کہتے کہتے رک گیا۔
''اور کیا...جلدی بتاؤ نا...کیوں سسپنس پیدا کر رہے ہو؟'' فاروق نے منہ بنایا۔
''وہاں دو خوکش بمبار ہیں..حملہ کرنے کے لیے بالکل تیار،بس انھیں خرم کے اشارے کا انتظار ہے...اِس کے موبائل سے ایک ایس ایم ایس یا کال جانے کی دیر ہے...اور...'' وہ ایک بار پھر چپ ہوگیا۔
'اوہ...ارے باپ رے...تم تو بڑی خطرناک باتیں کر رہے ہو...!!'' فاروق گھبرا اُٹھا۔
''اور ہمیں بے تحاشا ڈرانے کی کوشش کر رہے ہو۔'' حمود نے کہا۔
انسپکٹر جنید خاموشی سے اُن کی باتیں سن رہے تھے۔خرم آنکھیں پھاڑے گامی، شازی کو دیکھ رہا تھا...
''ابا جان! اِس کے ارادے تو بڑے ہول ناک ہیں ...پہلے ہی بڑی مشکل سے خود کش بمباروں کو روکا گیا ہے...یہ پھر لے آیا...آخر لوگ اپنی جانیں دینے کے لیے کیسے تیار ہو جاتے ہیں ؟'' فرحانہ نے کہا۔
''بس کچھ سر پھرے لوگ اب بھی دُنیا میں ہیں جو بے وقوف بن جاتے ہیں ...غربت اور بے روزگاری کے علاوہ بھی کچھ عوامل ایسے ہیں کہ نوجوان لڑکے اپنی جان دینے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں ۔'' انسپکٹر جنید کہتے چلے گئے۔
''آپ نے ٹھیک کہا انسپکٹر جنید ...میں نے ان دو بمباروں اور سہولت کاروں پر لاکھوں روپے خرچ کئے ہیں ۔'' گامی نے کہا۔
''لیکن کیوں خرچ کئے ہیں...سوال تو یہ ہے؟''
''مجھے کروڑوں روپے ملیں گے اور...'' وہ چپ ہوگیا اور مسکرانے لگا۔
''اوہ...اور کیا...!!'' فرحانہ نے پوچھا۔
''تم میرا وقت ضائع کررہے ہو...'' وہ چونکا۔
''ارے نہیں...ایسا کچھ نہیں ہے...مرنے والوں کی آخری خواہشات کا احترام کیا جاتا ہے...تم یہی کر رہے ہو...'' حمود نے کہا تو گامی زور سے ہنسا۔
''آہستہ ہنسو...خرم کے گھر والے کیا کہیں گے؟'' فاروق نے منہ بنایا۔
''کک...کوئی بات نہیں ...وہ آوازیں نہیں سنیں گے۔'' خرم نے بوکھلا کر کہا۔
''کک...کیوں نہیں سنیں گے وہ...'' فاروق نے اُس کے انداز میں کہا تو سب ہنس پڑے۔
''اس لیے کہ وہ اس وقت گھر میں موجود نہیں ہیں...صرف چھوٹا بھائی ہے اور وہ یہاں سے دُور ایک کمرے میں بیٹھا میچ دیکھ رہا ہے۔''خرم نے کہا۔
''ہاں تو میں کہہ رہا تھا...خرم کا اشارہ ملتے ہی دونوں بمبار اپنے سہولت کاروں کے ساتھ تہہ خانوں سے نکل کر دو مختلف مقامات پر حملہ کریں گے۔'' گامی نے کہا۔
''اوہ...کن مقامات پر...؟'' فرحانہ نے جلدی سے پوچھا۔
کل صبح شہر میں دوکانفرنسز ہو رہی ہیں ...ایک میں ملک کے نامور دانشور، ادیب اور شاعر حضرات شرکت کر رہے ہیں...اور دوسری میں ملک بھر سے آئے ہوئے ماہرین تعلیم ...گویا ملک کے بہترین دماغ اس شہر میں جمع ہو رہے ہیں۔ اب سوچو۔ دونوں مقامات پر ایک ہی وقت ہی خود کش حملہ ہوجائے تو شہر کا کیا حال ہوگا...؟ قیامت سی نہیں آجائے گی.. سیکڑوں لوگ مریں گے..ہر طرف خون ہی خون ہوگا اور میرے...'' وہ ایک بار پھر خاموش ہوگیا ۔
''تم بار بار رُک کیوں جاتے ہو...؟ایک ہی نشست میں سب کہہ دو۔'' حمودنے جھلا کر کہا۔
''اور میرے اندر سکون ہی سکون ہوگا...''
''اوہ...تم تو بڑے ظالم آدمی ہو...مجھے افسوس ہو رہا ہے...میں نے تمھارے ساتھ مل کر کھانا کھایا تھا۔'' فاروق نے نفرت سے تھوک دیا۔
''اوہ...اوہ...کتنا خطرناک منصوبہ ہے تمھارا۔''
''ہاں...وہ تو ہے...بات فرحانہ کے اغوا سے شروع ہوئی تھی اور میں نے پہنچا کہاں دی...ہے نا...'' گامی نے کہا۔
''گامی! تم ایک بات بھول رہے ہو...'' اکرام نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''باس والی عمارت کوپولیس نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے...وہ اس کے اندر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ تمھارے خودکش بمبار باہر کیسے نکلیں گے...؟''
''تم فکر نہ کرو اکرام...وہ نہ صرف باہر نکلیں گے بلکہ کامیابی سے اپنامشن بھی پورا کریں گے۔''
''لیکن کیسے...؟''
''تہہ خانے سے دو راستے برابر والی کوٹھیوں کے نیچے سے ہوتے ہوئے خالی پلاٹس میں جاتے ہیں...ان پلاٹس کے گرد چار دیواری ہے...مزے کی بات بتاؤں...وہ کوٹھیاں میں نے ہی تعمیر کرکے فروخت کی ہوئی ہیں۔'' گامی نے کہا۔
''چلیں!اب مرنے کے لیے تیار ہوجائیں..بہت باتیں ہوگئیں، لیکن ٹھہرو...میںخرم سے اُس کا موبائل لے لوں۔لاؤ بھئی !یہ موبائل اب مجھے دے دو۔ اشارے والا کام میں اب اپنے ہاتھوں سے کروں گا...تم نے تو ہار مان لی ہے۔'' گامی نے ہنستے ہوئے کہا۔ وہ بڑا مطمئن دکھائی دے رہا تھا۔
''اور اگر یہ موبائل تمھیں نہ دے تو...؟'' انسپکٹر جنید مسکرائے۔
''کیوں نہیں دے گا۔خرم! موبائل میرے حوالے کردو...'' گامی چونک اُٹھا۔
''خرم! تم نے سنا نہیں، اپناموبائل گامی کو دے دو...جلدی کرو۔'' شازی نے چیخ کر کہا۔
'' خرم ساکت کھڑا تھا۔وہ گامی کو دیکھتا تو کبھی انسپکٹر جنید کو دیکھنے لگتا ۔
''خرم! موبائل مجھے دے دو...اور ان کی پروا نہ کرو...یہ تو اب مرنے ہی والے ہیں، تمھارا کچھ کچھ نہیں بگاڑ سکتے...''گامی نے بے چینی سے کہا۔
اچانک انسپکٹر جنید مسکرانے لگے۔
''آپ کو کیا ہوا...مسکرانے کیوں لگے؟'' شازی نے منہ بنایا۔
''انسپکٹر جنید موت کو سامنے دیکھ کر مسکرانے لگے ہیں۔ بھئی واہ! بڑی ہمت والے ہیں۔'' گامی ہنسا۔
''ہمت والا تو میں ہوں لیکن میری یہ مسکراہٹ کسی اور وجہ سے ہے۔''
''اور وجہ سے...!!''
''تم کتنے پاگل ہو...جس کھیل کو جاننے کے لیے شاید ہمیں بہت تگ و دو کرناپڑتی ، تم نے سب اپنے منہ سے کہہ دیا...''اُن کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔
''اس لیے سب بتا دیا کہ آپ کو میرے ہاتھوں سے کوئی نہیں بچا سکتا۔''
''غلط کہہ رہے ہو تم ...کوئی ہے جو ہمیں بچالے گا۔'' وہ مسکرائے۔
''کون ہے وہ...؟'' گامی اور شازی زور سے چونکے۔
''اللہ...زندگی اور موت تو بس اُسی کے ہاتھ میں ہے...''
''اوہ...'' شازی کے منہ سے نکلا۔
''خرم! تم نے سنا نہیں، اپنا موبائل مجھے دے دو۔''گامی نے چیختے ہوئے کہا۔
''نہیں دوں گا...'' اچانک خرم نے کہا اور ڈرائنگ روم کا اندرونی دروازہ کھول کر اندر بھاگ گیا۔
''اوہ...ارے...پکڑو اسے..'' گامی چیخا تو شازی انھیں بھول کر تیزی سے اس کے پیچھے لپکا لیکن پر فرش پر گر پڑا۔ فاروق نے اپنی ٹانگ اس کے آگے کر دی تھی۔اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتا...اس نے فرش پر گرا ہوا ریوالور اُٹھا لیا۔
''اوہ...اوہ...خرم! میں تمھیں نہیں چھوڑوں گا..تم میرا کھیل خراب نہیں کر سکتے۔''گامی چیخا۔
''وہ تو خراب ہوگیا ہے...'' انسپکٹر جنید مسکرائے۔
''میں سب کو جان سے مار دوں گا...''
''تو مار کیوں نہیں دیتے...خرم! اب یہاں نہیں ہے...شازی فرش پر گرا ہوا ہے ... اوندھے منہ گرنے کی وجہ سے اُس کے ناک سے خون نکل رہا تھا...'' انسپکٹر جنید کہہ رہے تھے کہ شازی اچھل کر کھڑا ہوگیا۔
''گامی! غرور کرنے والے انسان کبھی سکھ نہیں پاتے..اکڑی ہوئی گردن اکثر ذلیل کرواتی ہے...تم خود کو بہت عقل مند اور شاطر سمجھتے ہو لیکن دیکھ لو... اس وقت کس قدر بے بس ہو..خرم! تمھیں آخر وقت پر چکمہ دے گیا ہے...''
''اشارہ تو کل صبح ہی دینا ہے نا،اس وقت تک میں اس سے موبائل حاصل کر لوں گا...آپ اپنا لیکچر اپنے پاس ہی رکھیں تو اچھا ہے۔''گامی نے غصے سے کہا۔
''اوکے...رکھ لیا اپنے پاس ۔'' وہ مسکرائے۔
''شازی! فاروق سے اپنا ریوالور لے لو اور اندر جاکر خرم سے اُس کا موبائل چھین لو...اور ہاں! واپس آتے ہوئے اس کی کنپٹی میں ایک گولی بھی مار آنا... غدارکی میرے ہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔''گامی کا چہرہ غصے کی شدت سے سرخ ہو رہا تھا۔
''تمھارا مطلب ہے...میں شازی کو ریوالور...'' فاروق کہہ رہا تھا کہ اچھل کر گرا۔ شازی نے کمال پھرتی سے اس کے سینے پر مکا مارا تھا۔ انسپکٹر جنید نے اس کی مدد کرنا چاہی لیکن اتنی دیر میں شازی نے ریوالور اپنے قبضے میں کرلیا تھا۔
''انسپکٹر جنید! میں نے اس منصوبے پر بہت محنت کی ہے اور...'' گامی کہہ رہا تھا کہ انسپکٹر جنیدمسکرائے اور بولے:
''اور پڑوسی ملک سے بہت سا پیسہ لیا ہے...اتنا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتاہے۔''
''کک...کیا مطلب...'' گامی حیران رہ گیا۔
''مطلب صاف ہے،تم کسی کے اشاروں پر کام کر رہے ہواور میں جانتا ہوں، کون ہمارے ملک کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے...''
''ہاہاہاہا...ہاہاہاہا...آپ بہت تیز ہیں لیکن اب یہ تیزی آپ کے کسی کام نہیں آئے گی۔''گامی نے زور دار قہقہہ لگایا۔
''آپ لوگ ایک طرف ہوجائیں...'' شازی غرایا۔
''اور اگر نہ ہوں تو...؟'' فاروق نے منہ بنایا۔
''تو اندھی گولی یکے بعد دیگرے آپ لوگوں کے دماغوں میں گھس جائے گی...جلدی کریں...''
سب ایک طرف ہوگئے۔اندرونی دروازے کے سامنے اب کوئی نہیں تھا۔ یہ دیکھ کر گامی نے کہا:
''شازی! یہ لوگ ذرا بھی حرکت کرنے کی کوشش کریںتو بھون کر رکھ دینا، اب ان کے ساتھ کوئی رعائت نہیں کی جائے گی۔ میں خرم کی خبر لیتا ہوں۔''
یہ کہہ کر وہ تیزی سے ڈرائنگ روم کے اندرونی دروازے کی طرف بڑھا، لیکن اسی وقت خرم ڈرا سہما اندر آگیا۔ اس کا چہرہ پسینے سے شرابور تھا۔
''کک...کیا مطلب!!بھائی خرم،آپ یہاں کیوں آگئے؟'' حمود نے گھبرا کر اُسے دیکھا۔
''مم...مم...میں نے اندر جاکر بہت سوچا...'' وہ ہکلایا۔
''کک...کیا سوچا...اور کیا آپ اندر صرف سوچنے گئے تھے...؟ہم تو سمجھے ...'' فاروق کہتا چلا گیا۔
سبھی حیران تھے۔
''میں نے سوچا،مجھے کیا کرنا چاہیے...انسپکٹر جنید صاحب کا ساتھ دوں یا اُن کا جن کی بدولت میری زندگی سے مایوسی ختم ہوئی...اورمیں مالا مال ہوا۔''
''توپھر کیا سوچا آپ نے...'' فرحانہ نے جلدی سے پوچھا۔
''میں نے سوچا ہے،میں اپنے محسنوں کا ساتھ دوں گا۔'' خرم نے کہا۔ وہ مسکرا رہا تھا۔
''کیا ...!!!'' وہ چلا اُٹھے۔
''ہاں! میں احسان فراموش نہیں بنوں گا...آپ مجھے زیادہ سے زیادہ چند ہزار روپے تنخواہ والی نوکری دلوا سکیں گے جب کہ ان کا ساتھ دینے سے میں ہمیشہ لاکھوں میں کھیلوں گا...''
'اوہ...اور جو ابھی تھوڑی دیر پہلے کہہ رہے تھے...وہ...''
''وہ صرف جذباتی باتیں تھیں...'' خرم نے کہا اور آگے بڑھ کر گامی کے ہاتھ میں اپنا موبائل دے دیا۔ اُس نے موبائل پکڑ لیا۔ پھر اُس پر ایک نظر ڈالی اور بولا:
''تم واقعی ذہین اور سمجھ دار ہو خرم...میں یقین دلاتا ہوں، تم ہمیشہ پیسوں میں کھیلو گے۔'' گامی ہنس رہا تھا۔
''اب ان کاکیا کریں گے؟'' خرم نے انسپکٹر جنید کی طرف اشارہ کیا۔
''اِن کی موت تو یقینی ہے۔اگر یہ زندہ رہے تو میرا اصلی کھیل اُدھورا رہ جائے گا اور میں ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گا، بہت محنت کی ہے میں نے اس پر۔'' گامی نے ہنستے ہوئے کہا۔
''تمھارا کھیل تو اُدھورا ہی رہے گا، ان شا ء اللہ ...'' فاروق نے جلد ی سے کہا تو گامی نے اُسے بُری طرح گھورا۔ فاروق نے جلدی سے ہونٹ بھینچ لیے۔
''لیکن فائرنگ سے محلے والے جمع ہوجائیں گے...بڑی مشکل ہوجائے گی۔'' خرم پریشانی سے بولا۔
''محلے والے جمع نہیں ہوں گے۔'' شازی مسکرایا۔
''اس لیے کہ سب بہرے ہیں...'' فاروق نے بُرا سا منہ بنایا۔
''تم چپ رہو...مرنے والے لوگ ٹرٹر نہیں کیا کرتے...سمجھے!!'' گامی نے غصے سے فاروق کی طرف دیکھا۔
''مرنے والے کیا، کیا کرتے ہیں...مہربانی کرکے یہ بتا دیں۔''
''کیوں بتاؤں...میں تمھارا اُستاد نہیں ہوں...اور نہ ہی تم کسی سکول میں بیٹھے ہو...اور ہاں سن لو! تمھاری باتوں سے اب کچھ نہیں ہونے والا ہے...تم سب مرو گے ...بلکہ بہت سے لوگ مریں گے...ہاہاہاہا...ہاہاہاہا...'' گامی ہنسنے لگا۔
''سب کچھ اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے ...اُس کی مرضی نہ ہوئی تو ہمارا کیا، کسی کا بھی بال بیکا نہیں ہوگا...'' فاروق نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''باس! مجھے ایک اجازت دیں گے آپ۔'' اچانک خرم مسکرانے لگا۔
''کون سی اجازت...؟'' وہ چونکا۔
''اگر آپ کہیں تو میں اِنھیں موت کے گھاٹ اُتارد وں؟''
''ارے نہیں...یہ کام تو میں اپنے ہاتھوں سے کروں گا...'' گامی نے کہا اور شازی کو آنکھ مار کر ریوالور کے ٹریگر پر دباؤ بڑھانے لگا۔ شازی نے بھی ریوالور تان لیا تھا۔ خرم جلدی سے دیوار سے لگ گیا۔
حمود، فاروق اور فرحانہ نے جلدی سے انسپکٹر جنید کی طرف دیکھا۔ اُن کے چہرے پر سکون ہی سکون تھا۔وہ بولے:
''موت برحق ہے،اگر یہاں لکھی گئی ہے تو ہمیں کوئی بچا نہیں سکتا اور اگر ہماری زندگیاں باقی ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں صاف بچا لے گا....تم گولیوں سے بچنے کی کوشش کرنا اور خوب کرنا...''
ان کے خاموش ہوتے ہی دو فائر ہوئے اورحمود، فاروق اچھل کر گرے..
''ابا جان! حمود ، فاروق...'' فرحانہ چیخی۔
اسی وقت دو فائر اور ہوئے... اور گامی ، شازی کے ہاتھوں سے سائلنسر لگے ریوالور نکل گئے۔ اُن کے ہاتھوں سے خون فوارے کی مانند نکلا...وہ تیزی سے پلٹے...عین اُسی وقت انسپکٹر جنید اور اکرام عقاب کی طرح اُڑتے ہوئے گامی ، شازی سے ٹکرائے اور انھیں لیتے ہوئے زمین پر گرے...پھر انھوں نے دونوں کو ٹھوکروں پر رکھ لیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے گامی اور شازی ادھ موئے سے ہوگئے۔
''لو بھئی گامی اور شازی! تمھارا کھیل توبے موت ہی مرگیا۔اب کیا کرو گے؟ '' انسپکٹر جنید نے مسکراتے ہوئے کہا۔
گامی ، شازی کی تو جیسے ماں ہی مر گئی تھی۔ وہ بے بسی سے اُنھیں دیکھ رہے تھے۔
''سر!اپنے اصل کھیل کی موت کا سوگ منائیں گے اور یہ کر ہی کیا کرسکتے ہیں۔'' اکرام نے انسپکٹر جنید کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
''اور کیا...آئے تھے دو دو کھیل کھیلنے...'' خان رحمان نے منہ بنایا۔
''سوری سر! ہمیں تھوڑی دیرہوگئی...'' خفیہ فورس کے نمبر ایک نے کہا۔
''لل...لیکن وہ حمود اور فاروق...''
''فکر نہ کرو...وہ ٹھیک ہیں۔'' انسپکٹر جنید نے کہا اور پلٹے ۔ حموداور فاروق بیٹھے مسکرا رہے تھے۔ اُنھوں نے بڑی مہارت سے خود کو گولیوں سے بچایا تھا۔
'' میں نے کہاتھا نا کہ تمھارا کھیل تو اُدھورا ہی رہے گا ، دیکھ لو! نا صرف اُدھورا رہا بل کہ بے موت مارا گیا ہے۔'' فاروق کہتا چلا گیا۔
''سر! یہ لیں سم...'' خرم نے جیب سے ایک سم نکال کر انسپکٹر جنید کے ہاتھ پر رکھ دی۔
''یہ...یہ کیا ہے؟'' فرحانہ نے حیرت سے پوچھا۔
''اشارے والی سم،اصل سم یہ ہے۔میں نے اندر جاکر دوسری سم موبائل میں ڈال دی تھی...میں نے ماضی میں جو کیا، سو کیا...اب اور نہیں...میں اب وطن کی تعمیر کے لیے جینا چاہتا ہوں...اللہ کریم مجھے معاف کرے۔'' خرم نے کہا۔ اُنھوں نے دیکھا۔ اُس کی آنکھوں میں یکایک آنسو اُتر آئے تھے۔
''اوہ...!!! '' فرحانہ کے منہ سے نکلا۔
''بہت شکریہ!اب آپ جائیں ...باقی ہم سنبھال لیں گے۔'' انسپکٹر جنید نے خفیہ فورس کے لوگوں سے کہا ۔
''یس سر...'' اُنھوں نے کہا اور چلے گئے۔
''اکرام! گامی اور شازی کو گاڑی میں ڈالو ہمیں ابھی بہت سے کام کرنے ہیں۔جلدی کرو...''
''اوکے سر...'' اکرام نے کہا ۔
''اور تمھیں ہمارے ساتھ رہنا ہوگا۔تمھارے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے، یہ آخری گرفتاری کے بعد طے کیاجائے گا...'' انسپکٹر جنید نے خرم سے کہا۔
''ٹھیک ہے سر...میں آپ کے ساتھ ہوں۔'' خرم مسکرایا۔
صبح ہونے سے پہلے موٹا باس کے اڈے میں موجود خفیہ تہہ خانوں سے سب لوگ گرفتار کرلیے گئے۔ وہ فارغ ہوئے تو حمود۔ فاروق اور فرحانہ نے پروفیسر داؤدکو گھیر لیا:
''پروفیسر انکل! آپ کے دیے ہوئے گفٹ تو ٹھس نکلے...''
''کک...کیا مطلب...؟'' وہ چونکے ۔
''مطلب یہ کہ ...تینوں موبائل گھڑیاں ایک ساتھ خراب ہوگئیں...ہے کوئی تک...'' فاروق نے بُرا سا منہ بنایا۔
''اوہ....!!'' پروفیسر داؤد کے منہ سے نکلا۔
''یہ لیجئے...اور اِن کی نوک پلک درست کیجئے گا...'' فاروق نے کہا۔
''نوک پلک...'' وہ گھبرا گئے۔
''کیا ہوا...آپ گھبرا ئے کیوں...!!'' حمود نے جلدی سے کہا۔
''وہ...وہ گھڑیوں کی نوک پلک نہیں ہوتی ہے...'' وہ ہکلائے۔
''نہیں ہوتی تو کیا ہوا...آپ پہلے ان میں نوک پلک ڈال لیں پھر اُنھیں دُرست کر لیجئے گا...آیندہ یہ بند نہ ہوں...میں نے کہہ دیا ہے ہاں...غضب خدا کا ، عین موقع پر جواب دے گئیں۔'' فاروق کہتا چلا گیا۔
''تم پاگل ہو...آج یہ ثابت ہوگیا...'' فرحانہ مسکرائی۔
''تعریف کا شکریہ میری اچھی بہن...'' فاروق نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے سر جھکا کر کچھ ایسے انداز سے کہا کہ سب مسکرانے لگے۔
(ختم شدھ)

