قسط 12
ہم یہاں ہیں
''کیاہوا سر...؟'' اکرام نے چونک کر ان کی طرف دیکھا۔
''اوہ...مجھے لگتا ہے، موٹا ہمیں یہاں الجھا کر رکھنا چاہتا ہے.. اس کااصل کھیل کچھ اور ہے؟''انسپکٹر جنید اب تک کے حالات پر غور کر نے لگے۔
''جنید !آپ نے ٹھیک کہا... موٹے کا بظاہر منصوبہ تو ہمیں یہاں قید رکھنا ہے... شایدوہ ہمیں کچھ نقصان بھی پہنچاناچاہتا ہو لیکن درپردہ بات کچھ اور ہے...اور ہمیں اس در پردہ بات کی کھوج لگانی ہے۔'' خان رحمان نے کہا۔
''دروازوں کے پار کیا چکر ہے...؟خفیہ راستا کہاں ہے، جس کے ذریعے موٹا واپس ہال میں آیا تھا ۔''اکرم نے کہا۔
''موٹا کہہ رہا تھا ...ہم اس کی مرضی کے بغیر دروازہ نمبر ایک سے باہر نہیں نکل سکتے...!'' محمد حسین آزاد نے کہا۔
''تو کیا ہال سے باہر جانے کا کوئی اور راستا بھی ہے؟''پروفیسر داؤد نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''شکر ہے ،آپ بھی بولے...ورنہ میں تو سمجھا تھا...آپ یہاں ہیں ہی نہیں...'' خان رحمان مسکرائے۔
'' سب کو رسیوں سے باندہ دو...اورباس کو اُٹھاکر دیوار کے ساتھ ڈال دو...'' انسپکٹر جنید نے کہا۔
ایسا ہی کیا گیا... انسپکٹر جنید باس کے پاس آکر بیٹھ گئے:
''لوگوں کو مارنا مجھے پسند نہیں لیکن اگر کوئی خود ہی اپنی جان کا دشمن ہوجائے تو میں دیر نہیں لگاتا۔ میں تم سے صاف صاف پوچھتا ہوں...تم چاہتے کیا ہو؟''
''میں انسپکٹر جنید پارٹی کو یہاں قیدرکھنا چاہتا ہوں...''وہ ہنسا۔
''وہ تو ہم بھی جانتے ہیں، یہ بتاؤ...کیوں قید رکھنا چاہتے ہو؟''
''یہ نہیں بتاؤں گا...''
''نہ بتاؤ...میں تمھارے غلاموں سے اگلوا لوں گا۔'' وہ مسکرائے۔
''انسپکٹر جنید! میرے غلام کچھ نہیں جانتے۔ان کا کام لڑنا بھڑنا اور لوگوں کو اغوا کرنا ہے بس...اور میں ان کاموں کے انھیں اچھے خاصے پیسے دیتا ہوں۔''
''اوہ...لیکن یہ ہمارے سامنے تو ٹھس ہوگئے ۔'' اکرام ہنسا۔
''کوئی بات نہیں... کبھی کبھی ایسا ہوجاتا ہے۔'' وہ بھی ہنسا۔
''اچھا اب تم خاموش رہو گے...؟ انسپکٹر جنید نے کہا۔
''خان رحمان ...آپ یہاں سے نکلنے کی کوئی ترکیب سوچیں۔''
''مم... میں یعنی کہ میں...'' خان رحمان گڑبڑا گئے۔
''کیا ہوا ...کیا آپ کوئی ترکیب نہیں سوچ سکتے؟'' انسپکٹر جنید مسکرائے۔
''سوچ سکتا ہوں...ضرور سوچ سکتا ہوں۔''
''تو پھر...پہلے جملے کا کیا مطلب تھا۔''
''وہ مجھے فرحانہ کا خیال آگیا تھا...ترکیبیں سوچنا تو اس کا کام ہے نا۔'' خان رحمان مسکرائے۔
''فرحانہ...اوہ...اوہ... پتا نہیں... وہ کہاں ہیں ؟'' فرحانہ کے ذکر پر انسپکٹر جنید کو حموداور فاروق بھی یاد آگئے۔
''ہال میں چھ دروازے کھلتے ہیں۔ ان پر نمبر لکھے ہوئے ہیں۔ ہم جانتے ہیں... ایک نمبر والا دروازہ ہال سے باہرپہنچا دیتا ہے...پانچ نمبر دروازے کے اس پار ہم جا چکے ہیں ... اب رہ گئے دروازہ نمبر دو، تین، چار اور چھ... خان رحمان ! آپ دروازہ نمبر دومیں جائیں گے۔اکرام تم تین نمبر میں جا نا۔ محمد حسین آزاد،تم دروازہ نمبر چار دیکھو.. اور لیاقت... دروازہ نمبر چھ تمھارے ذمہ ہے۔ہمارے ٹارگٹ یہ ہیں... دروازہ نمبر پانچ میں خفیہ راستے کی تلاش... کوئی ایسی چیز جس سے اندازہ ہو، موٹے کا اصل منصوبہ کیا ہے۔ہال سے باہر جانے کادروازہ نمبر ایک کے علاوہ کوئی راستا... اب جاؤ... اور اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھو۔'' انسپکٹر جنید نے سب کو ہدایات دیتے ہوئے کہا۔
سب اپنے اپنے دروازوں میں گھس گئے۔ہال میں انسپکٹر جنید، پروفیسر داؤد اور اسد رہ گئے۔
''ہاں بھئی... تم کیا کرو گے؟''وہ اسد کی طرف مڑے۔
''سر... جو آپ حکم دیں گے... میں وہ بجا لاؤں گا... ان شاء اللہ۔'' اسد نے پرجوش لہجے میں کہا۔
'' یہ لو کپڑا اور تھوڑا تھوڑا پھاڑ کرسب کے منہ میں دے دو...جب انھیں ہوش آئے تو ان کے منہ سے آواز نہ نکلے۔'' انسپکٹر جنید نے مسکراتے ہوئے کہا اور جیب سے ایک بڑا سا کپڑا نکال کر اسد کو دے دیا۔ اسد نے باری باری سب کے منہ میں کپڑا ٹھونس دیا۔
''سر! یہ...یہ کسمسا رہے ہیں..ہوش میں آ رہے ہیں۔'' اچانک وہ چیخا۔
''کوئی بات نہیں...یہ اچھی طرح تو بندھے ہوئے ہیں نا...''
''جی سر!میں پہلے ہی دیکھ چکا ہوں... سب کے ہاتھ پاؤں مضبوطی سے بندھے ہیں... ہوش میں آنے پر بھی کوئی حرکت نہیں کر سکیں گے، ان شاء اللہ۔'' اسد نے مسکرا کر کہا۔
''ان شاء اللہ۔'' انسپکٹر جنید نے کہا اور ہال کی گولائی لیے ہوئے دیواریں ٹھونک بجا کر دیکھنے لگے۔ وہ اس وقت کمرہ نمبر پانچ کے سامنے کھڑے تھے۔ وہ بغور دروازے کو دیکھ رہے تھے۔اچانک وہ مسکرانے لگے۔
''کیا ہوا سر... آپ مسکرانے کیوں لگے؟'' اسد نے چونکا۔
''اوہ... اوہ... تو یہ چکر ہے۔''
''کک... کون سا چکر سر...''
''اسد... خاموش رہو... میں باقی دروازوںکو بھی دیکھ لوں۔ '' انھوں نے کہا۔ وہ باری باری سب دروازوں کو دیکھنے لگے۔ پھر ان پر جوش طاری ہوگیا۔وہ واپس دروازہ نمبر پانچ کے پاس آئے اور اُس کے سب سے اوپری قبضے کے ساتھ دیوارمیں لگا، گول سا دروازے کے رنگ جیسا بٹن دبادیا۔ بٹن کے دبتے ہی دروازہ نمبر چار کے اوپر دیوار میں سے چوبیس انچ کی ایل سی ڈی نکل آئی... ایل سی ڈی روشن تھی۔ اس پر گلی اور کمرے کا منظر الگ الگ دکھائی دے رہا تھا۔ گویا سی سی ٹی وی کیمروںکا استعمال کیا گیا تھا..... انھوں نے چھ کے چھ دروازوں کے اوپر ایل سی ڈیز نکال لیں۔پھروہ مسکراتے ہوئے باس کی طرف دیکھنے لگے۔ اُس کی آنکھیں مارے حیرت کے پھٹی جا رہی تھیں۔ انھوں نے ایک طرف پڑی باس کی بڑی سی کرسی اُٹھاکر ہال کے درمیان میں رکھ لی... اور بڑے اطمینا ن سے اُس پر بیٹھ گئے۔
''واہ... یہ ہوئی نا بات... سر! آپ نے تو کمال کر دیا۔''
انسپکٹرجنید نے مسکراتے ہوئے باس اور اس کے غلاموںکو دیکھا۔وہ پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔
''اب کیا کہتے ہو...'' انسپکٹر جنید نے باس کو گھورتے ہوئے کہا۔
وہ کچھ کہنے کے قابل کب تھا۔ اس کے منہ میں تو کپڑا ٹھنسا ہوا تھا۔ لیکن آنکھوں میں اُترا خوف اس کی بے قرار کیفیت کا پتا دے رہا تھا۔
وہ پانچ نمبر والی سکرین کی طرف متوجہ ہوئے۔ انھوں نے دیکھا... چھوٹی سرکار ابھی تک زمین پر ویسے ہی لیٹی تھی جیسے وہ اسے چھوڑ کر ہال میں واپس آئے تھے۔
''اوہ...یہ سارے لوگ ڈرامہ باز ہیں... بلکہ ان کی کوئی کل سیدھی نہیں ہے۔'' انسپکٹر جنید نے کہا اور دو نمبر والی سکرین کو دیکھنے لگے۔ خان رحمان ایک گلی میں کھڑے تھے۔ یہ ویسی ہی گلی تھی جو دروازہ نمبر پانچ کے اس پار تھی اور جس کے اختتام پر ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔
''ارے...یہ بھی وہی منظر...'' وہ چونک اُٹھے۔ پھر انھوں نے جلدی جلدی سب سکرینوں پر نظر ڈالی اور دھک سے رہ گئے۔ سب میں گلیاں دکھا ئی دے رہی تھیں اور اُن کے آخری سرے پر ایک چھوٹا سا کمرہ... دروازہ نمبر ایک میں گلی تو تھی لیکن اُس کے آخرپر چھوٹا کمرہ نہیں تھا بلکہ گلی آگے جاکر بائیں جانب گھومتی معلوم معلوم ہو رہی تھی۔
''اوہ...یہ کیا چکر ہے...''وہ پریشان ہوگئے۔ انھوں نے خان رحمان پر نظریں جمادیں۔وہ گلی کا بغور جائزہ لیتے ہوئے کمرے کی طرف جا رہے تھے، آخر انھوں نے کمرے کا دروازہ کھول دیا۔ اندر کا منظر دیکھ کر وہ بُری طرح اُچھلے۔ کمرے میں بڑی بڑی مونچھوں والا ایک بونا ٹانگیں پھیلائے کھڑا تھا۔
''اوہ...یہ تو بالکل چھوٹی سرکار جیسا دِکھتا ہے۔'' اُن کے منہ سے نکلا۔
''خان رحمان! آپ کو اسے زیر کرنا ہے ، تبھی آپ اس کمرے کا جائزہ لے سکیں گے۔''
لیکن خان رحمان کی طرف سے جواب نہ آیا۔ وہ کچھ کہتے معلوم ہو رہے تھے لیکن ان کی آوازہال میں نہیں آ رہی تھی۔ انھوں نے گردن گھما کر باس کی طرف دیکھا۔ اُس نے جلدی سے اُن کی طرف سے نظریں ہٹالیں۔ وہ چونک اُٹھے۔
''اوہ...خان رحمان کی آواز مجھ تک کیوں نہیں آرہی۔'' وہ سوچنے لگے۔ پھر بے اختیار اُن کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ کیا معاملہ ہو سکتا ہے۔ وہ کرسی سے اُٹھ کر اس کا جائزہ لینے لگے۔ جلد ہی کرسی کے بازوپر لگا ایک چھوٹا سا بٹن اُن کی نظروں میں آگیا۔ انھوںنے جلدی سے اُسے دبا دیا تو ہال میں خان رحمان کی آواز آنے لگی۔
''وہ مارا.. '' اسد نے چلا کر کہا تو نہ صرف اُن کے ساتھی چونکے بلکہ ہر کمرے میں موجود چھوٹی سرکاربھی چونک اُٹھی۔عجیب صورت حال تھی۔ پانچ کمروں میں ایک عدد مونچھوں والی چھوٹی سرکار موجود تھی۔ کمرہ نمبر پانچ والی سرکار بھی چونک کر اُٹھ بیٹھی تھی اور پریشان نظروں سے دیواروں کو دیکھ رہی تھی۔
''خان رحمان..اکرام..محمد حسین آزاد اور لیاقت..کیاآپ میری آواز سن رہے ہیں۔''انسپکٹر جنید نے پوچھا۔
''جی...ہم آپ کی آواز سن رہے ہیں...'' سب نے ایک ساتھ کہا۔ پھر خان رحمان کی آواز سنائی دی:
''لل...لیکن جنید ...''
''خوش خبری ہے کہ میں نے یہاں ایک بہت بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے۔ میں نہ صرف آپ کو دیکھ رہا ہوںبلکہ ایک ہی وقت میںسب سے بات بھی کر رہا ہوں۔''
''اوہ...تب تو وہ مارا...'' خان رحمان چلائے۔
''خان رحمان!آپ کے سامنے ایک چھوٹی سرکار حیران و پریشان کھڑی ہے، بالکل ایسی ہی سرکاریں باقی لوگوں کے سامنے بھی کھڑی ہیں... '' انسپکٹر جنید نے کہا ۔
''کیا مطلب جنید... سب کمروں میں چھوٹی سرکار موجود ہے لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ایک ہی وقت میں ایک انسان مختلف جگہوں پر کیسے ہو سکتا ہے۔''
'' یہ ایک نہیں ہے... ایک جیسے دکھائی دے رہے ہیں... یوں لگتا ہے، جیسے ایک بونے کی چار فوٹو کاپیاں کرلی گئی ہوں۔'' انسپکٹر جنید مسکرائے۔
''چار کیوں... پانچ کیوں نہیں...؟'' خان رحمان ہنسے۔
''چار اس لیے کہ دروازہ نمبر کے اس طرف گلی تو ہے، لیکن اس کے آخر پر کمرہ نہیں ہے... '' انسپکٹر جنید کہتے چلے گئے۔
''اوہ...اوہ...'' سب کی حیرت میں ڈوبی آوازیں ہال میں گونجیں۔
''اب آپ اِن چھوٹی چھوٹی سرکاروں سے جان چھڑائیں اور جو کہا تھا، وہ تلاش کریں... لیکن ٹھہریں... پہلے ان سے بات کر لیں... شاید یہ بتا دیں... اگر بتا دیں تو ٹھیک ہے... ورنہ انھیں ڈھیر کر دیں...دیکھا جائے۔'' انسپکٹر جنید نے کہا۔ اُن کا لہجہ بے حد سرد ہوگیا تھا۔
''اوکے۔ '' اکرام کی آواز آئی۔انسپکٹر جنید نے کمرہ نمبرپانچ میں دیکھا ۔ چھوٹی سرکار پریشان کھڑی تھی۔ وہ بار بار سر پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔پھر اس کی آوازآئی:
''انسپکٹر جنید!تم نے یہ سب کیسے کرلیا...باس اور اُن کے غلام کہاں ہیں۔''
''وہ سب بندھے پڑے ہیں.. بے بس چوہوں کی طرح...'' انھوں نے ہنس کر کہا۔
''اوہ...اوہ...یہ بُرا ہوا...اب کیا ہوگا۔''
''اب وہی ہوگا جو اللہ چاہے گا...کیوں کہ اللہ کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔
''اوہ...اس کا مطلب ہے... کہانی ختم...''
''ایسے ہی سمجھ لو...'' وہ مسکرائے۔
''لیکن تمھارے لیے ایک آفر ہے...اپنے باس کا پروگرام بتا دو...ہم تمھیں یہاں سے بھاگنے کا موقع دیں گے...''
انھوں نے دیکھا... وہ سوچ میں گم ہوگیا۔
''ٹھیک ہے... تم سوچو... اورجو بھی فیصلہ کرو... مجھے بتا دینا۔'' انسپکٹر جنید نے کہا اور ساتھ ہی اسد کو اشارہ کیا کہ دروازہ نمبر پانچ میں جائو... وہ اُن کا مطلب سمجھ گیااور جلدی سے پانچ نمبر دروازے میں داخل ہوگیا۔ انسپکٹر جنید نے دیکھا۔ وہ بڑے چوکنے انداز میں، گلی میں آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ان کی نظریں اس سے ہٹ کر خان رحمان ، اکرام، محمد حسین آزاد اور لیاقت کی طرف گئیں تو مسکرانے لگے۔ وہ چاروں اپنی اپنی چھوٹی سرکار پر ٹوٹے پڑ ے تھے۔ جلد ہی انھوں نے سب کو مار مار کر بے ہوش کر دیا۔
''تم نے سب بونوںکو بے ہوش کر دیا ...شاباش میرے شیرو...''
ادھر اسد چھوٹی سرکار کے سر پر پہنچ گیا تھا۔ وہ اسے دیکھ کر چونک اُٹھا۔
''تو پھر تم نے کیا سوچا...''
''مم...مم...میں ... نے...'' وہ ہکلایا۔یقینا اُس نے انسپکٹر جنید کے الفاظ سن لیے تھے۔
''ٹھیک ہے... میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہوں۔'' آخر اس نے ہتھیار پھینک دے۔
''وہ مارا...'' اسد چلایا۔
''ہاں! میں نے سن لیاہے ...چلو بھئی شروع ہوجاؤ ... '' انسپکٹر جنیدکی آواز آئی۔
''ابھی نہیں... میں پہلے اپنے باس اور ساتھیوںکو دیکھنا چاہتا ہوں... اس کے بعد بتائوںگا۔'' چھوٹی سرکار نے ہنس کر کہا۔
''اوہ...کہیں تم کوئی چکر چلانے کے موڈ میں تو نہیں ہو... '' اسد نے چونک کر پوچھا۔
''میں چکر چلانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں...بس ایک نظر باس کو دیکھنا چاہتا ہوں۔''چھوٹی سرکار نے کہا۔
''اوکے... اسد ! اسے میرے پاس لے آؤ ۔''
''میں ابھی لے کر آتا ہوں سر۔''
اسد نے جلدی سے کہا اور بونے کو آگے لگائے ہال کی طرف آنے لگا۔
''ہاں بھئی اکرام... کیاکہتے ہو...'' انسپکٹر جنید نے کہا۔
''نہیں سر...ابھی تک کوئی راستا اور سراغ نہیں ملا... میں ایک ایک چیز کو دیکھ رہا ہوں...'' اکرام نے کہا۔
''خان رحمان ... آ پ کہیں...کچھ ملا...''
''جنید ! تم دیکھ تو رہے ہو... ابھی ٹامک ٹوئیاں ہی مار رہا ہوں۔'' خان رحمان نے منہ بنایا۔
''اوہ... کوئی بات نہیں...لگے رہیں۔''
''محمد حسین آزاد... لیاقت... میں دیکھ رہا ہوں... تم بھی کچھ تلاش نہیں کر سکے ابھی تک... خیر کوئی بات نہیں... ہمت نہ ہارنا ... '' انسپکٹر جنید نے ہنستے ہوئے کہا۔
اسی وقت اسد چھوٹی سرکار کو لے کر ہال میں آگیا۔ چھوٹی سرکار پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے ساتھیوںکو دیکھنے لگا۔ سب بے بس تھے اور خوب ہل جل رہے تھے ۔ گویا وہ خود کو رسیوں سے آزاد کرانا چاہتے تھے۔
''باس! کیا ہمارا کھیل ختم ہوگیا...اورکیا ہم نے ہار مان لی ۔'' چھوٹی سرکار نے بندھے ہوئے باس سے پوچھا۔باس نے سر کو نفی میں زور سے ہلایا تو وہ چونکا۔
''اوہ...مطلب... باس آپ نے ہار نہیں مانی...''
باس نے ایک بار پھرسر نفی میں سر ہلا دیا۔
''اوہ...ارے! '' چھوٹی سرکار چونکی۔ پھر اس نے کہا:
''سوری انسپکٹر صاحب! میں تعاون نہیں کروں گا...ویسے بھی مجھے باس کے منصوبے کا نہیں پتا۔''
''اچھا...یہ بتائو...ان گلیوں اور چھوٹے کمروں کا کیا چکر ہے۔''
''سوری! میں نہیں جانتا..میری ڈیوٹی تو بس اس کمرے میں بیٹھنا ہے۔''
''ٹھیک ہے... تم نے اپنا فیصلہ سنا دیا...اب جو سلوک سب کے ساتھ کروں گا، وہی تمھارے ساتھ بھی ہوگا۔'' انسپکٹر جنید نے کہا۔
''دیکھا جائے گا...''
''اسد! اسے بھی ان کے ساتھیوںکے ساتھ باندھ دو...منہ میں بھی کپڑا ٹھونس دو۔'' انھوں نے غصے سے کہا۔
اسد نے چھوٹی سرکار کو باندھ دیا۔ اس نے مزاحمت کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
''خان رحمان! کیا خیال ہے... ہمیں کچھ ملے گا یا نہیں...''
''کچھ کہہ نہیں سکتا جنید..سوائے اس کے کہ کم ازکم میرے والے کمرے اور گلی میں کوئی ایسی چیز نہیں جو ہمارے کام کی ہو۔ میں نے ہر طرح تسلی کر لی ہے۔'' خان رحمان نے یقین سے پُر لہجے میں کہا۔
''یہ بات ہے تو آپ واپس آجائیں۔''
''میں آرہا ہوں جنید۔'' خان رحمان نے کہا اور انھوں نے اسے کمرے سے باہر نکلتے دیکھا۔
''تم سب بھی میرے پاس آجاؤ...''
وہ سب واپس ہال میں آگئے۔ ایسے میں انسپکٹر جنید کی نظر باس پر پڑی تو انھیں یوں لگا... جیسے وہ ان کی ناکامی پر خوش ہو رہا ہے۔
پھروہ چونک اُٹھے... دروازہ نمبر ایک کی گلی میں حمود، فاروق اور فرحانہ چلے آرہے تھے۔سب سے آگے ایک نوجوان تھا۔ اُس کے پیچھے وہ لوگ تھے۔
''اوہ...تو آخر تمھارے آدمی میرے بچوںکو لے ہی آئے۔''انسپکٹر جنید نے باس کو دیکھا۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن اس کے منہ سے آواز کیسے نکلتی... وہ تو بند کر دیا گیا تھا۔
''جنید...میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی ہے۔'' خان رحمان نے اچانک کہا ۔
''اوہ!ارے نہیں....خان رحمان ، پروفیسر صاحب! سکرین پر نظر رکھیے گا۔''
انھوں نے سکرین پر نظر جما دیں۔پھر دروازہ کھلتا چلا گیا۔ ساتھ ہی وہ چونک اُٹھے۔ انھوں نے گردن گھما کر خان رحمان اور پروفیسر داؤد کی طرف دیکھا تو وہ بھی مسکرا رہے تھے۔وہ اس وقت دروازے کی سائیڈ پر کھڑے تھے۔
آنے والے جیسے ہی ہال میں داخل ہوئے اور ان کی نظریں بندھے ہوئے لوگوں پر پڑیں تو وہ چونک اُٹھے...ساتھ ہی اُن کے منہ سے نکلا:
''ارے...!!''
''اکرام... محمد حسین آزاد انھیں زمین چٹا دو...'' انسپکٹر جنید نے چیخ کر کہا تو وہ باس کے غلاموں پر ٹوٹ پڑے۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ زمین پر لیٹے لمبے لمبے سانس لے رہے تھے۔ پھر انھیں باندھ کر باقی لوگوں کے ساتھ ڈال دیا گیا۔
''اوہ...ابا جان!آپ خیریت سے تو ہیں۔'' حمود مسکراتے ہوئے ان کے ساتھ لگ گیا۔
''ہم آپ کے لیے بہت پریشان تھے...'' فرحانہ نے کہا۔
''ارے...ارے...یہ تو کاکا، باجا اور بابا ہیں...'' فاروق کی نظر اُن تینوں پر اُٹھی ہوئی تھی۔
''ابا جان! ان تینوں نے ہمیں بہت پریشان کیا تھا۔''
''ہم نے بھی انھیں بہت پریشان کیا ہے ۔'' انسپکٹر جنید مسکرائے۔
حمود، فاروق اور فرحانہ کواب تک کی ساری کہانی سنائی گئی تو وہ چونک اُٹھے
''اوہ...اوہ...''فرحانہ نے کہا۔
''یہ...یہ...'' انسپکٹر جنید، گامی اور شازی کی طرف دیکھ رہے تھے۔ پھر وہ چونک اُٹھے۔
''اباجان! انھوں نے ہمای بہت مدد کی ہے...مطلب یہاں آنے میں ہمیں جتنی دیر لگی ، وجہ صرف یہ تھے...یہ باس کے غلاموں کے سامنے دیوار بن گئے تھے۔'' حمود نے کہا۔
''اوہ...ان سے بعد میں بات کریں گے ...پہلے ان کا کچھ کر لیں ...'' انسپکٹر جنید نے بندھے ہوئے باس اور ان کے غلاموں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
''ان کا کیا کرناہے...پار لگا دیتے ہیں...''
''نہیں...ارے...غریب بھیا نے تمھیں بے ہوش کر دیا تھا، پھر تم ہوش میں کیسے آئے...مطلب، یہاں تک اپنے پیروں پر چل کر آئے ہو...''
''یہاں آنے سے پہلے یہ ہمیں ہوش میں لے آئے تھے...''
''اوہ...اس کا مطلب ہے...باہر کتنے لوگ موجود ہیں، تمھیں پتا ہے۔'' خان رحمان نے کہا۔
''کسی حد تک...'' فرحانہ مسکرائی۔
''سر! اب کیا پروگرام ہے...'' اکرام نے پوچھا۔
''ہمیں ان لوگوں کو گرفتار کرانا ہے...جب پولیس کے خوف ناک بڑے بڑے جوتے کھائیں گے تو سب منصوبے اگل دیں گے۔'' وہ مسکرائے۔
''اس کا مطلب ہے...اب ہمیں یہاں سے نکلنا ہے۔''پروفیسر داؤد نے کہا۔
''ہاں...''
''لیکن کیسے...؟''
''جیسے باس کے غلام یہاں سے جاتے ہیں...'' وہ مسکرائے۔
''لل...لیکن باس نے کہا تھا...ہم اس کی مرضی کے بغیر یہاں سے باہر نہیں جا سکتے ...یہ کہ اس نے دروازہ نمبر ١یک کو سمجھا رکھا ہے...وہ باہر نہیں جانے دے گا۔'' لیاقت نے حیرت سے کہا۔
''جنید ! تم پانچ دروازوں کو بھول رہے ہو...'' خان رحمان نے کہا۔
''اور خفیہ راستے کو بھی...'' پروفیسر داؤد بولے۔
''میں کچھ نہیں بھول رہالیکن فی الحال میں یہاں سے باہر نکلنا چاہتا ہوں، ان کی گرفتاری کے بعد باقی دروازے دیکھ لیں گے اور خفیہ راستا بھی تلاش کرلیں گے، آئو چلیں...''
''چلیں...'' اکرام نے حیرت سے کہا۔
''آئو تو سہی...'' انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا اور دروازہ نمبر ایک کے سامنے جاکھڑے ہوئے ...پھر انھوں نے اس کے سامنے فرش کو غور سے دیکھا۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ انھوں نے سیلوٹ کرنے والے انداز میں ایک پائوں اٹھا کر زمین پر مارا تو دروازہ نمبرایک خاموشی سے کھلتا چلا گیا۔
''ارے...وہ مارا...'' فاروق چیخا۔
''جلدی سے باہر نکلو...''
سب ہال سے باہر نکل کر گلی میں تو دروازہ خود بخود بندہونے لگا۔ انھوں نے باس اور اس کے غلاموں چہرے فق ہوتے دیکھے۔
''سر...آپ نے دروازہ نمبر ایک کیسے کھول لیا؟'' اسد نے پوچھا۔
''بس ایک سیلوٹ سے...یا یوں سمجھ لو...بوٹ کی ایک ٹھوکر سے ...''
''اوہ...''
''اب چلو...باس کے غلام نہ آجائیں۔''
وہ سب تیز تیز قدم اُٹھاتے، احتیاط سے گلی میں چلنے لگے۔ یوں لگ رہا تھا، جیسے بارہ فوجی دشمن پر حملہ کرنے چلے ہوں۔گلی عبور کرے وہ صحن میں آگئے۔ صحن کی دوسری طرف پھر ایک گلی تھی۔ وہ ادھر ادھر دیکھتے صحن سے گلی میں داخل ہوگئے۔
''ابا جان! اس گلی کے آخرمیں ایک کمرہ ہے۔ کمرے سے باہر برآمدہ اور پھرخوب صورت وسیع لان ہے۔لان کے ایک طرف پارکنگ ایریاہے۔گیٹ سے دو راستے نکلتے ہیں...ایک پارکنگ کی طرف اور دوسرا اس کمرے کی طرف آتا ہے۔'' فرحانہ نے بتایا۔
''شکریہ فرحانہ...''فاروق مسکرایا۔
''کس بات کا...'' وہ چونکی۔
''اتنی تفصیل سے بتانے کا۔''
''اور ابا جان ہم نے یہاں آتے ہوئے صرف پانچ لوگوں کو دیکھا تھا۔ان کے ہاتھوں میں کلاشن کوفیں تھیں۔
''ٹھیک ہے،لیکن یہاں زیادہ بھی آدمی ہو سکتے ہیں...ہمیں ہوشیار رہنا ہوگا...اور ہاں! سب ایک ساتھ نہ چلو...چار چار کا گروپ بنالو۔'' انسپکٹر جنید نے کہا۔ وہ چار چار کے گروپ میں صحن سے نکل کر گلی میں چلنے لگے۔ ان کے چلنے کی آواز نہ ہونے کے برابر تھی۔
پھر وہ کمرے میں داخل ہوگئے...ابھی تک ان کے سامنے کوئی نہیں آیا تھا اور یہ بات ان کے لیے حیرت کا باعث تھی۔وہ ایک وسیع کمرہ تھا۔سامنے والی دیوار میں ایک بڑی سی کھڑکی اور ساتھ ہی دوسرا دروازہ تھا۔ وہ جیسے ہی برآمدے سے نکل کر صحن میں آئے...تین اونچے ، دیوئوں کی مانند آدمی اچانک ان کے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ اُن کے ہاتھوں میں کلاشن کوفیں اور چہروں پر غصے کے آثار تھے۔ وہ سب چونک کر رُک گئے۔ انھوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر اناً فاناً لان میں بکھر گئے۔ وہ انھیں بکھرتے دیکھ کر حیران رہ گئے۔
انھوں نے تینوںکو اپنے حصار میں لے لیا تھا۔
''ارے! آپ لوگ تو ہال میں باس کے ساتھ تھے ...یہاں کیا کر رہے ہیں...''
''تھے...اب نہیں ہیں..اب ہم یہاں ہیں اوراپنے گھروں کو جانا چاہتے ہیں۔'' فاروق مسکرایا۔
''اوہ...باس اور ہمارے ساتھی کہاں ہیں...'' وہ حیران تھے۔
''وہ ہال میں ہیں...'' انسپکٹر جنید مسکرائے۔
''ہال میں ہیں...لیکن آپ...؟''
''پریشان ہونے کی ضرورت نہیں...ہم ان کے سامنے ہی یہاں آئے ہیں، انھوں نے ہمیں کچھ نہیں کہا...'' خان رحمان مسکرائے۔
''یہ کیسے ہو سکتا ہے...''
''اب یہ تو ہمیں نہیں معلوم ...کیسے ہو سکتا ہے...''
''اوہ...تو اب آپ لوگوں کا کیا پروگرام ہے۔''
''بتایا تو ہے...ہم اپنے گھروں کو جانا چاہتے ہیں۔'' حمود مسکرایا۔
''ایسا نہیں ہو سکتا...'' ایک مسکرایا۔
''کیسا نہیں ہوسکتا بڑے بھائی۔''
''کوئی اچھے بھائیوں کے ہوتے ہوئے یہاں سے نکل جائے۔'' وہ ہنسا۔
''اوہ!ارے باپ رے...آ پ تو ہمیں ڈرانا چاہتے ہیں۔'' فاروق نے بوکھلاتے ہوئے کہا۔
''کیا کریں... ہماری ڈیوٹی ہی ایسی ہے۔'' دوسرے نے کہا۔
''اوکے!آپ اپنی ڈیوٹی کریں.. ہم اپنی مرضی کریں گے۔'' حمود بولا۔
''اور تمھاری مرضی کیا ہے۔'' پہلے والا ہنسا۔
''یہی کہ یہاں سے ہر قیمت پر بھاگنا ہے...اور جو ہماری اس بھاگ دوڑ میں ٹانگ اڑائے گا...وہ منہ کی کھائے گا۔'' فاروق کہتا چلا گیا۔
''میںاچھابھائی نمبر ایک ہوں،یہ نمبر دو اوریہ نمبر تین ہے۔ ہم نے کبھی بھی منہ کی نہیں کھائی۔البتہ لوگوں کے منہ توڑنے میں ہمیں خاص مہارت حاصل ہے۔''
''اوہ...ٹھیک ہے... ہم نے تمھارے نمبر یاد کرلیے ہیں اور یہ بھی ہمیشہ یاد رکھیں گے کہ تم تینوں نے کبھی منہ کی نہیں کھائی۔ '' فاروق نے ہنس کر کہا۔
''تم ہنس رہے ہو... '' نمبر ایک نے حیران ہوکر کہا۔
''کیوں..کیا یہاں ہنسنا منع ہے..اگر منع ہے تو کوئی بورڈ آویزاں کیوں نہیں ہے۔''
''کیا مطلب...!!'' نمبر دو نے چونک کر پوچھا۔
''یار ! تم کس کی باتوںمیں آگئے... مجھے بتاؤ... ہمیں یہاں سے جانے دو گے کہ نہیں۔'' انسپکٹر جنید کہا۔
''نہیں...'' نمبر ایک نے سخت لہجے میں کہا۔
''جانے کی اجازت نہیں دو گے تو ہم بھاگ جائیں گے اور تم لکیر پیٹتے رہ جائو گے۔'' وہ مسکرائی۔
''لڑکی! ایسا سوچنا بھی مت۔'' نمبر ایک کہہ رہا تھا کہ اچانک وہ نیچے کو جھکا۔ گامی نے گھاس پر پڑا ایک کنکر اُٹھا کر اس کی طرف اچھال دیا تھا۔
''کیا ہوا بھائی...'' نمبر دو اور تین زور سے چونکے ۔ یہی وہ موقع تھا جس کی انھیں تلاش تھی۔ وہ تینوں پرندوں کی طرح اڑتے ہوئے ان سے ٹکرا گئے۔ ان کے زمین پر گرتے ہی انسپکٹر جنید اور خان رحمان اُن پر ٹوٹ پڑے۔ حمود، فاروق اور فرحانہ ایک طرف ہوگئے۔ کلاشن کوفیں وہ اپنے قبضے میں پہلے ہی لے چکے تھے۔ پانسہ پلٹ چکا تھا۔ اچھے بھائی بے ہوش ہوچکے تھے۔
''اباجان! چلیں... یہاں سے نکلنے کا اچھا موقع ہے۔'' حمود نے کہا۔
''ٹھیک کہہ رہے ہو لیکن ہم سب یہاں سے نہیں جائیں گے۔ ''
''کک...کیوں...؟''
''بعد میں بتاؤں گا... میں نے فیصلہ کیا ہے... شازی، محمد حسین آزاد اور اس کے دونوں ماتحت یہاں سے جائیں گے اور آئی جی نثار احمد کو سارے معاملات سے آگاہ کریں... وہ پریشان ہوں گے۔'' انھوں نے کہا۔
''اباجان! شازی...یہ کیوں...؟''
''بھئی یہ اس لیے کہ تمھارے ساتھ رہا ہے... شاید اس کی کوئی بات آئی جی صاحب کے کام آجائے۔'' وہ مسکرائے۔
''اوہ...اوہ...'' فرحانہ کے منہ سے نکلا۔
''تم نے ٹھیک سوچا جنید۔ جاؤ بھئی، یہاں سے نکل جائو... اس سے پہلے کہ کوئی اور آجائے۔''
''جی بہتر...ہم چلتے ہیں۔'' محمد حسین آزاد نے کہا اور پھر وہ چاروں چھوٹا گیٹ کھول کر باہر نکل گئے۔
''فرحانہ! کیاگامی اور شازی پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔''
''اب تک تو انھوں نے ہماری مدد ہی کی ہے.. میں یوں بھی کہہ سکتی ہوں ، مجھے اغوا ہونے سے انھوں نے ہی بچایا تھا..کاکا، باجا اور بابا کی ناکامی میں ان کا بڑا کردار ہے۔'' فرحانہ نے کہا۔
''اغوا ہونے سے بچایا تھا...لیکن تم اغوا ہوکر ہی تو یہاں تک آئی ہو بلکہ حمود اورفاروق بھی.. پھر انھوں نے تمھیں کیسے بچایا تھا... بات میری سمجھ میں آئی نہیں۔'' انسپکٹر جنید الجھ کر رہ گئے۔
''اباجان! میں بتاتی ہوں...کیا ہوا تھا۔''فرحانہ انھیں بتانے لگی۔
''ٹھیک ہے ... میں سمجھ گیا...ارے ہاں! تم نے بتایا تھا... یہاں پانچ لوگوں کے پاس کلاشن کوفیں تھیں۔ تین تو یہ ہیں... باقی دو کہاں ہیں؟''
''پتا نہیں...''
''ہم یہاں ہیں۔'' اچانک اوپر سے آواز آئی۔ انھوں نے گھبرا کر دیکھا۔ اور پھروہ دھک سے رہ گئے۔
( جاری ہے)

