🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
اُدھورا کھیل / قسط نمبر 13
جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

اُدھورا کھیل / قسط نمبر 13

عبدالرشید فاروقی
عبدالرشید فاروقی
10 ستمبر، 2026۱۰۳ مرتبہ پڑھی گئی

اُدھورا کھیل / قسط نمبر 13 سنیں

قسط 13

کیا...!!!

اُنھوں نے دیکھا۔ کمرے کی چھت پر دوآدمی کلاشن کوفیں تھامے کھڑے تھے۔ پھر انھوں نے یک دم نیچے لان میں چھلانگیں لگا دیں۔ وہ جلدی سے ادھر ادھر ہوگے۔

''خبردار... فائرنگ کرنے کی کوشش نہ کرنا...'' فاروق نے کہا۔

''کیوں...یہ کوشش کیوں نہ کریں؟'' گامی نے حیرت سے فاروق کو دیکھا۔

''اس لیے کہ ہمارے پاس بھی کلاشن کوفیں ہیں اور تین عدد ہیں۔'' فاروق مسکرایا تو گامی منہ بنا کر رہ گیا۔

''ابا جان! یہ غامی دوسرا فاروق ہے۔'' حمود نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''حمود! میرا نام غامی نہیں، گامی ہے۔'' اس نے جلدی سے کہا۔

''سوری بھائی... بھول ہو گئی... آیندہ نہیں بھولوں گا۔''

''بھولنا بھی نہیں... ورنہ ...!'' وہ مسکرایا۔

''ورنہ کیا...کیا کہنا چاہتے ہو تم...؟'' حمود نے آنکھیں نکالیں۔

''ورنہ میں بھی بھول جاؤں گا کہ تم میرے دوست ہو۔'' وہ ہنسا۔

''دوست... تم میرے دوست کب سے ہو گئے؟''

''اتنی دیر سے تمھارے ساتھ ہوں، دوستی تو بنتی ہے نا۔''اس نے منہ بنایا۔

''حد ہوگئی... ہم تمھارے سروں پر کلاشن کوفیں لیے کھڑے ہیں اور تم ہو کہ اپنی ہی ہانکے جا رہے ہو۔''

''کلاشن کوفوں کی بات تو رہنے دو... وہ تو ہمارے پاس بھی ہیں۔'' فرحانہ مسکرائی۔

''یار! کیوں ہمارا اوراپنا وقت برباد کر رہے ہو... اچھے بچوں کی طرح یہ کھلونے ہمارے حوالے کر دوتاکہ ہم انھیں کہیں ٹھکانے لگا دیں کیوں کہ...'' اکرام نے ہنستے ہوئے کہا۔

''کیوں کہ...کیا...؟''

''کیوں کہ تمھارا باس... جانی، کاکا، شاشے، ماشے اور ایسے ہی سارے پٹاخے ہال میں بندھے پڑے ہیں... اور یہ شاندار کام کیا ہے... ہم نے لوگوں... اس لیے بہتر یہی ہے... تم بھی یہ ڈنڈے شرافت سے ہمیں دے دو اور اپنے گھر چلے جائو... کھیل ختم ہوگیا ہے۔'' فاروق کہتا چلا گیا۔

''کیا کہا... کھیل ختم ہوگیا ہے... یہ تم کیا کہہ رہے ہو...؟'' ایک نے چلا کر کہا۔

''غلط نہیں کہہ رہا ہوں... اگر یقین نہ آئے تو چل کر اپنی آنکھوں سے دیکھ لو انھیں۔'' انسپکٹر جنید مسکرائے۔

اُنھوں نے پہلے لان میں بے ہوش پڑے اپنے تین ساتھیوںکو دیکھا ، پھر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

''ٹھیک ہے... ہم ہال میں جائیں گے۔ اگر تمھاری بات سچ ہوئی تو ہم ہتھیار پھینک دیں گے۔ غلط ہوئی تو سب کو بھون کر رکھ دیں گے۔''

''ہمیں منظور ہے...''حمود نے کہا۔

''ایک منٹ ...جانے سے پہلے ایک بات تو بتا دیں۔ یہاں اتنے لوگ گاڑیوں میں آتے جاتے ہیں... یہاں کوئی گاڑی کیوں نظر نہیں آ رہی۔'' اکرام نے پوچھا۔

''اوہ... ارے ...واقعی ...ہم نے اس بات پر تو غور ہی نہیں کیا...''

''گاڑیاں ساتھ والے گھر کے صحن میں کھڑی ہیں...وہ گھر بھی ہمارے باس کی ملکیت ہے۔''

''اوہ... چلو...''

وہ ہال کے باہر پہنچے...انسپکٹر جنید نے فرش کو غور سے دیکھا اورپھر دایاں پائوں اُٹھاکرفرش پر مارا۔ فوراً ہال کا دروازہ کھلتا چلا گیا۔

''اوہ...سر...'' اکرام کے منہ سے نکلا۔

''پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، میں اور پروفیسر صاحب بھی دروازہ کھولنے کا طریقہ جان گئے تھے ۔فرش پر جس جگہ پاؤں مارا جاتا ہے...اس کا رنگ باقی فرش سے تھوڑا مختلف ہے۔''خان رحمان نے کہا۔

''اوہ...''

وہ ہال میں داخل ہوئے تو دیکھا... باس اور اس کے ساتھی خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔کچھ کی رسیاں تھوڑی ڈھیلی ہوئی گئی تھیں لیکن اتنی نہیں کہ وہ آزاد ہو سکتے۔

''باس! یہ سب کیا ہے؟''

باس چونک اُٹھا۔

''گامے! اُنھیں گولیوں سے بھون کر رکھ دو... انھوں نے ہمیں بہت دکھ دیے ہیں...'' چھوٹی سرکار نے چیخ کر کہا۔

''اوہ...سوری! ہم ایسا نہیں کریں گے...'' گامے نے کہا۔

''اس لیے کہ جو لوگ تم سب پر قابو پا سکتے ہیں... ان کے سامنے ہماری کیا دال گلے گی...''

''ارے!تو کیا تم باس کے ساتھ غداری کرو گے۔''

''ہم اپنی جان بچائیں گے،کیوں انسپکٹر جنید... آپ ہماری جان بخش دیں گے نا...'' گامے نے پلٹ کر ان کی طرف دیکھا۔

''جان تو اللہ ہی بخشتے ہیں،لیکن ہم وعدہ کرتے ہیں۔ا گر تم نے کسی کی جان نہیں لی تو قانون سے رعایت دلوانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔''

''ٹھیک ہے...تو یہ لیں۔'' گامے نے اپنی کلاشن کوف انھیں پکڑا دی۔ اس کے ساتھی نے بھی ایسا ہی کیا۔

''شاباش... تم نے عقل مندی والا کام کیا ہے۔'' اکرام نے کہا۔

''سر... یہاں تو سب ختم ہوگیا ہے۔''

''ہاں، لیکن ان کا اصل کھیل تو کچھ اورہے۔وہ کیا ہے، ہم نہیں جانتے ۔'' انسپکٹر جنید نے کہا۔پھر وہ گامے کی طرف متوجہ ہوئے :

''تمھارے پاس موبائل فون ہے؟''

''جی ...ہے۔'' اس نے کہا اور جیب سے فون نکال کر اُنھیں دے دیا۔

''اباجان! مجھے مجرم لوگوں سے ایک شکایت رہتی ہے۔'' حمود نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

''صرف ایک شکایت کیوں... مجھے تو بہت سی ہیں اور سب سے بڑی یہ کہ وہ مجرم کیوں ہوتے ہیں۔'' فاروق کہتا چلا گیا۔

''دھت تیرے کی...کسی کی بات میں ٹانگ کیسے اڑائی جاتی ہے ، کوئی تم سے سیکھے...'' حمود نے جھلا کر کلاشن کوف کو ران پر ہلکے سے مارا۔

''حمود! اپنے ہاتھ سے زیادتی تونہ کرو...'' فاروق مسکرایا۔

''کیا مطلب...'' وہ چونکا۔

''پہلے ران پر ہاتھ مارتے تھے اور اب کلاشن کوف ماری... یہ ہاتھ سے زیادتی ہی تو ہے۔''

''اوہ...تم پاگل ہو۔'' وہ ہنسا۔

انسپکٹر جنید نے آئی جی نثار احمد کو فون کیا اور کچھ کہنا ہی چاہتے تھے کہ رک گئے۔ کیوںکہ ادھر سے اُن کی پرجوش آواز سنائی دے رہی تھی:

''جنید... میں آرہاہوں ...محمد حسین آزاد نے مجھے سب بتا دیا ہے۔''

''ٹھیک ہے شیخ صاحب...میں انتظار کرتا ہوں۔''اُنھوں نے مسکراتے ہوئے موبائل کا بٹن دبا دیا۔

''یہ لو گامے، اپنا موبائل ... بہت شکریہ۔''

اور پھر وہاں آئی جی شیخ نثار احمد بہت سے پولیس والوں کے ساتھ آگئے۔ باس اور اس کے سب ساتھیوںکو گرفتار کرلیا گیا۔ساتھ والے گھر میں موجود لوگ بھی پکڑے گئے ۔

''ابا جان! ہمیں ایک بار پھر موٹے باس سے اس کے پروگرام کے بارے میں پوچھنا چاہیے...شاید پلٹی ہوئی بازی دیکھ کر وہ کچھ بتا دے۔'' فرحانہ نے کہا تو انسپکٹر جنید مسکر اد یے:

''وہ نہیں بتائے گا لیکن میں کوشش ضرور کروں گا۔''

''شیخ صاحب! ہمیں موٹے باس سے بات کرنی ہے۔ اُسے یہاں بلوا لیں۔''

''اوکے جنید ...'' انھوں نے کہا۔

تھوڑی دیر بعد موٹا باس زنجیروں سے اُن کے سامنے تھا۔

''مجھے کیوں بلایا ہے...'' اُس کے لہجے میں نفرت تھی۔

''موٹے! تمھارا کھیل ختم ہوگیا ہے۔ اب تو بتا دو، ہمیں یہاں کیوں باندھ رکھا تھا تم نے۔''

''میں جیل چلا جاؤں گا، لیکن کچھ بتاؤں گا نہیں انسپکٹر جنید ...آپ ادھر ادھر بھاگتے پھریں گے لیکن اصل بات تک نہیں پہنچ سکیں گے۔''

''اوہ...اوہ...''

''انسپکٹر جنید! مجھے آپ کو سمجھنے میں غلطی ہوگئی ورنہ...''

''ہاہاہاہا...موٹے! اگر مجرموں سے غلطیاں نہ ہوں تو ہماری دال کیسے گلے...'' وہ مسکرائے۔

موٹا ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔پھر اسے واپس بھجوا دیا گیا۔

''محمد حسین! تم اپنے ماتحتوں کے ساتھ چلے جاؤ...ضرورت ہوگی تو بلوا لیں گے۔''

''اوکے سر...'' اس نے کہا۔

''اب ہم کیا کریں...'' حمود نے پوچھا۔

''گھر چلتے ہیں...وہاں بیٹھ کر کچھ سوچیں گے۔''

''ٹھیک ہے ابا جان...''

انسپکٹر جنید نے آئی جی شیخ نثار احمد سے دو گاڑیاں لیں اور گھر پہنچ گئے۔ گھر جاتے ہی انھوں نے سر جوڑ لیے۔

''فرحانہ! اب تم شروع ہوجاؤ... میرے پیچھے یہاں جو کچھ ہوا...سب تفصیل سے بتائو...شاید کوئی کام کی بات ہاتھ لگ جائے۔'' انسپکٹر جنید نے کہا تو وہ شروع ہوگئی۔ جب وہ اپنی بات مکمل کرچکی تو انسپکٹر جنید مسکرانے لگے:

''کیاہوا اباجان..آپ مسکرانے کیوں لگے؟'' اس نے چونک کر پوچھا۔

''تم نے دو غلطیاں کیں فرحانہ...''

''دو غلطیاں... وہ کون سی ؟'' اس نے حیرت سے حمود، فاروق کی طرف دیکھا۔

''پہلی غلطی...تم نے اپنی دوست کو چیک نہیں کیا۔ دوسری غلطی..تم نے پاگل جی کی بات کو اہمیت نہیں دی... ہو سکتا ہے... وہ درست کہہ رہا ہو...''

''اب میری بات سن لیں ابا جان....میں اپنی دوست کے گھر جانا چاہتی تھی لیکن غریب بھیا اور امیر بھیا آ ٹپکے اورانھوں نے ہمیں آپ تک لے جانے کی بات کی.. چونکہ ہم سب آپ کی طرف سے بہت پریشان تھے۔ اس لیے اُن کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوگئے۔اگر وہ ہمیں آپ تک پہنچانے کی بات نہ کرتے تو وہ بھی منہ کی کھاتے ... پاگل جی بات سن کر ہم چونکے ضرور تھے۔ اہمیت اس لیے نہیں دی کہ ہم جلد ازجلد آپ تک پہنچنا چاہتے تھے...'' وہ چپ ہوگئی۔

''ٹھیک ہے، میں سمجھ سکتا ہوں... '' وہ بولے ۔

''لیکن ابا جان! ارم اختر کا موٹے باس سے کیا تعلق ہو سکتا ؟ اور پھر کیا وہ اتنا بڑا کام کرا سکتی ہے...دوستوں میں چھوٹی موٹی نوک جھونک تو ہوتی ہی رہتی ہے۔ میرا خیال ہے، ارم اختر کا اس کھیل سے کوئی تعلق نہیں۔'' حمود کہتا چلا گیا۔

''ہو سکتا ہے...اس کا کوئی تعلق نہ ہو، لیکن ہمیں اسے چیک ضرور کریں گے۔'' وہ مسکرائے۔پھر وہ گامی اور شازی کو گھورنے لگے۔

''تم نے میری انھیں جو بھی کہانی سنائی... مجھے اس سے غرض نہیں... اب صاف صاف اور سچ سچ بتائو... تم کون ہو اور یہاں کیوں آئے ہو۔'' انسپکٹر جنید نے کہا۔

گامی اور شازی ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے...پھر وہ مسکرانے لگے... انھیں مسکراتے دیکھ کر انسپکٹر جنید اچھل کر کھڑے ہوگئے۔

''کک... کک...کیا مطلب!!'' سب حیران رہ گئے ۔

''انسپکٹر جنید ...آپ غلط سمجھے... ایسی کوئی بات نہیں... میں نے ان لوگوںکو جو کہانی سنائی تھی ... وہ بالکل سچی ہے... میں شریف سے بدمعاش ہوا ہوں۔ اب میری زندگی کا ایک ہی مقصد ہے... اور وہ ہے فقیر پرندہ سے انتقام لینا... اس نے میری زندگی برباد کی ... میں اُسے برباد کرنا چاہتا ہوں...'' گامی نے کہا۔

''وہ تو ٹھیک ہے... لیکن ...'' وہ مسکرائے۔

''اوہ... انسپکٹر جنید...اوہ...'' گامی نے ایک گہرا سانس لیا۔

''گامی! اب فاروق نہ بن جانا... '' حمود نے منہ بناکر کہا۔

''تو کیا پروگرام ہے پھر...تم دونوں خود اپنا اصل چہرہ دکھاؤ گے یا میں تمھارے چہروں پر موجود میک اپ اُتار دوں...''

''کک...کیا مطلب ابا جان...'' حمود، فاروق اور فرحانہ یوں اُچھلے، جیسے انھیں بچھو نے ڈنک مار دیا ہو...

''ٹھیک سمجھے... انھوں نے میک اپ کیا ہوا۔'' انسپکٹر جنید نے کہا۔

''اوہ...اوہ...''

گامی اور شا زی واش روم میں گئے اور جب واپس آئے تو ان کے چہرے بدلے ہوئے تھے... بلاشبہ وہ سرخ و سفیداور خوب صورت تھے۔

''اوہ...میں بھی سوچتا تھا... ٹھنڈے علاقے میں پلا بڑھا گامی اس قدر بد صورت کیسے ہے...؟'' فاروق نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''اب یہ بھی بتادو... تمھارا موٹے باس سے کیا تعلق تھا۔'' انسپکٹر جنید مسکرا رہے تھے۔

''اوہ..آپ بہت تیز ہیں... سب جان گئے۔'' گامی حیرت سے اچھلا۔

''ہم بھی اس کے لیے کام کرتے تھے... پیسے لے کر اُس کے لیے کئی قتل کئے ہیں ہم نے انسپکٹر صاحب۔'' اس بار شازی نے زبان کھولی تھی۔

''اوہ...اوہ...'' سب حیران رہ گئے۔

''اس کا مطلب ہے، موٹے باس کا اصل کھیل کیا ہے... تم جانتے ہو۔''

''نہیں... ہم نہیں جانتے... وہ کیا کرنا چاہتا ہے...اس لیے کہ ہم بہت پہلے اس کے پاس ہوتے تھے...اس وقت وہ کسی اور جگہ پر کام کرتا تھا۔'' گامی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''ہمیں فرحانہ کے اغوا کی خبر ملی تو یہاں اس کی مدد کے لیے آگئے۔'' شازی نے کہا۔

''لل...لیکن اباجان! آپ نے یہ سب کیسے جان لیا۔'' حمود نے پوچھا۔

''یہ سامنے کی باتیں تھیں جو تم سمجھ نہ سکے... میں نہیں بتائوں گا... خود سوچ لینا...''

''اوہ... سامنے کی باتیں...''

''ہاں ...ذرا پاگل جی کا کارڈ تو دینا...''

''تو آپ اسے فون کریں گے۔'' وہ چونکی۔

''ہاں... میں اسے فون کروں گا...''

''یہ لیں کارڈ..''فاروق نے کارڈ اُن کے ہاتھ میں دے دیا۔ انھوں نے ایک نظر اُس پر ڈالی اور بولے:

''سب کے موبائل ان لوگوں نے لے لیے تھے... اس وقت کسی کے پاس موبائل ہے تومجھے دے۔''

موبائل کسی کے پاس نہیں تھا۔

''تمھارے پاس موبائل ہے ۔'' انسپکٹر جنید نے اچانک گامی سے پوچھا۔

''نن...نہیں...میرے پاس موبائل کہاں...''اس نے چونک کر کہا۔

''اوہ...اچھا...لیکن تم چونکے کیوں؟'' انسپکٹر جنید مسکرائے۔

''آپ نے اچانک پوچھا تھا، اس لیے...'' وہ مسکرایا۔

''اوکے...''

''اباجان! میں بیگم شیرازی سے تھوڑی دیر کے لیے موبائل لے آؤں ۔'' فرحانہ نے کہا۔

''ضرور لے آؤ۔''

تھوڑی دیر بعد انسپکٹر جنید فون پر پاگل جی سے بات کر رہے تھے... بات کرنے سے پہلے انھوں نے اپنا تعارف کرا دیا تھا۔بات کرنے کے بعد وہ فرحانہ کی طرف پلٹے:

''ہاں فرحانہ... تمھاری دوست کس علاقے میں رہتی ہے۔''

''وہ 55اچھاگارڈن میں رہتی ہے... بڑی نک چڑھی ہے... بات بات پر دوسروں سے اُلجھ پڑتی ہے ۔''فرحانہ نے بتایا۔

''زیادہ پیسہ بعض لوگوں کوایسا ہی کر دیتا ہے...''

''آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں... فقیر پرندہ بھی ایسا ہی انسان ہے۔'' گامی نے کہا۔

'' آپ لوگوں کومزے کی ایک بات بتائوں۔'' انسپکٹر جنید مسکرائے۔

''بتائیے...!'' سب نے چونک کر کہا۔

''پاگل جی نے جس علاقے میں مشکوک لوگ دیکھے تھے.. وہ اچھا گارڈن سے بہت زیادہ دُور نہیں ہے۔''

''کیا...!!!'' سب چیخ اُٹھے۔

اُسی وقت انسپکٹر جنید کے ہاتھ میںموجود موبائل کی گھنٹی بجنے لگی۔

( جاری ہے )

عبدالرشید فاروقی

لکھاری

عبدالرشید فاروقی

آپ بچوں کے ادب سے سال اُنیس سو تراسی سے منسلک ہیں۔ بے شمار کہانیاں لکھ چکے ہیں۔ تین جاسوسی ناولز ، چار کہانیوں کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ قسط وار ناول اِن کے علاوہ ہیں۔ ادب اطفال میں اُستاد جی کے نام