🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
اُدھورا کھیل / قسط نمبر 14
جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

اُدھورا کھیل / قسط نمبر 14

عبدالرشید فاروقی
عبدالرشید فاروقی
11 ستمبر، 2026۸۸ مرتبہ پڑھی گئی

اُدھورا کھیل / قسط نمبر 14 سنیں

قسط 14

ایک منٹ

''یہ ...یہ کس کا فون آگیا... اس وقت...؟'' فاروق کے منہ سے نکلا۔

''پاگل آدمی! موبائل بیگم شیرازی کا ہے تو یہ فون بھی اُنہی کا ہوگا۔'' حمود نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

''ٹھیک ہے، لیکن اس میں منہ بنانے کی بھلا کیا ضرورت تھی۔'' فاروق مسکرایا۔

''یہ تو ہوگئے شروع... تم جلدی سے موبائل بیگم شیرازی کو دے آئو اور میری طرف سے ان کا شکریہ بھی ادا کر دینا۔'' انسپکٹر جنید نے مسکراتے ہوئے کہا۔ فرحانہ موبائل لے کر چلی گئی لیکن پھر بھاگتے ہوئے واپس آگئی۔ اُس کے ہاتھ میں موبائل اور چہرے پر جوش ہی جوش تھا۔

''کیا ہوا... موبائل واپس کیوں لے آئی۔'' انسپکٹر جنید چونکے۔

''ابا جان! یہ پاگل جی کا فون ہے۔''

''بالکل غلط ...یہ تو بیگم شیرازی کا ہے۔'' فاروق نے جلدی سے کہا۔

''پاگل آدمی... یہ کال پاگل جی کی ہے... وہ ابا جان سے بات کرنا چاہتا ہے۔ '' فرحانہ کہتی چلی گئی۔

''وہ مارا...وہ ضرور کوئی کام کی اطلاع دے گا۔''

''فاروق! تم خاموش نہیں رہ سکتے...'' انسپکٹر جنید نے اُسے گھورا۔

''ضرور رہ سکتا ہوں... یہ لیں...'' فاروق نے جلدی سے کہا اور ہونٹ مضبوطی سے بھینچ لیے۔

''السلام علیکم! پاگل جی...'' انسپکٹر جنید نے کہا۔

''و علیکم السلام!انسپکٹر جنیدصاحب !آپ فوراًیہاں پہنچیں۔''دوسری طرف سے پاگل جی کی پرجوش آوازسنائی دی۔

''لل...لیکن کہاں...تم اس وقت کہاں ہو؟''

''میں اچھا گارڈن میں ہوں ...آپ جلدی سے آجائیں۔''

''کیا کہا...اچھا گارڈن میں...!!''وہ چلائے۔

''ہاں...کک...کیا ہوا انسپکٹر جنیدصاحب؟''

''اچھا گارڈن میں کہاں؟''

''55اچھا گارڈن...''پاگل جی نے کہا تو وہ زور سے اچھلے۔

''ہم آ رہے ہیں...'' انھوں نے موبائل کا بٹن دبا دیا۔

''پاگل جی نے ہمیں 55اچھا گارڈن میں بلایاہے...''

''ارے...وہاں تو میری دوست ارم اختر رہتی ہے!! '' فرحانہ چونکی۔

''اوہ...اس کا مطلب ہے، ہمیں اب 55اچھا گارڈن جانا ہے۔''

''اباجان! کیا ہم پاگل جی پر بھروسہ کر چکے ہیں؟'' حمود نے سوچ میں گم لہجے میں کہا۔

''ان حالات میں کرنا ہی ہوگا...'' وہ مسکرائے۔

''گامی!تم ادھر ہی رکو...ہم ابھی آتے ہیں۔''

''اوکے...'' گامی مسکرایا۔

حمود، فاروق ، فرحانہ اور انسپکٹر جنید تھوڑی دیر کے لیے اپنے کمروں میں گئے ۔ واپس آئے تو باہر جانے کے لیے تیار تھے۔

''خان رحمان، پروفیسر صاحب! آپ گھر پر آرام کریں ... کھانا وغیرہ کھائیں۔''

''جیسی تمھاری مرضی۔'' انھوں نے ایک ساتھ کہا۔یوں بھی وہ تھکن محسوس کر رہے تھے۔

''گامی اور شازی... تمھارا کیا پروگرام ہے...ہمارے ساتھ چلو گے؟''

''ضرور چلیں گے انسپکٹر صاحب۔''انھوں نے ایک ساتھ کہا۔

''اوکے...''

''جنید! بیم شیرازی کا موبائل اپنے پاس ہی رکھو...کام آئے گا۔'' خان رحمان نے کہا۔

''اچھا مشورہ ہے، بیگم! اپنی سہیلی سے کہہ دینا۔اُن کا موبائل میرے پاس ہے۔''

''ٹھیک ہے،کہہ دوں گی۔آپ جائیں۔'' وہ باورچی خانے سے بولیں۔

''تم سب باہر جاکر گاڑیوں میں بیٹھو، میں آتا ہوں۔'' انسپکٹر جنید نے کہا۔

''انسپکٹر صاحب! آپ فارغ ہولیں، ہم ایک ساتھ باہر جاتے ہیں۔'' گامی نے کہا تو انھوں نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا۔

''تم جاؤ ...مجھے اپنی بیگم سے کوئی بات کرنی ہے۔'' انھوں نے کہا تو گامی سب کے ساتھ باہر جانے لگا۔ اچانک اُن کے ذہن میں خیال آیا۔وہ مسکرائے اور خفیہ فورس کے انچارج نمبر ملانے لگے۔ انھوں نے اسے کچھ ہدایات دیں ۔ پھر گھر سے نکل گئے۔گاڑیاں برق رفتاری سے دوڑ رہی تھیں۔ آخر وہ اچھا گارڈن کے بیرونی گیٹ پر پہنچ گئے۔

انسپکٹر جنید نے پاگل جی کو کو ایس ایم ایس کیا اور پوچھا، کیا میں آپ کو کال کر سکتا ہوں۔ فوراً جواب آیا۔ کال کرلیں۔ انھوں نے کال ملائی تو وہ کہنے لگا:

''انسپکٹرجنید صاحب! آپ آگئے...؟ ''

''ہم اچھا گارڈن سے تھوڑے ہی فاصلے پر ہیں...''

''میں 55نمبر کوٹھی میں ہوں... گیٹ کے سامنے باقی عمارت سے الگ تھلگ ایک کمرہ ہے ... اس کی بائیں طرف جو گلی ہے، اس میں ایک چھوٹا سا سٹور ہے، گرد سے اَٹے اُس سٹور میں ، میں اس وقت موجود ہوں،آپ یہاں آجائیں .. ''

''تم یہاں کیا کر رہے ہو پاگل جی؟'' انھوں نے پوچھا۔

''یہاں آئیں گے تو تفصیل بتاؤں گا۔''

''تم باہر آجاؤ ...''

''انسپکٹر جنید صاحب! وقت ضائع نہ کریں ..جلدی سے یہاں آجائیں، میں خودآجاتا لیکن باہرگارڈ عین گیٹ کے سامنے بیٹھا ہے۔''

''اچھا...میں آرہا ہوں۔''انھوں نے کہا اور اپنے ساتھیوں سمیت اچھا گارڈن کے گیٹ کی طرف بڑھے۔ گاڑیاں انھوں نے وہیں چھوڑدی تھیں۔

''کہاں جانا ہے...؟'' گارڈ اچانک سینہ تان کر ان کے سامنے آگیا۔

''کوٹھی نمبر 55۔''

''اوکے... سب اس رجسٹر پر اپنے نام اور شناختی کارڈ نمبرلکھ دیں۔'' اس نے ایک موٹا سا رجسٹر جلدی سے ان کے سامنے کر دیا۔

''جنھیں شناختی کارڈ نمبر یاد نہ ہوں، وہ کیا کریں چچاجی...'' فاروق نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

''وہ اپنا موبائل نمبر لکھ دیں...'' گارڈ نے فاروق کو گھورتے ہوئے کہا۔

''شکریہ...''

وہ اچھا گارڈن میں داخل ہوئے تو حیران رہ گئے۔ بلاشبہ وہ ایک خوب صورت گارڈن تھا۔ کوٹھیاں، بنگلے دیکھنے لائق تھے۔لائٹنگ کا بہت زبردست انتطام تھا۔ رات میں دن کا سا سماں تھا۔ وہ چلتے ہوئے جلد ہی کوٹھی نمبر 55کے سامنے پہنچ گئے۔

''جی!آپ لوگوں نے کس سے ملنا ہے؟'' گیٹ کے آگے گارڈ بیٹھا تھا۔

''میرا نام فرحانہ ہے... مجھے ارم اختر سے ملنا ہے... ان سے کہو... فرحانہ ملنے آئی ہے۔'' فرحانہ نے جلدی سے آگے بڑھ کر کہا۔ انسپکٹر جنید مسکرا دیے۔

''ٹھیک ہے... لیکن یہ کون ہیں...؟''

''یہ میرے ساتھی ہیں...وہ اصل میں بات یہ ہے کہ...''فرحانہ کہہ رہی تھی کہ فاروق بول اُٹھا:

'' ہم لوگ یہاں سے گزر رہے تھے...ہماری بہن ضد کرنے لگی کہ اپنی سہیلی سے ملے گی... ہم نے اسے بہت سمجھایا...پاگل لڑکی! تمھاری سہیلی ہم سب کو دیکھ کر ڈر جائے گی... اِس لیے تم اس سے پھر کبھی مل لینا... لیکن چچا جی...اس نے ضد کی اور سب کولے کر یہاں چلی آئی... یہ تو اچھی بات نہیں ہے نا...'' فاروق کہتا چلا گیا۔ گارڈ نے اُسے گھورا ... پھر مسکرانے لگا:

''کوئی بات نہیں... میری چھوٹی بہن بھی بہت ضدی ہے... میں چھوٹی میڈم کو اطلاع کرتا ہوں... آپ یہیں انتظار کریں... اگر وہ کہیں گی تو میں آپ سب کو اندر بھیج دوں گا... اجازت نہ ملی تو آپ سب کو واپس جانا ہوگا۔'' گارڈ نے کہا۔

''ٹھیک ہے، آپ اطلاع کریںہم یہیں انتظارکر لیتے ہیں۔'' فرحانہ نے جلدی سے کہا۔گارڈ چھوٹا دروازہ کھول کر اندر چلا گیا اور وہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے:

''کیا خیال ہے فرحانہ... وہ ہمیں بلائے گی...؟'' انسپکٹر جنید نے پوچھا۔

''ففٹی ففٹی...بلا بھی سکتی ہے اور منع بھی کر سکتی ہے... ارے...اوہ...'' وہ چونک اُٹھی۔

''ابا جان ! اگر میرے اغوا کی خواہش اس کی تھی تو تب... وہ ضرور چونک اُٹھے گی...''

''ٹھیک ہے... میں سمجھ گیا... تم سب یہیں رکو... میں اوراکرام چپکے سے اندر چلے جاتے ہیں۔'' انسپکٹر جنید نے کہا۔

''اوکے...اگر اجازت مل گئی تو ٹھیک ورنہ... آپ تو اندر ہی ہوں گے، سنبھال لیجئے گا۔'' فرحانہ نے کہا۔

انسپکٹر جنید اکرام کو لیے تیزی سے اندر داخل ہوئے اور ناک کی سیدھ میں چلتے چلے گئے۔ اندر ہلکی ہلکی روشنی تھی۔ انھوں نے اپنے سامنے ایک الگ تھلگ کمرہ دیکھا ...یہ الگ تھلگ یوں تھا کہ باقی عمارت اس سے بالکل جدا تھی۔ گیٹ کے دائیں طرف ذرا آگے جاکر گیراج تھا اور گیراج کے ساتھ ہی ایک بڑا اور خوب صورت دروازہ تھا۔وہ یقینا کوٹھی کے اندر جانے کے لیے تھا۔ اس وقت وہ دروازہ تھوڑا سا کھلا تھا۔ انہو ں نے چند ہی لمحوں میں سب دیکھ لیا تھا۔ پھر وہ کمرے کی بائیں طرف واقع گلی میں چلنے لگے ...جلد ہی وہ سٹور کے سامنے موجود تھے۔

پاگل جی! باہر آجاؤ ...ہم آگئے ہیں ... '' انسپکٹر جنید نے آہستہ آواز سے کہا۔

پاگل جی باہر آگیا۔

''تم یہاں کیا کر رہے ہو پاگل جی؟''

''انسپکٹر صاحب! اس کوٹھی کا مالک پرویز اختر۔ اُن مشکوک لوگوں سے ملتاتھا۔ میں آج موقع پاکر اس کی کار کی ڈگی میں بیٹھ کر یہاں آگیا۔ مجھے اپنے وطن سے بہت محبت ہے، میرے باپ دادا کی اس کی بنیادوں کو خون سے سینچا ہے، میں اس کے دشمنوں کو برداشت نہیں کر سکتا۔'' اس نے کہا۔

''ملک سے محبت کرتے ہو اور کوئی کام کرنے کی بجائے بھیک مانگتے ہو۔'' اکرام مسکرایا۔

''اوہ..یہ بھی تو ایک کام ہے...مانگنا فن ہے اور یہ فن ہر کوئی نہیں جانتا۔'' وہ مسکرایا۔سٹور کے باہر گلی میں ہلکی ہلکی روشنی تھی۔

''خیر! آگے کہو...'' انھوں نے منہ بنایا۔

''میں نے چھپ کراس کی باتیں سنی ہیں...یہ کسی خرم نام کے آدمی سے بات کر رہا تھا...ان کی باتوں سے مجھے اندازہ ہوا کہ خرم کسی کارروائی کا انچارج بنایا گیا تھا۔''

''کارروائی...؟'' انسپکٹر جنید چونکے۔

''جی ہاں! اور یہ کارروائی کل صبح دس بجے ہوگی...انسپکٹر جنید صاحب! پرویز فون پر ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا۔''

''پاگل جی! تم سچ کہہ رہے تو ٹھیک ہے، جھوٹ کی صورت میں نقصان اٹھاؤ گے ...''اکرام نے کہا۔

''اگر آپ کو میری بات پر یقین نہیں آ رہا تو سوری ...میں پیچھے ہٹ جاتا ہوں۔''

''ارے نہیں! ایسی بات نہیں ہے...تم نے کچھ اور سنا ہو تو کہو...'' انسپکٹر جنید نے کہا۔

''پرویز، خرم سے کسی کھیل کے پہلے حصے کے بارے میں بات کر رہا تھا... کہ وہ ناکام ہوگیا ہے...اب ہمیں بہت احتیاط کرنی ہے۔''

'' اوہ...اوہ...تم سچ کہہ رہے ہو پاگل جی...شاباش...''وہ مسکرائے۔

''پہلا حصہ واقعی ناکام ہوگیا ہے۔پرویز اختر اب کہاں ہے؟''

''وہ کوٹھی میں نہیں ہے،کہیں باہر گیا ہے...میں آپ کے گھر آکر ساری صورت حال بتانا چاہتا تھا لیکن گارڈ کی وجہ سے رک گیا اور آپ کو فون کر دیا... میں نے ٹھیک کیا انسپکٹر جنید صاحب؟''

''شاباش! اگر سازشی لوگ یہی ہوئے تو میں حکومت کی طرف سے تمھیں انعام دلوائوں گا...ان شاء اللہ۔''

''اوہ... شکریہ انسپکٹر صاحب!!'' پاگل جی خوش ہوگیا۔

اسی وقت فرحانہ کی آواز اُن کی سماعتوں سے ٹکڑائی:

''تم بہت اچھی ہو ارم...میں تو ایسے ہی تمھارے بارے میں غلط سوچتی رہی ...مجھے معاف کر دو...''

''معافی تو مجھے تم سے مانگنی چاہیے...میں نے اپنے والد سے غلط خواہش کا اظہار کیا...اور وہ مجبور ہوگئے۔'' ارم کی آواز آئی۔

''میں تو تمھیں معاف کر چکی ہوں...اور پلیز! اپنے والد سے کبھی میرے بارے میں نہ پوچھنا...ورنہ وہ شرمندہ ہوں گے۔''

''تم فکر نہ کرو...میں اُن سے اس بارے میں کبھی کوئی بات نہیں پوچھوں گی۔'' ارم اختر کی مسکراتی ہوئی آواز آئی۔

''اوکے...اب میں چلتی ہوں،اپنا خیال رکھنا...'' فرحانہ کہہ رہی تھی۔

''اور تم بھی...اللہ حافظ...''

اس کے بعد خاموشی چھاگئی۔ فرحانہ کوٹھی سے باہر چلی گئی تھی شاید...

''اوہ ...فرحانہ کے اغوا کی خواہش ارم اختر ہی کی تھی اور اب فرحانہ نے بات سنبھال لی ہے۔'' انسپکٹر جنید نے کہا۔

''اس کا مطلب یہ ہوا سر کہ اس چکر میں پرویز اختر بھی ملوث ہے...اور شاید موٹے باس کا ساتھی بھی یہی ہے۔'' اکرام نے کہا۔

''ایسا ہی لگتا ہے...''وہ مسکرائے۔

''سر! اب ہم کیا کریں ؟''

''کرنا کیا ہے... یہاں سے نکلتے ہیں...''

''ٹھیک ہے...آئیںپھر...''

''پاگل جی! تم ہماری طرف سے فارغ ہو...''

''ٹھیک ہے سر...'' وہ مسکرایا۔

و ہ گیٹ پر پہنچے تو گارڈ نے حیرت سے پلکیں جھپکائیں۔

''کیا دیکھ رہے ہیں گارڈ بھائی...ہم فرحانہ کے ساتھی ہیں۔'' اکرام نے کہا۔ اُس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔

''لیکن ان کے ساتھی تو اندر گئے ہی نہیں تھے... ارم میڈم نے صرف فرحانہ کو بلوایا تھا۔''

''یار! چھوڑو...ہم نے اندر سے کوٹھی دیکھ لی تو کیاہوا... آخر میڈم ارم کی دوست کے ساتھی ہیں۔''

''اوہ!خیرآپ جا سکتے ہیں۔'' وہ دروازے سے ہٹا تو وہ جلدی سے باہر نکل گئے۔

''وہ رہے... وہ لوگ...''اکرام نے کہا۔

''ہاں... ذرا تیز قدم اُٹھائو...''

سب اچھا گارڈن کے مین گیٹ سے نکل کر بڑی سڑک پر آگئے۔ تھوڑے ہی فاصلے پر ان کی گاڑیاں جوں کی توں کھڑی تھیں۔ وہ خاموشی سے اس میں جاکر بیٹھ گئے۔

پاگل جی ایک طرف نکل گیاتھا۔

''ہاں بھئی ...کیا رہا...''

''اباجان! ارم نے میرے اغوا کی خواہش اپنے والد کے سامنے ضرور رکھی تھی لیکن اس کاباس کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے... جب میں نے اُسے بتایا کہ تمھارے والد نے مجھے اغوا کرایا تھا تو وہ چونک اُٹھی۔ پھر شرمندہ سی ہوگئی ...میں نے اُسے معاف کر دیا اور کہا ...میرے بارے میں اپنے والد سے کبھی بات نہ کرنا... ورنہ وہ اپنی اس حرکت پر شرمندہ ہوجائیں گے... میںنے یہ بھی کہا تھا...میرے یہاں آنے کا ذکر بھی ان سے نہ کرنا ، انھیں زیادہ تکلیف ہوگی... '' فرحانہ کہتی چلی گئی۔

''شاباش...بہت خوب...'' انسپکٹر جنید نے کہا۔

''اگر اس کے گارڈ نے پرویز اختر کو بتا دیا تو...''حمود نے کہا۔

''وہ اسے بھی منع کر دے گی۔'' وہ مسکرائی۔

''ارے واہ...تم نے تو کمال کر دیا۔'' فاروق چہکا...پھر چونک اُٹھا:

''ارے! یہ گامی ، شازی کہاں چلے گئے؟''

اُنھوں نے ادھر ادھر دیکھا تو وہ گاڑیوں سے دُور اندھیرے میں کھڑے دکھائی دیے۔

'' ارے واہ...تم نے تو کمال کر دیا۔'' فاروق چہکا...پھر بڑے زور سے اُچھلا:

اسی وقت انسپکٹر جنید کے موبائل کی گھنٹی بج اُٹھی۔ کال خفیہ فورس کے نمبر ایک تھی۔ وہ کہہ رہا تھا:

''سر! ہم نے پرویز اخترکو تلاش کرلیا ہے۔وہ پریشان نظر آرہا ہے۔''

''کیا وہ اکیلا ہے...؟''

''جی سر...وہ اکیلا ہی ہے...''

''تب پھر تم کسی طرح اس سے موبائل چھین لو ...دوسرے لفظوں میں اپنے قبضے میں لے لو...'' انسپکٹر جنید نے کہا۔

''اوکے...''

''کچھ اور کام بھی تمھارے ذمہ لگایا تھامیں نے...''

''سر! ہماری ہر طرف نظر ہے...حتیٰ کہ آپ لوگ بھی ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں...''وہ ہنسا۔

''اوہ..بہت خوب..شاباش...'' انسپکٹر جنید نے کہا اور کال کاٹ دی۔

''موٹا باس کے پکڑے جانے کی خبر یقینا اسے مل گئی ہوگی...اس لیے وہ پریشان ہے..مجھے ڈر ہے...کہیں وہ وقت سے پہلے کارروائی کا اشارہ نہ کر دے ۔'' انسپکٹر جنید نے کہا۔

''وہ کسے اشارہ کرے گا...ابا جان...'' حمود نے پوچھا۔

''وہ اکیلا نہیں ہے...باس کے علاوہ بھی کچھ لوگ اس کھیل میں ہیں۔'' انھوں نے پاگل جی کی باتیں انھیں بتا دیں۔

''اوہ..تب آپ نے بہت اچھا کیا... جو اس کاموبائل چھیننے کے لیے نمبر ایک سے کہہ دیا... اس طرح وہ پریشانی کی حالت میں کسی سے رابطہ نہیں کرسکے گا۔''

''اور اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ہم خرم تک پہنچ جائیںگے... اس تک پہنچنے کی دیر ہے ... سارے کھیل کی موت واقعی ہوجائے گی...'' حمود نے کہا۔

''اوہ...کک ...کیا کہا...کھیل کی موت ...یہ تو کسی ناول کا نام بھی ہو سکتا ہے۔'' فاروق نے بوکھلا کر کہا۔

''دھت تیرے کی... تمھیں بات بات میں ناولوں کے نام سوجھنے لگتے ہیں... '' حمود نے جھلا کر اپنی ران پر ہاتھ مارا۔

''اف مرگیا...'' فاروق چیخا۔

''اف مرگیا... کیا مطلب...!!'' فرحانہ چونکی۔

''اف مرگیا... یعنی میں مرگیا...'' وہ بولا۔

''تم کیسے مرگئے ...؟ اچھے بھلے تو بیٹھے ہو۔'' فرحانہ بھنا اُٹھی۔

''حمود نے اپنی ران پر نہیں،میری ران پر ہاتھ مارا ہے.. اور قسم سے بہت زور سے مارا ہے۔'' فاروق کاانداز ایسا تھا کہ سب ہنس پڑے۔

''توبہ ہے تم سے...''

''اباجان! کیا ہم یہیں کھڑے رہیں گے... لوگ دیکھیں گے تو کیا کہیں گے... یہ سوچا ہے آپ نے...'' فاروق نے کہا۔

''مجھے لوگوں کی پروا کب ہے... تم آرام سے بیٹھو... '' وہ مسکرائے۔

تھوڑی ہی دیر بعد موبائل کی گھنٹی دوبارا بجی:

''ہاں!نمبر ایک کیا رپورٹ ہے۔کیا کہا،موبائل اب تمھارے کارکن کی جیب میں ہے اور پرویزاختر کو پتا نہیں... واہ... یہ ہوئی نا بات... موبائل مجھ تک پہنچا دو...'' انسپکٹر جنید نے کہا۔ پھر گامی اور شازی کو دیکھنے لگے۔ وہ باتوں میں مصروف لگ رہے تھے۔اُنھوں نے آوازدے کر اُنھیں اپنے پاس بلا لیا:

''انسپکٹر صاحب! کیا رہا ...پاگل جی نے کیا بتایا...'' گامی نے پوچھا۔

''کوٹھی نمبر55کامالک پرویز اختر ، موٹے باس کا ساتھی ہے۔ اسی کے کہنے پر موٹا فرحانہ کے پیچھے پڑا تھا۔ '' اُنھوں نے گامی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔

''اوہ....اس کا مطلب ہے...موٹے باس کی باگ دوڑ پرویز اختر کے ہاتھ میں تھی ...''

''بظاہر ایسا ہی لگ رہاہے۔''

''اور وہ پاگل جی کہاں چلا گیا؟'' شازی نے چونک کر گاڑیوں کی طرف دیکھا۔

''اُسے ہم نے واپس بھیج دیاہے۔''

''گویا اب آپ پرویز اختراور خرم کو گرفتار کرکے اصلی کھیل تک پہنچ جائیں گے۔'' گامی نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا۔

''اصلی کھیل...اِس کا مطلب ہے ، نقلی کھیل بھی ہوتا ہے!'' فاروق نے چونک کر پوچھا۔

''دُنیا میں اصلی کھیل کم، نقلی کھیل زیادہ کھیلے جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں، ہمارے ساتھ بھی دو کھیل کھیلے گئے ہیں۔ ایک کا تو معلوم ہوگیا، دوسرے کے بارے میں جلد معلوم ہوجائے گا، ان شاء اللہ۔''

''ان شاء اللہ...ایسا ہی ہوگا۔''سب ایک ساتھ بولے۔

''اس کا مطلب ہے...اَب ہم جا سکتے ہیں۔''شازی نے مسکراکر کہا۔

''بالکل جاسکتے ہیں...میں نے تو تمھیں نہیں روکا تھا...تم اپنی مرضی سے ہمارے ساتھ ہو۔'' انسپکٹر جنید بھی مسکرائے۔

''ٹھیک ہے انسپکٹر جنید صاحب! ہم چلتے ہیں..زندگی رہی تو پھر ملاقات ہوگی۔''

''ان شاء اللہ...جلد ہوگی۔'' اُنھوں نے کہا۔پھر وہ چلے گئے۔

'' اوہ...گامی، شازی چلے گئے۔''فاروق کے منہ سے نکلا۔

''گامی! تو بڑا دلچسپ تھا...بالکل فاروق کی طرح تھا...اللہ کرے، اُسے اُن کا دشمن فقیر پرندہ جلد مل جائے اور وہ اُس کا شوربا بنا کر پی جائے...اُس نے اُسے بہت دُکھ دیے تھے۔'' حمود کہتا چلا گیا۔

''ہاں! وہ اچھا آدمی تھا...اُس نے ہماری بہت مدد کی تھی۔''فرحانہ نے کہا۔ اُسی وقت خفیہ فورس کا کارکن اُن کے پاس آگیا:

''یہ لیں سر...''

''اوکے...تم جا سکتے ہو...''انسپکٹر جنید نے کہا تووہ جدھر سے آیا تھا، اُدھر ہی چلا گیا۔

اُس کے جانے کے بعد انسپکٹر جنید نے خفیہ فورس کے انچارج کا نمبر ملایا اور بولے:

''نظر رکھنا...''اتنا کہہ کر اُنھوں نے کال کاٹ دی۔

''اب ہمارا یہاں کوئی کام نہیں ہے... آئو گھر چلتے ہیں۔''

وہ گھر پہنچے...موبائل کا جائزہ وہ راستے میں ہی لے چکے تھے۔ خرم کا نمبر محفوظ تھا۔انھوں نے موبائل اکرام کے حوالے کر دیا اور کہا:

''موبائل کمپنی سے اس کا پتا معلوم کرو،اس میں اور بھی بہت سے نمبر ہوں گے.. مجھے سب کی تفصیل چاہیے۔''

''مل جائے گی سر...''اکرام نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''لیکن ابا جان...اگر پرویز نے سم بلاک کرادی تو...موبائل لاک کرا دیا تب...'' حمود نے پوچھا۔

''جو مرضی کرلے.... مجھے پروا نہیں۔اکرام تم جائواور جلد سے جلد ساری تفصیل لے آؤ...'' انسپکٹر جنید نے کہا۔

اکرام نکل گیا...کوئی آدھ گھنٹے بعد اس کی واپسی ہوئی تووہ پرجوش تھا:

''سر! خرم کا گھر یہاں سے زیادہ دور نہیں ہے۔ ''

''خان رحمان، پروفیسر صاحب! کیاآپ چلیں گے ہمارے ساتھ یا ابھی آرام کرنا چاہتے ہیں۔''

''میں چلتا ہوں جنید...'' خان رحمان نے کہا۔

''اور میں یہیں رکوں گا...میری طبیعت زیادہ اچھی نہیں ہے۔'' پروفیسر داؤد نے کہا۔ وہ ڈرائنگ روم میں لیٹے ہوئے تھے۔

''اوکے...''

وہ بڑی اور صاف ستھری گلی میں ایک پیاراسا گھر تھا... دستک کے جواب میں ایک نوعمر لڑکے نے دروازہ کھولا... وہ اتنے لوگوں کو اپنے سامنے دیکھ کر پہلے حیران ہوا، پھر جلدی سے بولا:

''آپ...آپ کون ہیں اور کس سے ملناچاہتے ہیں؟''

''ہمیں خرم سے ملنا ہے...وہ گھر پر ہیں۔''

''جی وہ گھر پر ہی ہیں...میں ڈرائنگ روم کا دروازہ کھولتاہوں۔'' نو عمر لڑکے نے کہا۔ چند لمحوں بعد وہ ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔

''آپ یہاں تشریف رکھیں...میں خرم بھائی کو بلاتا ہوں...وہ تھوڑی دیر پہلے گھر لوٹے ہیں۔'' نو عمر لڑکے نے کہا اور گھرکے اندر چلا گیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد ایک نوجوان ڈرائنگ روم میں داخل ہوا:

''جی فرمائیے! میں خرم ہوں...ارے...آپ...'' انسپکٹر جنیدپر نظر پڑتے ہی وہ بُری طرح اُچھلا۔ ساتھ ہی اُس کی آنکھوں میں خوف دوڑ گیا۔اس نے واپس پلٹناچاہا لیکن فاروق نے ٹانگ اڑا دی...وہ اُلجھ کر گرا...

''اسے کہتے ہیں سرکاری ٹانگ...'' فاروق مسکرایا۔

''خرم! بھاگنے کی کوشش فضول ہے...'' انسپکٹر جنید مسکرائے۔

''آپ یہاں کیوں آئے ہیں انسپکٹر جنید...'' خرم نے پوچھا۔اس کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا تو ایک جا رہا تھا۔

''اس کا جواب اپنے چہرے سے لو تو بہتر ہے۔'' خان رحمان مسکرائے۔

''اپنے چہرے سے...''اُس نے جلدی سے اپنے چہرے کو ٹٹولا... پھر ٹھنڈی سانس لے کر رہ گیا۔

انسپکٹر جنید نے اکرام کو اشارے سے کچھ کہاتو اس نے جیب سے پرویز اختر کا موبائل نکال کر خرم کا نمبر ملا دیا۔ فوراً خرم کی سائیڈ جیب میں موجود موبائل بج اُٹھا۔اُس نے جلدی سے فون باہر نکالا اور پھر گھبرا گیا۔

''خرم! تم پھنس چکے ہو..دوسرے الفاظ میں تمھاری شکست ہوگئی ہے۔ ''

''باس کا موبائل آپ کے پاس کہاں سے آگیا۔'' وہ حیرت سے بولا۔

''شاباش... یہ ہوئی نا بات...''پروفیسر داؤدبولے۔

''ہماری خفیہ فورس کا کارنامہ ہے یہ...اور تمھارا باس بھی اس وقت تک اُن کے قبضے میں ہوگا۔'' انسپکٹر جنید نے کہا۔

''اوہ... !!اِس کا مطلب ہے،کھیل ختم ہوگیا۔'' اُس کا جسم ڈھیلا پڑگیا۔

''ٹھیک سمجھے... اب اپناموبائل مجھے دے دو...''

خرم نے موبائل انھیں پکڑا دیا۔ پھر ایک عجیب بات ہوئی... وہ دھک سے رہ گئے... خرم تیزی سے جھکا اوراس نے انسپکٹر جنید کے پائوں پکڑ لیے۔

''سر! کئی سال تک ہاتھوں میں ڈگریاں اُٹھائے، نوکری کے لیے مارا مارا پھرتا رہا ہوں لیکن مجھے نوکری نہیں ملی...مایوسی حد سے بڑھی تو ایک دن میں ٹوٹ گیا۔ ہمت و حوصلہ کہیں گم گیا...اور میں غلط راہوںکا مسافر بن گیا... باس جیسے لوگ میری صلاحیتوںکا ناجائزفائدہ اٹھانے لگے۔ ''خرم کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں۔ سب حیران رہ گئے۔

''اوہ...اوہ...اچھا یہ تو بتائو..تم کھیل کیا کھیلنا چاہتے تھے؟'' انسپکٹر جنید نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

''ایک منٹ۔'' کسی نے زور سے کہا تھا۔ سب نے گردنیں گھما کر دیکھا تو دھک سے رہ گئے۔ اُن کے اوپر کے سانس اوپر اور نیچے کے نیچے رہ گئے۔ سب سے بُری حالت حمود، فاروق، فرحانہ اور خان رحمان کی تھی۔

( جاری ہے )

(کل ادھورا کھیل کی آخری قسط پیش کی جائے گی ، ان شا ء اللہ )

عبدالرشید فاروقی

لکھاری

عبدالرشید فاروقی

آپ بچوں کے ادب سے سال اُنیس سو تراسی سے منسلک ہیں۔ بے شمار کہانیاں لکھ چکے ہیں۔ تین جاسوسی ناولز ، چار کہانیوں کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ قسط وار ناول اِن کے علاوہ ہیں۔ ادب اطفال میں اُستاد جی کے نام