🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
اُدھورا کھیل / قسط نمبر 11
جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

اُدھورا کھیل / قسط نمبر 11

عبدالرشید فاروقی
عبدالرشید فاروقی
8 ستمبر، 2026۱۰۸ مرتبہ پڑھی گئی

اُدھورا کھیل / قسط نمبر 11 سنیں

قسط 11

باب :

غریب بھیا... امیربھیا

''کیا ہوا... کون ہے باہر؟'' فرحانہ نے بے چینی سے پوچھا۔

''وہ ایک پاگل ہی ہے۔'' فاروق نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''یار! بڑے وہ ہو... ہماری تو جان ہی نکال دی تم نے.. بلا وجہ ادا کاری نہ کیا کرو۔ کسی دن کسی کو ہارٹ اٹیک ہوجائے گا۔'' گامی نے ہنستے ہوئے کہا۔

''میرے لیے کیاحکم ہے... میں دروازہ کھول دوں؟'' حمود نے کہا۔

''دروازہ کھول دو...لیکن پاگل اندر نہیں آئے گا۔'' فرحانہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''پاگل اندر نہیں آئے گا تو دروازہ کھولنے کا کیا فائدہ... ہم اس سے کہہ دیتے ہیں... بھائی! ہم دروازہ نہیں کھول سکتے... تم کسی اور دروازے پر چلے جاؤ۔'' فاروق نے کہا۔

''فاروق! تم پاگل ہو... میری بات مکمل نہیں ہونے دیتے اور درمیان میں اپنی ہانکنے لگتے ہو... سنو! پاگل اندر نہیں آئے گا بلکہ ہم سارے باہر جائیں گے۔ کیا خیال ہے۔ '' فرحانہ نے کہا۔

''اچھا خیال ہے... بلکہ بہت نیک خیال ہے... ایسا خیال کبھی کسی کے خیال میں بھی نہیں آیا ہوگا اور خیال رہے... ایسے خیال نایاب ہوتے ہیں۔ ڈھونڈے سے نہیں ملتے، لہٰذا اِن کی خوب حفاظت کرنی چاہیے۔'' فاروق کہتا چلا گیا۔

''اوہ...دھت تیرے کی...'' حمود نے جل کر اپنی ران پر ہاتھ مارا۔

''اب تم نے کس خوشی میں دھت تیرے کی کہاہے...؟'' فرحانہ نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

''فرحانہ! تم کبھی کبھی مجھ سے بہت زیادتی کرتی ہو۔'' حمود نے اس سے بھی زیادہ منہ بنایا۔

''وہ کیسے...''

''فاروق نے خیال کا خیال نہیں رکھا اور اس کا بے دریغ استعمال کیا، تم نے اسے تو کچھ نہیں کہا... اورمیرے پیچھے لٹھ لے کر پڑ گئی ہو... یہ اچھی بات نہیں ہے۔''

''توبہ ہے... کیسی کیسی بے سروپا باتیں لے کر بیٹھ جاتے ہو تم... باہر ایک عدد پاگل صاحب موجود ہیں اور تم ہو کہ ادھر ادھر کی ہانکے جا رہے ہو۔''

''اوہ... تو پھر دروازہ کھول دوں۔''

''ہاں کھول دو... آئو بھئی ہمیں گھر سے باہر جانا ہے... اب کوئی ہمارے گھر میں جائزیا ناجائز طریقے سے داخل نہیں ہوگا۔''

حمود نے دروازہ کھول دیا اور سب جلدی جلدی گھر سے باہر نکل گئے... ان کے باہرنکلتے ہی بیگم جنید نے دروازہ اندر سے بند کرلیا۔باہر موجود پاگل ایک طرف کھڑا حیرت سے سب کو دیکھ رہا تھا۔

''یہ انسپکٹر جنید کا گھر ہے۔''

پاگل کا جملہ سن کر سب حیرت سے اُسے دیکھنے لگے۔

''ہاں ...یہ انہی کا گھر ہے۔'' حمود نے کہا۔

''تب تو میں ٹھیک جگہ پر آگیاہوں...'' وہ مسکرایا۔

''کیا مطلب!'' فرحانہ نے کہا۔

''مجھے انسپکٹر جنید یا اُن کے بچوں سے ملنا ہے۔''وہ مسکرا یا۔

''کیوں ملنا ہے...؟''

''میں انھیں ایک بات بتانا چاہتا ہوں...ایک خبر دینا چاہتا ہوں۔''

''ہم ہی ان کے بچے ہیں... حمود، فاروق اور فرحانہ...'' حمود نے کہا۔

''اوہ...تو وہ تم ہو، جن کے چرچے زمانے میں ہیں۔'' وہ حیران رہ گیا۔

''ہاں! اب تم کیا بتانا چاہتے ہو؟''

''ایک منٹ پاگل...'' اچانک فاروق نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''ایک منٹ پاگل..بھلا منٹ کب پاگل ہوتے ہیں فاروق؟'' گامی نے جلدی سے کہا۔

فرحانہ نے فاروق کو گھورااور منہ بنا کر بولی:

''فاروق...میں تم سے درخواست کرتی ہوں۔کوئی ایسی ویسی بات نہ کہنا ، حالات بہت عجیب ہیں... ابا جان اور دیگر کہیں غائب ہیں اور ہم گھر میں بے بس پڑے ہیں۔''

''یہ صاحب باتیں نارمل آدمی جیسی کر رہے ہیں جبکہ ان کا کہنا ہے، یہ ایک پاگل ہیں۔''فاروق نے منہ بنایا۔

''اوہ..آپ غلط سمجھے..میں پاگل نہیں.. میرا نام پاگل ہے۔'' وہ مسکرایا۔

''اوہ... لیکن آپ کا حلیہ تو پاگلوںجیسا ہی ہے۔'' فرحانہ نے کہا۔

''یہ میں نے مجبوری میں بنایا ہے۔آپ میری بات سن لیں ۔'' پاگل نے کہا۔

'' کیا تم یہیں بتاؤگے... یاہم کہیں بیٹھ جائیں۔''

''بیٹھنے کی ضرورت نہیں ہے... آپ بات سن لیں۔''

''اچھا ...بتائیں جو بتانا چاہتے ہیں۔''

'' میں ایک بھکاری ہوں...'' اس نے اچانک مسکراتے ہوئے کہا۔

''اوہ... ارے باپ رے...تم بھکاری ہو؟'' فاروق اچھلا۔

''ہاں! میں بھکاری ہوں... اور پورے شہر میں گھومتا پھرتا ہوں۔''

''بھائی!آپ وہ بات بتائیں... جس کے لیے یہاں آئے ہیں۔''

''شایدہمارے شہر میں کچھ غلط ہونے والا ہے۔'' اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔

''کیا مطلب!!'' وہ بڑی زور سے اچھلے۔

''ارے باپ رے... '' فاروق خوف زدہ ہوگیا۔

''اپنی بات کی وضاحت کریں پاگل صاحب۔آپ تو ہمیں خوف زدہ کر رہے ہیں۔''

''جیسا کہ میں نے کہا... میں شہر بھر میں بھیک مانگتا پھرتا ہوں۔کوئی علاقہ مجھ سے پوشید ہ نہیں....میں نے ایک بڑے گھر میں دو ایک لوگوںکو آتے جاتے دیکھا ہے۔ ''

''یہ کیا بات ہوئی،سب گھروں میں لوگ آتے جاتے ہیں۔اس میں کیا خاص بات ہے۔''

''لیکن وہ لوگ مشکوک ہیں...''

''اوہ...کہاں ہے وہ گھر...'' فرحانہ نے چونک کر پوچھا۔

''گھمن آباد میں...یہاں سے زیادہ دور نہیں ہے...''

''اوہ ،اچھا...لیکن تم کیسے کہہ رہے ہو۔شہر میں کچھ غلط ہونے والا ہے... کیا تم نے ان کی باتیں سنی ہیں؟''

''ہاں...ایک آدمی دوسرے سے کہہ رہا تھا...ایک دن کی بات ہے، ہمارے پاس بہت سی دولت آجائے گا...'' پاگل نے کہا۔

''اوہ...''فرحانہ کے منہ سے نکلا۔

''فرحانہ! مجھے تو یہ فراڈ لگتا ہے، اس کی باتوں پر توجہ نہ دو۔'' گامی نے کہا۔

''ہاں...اور کیا...'' شازی نے جلدی سے گامی کی تائید کی۔

''مہربانی کرکے آپ یہاں سے چلے جائیں... ہم پہلے ہی بہت پریشان ہیں۔''حمودنے کہا۔

''تم نے یہ بات پولیس کو کیوں نہ بتائی... ''

''نن ...نہیں نہیں...میں انھیں نہیں بتا سکتا... مجھے ان سے بہت ڈر لگتا ہے۔کئی بار جب انھوں نے مجھے بھیک مانگتے پکڑا تو بہت مارا تھا۔ میں تو ان کے سائے سے بھی ڈرتا ہوں۔'' پاگل نے جھرجھری لی۔

''اوہ... تم کسی دوست کے ذریعے بھی پولیس تک پیغام پہنچا سکتے تھے۔'' گامی نے کہا۔

''میں نے ایسی کوشش کی تھی لیکن کسی نے بھی میری بات کو سچ نہ مانا۔'' اس نے منہ بنایا۔

''اوہ...مجھے بھی لگتا ہے... تم جھوٹ بول رہے ہو...''فاروق نے کہا۔

'' میں جھوٹ نہیں بول رہا ہوں... شہر میں کچھ غلط ہوگیاتو اس کے ذمہ دار آپ لوگ ہوں گے..یہ میرا موبائل نمبر رکھ لیں..شاید آپ کے کسی کام آجائے۔'' پاگل نے کہااور ایک طرف نکل گیا۔ فاروق نے کارڈ کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔ اس پر جلی حروف میں پاگل جی لکھا ہوا تھا... نیچے ایک موبائل نمبردرج تھا۔

''وہ واقعی پاگل تھا...'' فاروق نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

''کیسے کیسے لوگ ہیں دنیا میں...!!'' حمودبولا۔

''لیکن تم اس کارڈ کا کیا کرو گے؟'' فرحانہ مسکرائی۔

''پاگل جی کی نشانی سمجھ کر اپنے پاس رکھ لوں گا۔'' فاروق مسکرایا۔

''میں سوچ رہی ہوں...اگر اس کی بات سچ ہوئی تو۔'' فرحانہ کہتے کہتے رُک گئی۔

''اللہ اپنا رحم فرمائے۔ اس وقت ہمیں اباجان ، انکل خان رحمان ، پروفیسر انکل، انکل اکرام اور محمد حسین آزاد وغیرہ کی فکر کرنی چاہیے۔ '' حمود نے کہا۔

''پروفیسر انکل...اوہ...اوہ...'' اچانک فاروق کے منہ سے نکلا۔

''کیا ہوا...!!''

''پروفیسر انکل کی گفٹ گھڑیاں شاید خراب ہوگئی ہیں،سگنل ہی نہیں آرہے ہیں۔''فاروق نے کلائی کر دیکھتے ہوئے کہا۔

''ملاقات ہوگی تو شکایت کریں گے۔''

''اور ان سے نئی گھڑیاں لیں گے۔'' فرحانہ مسکرائی۔

''نہ جانے سب کہاں ہوں گے۔''

''جہاں بھی ہوں گے، خیریت سے ہوں گے...ان شاء اللہ۔''

''مجھے یقین ہے... آئی جی انکل آرام سے نہیں بیٹھیں ہوں گے۔''

''تم لوگوں کا اب کیا پروگرام ہے...واپس جرائم کی دنیا میں جاؤ گے یا۔'' حمود نے گامی سے کہا۔

''فرحانہ! آپ ایک بات بھول رہی ہیں...''

''کون سی...؟'' وہ چونکی۔

''یہی کہ آپ کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی ہے... اور وہ لوگ آرام سے نہیں بیٹھیں گے... دوبارا آئیں گے۔'' گامی نے کہا۔

''ویسے میں حیران ہوں... وہ لوگ مجھے کیوں اغوا کرنا چاہتے ہیں؟''

''اس کی وجہ شاید تمھارے ذہن میں آجائے۔ ذرا سوچو..'' حمود نے کہا اور فرحانہ واقعی سوچ میں ڈوب گئی۔ وہ سوچتی رہی... پھر اچانک وہ بڑے زور سے اچھلی... ساتھ ہی اس کے منہ سے نکلا:

''وہ مارا... میں سمجھ گئی ... مجھے کون اغوا کرانا چاہتی ہوگی...''

''کک...کیا کہا... چاہتی...'' فاروق نے حیرت سے اسے دیکھا۔

''اب تک کے حالات میں کسی عورت کا نام سامنے نہیں آیا بلکہ کوئی نام سرے سے آیا ہی نہیں ہے... ہم تو بس اپنے ہی گھر میں لوگوں سے لڑ رہے ہیں۔'' حمود نے کہا۔

''اوہ..اوہ..ضرور...اس کام کے پیچھے وہی نک چڑھی ہوگی۔کیا ہم اس کے گھر چلیں۔'' فرحانہ نے کہا۔

''تم کس کی بات کر رہی ہو فرحانہ؟''

''میری کلاس فیلو ارم اختر... ایک رئیس کی بگڑی ہوئی بیٹی... ایک دفعہ وہ مجھ سے کسی بات پر لڑ پڑی تھی۔ میں نے اس کی خوب ٹھکائی کی تھی... اس نے بھری محفل میں مجھے دھمکی دی تھی... فرحانہ! میں تمھیں ایک دن اغوا کروا لوںگی۔ اس دن تم مجھ سے رحم کی بھیک مانگو گی اور میں تمھارے منہ پر تھوک دوں گی... میں تمھیں سبق سکھا کر ہی رہوں گی...'' فرحانہ کہتی چلی گئی۔

''تم غلط سوچ رہی ہو...دوستوں میں ایسی باتیں تو ہوتی ہی رہتی ہیں۔ ''

''اور کیا ارم اختر کے والد کوئی بدمعاش قسم کی چیزہیں...اب ظاہر ہے، ارم خود تو ....'' فاروق کہہ رہا تھا۔

''تمھاری بات میں سمجھ رہی ہوں، لیکن ہمیں جا کر اس سے بات تو کرنی ہی چاہیے...''

''اوہ...تو پھر چلیں اس کے گھر...''

''اور جاکر پوچھتے ہیں..بی بی! تمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے۔کیوں ہماری بہن سے پنگالے رہی ہو۔''فاروق نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''ہاں!ہم اُسے چیک تو کر ہی سکتے ہیں...''

''کوئی ضرورت نہیں کسی کو چیک کرنے کی...ہم جو آگئے ہیں۔'' اچانک ایک نوجوان اُن کے سامنے آگیا۔ اس کے عین پیچھے سے ایک دبلا پتلا نوجوان نکلا۔

وہ چونک اُٹھے۔

''کک... کون ہو تم...؟'' فاروق گھبراگیا۔

''حد ہوگئی... یار فاروق... تم اتنے بزدل کیوں ہو...بات بات پر گھبرا جاتے ہو۔'' گامی نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا۔

''یہ گھبراتا نہیں... ادا کاری کرتا ہے۔'' حمود نے منہ بنایا۔

''اور اس سے بڑا ادا کار کوئی نہیں ہو سکتا۔ '' حمود ہنسا۔

''بھائی لوگو... اپنی چھوڑو اور مجھ پر توجہ دو...میں یہاں تم لوگوں کا منہ دیکھنے نہیں آیا۔'' نوجوان نے منہ بنایا۔

''اوہ...لیکن ہم تو یہی سمجھے ہیں...''فاروق نے شوخی سے کہا۔

''یہی کہ...تم یہاں ہمارا منہ دیکھنے آئے ہو۔''

''میں اور تمھارا منہ دیکھنے آؤں گا... آئینے میں کبھی اپنا منہ دیکھا ہے تم ۔'' نوجوان نے بھنا کر کہا۔

''الحمداللہ... تقریباً روز ہی دیکھتا ہوں... اور اپنے سوہنے اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں... جس نے مجھے اس قدر سوہنا بنایا ہے...'' فاروق کہتا چلا گیا۔

''تم سوہنے ہو...'' وہ ہنسا۔ اس کی ہنسی عجیب سی تھی۔

''مجھے کوئی شک نہیں...'' فاروق نے کچھ اس انداز سے کہا کہ سب ہنس پڑے۔

'' اچھا سنو...میرے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں ہے... تم سب جلدی سے اس گاڑی میں بیٹھ جاؤ... تاکہ میں تمھیں تمھارے اباجان تک پہنچا دوں...''

''کیا...!!!'' وہ چلااُٹھے۔

''چلائے کیوں...کیا تم انسپکٹر جنید کو تلاش نہیں کر رہے...میرے ساتھ آؤ...میں ان تک لے چلتا ہوں۔''

''اوہ...تم عجیب ہو...'' حمود نے کہا۔

''عجیب نہیں...میں غریب بھیا ہوں...'' اس نے منہ بنایا۔

''غریب بھیا...تم امیر بھیا کیوں نہیں ہو...''فاروق ہنسا۔

''غریب بھیا اس لیے ہوں کہ میں غریب ہوں... بلکہ بہت ہی غریب.. جب میرے پاس بہت سے پیسے آجائیں گے تومیں امیر بھیا ہوجاؤں گا... '' اس نے کہا۔

''اوہ...یہ بھی ٹھیک ہے۔'' فاروق نے ہنس کر کہا۔

''تو تم سب میرے ساتھ چل رہے ہو نا...'' غریب بھیا کے برابر میں کھڑے دبلے پتلے آدمی نے کہا۔

''امیر بھیا...یہ چلیں گے... اورضرور چلیں گے۔ اگر منع کیا تو ہم انھیں اغوا کرلیں گے...'' غریب بھیا نے کہا۔

''ارے... کیا کہا... امیر بھیا...یہ امیر بھیا ہیں؟'' فاروق بوکھلا اُٹھا۔

''ہاں... میں غریب بھیا اور یہ امیر بھیا ہیں...''

''اوہ... کہیں تم بھائی تو نہیں ہو۔'' فرحانہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

''ہاں... امیر بھیا میرا بڑا بھائی ہے۔'' موٹے نے کہا۔

''ہمارے اباجان کہاں ہیں؟'' اچانک فرحانہ نے سوال کیا۔

''وہ جہاں بھی ہیں..ہم سب کو ان کے پاس پہنچا دیں گے۔'' وہ مسکرایا۔

''غریب بھیا! ذرا اپنا موبائل دینا...میں آئی جی انکل کو ساری بات بتا دوں..وہ تمھیں شاباش دیں گے۔'' فرحانہ نے کہا تو دونوں بھیا بڑے زور سے اچھلے:

''خبردار! ایسا سوچنا بھی نہیں..اور ہاں!تم کسی کو نہیں بتائو گے...خاموشی سے اس گاڑی میں بیٹھ جائو۔'' غریب بھیا کے ہاتھ میں ریوالور نظر آرہا تھا۔

''بھیا لوگو... ہمیں تمھارے ساتھ جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن کیا تم واقعی ہمیں ان کے پاس ہی لے کر جاؤ گے۔'' حمود نے کہا۔

''اوہ...توتم ثبوت چاہتے ہو...''

''سمجھ دار ہو... فوراً سمجھ گئے۔''

''اِس تصویر کو دیکھو...یہ سب تمھارے ساتھی ہیں نا۔'' غریب بھیا ایک تصویر ان کے سامنے لہرانے لگا۔

انھوں نے دیکھا..انسپکٹر جنید ، اکرام، محمد حسین آزاداور ان کے دوماتحت رسیوں سے جکڑے پڑے تھے۔

''اوہ... یہ تو واقعی وہی ہیں...لل... لیکن ان میں خان رحمان اور پروفیسر انکل نہیں ہیں۔'' فرحانہ نے چونکتے ہوئے کہا۔

''وہ ان کے بعد اُٹھائے گئے تھے... اس لیے وہ تصویر میں موجود نہیں ہیں۔''

''ٹھیک ہے...میں اغوا ہونے کے لیے تیار ہوں۔'' فرحانہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔

''اور ہم بھی...'' حمود اور فاروق نے جلدی سے کہا۔ وہ سب جلد از جلد انسپکٹر جنید کے پاس جانا چاہتے تھے۔

وہ ایک بڑی سی ویگن نما گاڑی تھی۔ وہ سب اُس میں بیٹھ گئے تو غریب بھیا نے دروازے لاک کر دے۔ فرنٹ سیٹ پر امیر بھیا نے قبضہ جمایاتو گاڑی ایک جھٹکے سے آگے بڑھی۔ وہ گلی سے نکل کر جیسے ہی مین روڈ پر آئے ... گاڑی میں سیاہ دھواں بھرنے لگا۔

''یہ ...یہ کیا ہے...'' حمود نے چونک کر کہا۔

''پاگل آدمی ...ہم تمھیں کھلی آنکھوں سے اپنے ٹھکانے پر لے کر جائیں گے..تم نے ایسا سوچا بھی کیسے..اب اچھے بچوں کی طرح بے ہوش ہونے کے لیے تیار ہوجائو۔'' غریب بھیا نے ہنستے ہوئے کہا۔

''اوہ... لیکن کیا تم ہمارے ساتھ بے ہوش نہیں ہوگے... آخر گاڑی میں تم بھی موجود ہو۔''

''ہم بے ہوش نہیں ہوں گے... یہ دیکھو۔'' امیر بھیا نے کہا ۔

اس کے ہاتھ میں دو ماسک تھے۔ اُن کے دیکھتے ہی دیکھتے امیر اور غریب بھیا نے ایک ایک ماسک چہرے پر چڑھا لیا۔ گاڑی میں دھواں اتنا ہوا کہ انھیں سانس لینا دشوار ہوگیا۔ پھر وہ بے ہوش ہوتے چلے گئے...

OO

عبدالرشید فاروقی

لکھاری

عبدالرشید فاروقی

آپ بچوں کے ادب سے سال اُنیس سو تراسی سے منسلک ہیں۔ بے شمار کہانیاں لکھ چکے ہیں۔ تین جاسوسی ناولز ، چار کہانیوں کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ قسط وار ناول اِن کے علاوہ ہیں۔ ادب اطفال میں اُستاد جی کے نام