🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
اُدھورا کھیل / قسط نمبر 8
جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

اُدھورا کھیل / قسط نمبر 8

عبدالرشید فاروقی
عبدالرشید فاروقی
4 ستمبر، 2026۱۰۴ مرتبہ پڑھی گئی

اُدھورا کھیل / قسط نمبر 8 سنیں

وہ ایک بڑاسا گول ہال تھا۔اُس کی دیواروں میں چھ دروازے نظر آ رہے تھے ۔ ان پر نمبر لکھے ہوئے تھے۔دروازہ نمبر ایک عجیب سا تھا جبکہ باقی دروازے عام سے تھے۔ ہال کے درمیان میں ایک اونچی گھومنے والی عجیب سی کرسی پر ایک موٹا، سرخ و سفید آدمی ٹانگیں پھیلائے بیٹھا تھا... اس کے ارد گرد ایک دائرے میں کچھ لوگ سینوں پر ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ موٹا آدمی اکڑی ہوئی گردن سے گھوم گھوم کر سب کو دیکھ رہا تھا۔ کمرے میں ایک طرف انسپکٹر جنید، اکرام، محمد حسین آزاد، لیاقت اور اسد رسیوں سے جکڑے پڑے تھے۔ وہ گردنیں اُٹھا کر موٹے کو دیکھ رہے تھے۔ اچانک موٹے کے ہونٹ حرکت میں آئے:

''میں بہت خوش ہوں...اس لیے کہ جو کام میں نے تم لوگوں کے ذمہ لگایاتھا...تم نے وہ اچھے طریقے سے انجام دیا ہے۔ ''

''آپ کے لیے ہماری جانیں بھی حاضر ہیں باس۔''سب بول اُٹھے۔

''میں جانتاہوں، تم میرے وفادار غلام ہو...'' وہ زور سے ہنسا۔

''باس! کاکا، باجا اور بابا ... یہ تینوں ابھی تک فرحانہ کو لے کر نہیں آئے۔''

''آجائیں گے...فکر نہ کرو، اُن کی کھیر ذرا ٹیڑھی ہے... تھوڑا وقت لگ سکتا ہے۔'' باس نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔

''باس! اگر آپ کہیں تو ایک بات پوچھنے کی جرأت کرلوں؟''

''جانی! تمھیں اجازت لینے کی ضرورت نہیں، کیا پوچھناچاہتے ہو؟''

'' شکریہ! باس آپ صرف فرحانہ ہی کو کیوں اغوا کرانا چاہتے ہیں؟''

''صرف فرحانہ...'' باس نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔

''یہ لوگ یہاں پکنک پر نہیں آئے ، اِنھیں بھی تو تم لوگوں نے اغوا کیا ہے۔''

''اوہ...میرا مطلب تھا...انسپکٹر جنید کے بچوں میں سے صرف فرحانہ پر زور کیوںہے؟''

''انسپکٹر جنید فرحانہ سے بہت محبت کرتے ہیں،دوسرے لفظوں میں فرحانہ اِن کی کمزوری ہے،دُکھتی رَگ ہے اور تم جانتے ہو ،دشمن کی دُکھتی رَگوں سے کھیلنا مجھے اچھا لگتا ہے...پھر ایک اور وجہ بھی ہے...خبردار! مجھ سے وہ وجہ نہ پوچھ لینا !''باس نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔

''ٹھیک ہے باس...نہیں پوچھتا۔'' جانی مسکرایا۔

''تمھاراخیال غلط ہے... میں صرف فرحانہ ہی سے محبت نہیں رکھتا... حمود اور فاروق بھی مجھے اتنے ہی پیارے ہیں...'' انسپکٹر جنید نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''اوہ، لیکن میں نے تو سنا ہے... باپ لڑکوں کی نسبت لڑکیوں سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔''

''وہ اور باپ ہوں گے جو اپنے بچوں میں فرق رکھتے ہیں.. مجھے تو میرے سارے بچے ہی ایک جیسے عزیزہیں ۔''

''اوہ...آپ چاہتے ہیں... میںحمود، فاروق کو بھی یہاں بلالوں؟''

''تم پھر غلط سمجھے...؟'' انھوں نے غصے سے کہا۔

اُن کی بات سن کر باس چپ ہوگیا... پھر زور زور سے ہنسنے لگا۔

''اب کیا ہوا...! تم پاگلوں کی طرح کیوں ہنسنے لگے؟''

''انسپکٹر جنید! زبان سنبھال کر بات کریں، یہ ہمارے باس ہیں۔ ''جانی نے غصے سے کہا۔

''یہ تمھارے باس ہیں... میرے نہیں۔'' انھوں نے منہ بنایا۔

''کوئی بات نہیں جانی... اسے کہنے دو...''

''موٹے باس... تم بزدل آدمی ہو... جب سے میں تمھارے ہتھے چڑھا ہوں...تم نے مسلسل مجھے باندھ رکھا ہے...'' انسپکٹر جنید نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''آپ کو باندھ کے رکھنا ، میری مجبوری ہے۔ میں آپ کے ساتھیوںکو ایک ایک کرکے یہاں لاکرباندھ لوںگا...آپ جیسے لوگ بندھے ہوں تو ہم جیسوں کا کاروبار چلتا ہے۔''

''میرے ساتھیوں کو یہاںلانا چاہتے ہو، لیکن یہ جانی تو صرف فرحانہ کی بات کر رہا تھا۔'' انسپکٹر جنید نے کہا۔

'' فرحانہ...حمود، فاروق اور ...'' وہ کہتے کہتے رُک گیا۔

''اور...اور کون...؟'' اکرام نے جلدی سے پوچھا۔

''خان رحمان ... پرودفیسر داؤد ...''

''اوہ... لگتا ہے ،تم کسی بڑے کھیل کے موڈ میں ہو ؟'' انسپکٹر جنید ہنسے۔

''کھیل کا موڈ...ارے! یہ تو...یہ تو کسی ناول کا نام ہو سکتا ہے!'' اکرام نے چونک کر کہا تو انسپکٹر جنید مسکرانے لگے۔

''ایسی ہی بات ہے...میں کھیل کے موڈ میں ہوں۔'' باس بھی ہنسا۔

''اوہ... خیر! اس ملک میں بہت سے لوگوں نے بہت سے کھیل کھیلے ہیں لیکن اُن کا انجام کیا ہوا؟سب جانتے ہیں۔میرے دین اور ملک کے خلاف جب جب کسی نے میلی آنکھ ڈالنے کی کوشش کی، میں نے اللہ تعالیٰ کی مدد سے اُسے نیست و نابود کر دیا۔ اگر تمھارا بھی کوئی ایسا ارادہ ہے تو باز آجاؤ ، ورنہ...''انسپکٹر جنید نے کہا۔

''آپ دھمکی دے رہے ہیں مجھے؟''

''دھمکی نہیں، میں ایسا کر گزروں گا موٹے...''

''آپ کچھ نہیں کر سکیں گے انسپکٹر جنید۔'' وہ مسکرایا،پھر بولا:

''آپ اِن لوگوںکو دیکھ رہے ہیں۔یہ بہترین لڑاکے ہیں۔کسی کی جان لینا، اِن کے بائیںہاتھ کا کھیل ہے...'' باس ہنسا۔

''ارے باپ رے! اتنی خوف ناک باتیں تو نہ کرو ۔'' اکرام کی خوف زدہ سی آواز ہال میں گونجی۔

''تو کتنی خوف ناک باتیں کروں۔''

''اگر تم ایسی باتیں نہ ہی کرو تو اچھا ہے۔'' محمد حسین آزاد گھبرائی ہوئی آواز میں بولا۔

باس نے اُسے گھور کر دیکھا:

''انسپکٹر جنید ... آپ کے یہ ساتھی تو بہت ڈرپوک معلوم ہوتے ہیں۔''

''ہم ڈرپوک نہیں... یقین نہیں تو اپنے کسی ساتھی کو ہم سے لڑا کر دیکھ لو... تگنی کا ناچ نہ نچا دیا تو نام بدل دینا۔'' اکرام نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

''رہنے دو.... میرے ساتھیوں نے تمھیں کیسا ناچ نچایا تھا...! وہ بھول گئے۔''

''اسے ناچ نچانا نہیں، دھوکا اور فریب دینا کہتے ہیں۔'' اکرام نے جلدی سے کہا۔

''ویسے وہ افضل پاپڑی والا اِن میں سے کون ہے؟''

''وہ میں ہوں...'' جانی نے ہنستے ہوئے کہا۔

''لیکن تم تو جانی ہو...شاید باس کے خاص آدمی...''

''وہ بوڑھا پاپڑی والا میں ہی ہوں، بھیس بدلنا میرے لیے معمولی نہیں، بہت ہی معمولی بات ہے۔''

''اوہ...'' اکرام کے منہ سے نکلا۔

''اور ہمیں تو تم بالکل نہیں بھولے ہوگے...ہے نا۔'' دو آدمی ایک ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے بولے۔ اکرام نے دیکھا۔ ان میں سے ایک، کار والا نوجوان اور دوسرا ٹیکسی ڈرائیور تھا۔ وہی ٹیکسی ڈرائیور جس نے اسے ٹافیاں دی تھیں۔

''اس کامطلب ہے،مجھے باقاعدہ منصوبہ بندی سے یہاں لایا گیا ہے۔'' انسپکٹر جنید نے کہا۔

''ہاں!تم بغیر منصوبہ بندی کے ہاتھ آتے ہی کب ہو!'' جانی مسکرایا۔

''اکرام... یہ جانی وہی بوڑھا ہے... جسے تم میرے کمرے میں لائے تھے۔'' انسپکٹر جنید نے بتایا تو اکرام حیران رہ گیا۔

''لیکن سر... وہ...''

''تم نے سنا نہیں...یہ بھیس بدلنے کا ماہر ہے... اور ٹیلی پیتھی سے ملتا جلتا کوئی علم بھی جانتا ہے۔ اس نے اپنی دانست میں مجھے کنٹرول کرلیا تھا، لیکن میں بھی کچی گولیاں نہیںکھیلا... میں اس کی آنکھوں کو دیکھتے ہی پہچان گیا تھا۔'' انسپکٹر جنید مسکرا رہے تھے۔

''جب آپ پہچان گئے تھے توان کے ساتھ دفتر سے کیوں نکلے؟'' اکرام نے حیرت سے پوچھا۔

'' اس کی اصلیت جاننے کے لیے، اس کے ساتھ چلا آیا تھا... اور یہ میری غلطی تھی...''

''آپ نے مجھے کال کی تھی،لیکن بات نہ کرسکے تھے... وہ کیا ماجرا تھا۔''

''جب میں وہاں سے بھاگا تو اپنے موبائل سے تمھیں کال ملالی... مجھے بات کرنے کا وقت نہ ملا ... یہ لوگ میرے پیچھے تھے... فون بہرحال میں نے بند نہیں کیا تھا... تم نے یقینا وہاں ہونے والی بات چیت اور بھاگ دوڑ کی آوازیں سنی ہوں گی ، تبھی تو وہاں پہنچے تھے۔'' انسپکٹر جنید کہتے چلے گئے۔

''ایک منٹ انسپکٹرجنید، تمھارا موبائل تو میں نے لے لیا تھا... پھر تم نے اپنے موبائل سے اسے کیسے کال کرلی؟'' جانی نے حیرت سے پوچھا۔

''جب تم چاچا کامی اور اچھا ماما کے کمرے میں میرے ساتھ کھڑے تھے تو میں نے مہارت سے موبائل تمھاری سائیڈ جیب سے نکال لیا تھا۔'' وہ مسکرائے۔

''اوہ... میں سمجھ رہا تھا... مجھ سے تمھارا موبائل کہیں گرگیا ہے۔''

''ارے!...اس کا مطلب تو پھر یہ ہے کہ وہ موبائل اب بھی اس کی جیب میں ہے۔'' چاچا کامی نے چونک کر کہا۔

''نہیں.... وہ میں نے اس کی جیب سے نکال کر ضائع کر دیا تھا... سم بھی توڑ دی تھی۔'' اچھا ماما ہنسا۔

''اوہ...اوہ...'' انسپکٹر جنید اور اُن کے ساتھیوں کے منہ سے ایک ساتھ نکلا۔

''تمھاری باتیں ختم ہوگئی ہوں تو اب کچھ کام کی بات کرلیں... لیکن ٹھہرو، میں خان رحمان اور پروفیسر دائود کی خبر لے لوں۔'' باس نے کہا اور موبائل پر اپنے ساتھیوںسے بات کرنے لگا:

''ہاں... اچھا... خان رحمان کو لا رہے ہو... بہت خوب... جلد ی لے آؤ لیکن پوری احتیاط سے یہاں آنا... اوکے...''اس نے کال کاٹ کر دوبارا ملائی:

''ہاں بھئی... پروفیسر دائود کہاں ہیں... بہت خوب... جلدی پہنچو...'' اس نے کہا اور موبائل آف کر کے جیب میں رکھ لیا:

''مبارک ہو... خان رحمان اور پروفیسر دائود بھی یہاں لائے جا رہے ہیں۔''

''اوہ...اوہ...'' انسپکٹر جنید کے منہ سے نکلا۔

''اور...اوروہ فرحانہ...''

اُسی وقت دروازہ نمبر ایک کھلا اور ایک آدمی اندر داخل ہوا...اس کے پیچھے دروازہ آٹومیٹک طریقے سے بند ہوگیاتھا۔ اس نے اندر آتے ہی باس کو زور سے سیلوٹ کیا اور کہنے لگا:

''باس! کاکا، بابا اور باجا آئے ہیں... کیا انھیںاندر لے آؤ ں؟''

''کیااُن کے ساتھ کوئی لڑکی بھی ہے؟'' با س نے جلدی سے پوچھا۔

''نہیں باس... اُن کے ساتھ کوئی لڑکی نہیں ہے۔''

''وہ مارا... اس کے تین لڑاکے فرحانہ کو اغوا کرنے میں ناکام رہے ہیں، بہت خوب...'' اکرام خوشی سے کھل اُٹھا۔

''اوہ... یہ کیسے ہو سکتاہے... وہ تینوں ناکام کیسے ہوگئے۔'' باس نے چیختے ہوئے کہا۔

''انھیں جلدی سے میرے پاس لاؤ...''

''اوکے باس...'' آدمی پلٹا، دروازے کے پاس پہنچا۔اس نے گھوم کر باس کو ایک بار پھر سیلوٹ کیا ۔ اس دوران دروازہ خود بخود کھل گیا تھا۔ وہ ہال سے باہر نکل گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں تین آدمی باس کے سامنے سر جھکائے کھڑے تھے۔ باس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔ پھر اُس کی پھنکارتی ہوئی آواز ہال میں گونجی:

''کاکا، باجا ، بابا!تم سے ایک لڑکی اغوا نہ ہو سکی...حد ہوگئی۔''

''ہم شرمندہ ہیں باس...اگر وہاں سے نہ بھاگتے تو مشکل ہوجاتی۔'' کاکا، باجااور بابا نے انسپکٹر جنید کے گھر کی کہانی تفصیل سے سنا دی...

''اوہ...تو وہاں انسپکٹر جنید کے بچوں کے علاوہ دو لوگ اور موجود تھے... اور تم ان کی وجہ سے ناکام ہوئے ہو؟''

''تھے نہیں باس...وہ اب بھی وہیں ہیں۔'' کاکا نے کہا۔

''باس! ہم تین تھے اور وہ پانچ ...ہم نے بہت کوشش کی لیکن...''باجا نے کہا۔

''اوہ...اوہ...اب میں کیا کروں... کیا اُن سب کو ایسے ہی چھوڑ دوں، نہیں ،اُنھیں بھی یہاں ہونا چاہیے... بلکہ ان دو کو بھی جو فرحانہ کی ڈھال بنے ہوئے ہیں...میں کسی قسم کا رسک نہیں لے سکتا۔''

''آپ کا مطلب ہے، اب صرف فرحانہ نہیں... حمود ، فاروق ، شازی اور گامی بھی یہاں آئیں گے ...''کاکا نے حیرت سے کہا۔

''ہاں...میں اب کسی کو بھی آزاد نہیں چھوڑوں گا ۔''باس نے کہا۔

''اگر آپ اجازت دیں تو میں انھیں یہاں لے آتاہوں۔'' جانی نے کہا۔

''ابھی نہیں ... پہلے خان رحمان اور پروفیسر داؤد یہاں آجائیں... اس کے بعد کسی کو بھیجوں گاوہاں۔'' باس نے کہا۔

وہ خان رحمان اور پروفیسر داؤ د کا انتظار کرنے لگے۔ انسپکٹر جنید بے چینی محسوس کر رہے تھے۔ وہ جانتے تھے... اِن دنوں خان رحما ن اور پروفیسر داؤ د کو صحت کے حوالے سے کچھ مسائل درپیش تھے۔

''سر... جب میرا کسی سے رابطہ نہ ہوا تو میں نے خان رحمان کو آپ کے متعلق بتایا تھا... تفصیل سن کر وہ پریشان ہوگئے تھے اور انھوں نے کہا تھا...میں آرہاہوں... اُن کے پہنچنے سے پہلے ہی یہ لوگ ہمیں یہاں لے آئے۔'' اکرام نے آہستہ آواز میں کہا۔

''اوہ...اللہ اپنا رحم فرمائے.. صورت حال اچھی نہیں ہے۔ میں اس وقت خود کو بے بس محسوس کر رہا ہوں۔'' انسپکٹر جنید نے کہا۔

''بے بسی کیسی؟ سر!اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ وہ ہمیشہ ہماری مدد کرتا ہے ،آج بھی کرے گا... ان شاء اللہ...''

''ان شاء اللہ... ''

''سر!باس سب کو یہاں کیوں جمع کر رہا ہے۔اُس کے ذہن میں کیا ہے؟ کیا کرنا چاہتا ہے...آپ نے کوئی اندازہ لگایا...؟'' اکرام نے پوچھا۔

''مجھے کوئی اندازہ نہیں ہے... ''

''اوہ...''

پھر کوئی آدھ گھنٹے بعد ہال کا دروازہ کھلا اور دو پست قد نوجوان اندر داخل ہوئے ... ان میں سے ایک نے خان رحمان کو کندھوں پر ڈالا ہوا تھا... وہ چلتے ہوئے باس کے سامنے آگئے۔

''شاشا...ماشا...تم نے بہت زبردست کام کیا ہے۔تمھارا انعام پکا... اب انھیں میرے سامنے ڈال دو۔'' باس نے چہکتے ہوئے کہا۔

''انھیں کیا ہوا...؟'' انسپکٹر جنید نے بے چینی سے پوچھا۔

''پریشان ہونے کی ضرورت نہیں... یہ صرف بے ہوش ہیں... ابھی ہوش میں آجائیں گے۔'' باس نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''اوہ... اللہ کا شکر ہے...'' اکرام نے کہا۔

''یہ بے ہوش ہیں اور تم دُکھی ہونے کی بجائے اللہ کا شکر ادا کر رہے ہو۔'' باس ہنسا۔

''ہمیں ہر حال میں اللہ کا شکر ہی ادا کرنا چاہیے... اس لیے کہ اُسے شکر گزار بندے بہت ہی اچھے لگتے ہیں... پس میں نے اللہ کا شکر ادا کیا ... اور اس لیے بھی کیا کہ خان رحمان صرف بے ہوش ہیں۔'' اکرام کہتا چلا گیا۔

''اوہ...تو یہ بات ہے۔'' باس کے منہ سے نکلا۔ پھر وہ شاشا...ماشا سے مخاطب ہوا:

''شاشا، ماشا... اِنھیںیہاں لانے میں کوئی مشکل تو نہیںہوئی...''

''باس! یہ انسپکٹر جنید کے گھر جانے کے لیے نکلے تھے کہ ہم نے راستے میں اِنھیں روک لیا... اُنھوں نے تھوڑی مزاحمت کی تھی لیکن ہم نے ان پر قابو پایا اور یہاں لے آئے۔'' شاشا نے بتایا۔

''تمھیں یہاں آتے کسی نے دیکھا تو نہیں تھا۔''

''باس!ہم اپنے پیچھے کوئی نشان نہیں چھوڑتے۔''ماشا نے کہا۔

''شاباش...میں تم سے بہت خوش ہوں... ''

''شکریہ باس...! آپ خوش تو ہم بھی خوش...''شاشا نے کہا ۔ پھر وہ ہال میں موجود دوسرے لوگوں کے ساتھ جا کھڑے ہوئے... اب پروفیسر داؤ د کا انتظار شروع ہوگیا... آخر ایک لمبا تڑنگا نوجوان انھیں لے کر ہال میں داخل ہوا۔ اس نے انھیں باس کے سامنے ڈالا اور ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا۔

''باس... پروفیسر داؤ د آپ کے قدموںمیں ہیں... قبول کیجئے ۔''

''قبول کیجئے... کیا مطلب ہے اس بات کا؟ تم پروفیسر داؤ د کو لائے ہو یا کوئی تحفہ جسے باس قبول کرلے ۔'' انسپکٹر جنید نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''پروفیسرداؤد میرے لیے کسی تحفے سے کم نہیں ہیں ۔'' باس مسکرایا۔

''تم کہتے ہو تو مان لیتا ہوں...''

پروفیسر داؤ د اور خان رحمان ہال کے فرش پر بے سدھ پڑے تھے۔پھر خان رحمان نے آنکھیں کھول دیں اور حیرت سے ادھر ادھر دیکھنے لگے... اپنے قریب ہی پروفیسر داؤد پر نظر پڑتے ہی وہ اچھل کر بیٹھ گئے... ساتھ ہی ان کے منہ سے بے اختیار نکلا:

''اوہ...ہائیں...پروفیسر صاحب! آپ یہاں کیوں لیٹے ہیںاور یہ کون سی جگہ ہے۔''

پھر جیسے ہی اُن کی نظر باس اور اُس کے ساتھیوں پر پڑی ... وہ اچھل کر کھڑے ہوگئے۔

''تت...تت...تم..تم کون ہواور میں کہاں ہوں.. پروفیسر داؤد یہاں کیا کر رہے ہیں۔'' وہ کہتے چلے گئے۔ سب لوگ مسکرانے لگے۔

''خان رحمان...تم بھی ان کے ہاتھ لگ گئے... دوست!یہ اچھی بات نہیں ہے۔'' انسپکٹر جنید کی آواز سن کر وہ بُری طرح چونکے اور لگے اِدھر اُدھر نظر دوڑانے.. جیسے ہی اُن کی نظر گھومتی ہوئی انسپکٹر جنید پر پڑی... وہ دنگ رہ گئے ۔ ساتھ ہی اُن کے منہ سے نکلا:

''ارے باپ رے ...آپ بھی یہاں ہیں...''

''نا صرف میں بلکہ اکرام اور محمد حسین آزاد بھی اِدھر ہی ہیں۔''

''اوہ...اوہ...'' اُن کے منہ سے نکلا۔

''اکرام... تم ...تم تو جنید کے گھر جانے والے تھے!!''

''اور آپ بھی تو ان کے گھر جانے والے تھے ...'' اکرام مسکرایا۔

''میں ادھر ہی جارہا تھا ... راستے میں دو نوجوانوں نے مجھے روک لیا... میں نے ان سے بچ کر نکلنے کی بہت کوشش کی لیکن میری دال نہ گل سکی۔'' خان رحمان نے کہا۔ وہ بغور ہال کا جائزہ لے رہے تھے۔

''دال نہ گل سکی... بس یہی تو اس میں بری بات ہے...'' اکرام مسکرایا۔

''کون سی... '' خان رحمان نے بے خیالی میں کہا۔

''یہی کہ یہ گلتی نہیں... کچی ہی کھانی پڑتی ہے۔''

''اوہ...!! گویا تم کچی دال کھاتے ہو۔'' کاکا نے حیرت سے کہا۔ وہ شاید دالیں کھانے کا شوقین تھا۔

''تم غلط سمجھے... میری دال تو گل جاتی ہے لیکن محاورے کی دال کبھی نہیں گلتی، کیوں خان رحمان صاحب... میں غلط تو نہیں کہہ رہا۔'' اکرام نے پوچھا۔

''نہیں... تم درست کہہ رہے ہو... '' اُنھوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''میں بھی گواہی دیتا ہوں... اکرام ہمیشہ سچ بولتا ہے۔'' پروفیسر داؤد مسکراتے ہوئے اُٹھ رہے تھے۔

''اوہ...آپ کو بھی ہوش آگیا۔'' باس نے کہا۔

''ہاںلیکن تم کون ہو اور میرا دوست بندھا کیوں پڑا ہے...'' پروفیسر داؤد نے پوچھا۔

''یہ موٹے باس ہیں پروفیسر صاحب... اِن کی مہربانی سے ہی ہم سب یہاں جمع ہیں۔'' انسپکٹر جنید نے ہنستے ہوئے کہا۔

''انسپکٹر جنید! آپ مجھے موٹا باس کیوں کہہ رہے ہیں ... صرف باس نہیں کہہ سکتے۔'' باس نے بُرا سا منہ بناتے ہوئے کہا۔

''کیوں... کیا تمھیں بُرا لگ رہا ہے۔'' انسپکٹر جنید مسکرائے۔

''ہاں... مجھے واقعی برا لگ رہا ہے...'' وہ بولا۔

''کوشش کرو... بُرا نہ لگے۔''

''کوشش کروں... کیا مطلب؟'' اس نے انھیںگھورا۔

''مطلب ہے!کوشش کرو ، تمھیں بُرا نہ لگے.. اس لیے کہ تم واقعی موٹے ہو۔'' وہ ہنسے۔

باس منہ بنا کر رہ گیا۔

''موٹے باس... انسپکٹر جنید اور ان کے ساتھیوںکو آزاد کردو۔'' پروفیسر داؤد نے کہا۔

''کیوں...'' باس نے کیوں کو کھینچا۔

''اس لیے کہ یہ میں کہہ رہا ہوں۔'' وہ مسکرائے ۔

''آپ کے کہنے سے کچھ نہیں ہوگا...یہاں میرا حکم چلتا ہے پروفیسر ۔''

''پروفیسر صاحب! موٹا باس ٹھیک کہہ رہا ہے...یہاں اسی کا حکم چلے گا، آپ کا نہیں! '' انسپکٹر جنید نے زور سے کہا تو پروفیسر داؤ د نے جلدی سے ان کی طرف دیکھا۔وہ مسکرا رہے تھے۔

''اوہ... اچھااچھا...میں سمجھ گیا۔''وہ چونک اُٹھے۔

''کیا سمجھ گئے آپ ...'' باس چونکا۔

''یہی کہ یہاں آپ کا حکم چلے گا... میرا نہیں۔'' وہ مسکرائے۔

'' شکر ہے ...آپ جلد سمجھ گئے۔'' باس ہنسا۔پھر وہ کاکا ، باجا اور بابا کی طرف دیکھنے لگا۔

''انسپکٹر جنید بندھے پڑے ہیں تو یہ دونوں آزاد کیوں ہیں؟ اِنھیںبھی باندھ دو...میں ذرا باتھ روم ہو آئوں...اور ہاں! یہ کوئی گڑبڑ نہ کرنے پائیں۔'' باس نے کہا اور کرسی سے اُٹھ کر کھڑا ہوگیا...پھروہ ایک دروازہ نمبر 5 کھول کر اندر چلا گیا۔

''تم ہمیں نہ باندھو...'' خان رحمان نے گھبرا کر کہا۔

''کیوں نہ باندھیں.. ہم باس کے حکم کی تعمیل کریں گے۔'' کاکا نے کہا اور باس کی کرسی کے قریب پڑی ایک رسی اُٹھالی۔

''دیکھو! میری طبیعت زیادہ اچھی نہیں ہے۔''

''کوئی بات نہیں...کم اچھی تو ہے نا۔'' کاکا ہنسا۔

''لل...لل...لیکن موٹا باس تو چلا گیا ہے۔''پروفیسر داؤ د ہکلائے۔

''تم ہمارے باس کو موٹا کیوں کہہ رہے ہو۔'' باجا نے غصے سے کہا۔

''اس لیے کہ وہ موٹا ہی ہے... اب میں موٹے کو موٹا بھی نہ کہوں ... یہ کیا بات ہوئی۔''

''میں نہیں جانتا... بات ہوئی کہ نہیں... بس تم ہمارے باس کو موٹا نہ کہو، صرف باس کہو۔'' بابا نے منہ بنایا۔

''اچھی بات ہے... اب انھیں موٹا نہیں کہوں گا، لیکن...'' وہ مسکرائے۔

'' یہاں لیکن کہاںسے آگیا پروفیسر صاحب۔'' اکرام مسکرائے۔

''لیکن کاکیا ہے...وہ کہیں سے بھی، کسی بھی وقت آ سکتا ہے، تم اتنا بھی نہیں جانتے اکرام۔''پروفیسر داؤد اس کی طرف پلٹے۔

''پروفیسر! شرافت سے خود کو بندھوا لو... ورنہ ہم زبردستی باندھ دیں گے۔'' کاکا نے کہا۔ وہ اُن کے سامنے رسیاں لیے کھڑا تھا جب کہ باجا اور بابا اس کے پیچھے کھڑے تھے۔

''لل...لیکن میری تو طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔'' وہ ڈر کر بولے۔

''پروفیسر صاحب! مجھے بھوک لگی ہے۔کیا آپ کے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے۔'' اچانک انسپکٹر جنید کی آواز ہال میں گونجی۔

''اوہ...اوہ... بھوک تو مجھے بھی لگی ہے... '' اکرام نے زور سے کہا۔

'' کیا مصیبت ہے ،اب تم لوگوںکو بھوک لگ گئی ہے۔'' کاکا جھنجھلا اُٹھا۔

''بھوک پروفیسر داؤد اور خان رحمان کو نہیں... انسپکٹر جنید اور اکرام کو لگی ہے ۔ اِنھیں باندھنے کے بعد انسپکٹر جنید کی بھوک کا علاج کرتے ہیں۔'' بابا نے ہنس کر کہا۔

''ٹھیک کہا تم نے...'' باجا بولا۔

''لیکن تم ایک بات بھول گئے...'' پروفیسر دائود مسکرائے۔

''کیابات بھول گئے۔'' کاکا نے منہ بنایا۔

''یہی کہ جنید نے کھانے کی کوئی چیز مجھ سے مانگی ہے، تم سے نہیں۔''

''تو آپ کے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟'' اُس نے حیرت سے کہا۔

''میں نے اِن کی تلاشی لی تھی... ان کی جیبوں میں کچھ گولیاں، ٹافیاں ہیں۔بچوں والا شوق ہے ان کا۔ ''پروفیسر داؤد کو لانے والے آدمی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

کاکا... باجا اور بابا کے علاوہ سبھی لوگ اب فرش پر بیٹھ چکے تھے۔

''اوہ... ٹھیک ہے...آپ گولیاں، ٹافیاںان کی طرف اچھال دیں، یہ کھالیں گے۔'' کاکا نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''لیکن یہ تو بندھے ہوئے ہیں۔''

''تو کیا ہوا،گولی ٹافی منہ سے کھائی جاتی ہے، ہاتھ پائوں سے نہیں۔''

''ٹھیک کہہ رہے ہو،لیکن اُسے پکڑتے تو ہاتھ سے ہیں ۔'' پروفیسر ہنسے۔

''سوری! ہم ان کے ہاتھ پاؤں نہیں کھول سکتے، آپ ٹافی یا گولی اُن کی طرف اُچھال دیں، یہ منہ میں لے لیں گے، اتنا تو یہ کر ہی سکتے ہیں۔'' باجا نے کہا۔

''پروفیسر صاحب! یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں... آپ کوئی اچھی سی گولی میری طرف اچھال دیں... میں ان شاء اللہ منہ میں لے لوں گا۔'' انسپکٹر جنید نے کہا۔

''اور اکرام تم... کیا تم ایسا کر سکو گے۔''

''پروفیسر صاحب! میں بھی کوشش کروں گا... آپ اللہ کا نام لے کر میری طرف ٹافی اچھال دیں۔'' اکرام مسکرایا۔

''اوکے...میں ایک گولی انسپکٹر جنید کی طرف اور ٹافی تمھاری طرف اُچھالنے لگا ہوں۔'' پروفیسر داؤد نے کہا اور جیب سے بہت سی گولیاں، ٹافیاں نکال کر ہاتھ میں پکڑلیں۔

''پروفیسر صاحب! کیا آپ ایک وقت میں دونوں کی طرف گولی، ٹافی اُچھالیں گے۔'' خان رحمان نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

''کوشش کروں گا...''

''اگر مل کر کوشش کریں تو ٹھیک رہے گا۔''

''ٹھیک ہے... یہ لو گولی اور انسپکٹر جنید کی طرف اُچھالو اور میں اکرام کی طرف ٹافی اُچھالتا ہوں۔''

''ٹھیک ہے۔'' خان رحمان نے کہا اور اُن کے ہاتھ سے گولی لے لی۔پھر وہ کاکا، باجا اور بابا کی طرف دیکھنے لگا:

''تم بھی کچھ کھانا چاہو تو لے سکتے ہو... ''

''ہمیں بھوک نہیں ہے، تم اِنھیں ہی کھلا دو، جلدی کرو۔ باس کے واپس آنے سے پہلے خود کو بندھوالو...''

''اوکے... اور تم لوگ گولیاں، ٹافیاں کھاناچاہتے ہوتو بتا دو۔'' خان رحمان ہال میں بیٹھے دوسرے لوگوں سے مخاطب تھے۔

''پہلے انسپکٹر جنید اور اکرام کو کھلا دیں ... اِس کے بعد سوچتے ہیں۔'' شاشا نے کہا۔

''سوچتے ہیں...!کیا تم سوچ کر گولی کھاتے ہو۔''

''ہاں! سوچے سمجھے بغیر کھائی جانے والی گولی نہیں،گولی ہو تی ہے۔'' وہ ٹیکسی ڈرائیور تھا۔ اُس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔

''ٹھیک ہے... جیسے تمھاری مرضی۔'' خان رحمان نے کہا اور گولی انسپکٹر جنید کی طرف اُچھال دی۔ اُنھوں نے کمال مہارت سے گولی کو منہ میں لے لیا۔

''واہ... کیا بات ہے۔'' شاشا کے منہ سے بے اختیار نکلا۔

'' اکرام! یہ لو ٹافی...'' پروفیسر داؤد نے کہا اور ٹافی اُس کی طرف اُچھال دی۔ اُس نے بھی کمال مہارت سے ٹافی کو منہ میں لے لیا۔

''ارے واہ... کیا کہنے ...'' سب نے ایک ساتھ کہا۔

''اب کیا پروگرام ہے،کون کون گولی یا ٹافی کھانا چاہتا ہے۔'' خان رحمان نے پوچھا۔

شاشا، ماشا، چاچاکامی اور خان رحمان کو لانے والے ایک نوجوان نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔

''ارے واہ... یہاںتو بہت سے لوگ گولی ٹافی کے شوقین ہیں۔'' خان رحمان نے ہنستے ہوئے کہا۔

''یہ لیں... اُن کی طرف اچھال دیں..'' پروفیسر داؤد نے گولیاں ٹافیاں اُنھیں پکڑا دیں۔

''پروفیسر صاحب! کیا اِن میں سے کوئی گولی میں بھی کھا سکتا ہوں۔''

''نہیں، آپ یہ کھائیں۔ یہ ان لوگوںکا حصہ ہے۔'' انھوںنے ایک گولی اُنھیں پکڑا دی۔

''جب سب کھا رہے ہیں تو ہمیں بھی دے دیں۔'' محمد حسین آزاد کی آواز سن کر کاکا اُس کی طرف مڑا۔

''اوہ...کاکا! اگر تمھیں اعتراض نہ ہو توہمارے ساتھیوں کو گولیاں تم دے آؤ...ثواب ملے گا۔'' پروفیسر داؤد نے کہا۔

''لائیے! میں دے آتا ہوں اُنھیں گولیاں۔''

''شش...شکریہ پروفیسر صاحب۔''

''آپ واقعی بہت اچھے ہیں،میری طرف سے بھی بہت شکریہ...'' خان رحمان نے کہا اور بیٹھے لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے:

''یہ لیں بھئی گولیاں ٹافیاں...''

اُنھوں نے ایک ساتھ پانچ چھ گولیاں ٹافیاں ان کی طرف زور سے پھینک دیں۔ ایک ساتھ پھینکی گئیں گولیاں وہ کیسے پکڑ سکتے تھے۔ سب کی سب فرش پر گریں۔ اُن کے فرش سے ٹکراتے ہی ہلکے ہلکے دھماکے ہوئے اور ساتھ ہی نارنجی دھوئیں نے تیزی سے اُن کے ناک ، منہ کا رُخ کیا...وہ سنبھل نہ سکے اور بے ہوش ہوتے چلے گئے۔

( جاری ہے)

OO

عبدالرشید فاروقی

لکھاری

عبدالرشید فاروقی

آپ بچوں کے ادب سے سال اُنیس سو تراسی سے منسلک ہیں۔ بے شمار کہانیاں لکھ چکے ہیں۔ تین جاسوسی ناولز ، چار کہانیوں کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ قسط وار ناول اِن کے علاوہ ہیں۔ ادب اطفال میں اُستاد جی کے نام