''غضب خدا کا، لوگوں نے ہمارے گھر کو اکھاڑا سمجھ لیا ہے۔ جسے دیکھو، اُوپر سے نازل ہو رہا ہے... '' فاروق نے منہ بنایا۔
''اور کیا ...دوسروں کے گھر کو اکھاڑا سمجھنا اچھی بات نہیں ہے۔'' حمود نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
''کون ہو تم...؟ اور یہاں کیا لینے آئے ہو...؟ '' فرحانہ نے غصے سے ، گول مٹول نوجوان کی طرف دیکھا۔
''میں کاکا ہوں... '' نوجوان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''کاکا...تم کس کے کاکے ہو؟'' فاروق ہنسا۔
''ظاہر ہے... اپنے ماں باپ کا ہوں۔ تمھیں کوئی اعتراض ہے کیا ؟''
''مجھے کیوں اعتراض ہونے لگا۔ تم جس کے بھی کاکے ہو... مجھے اس سے کیا... کیوں گامی بھائی...''
''درست کہہ رہے ہو... اعتراض کرنے والے ہم کون ہوتے ہیں۔'' وہ مسکرایا۔
''لڑکو!کاکا یہاں مذاق کرنے نہیں آیا...''
''تو کیا کرنے آیا ہے..؟ ویسے میری بہن تم سے پہلے ہی پوچھ چکی ہے..''
''کیا پوچھ چکی ہے تمھاری بہن...؟'' کاکا نے آنکھیں نکالیں۔
''یہی کہ تم یہاں کرنے آئے ہو...؟''
''بتاتا ہوں...ذرا سانس تو لینے دو۔ ''وہ صحن میں آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔
''آج کا دن عجیب ہے... کیسی کیسی چیزیں ہمارے گھر اُتر رہی ہیں۔'' فاروق بھی کاکا کے ساتھ آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔
''اُٹھو یہاں سے ...'' کاکا نے اُسے گھورا۔
''کیوں اُٹھوں؟ تم بھول رہے ہو... یہ ہمارا گھرہے۔ میں کہیں بھی بیٹھ سکتا ہوں... سمجھے تم...''
''سمجھ گیا... شوق سے بیٹھو لیکن اگر تم نے کوئی گڑ بڑ کرنے کی کوشش کی تو ایک ہاتھ دوں گا...''
''اور اگر میں نہ لینا چاہوں تو تم کیا کرو گے ...؟''
'' کیا نہیں لینا چاہو گے...؟''کاکا نے حیرت سے پوچھا۔
''تمھاراایک ہاتھ...'' فاروق مسکرایا۔
''ایک ہاتھ پسند نہیں تو دو ہاتھ دے دوں گا... ''کاکا نے ہنس کر کہا۔
''کاکا! کیاتم پاگل ہو...؟ ''گامی نے پوچھا۔
''میں پاگل نہیں ہوں،لیکن اچھے اچھوں کو پاگل بنا دیتا ہوں، تمھیں بننا ہو تو بتانا... صرف چند سیکنڈ لگیں گے...'' کاکا نے ہنستے ہوئے کہا۔
''ویسے تم نے مجھے پاگل کیوں کہا...؟''
'' اگر تم اپنے دونوں ہاتھ فاروق کو دے دو گے تو خود کیا کرو گے؟ کھانا پینا کیسے کرو گے...؟ اس لیے تمھیں پاگل کہا ہے میں نے۔'' گامی مسکرا رہا تھا۔
''اوہ...میرا مطلب یہ نہیں تھا... '' وہ گڑ بڑا گیا۔
''تمھارا جو بھی مطلب تھا،ہمیں کیا...اب جلدی سے اپنے آنے کا مقصد بتا دو... تاکہ ہمیں اطمینان ہو...'' فرحانہ نے جھنجھلا کر کہا۔
''میں فرحانہ کو لینے آیا ہوں...'' اُس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''کون فرحانہ...؟تم کس فرحانہ کی بات کر رہے ہو...؟'' شازی نے چونک کر پوچھا۔
''انسپکٹر جنید کی فرحانہ کی...''
''اوہ...کیا تم نے اُسے دیکھا ہے...'' حمود نے پوچھا۔
''میں نے اُسے نہیں دیکھا...''
''اگر نہیں دیکھا تو کیسے لے جاؤ گے...''گامی نے پوچھا۔
''اُس کے بارے میں تم لوگ مجھے بتاؤ گے... فرحانہ کون ہے۔'' کاکا نے ہنستے ہوئے کہا۔
''تم سمجھتے ہو... تم فرحانہ کو اپنے ساتھ لے جاؤگے! وہ تو بہت ٹیڑھی کھیر ہے۔'' حمود ہنسا۔
'' سمجھتا نہیں...مجھے یقین ہے... میں اسے اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔''
''اوہ... یوں کیوں نہیں کہتے ...تم فرحانہ کو اغوا کرنے آئے ہو!''
''لو کہہ دیتا ہوں... میں اُسے اغوا کرنے آیا ہوں...''
''فرحانہ تر نوالہ نہیں ہے.. جو اُسے تم اغوا کرلو گے۔'' وہ مسکرائی۔
''وہ لوہے کا چنا ہے... اُسے چبانا آسان نہیں ہے... چبانے کی کوشش میں کئی لوگ اپنے دانت تڑوا چکے ہیں...اس لیے اپنا بھلا چاہتے ہو تو جہاں سے آئے ہو...وہیں چلے جاؤ۔'' فاروق نے کہا۔
''تم نے مجھے لوہے کا چنا کیوں کہا...؟'' فرحانہ نے فاروق کو گھورتے ہوئے پوچھا۔
''اب لوہے کی چنی تو کہنے سے رہا...'' وہ ہنسا۔
''تم لوگ پاگل ہو...!! '' گامی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''تم نے یہ شاندار اندازہ کیسے لگالیا ...''فاروق اُس کی طرف گھوم گیا۔
''کاکا نے فرحانہ کو دیکھا نہیں تھا... یہ اسے پہچانتا نہیں تھا لیکن تم نے اُسے بتا دیا ... فرحانہ کون ہے...''
''کک...کیا مطلب... میں نے اسے بتا دیا۔'' وہ بوکھلا اُٹھا۔
'' تم سے بعد میں نبٹ لوں گی... پہلے کاکے کے بچے سے بات کر لوں۔''
''اوہ...تو تم ہی فرحانہ ہو...'' کاکا نے کہا ۔ پھر فاروق کی طرف احسان بھری نظروں سے دیکھنے لگا:
''ارے... تم مجھے ایسے کیوں دیکھنے لگے...؟ کھانے کا ارادہ ہے کیا۔''
''فاروق... تمھارا شکریہ...''
''وہ کس خوشی میں...؟''
''تم نے فرحانہ کی نشان دہی کی، اس لیے... '' وہ مسکرایا۔
''لیکن میں یہ بھی بتا چکا ہوں...یہ لوہے کی چنی... اوہ نہیں... لوہے کا چنا ہے... اسے چبانا آسان نہیں ہے...''
''اور مجھے آسان کام ویسے بھی پسند نہیں ہیں۔ مزا آئے گا، چلو بھئی فرحانہ ! اغوا ہونے کے لیے تیار ہوجاؤ...''کاکا، فرحانہ کی طرف مڑا... وہ بیگم جنید کے ساتھ کھڑی تھی۔
''ہمارے ہوتے ہوئے تم فرحانہ کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔'' گامی اچانک کاکا کے سامنے آگیا۔
''پہلی بات ... میں اپنی آنکھیں دھوکر آیا ہوں... اس لیے میری نظر میلی نہیں ہے، صاف ستھری ہے... دوسری بات... میں تمھاری بین بجاکر اِسے لے جاؤں گا...'' کاکا نے ہنستے ہوئے کہا۔
''لیکن تم فرحانہ کو اغوا کیوں کرنا چاہتے ہو...؟ اس بے چاری نے تمھارا کیا بگاڑا ہے...؟ ''
''کچھ بھی نہیں ...''
''تو پھر اِسے اغوا کیوں کرنے آگئے...؟'' محمود نے حیرت سے پوچھا۔
''اس لیے کہ مجھے ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے...'' وہ مسکرایا۔
''کس نے کہا ہے...؟ ''
''جو مجھے ہر ماہ پیسے دیتا ہے...''
''گویا تم پیسوں کے لیے فرحانہ کو اغوا کرنا چاہتے ہو...''
''یہی بات ہے...'' وہ ہنسا۔
''اور اگر ہم تمھیں اس سے زیادہ پیسے دے دیں تو...''
''تو میں پھر بھی فرحانہ کو لے جاؤں گا...''وہ ہنسا۔
''کیوں... پھر کیوں لے جاؤ گے...'' فاروق نے اُسے گھورا۔
''اس لیے کہ میں ایک بار وعدہ کرلوں تو اسے ہر حال میں پورا کرتا ہوں ''
''اوہ...اوہ...''
''تو آؤ پھر... فرحانہ کو اغوا کرکے دکھاؤ...!!!''
''لو سنبھلو پھر...'' کاکا نے کہا اور اچانک گامی پر چھلانک لگادی ... وہ اس حملے کے لیے تیار تھا...اس لیے پھرتی سے ایک طرف ہوگیا۔ کاکا اُس کے اوپر سے ہوتا ہوا زمین پر آ رہا... پھر فوراً اُٹھ بیٹھا...
'' میں تمھیں فرحانہ کو ہاتھ بھی نہیں لگانے دوں گا۔'' گامی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''میں حیران ہوں... تم ہماری مدد کیوں کررہے ہو...؟'' بیگم جنید نے حیرت میں ڈوبی آواز سے کہا۔
''میں نے کہا تھا... یہ میں پھر بتاؤں گا...'' گامی نے کہا اور جلدی سے زمین پر بیٹھ گیا۔ کاکا نے ایک بار پھر اس پر چھلانگ لگائی تھی۔ گامی بے حد پھرتیلا تھا۔
''میں تمھارے حربوں سے واقف ہوں... اس لیے کم از کم تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے...'' گامی مسکرایا۔
اس کی بات سن کر کاکا جہاں تھا... وہیں ساکت ہوگیا اور حیرت سے گامی کو دیکھنے لگا...
''کک... کیا ہوا ...تت... تم مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہو...؟''
''تم نے ابھی ابھی کیا کہاتھا...''
''اس نے کہا تھا، یہ تمھارے حربوں سے واقف ہے... اس لیے تم اِس کا کچھ نہیں بگا ڑ سکو گے۔'' فاروق نے جلدی سے کہا۔
''میں نے اس سے پوچھا تھا... تم سے نہیں...'' کاکا نے غصے سے فاروق کو دیکھا۔
'' حد ہوگئی... بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں... ''
''تم میرے حربوں سے کیسے واقف ہو..؟''وہ قدر ے پریشان ہوگیا تھا۔
''یہ راز کی بات ہے... وقت آنے پر ظاہر کروں گا...گامی مسکرایا۔
''تمھاری ایسی کی تیسی... میں تمھارا چورن بنا دوں گا...'' کاکانے غصے سے کہا اور کسی بیل کی طرح اس کی طرف لپکا۔وہ گامی کو ٹکر مارنا چاہتا تھا لیکن وہ اس بار بھی ناکام رہا... گامی تو چھلاوا تھا... پلک جھپکتے ہی اس کی پہنچ سے دور ہوجاتا تھا۔
''ارے واہ.. تم تو بڑے کمال کی چیز ہو..کاکے کو تگنی کا ناچ نچا رہے ہو .. شاباش ...'' حمود نے چہکتے ہوئے کہا۔
''تعریف کا شکریہ...! میں اِسے تھکا تھکا کر مار دوں گا...''
''تب پھر ایک شاباش میری طرف سے بھی لے لو۔ '' فاروق مسکریا۔۔
''صرف ایک ہی شاباش...بڑے کنجوس ہو یار۔''
''ہاں! اس لیے کہ زیادہ میرے پاس ہے نہیں جو تمھیں دوں...ارے ارے... سنبھلو...'' فاروق چلایا۔
کاکا نے گامی پر ایک بار پھر چھلانگ لگائی تھی۔ اس بار انداز بڑا خطرناک تھا... گامی بچ نہ سکا اور وہ اسے لیتا ہوا زمین پر گرا... پھر دونوں ایک ساتھ جھٹکے سے کھڑے ہوگئے۔ کاکا نے اُٹھتے ہی گامی کے پہلو میں مکا مارنا چاہا لیکن وہ مچھلی کی طرح تڑپ کر خود کو بچانے میں نہ صرف کامیاب ہوا بلکہ اس نے کھڑی ہتھیلی کا ایک وار اس کی گردن پر کیا تھا۔ کاکا کے منہ سے ایک ہلکی سی چیخ نکل گئی...پھر وہ اپنی گردن پکڑ کر زمین پربیٹھ گیا۔ اس کے چہرے پر درد ہی درد تھا۔ سب گامی کی پھرتی پر اَش اَش کر اُٹھے۔
''واہ... یہ تھا پہلا وار... '' حمود نے زور سے چلایا۔
''پہلا وار... ارے ...'' فاروق نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا۔
''ارے... یہ ...یہ تو کسی ناول کا نام ہو سکتا ہے... یہی کہنا چاہتے ہو نا۔'' گامی نے قہقہہ لگایا۔
''ہاں... یہ واقعی کسی جاسوسی ناول کا نام ہوسکتا ہے۔'' فاروق مسکرایا۔
''میں یہاں سے فارغ ہوکر اس نام پر ایک عدد جاسوسی ناول ضرور لکھوں گا...'' گامی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''ارے... تو کیا تم مصنف نام کی کوئی چیز ہو...؟'' فاروق نے حیرت سے پوچھا۔
''اگر تم مصنفوں کو چیزیں سمجھتے ہو تو میں واقعی ایک چیز ہوں...''
'' کیا چیز ہو...!!! ماشاء اللہ...'' حمود نے مسکراتے ہوئے کہا۔
کاکا ایک ہاتھ سے اپنی گردن پکڑے ابھی بھی زمین پر بیٹھا تھا... پھر وہ پھرتی سے اُٹھا... اور ایک ٹانگ پر گھومنے لگا... اب صورت حال یہ تھی... وہ ایک ٹانگ پر گول گول گھوم رہا تھا اور اُن کی آنکھیں اس کے ساتھ ساتھ گھوم رہی تھیں:
''گامی... خبردار... لگتا ہے... یہ کوئی بہت خطرناک وار کرے گا...'' فاروق ابھی کہہ ہی رہا تھا کہ کاکا، گامی سے ٹکراگیا...اُس نے تڑپ کر خود کو بچانا چاہا تھا لیکن وہ اپنی کوشش میں کامیاب نہ ہو سکا۔ وہ پیچھے اُلٹا اوردیوار کے ساتھ جا ٹکرایا... ساتھ ہی اس کے منہ سے ایک چیخ خارج ہوئی ۔ اُنھوں نے دیکھا۔ کاکا ایک طرف کھڑا مسکرا رہا تھا:
''اسے کہتے ہیں... جوابی وار...''
''فرحانہ ... میرے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو جاؤ...'' کاکانے ہنستے ہوئے کہا۔
''مطلب... فرحانہ اغوا ہونے کے لیے تیارہوجائے۔''
''ہاں...''کاکا یکایک سنجیدہ ہوگیا۔
''فرحانہ کا اغوا...'' فاروق نے جلدی سے کہا۔
''ہم جانتے ہیں، یہ بھی کسی ناول کا نام ہو سکتا ہے۔مہربانی کرکے تم بولنا نہیں ... یہاں کافی خوف ناک صورت حال ہے...'' حمود نے جلدی جلدی کہا۔ اس کاانداز ایسا تھا کہ سب مسکرانے لگے۔
''کمال ہے... تم ان حالات میں بھی مسکرا رہے ہو۔'' کاکا حیران تھا۔
''ہم تو اس سے بھی زیادہ برے حالات میں مسکرا لیتے ہیں۔'' فاروق نے شوخی سے کہا۔
''یہ واقعی تم لوگوں کو نہیں جانتا... ورنہ یہ یہاں کبھی نہ آتا...'' گامی ایک بار پھر اپنے پیروں پر کھڑا تھا۔
''واہ... یہ ہوئی نا بات... '' حمود نے کہا۔
''تم کچھ بھی کہو..کچھ بھی کرلو... میں فرحانہ کو اغوا کرکے لے جاؤں گا۔''
''اور تم لاکھ کوشش کرلو... فرحانہ کو یہاں سے نہیں لے جا سکوگے۔''
''دیکھتے ہیں... کون کامیاب ہوتا ہے... اب کون میرے مقابلے میں آئے گا؟'' کاکانے ہنستے ہوئے کہا۔
''کون کیا مطلب...؟ پہلے مجھے تو شکست دے لو... '' گامی مسکرایا۔
''اوہ...تم مقابلہ کرنے کے قابل ہو ...؟''
''ہاں.. تم مجھے نہیں جانتے ... میں تم سے خوب واقف ہوں۔'' گامی نے ہنس کر کہا اور اُس کے سامنے کھڑا ہوگیا۔
''امی جان... آج تو ہمارا گھر واقعی اکھاڑا بن گیا ہے... '' حمود نے کہا۔
''ایسی ہی بات ہے... میں تو تمھارے ابا جان کے بارے میں سوچ کر پریشان ہو رہی ہوں... وہ نہ جانے کہاں ہوں گے ... کس حال میں ہوں گے۔'' بیگم جنید پریشان نظر آ رہی تھیں۔
''اللہ اپنا رحم فرمائے... وہ جہاں بھی ہیں.. اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہوں گے... ان شاء اللہ...'' فرحانہ نے کہا۔
''ان شاء اللہ...'' انھوں نے کہا۔
صورت حال عجیب سی تھی... ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔ انسپکٹر جنید گھر نہیں پہنچے تھے... گامی اور شازی اُن کی مدد کرنے آگئے تھے... لیکن اُن کا آنے کا انداز پریشان کن تھا۔کاکا چھت سے کود کر فرحانہ کو اغوا کرنے آیا تھا...وہ پیسوں کے لیے کام کر رہا تھا۔ حمود، فاروق اور فرحانہ کے موبائل خراب ہوگئے تھے... وہ کسی کو اپنی مدد کے لیے بلا نہیں سکتے تھے... ادھر بیگم شیرازی گھر کو تالا لگا کر کہیں چلی گئی تھیں۔ بیگم جنید سوچوں میں اُلجھی ہوئی تھیں۔
''گامی... اگر تم کہو تو میں اِسے زیر کروں...'' اچانک شازی نے کہا۔
''نہیں... اس کی مرمت تو میرے ہی ہاتھوں سے ہوگی..'' گامی مسکرایا۔
''سوچنے کو خیال اچھا ہے...'' کاکا نے ہنستے ہوئے کہا اور کمال پھرتی سے گامی کو کندھوں سے پکڑ کر ایک جھٹکا دیا تو وہ لڑھکتا ہوا دور جا گرا...کاکا تقریباً بھاگتا ہوا اُس کے سر پر پہنچا اور اس کی پسلیوں میں ایک ٹھوکر ماری... گامی چیخ اُٹھا ... ساتھ ہی اُس کا مکا کاکا کے منہ پر پڑا تو وہ بھی چیختے ہوئے پیچھے الٹ گیا... گامی کسی سپرنگ کی طرح اچھل کر کھڑا ہوگیا ... پھر اس نے کاکا پر لاتوںکی بارش کر دی...
''ایسے تو یہ مر جائے گا...بس کرو... یہ ادھ موا ہوگیا ہے... اُمید ہے.. اب ٹر ٹر نہیں کرے گا...'' حمود گھبرا گیا۔
''ٹر ٹر... یہ کاکا ہے... مینڈک نہیں...'' فاروق مسکرایا۔
''ایسے لوگ مینڈک ہی ہوتے ہیں اور دوسروں کے اشاروں پر اچھلتے کودتے ہیں...''حمود نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا۔
''چھوڑ دو بھائی...ہم ناحق کسی کا خون نہیں بہاتے...''حمود نے گامی کو پیچھے سے پکڑ کر کھینچ لیا۔
''تم کہتے ہو تو چھوڑ دیتا ہوں۔'' گامی نے کاکا کو چھوڑ دیا۔کاکا کے منہ سے خون بہہ رہا تھا اور وہ زمین پر سیدھا لیٹا تھا...
''فاروق... کمرے سے رسی لے کر اِسے باندھ دو... ہم اسے قانون کے حوالے کریں گے۔'' فرحانہ نے کہا۔
''ٹھیک ہے...'' فاروق نے کہا اور کمرے سے رسی لا کر کاکا کو باندھنے لگا۔
''یہ تو بندھ گیا... اب کیا کریں...؟''
''گامی... شازی ...اگر تم برا نہ مناؤ تو میں ان سے الگ جا کر ایک بات کرلوں...'' بیگم جنید نے گامی سے کہا۔
''ضرور کرلیں...ہمیں کوئی اعتراض نہیں ...'' وہ مسکرایا۔
''شکریہ...! '' بیگم جنید نے مسکراتے ہوئے کہا ۔ پھر حمود، فاروق اور فرحانہ کو کمرے میں لے گئیں۔
''تمھارے موبائل واقعی خراب ہوگئے ہیں؟'' بیگم جنید نے پوچھا۔
''ایسا ہی لگتا ہے۔ '' حمود نے کہا۔
''اوہ...اللہ اپنا رحم فرمائے...حالات اچھے نہیں ہیں۔''
''میں تو ابا جان کے بارے میں سوچ کر پریشان ہوں، آخر وہ کہاں چلے گئے۔'' فاروق نے کہا۔
''گامی ...شازی کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے؟''
''ابھی تک تو انھوں نے ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی بلکہ آپ نے دیکھا... وہ ہماری خاطرکاکا سے ٹکرایا گیااور مار مار کر اسے ادھ موا کر دیا ہے... '' حمود نے کہا۔
''میرا خیال ہے... وہ واقعی ہمارے خیر خواہ ہیں... اُن کی باتوں سے لگتا ہے... وہ کسی سازشی جال سے آگاہ ہیں جوکہیں ہمارے لیے بنا گیاہے اور شاید وہ ہمیں اس جال سے بچانا چاہتے ہیں۔'' فرحانہ کہتی چلی گئی۔
''سازشی جال...اوہ ...ارے...یہ ...یہ تو کسی ناول کا نام ہو سکتا ہے۔'' فاروق نے کہا۔ بیگم جنید نے اُسے گھور کر دیکھا...وہ گھبرا گیا...
''میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں... یہ کسی ناول کا نام نہیں ہو سکتا ہے... اب تو آپ خوش ہیں...''
''فاروق تم...'' فرحانہ نے اُسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔
''سوری... اب نہیں بولتا...'' اس نے جلدی سے کہا اور اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔ فرحانہ مسکرا دی۔
''میرا خیال ہے... ہمیں گامی اور شازی سے کھل کر بات کرنی چاہیے... وہ کون ہیں اور ہماری مدد کیوںکرنا چاہتے ہیں۔'' محمو دنے کہا۔
''وہ کہہ چکے ہیں ... وہ ہمارے خیر خواہ ہیں اور وقت آنے پر اپنے بارے میں بتائیں گے۔ اس لیے اُن سے پوچھنا فضول ہے۔''فرحانہ نے کہا۔
''میں تو یہ سوچ رہا ہوں... بیگم شیرازی جب گھر واپس آئیں گی اور دروازے کو اندر سے بند ردیکھیں گی تو ان کی حالت کیا ہوگی۔''فاروق نے کہا۔
''وہ تو شور مچا دیں گی...'' حمود نے کہا۔
''ہم انھیں شور مچانے نہیں دیں گے... موقع دیکھ کر اندر کی کنڈی کھول کر باہر سے تالا لگا دیں گے...'' فرحانہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
'' ہاں... یہ ٹھیک رہے گا... اب ہم باہر چلیں گے... گامی اور شازی ہمارا انتظار کر رہے ہوں گے۔''
''چلو...'' بیگم جنید نے کہا اور وہ باہر صحن میں آگئے۔وہ جیسے ہی صحن میں آئے ... دروازے کی گھنٹی بج اُٹھی۔
سب چونک اُٹھے...پھر بیگم جنید کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
''اب کون آگیا...''
''کیا میں دروازہ کھولوں...ارے... ارے...'' حمود کے منہ سے نکلا۔
''کیا ہوا...' ارے' کو دو بار کہنے کی کیا ضرورت تھی،لفظوں کی اتنی فضول خرچی اچھی نہیں ہے۔'' فاروق نے جلدی سے کہا۔
''لفظوںکی فضول خرچی... واہ... یہ خوب کہی...'' گامی چہکا۔
''فرحانہ... تم نے غور نہیں کیا... گھنٹی بجانے کا انداز جانا پہچانا ہے۔''
''ارے...یہ تو ...یہ تو...'' وہ کہتے کہتے رک گئی۔
''باتیں نہ بناؤ... جاکر دروازہ کھول دو... باہر بیگم شیرازی ہیں۔''
'' اوہ...آپ کی پڑوسن آگئیں ۔'' گامی کے منہ سے نکلا۔
''ہاں... گھنٹی بجانے کا انداز اُن کا ہی ہے... لیکن...''حمود نے کہا۔
''اب یہ لیکن کہاں سے آگیا ہے...؟ '' گامی نے منہ بنایا۔
''لیکن وہ شدید غصے میں ہوں گی...'' حمودمسکرایا۔
''اس لیے کہ ہم نے ان کے گھر کا دروازہ کھولا تھا...''
''درست سمجھے...''
''خیر کوئی بات بنا کر انھیں بہلا لیں...تب تک ہم کسی کمرے میں چھپ جاتے ہیں۔'' گامی نے کہا۔
''چھپنے کی کیا ضرورت ہے... ہم انھیں ساری بات سچ سچ بتا دیں گے... وہ بہت اچھی ہیں... زیادہ ناراض نہیں ہوں گی...'' حمود نے ہنستے ہوئے کہا۔
''مطلب ... وہ ناراض ضرور ہوں گی۔''
''اُن کا ناراض ہونا بنتاہے ...آخر ان کے گھر کا تالا ٹوٹا ہے...''
''ٹوٹا نہیں،کھلا ہے... شازی اِسے تالا دے دو۔'' گامی نے شازی سے کہا تو اس نے جھٹ جیب سے بیگم شیرازی کا تالاپکڑا دیا۔
''ہم تالے توڑتے نہیں...کھولتے ہیں اور واپس جاتے ہوئے لگا بھی دیتے ہیں... یہ تالا بھی اسی لیے سنبھال لیا تھا ہم نے... اب چونکہ گھر کی مالکن آگئی ہیں... اس لیے تمھیں دے رہے ہیں۔''
''اب جاؤ... دروازہ کھولو... اس سے پہلے کہ وہ دوبارا گھنٹی بجادیں۔'' بیگم جنید نے کہا۔
حمود بھاگ کر دروازے پر گیا اور کنڈی کھول دی... باہر بیگم شیرازی غصے سے بھری موجود تھیں۔ دروازہ کھلتے ہی تیزی سے اندر آئیں اور سیدھی بیگم جنید کے پاس جا کر رک گئیں:
''میرے گھر کا دروازہ اندر سے بند ہے... جب کہ میں نے اسے باہر سے بند کیا تھا... تالا لگایا تھا... ایسا کیسے ہوا...؟''
''پانی تو پی لیں... پھر بتاتی ہوں۔فرحانہ! بیگم شیرازی کے لیے پانی لے کر آؤ... یہ تھکی ہوئی آئی ہیں۔'' بیگم جنید نے فرحانہ کو اشارہ کیا۔
''ابھی لائی امی جان...'' فرحانہ نے کہا اور فریج سے پانی لے آئیں۔ بیگم شیراری نے گلاس پکڑا... پھر چونک اُٹھیں:
''ارے... یہ کون ہیں...''
''بتاتی ہوں... پہلے اندر کمرے میں بیٹھ کر پانی پی لو...'' وہ انھیں اپنے کمرے میں لے گئیں۔ تھوڑی دیر بعد واپس آئیں تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
''گامی...کسی کا تالا کھولنا اچھی بات نہیں ہے۔ تم دونوں اس دروازے سے بھی اندر آ سکتے تھے... جس سے میں آئی ہوں...''
''آیندہ اسی دروازے سے اندر آنے کی کوشش کریں گے۔''
''ٹھیک ہے... میں چلتی ہوں... لاؤ حمود... میرا تالا دو... اور جاکر اندر سے کنڈی کھول دو...'' بیگم شیرازی نے مسکراتے ہوئے کہااور تالا لے کر گھر سے باہر چلی گئیں۔ حمود جاکر اندر سے کنڈی کھول آیا تھا۔
''حمود.. تم دروازہ بند کر آؤ...میں ان سے کچھ پوچھنا چاہتی ہوں ۔'' بیگم جنید نے گامی و شازی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
''اچھا امی جان...'' حمود نے کہا اور دروازے پر پہنچا... جیسے ہی اُس نے دروازے کو چھوا... ایک خوف ناک چہرہ اچانک اس کے چہرے کے عین سامنے آگیا... وہ اچھل کر پیچھے گرا...پھر ایک آواز سب کے کانوں سے ٹکرائی:
'' ہم آگئے...''
( جاری ہے )

