🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
اُدھورا کھیل / قسط نمبر 3
جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

اُدھورا کھیل / قسط نمبر 3

عبدالرشید فاروقی
عبدالرشید فاروقی
30 اگست، 2026۱۴۵ مرتبہ پڑھی گئی

اُدھورا کھیل / قسط نمبر 3 سنیں

اُنھوں نے دیکھا... اُن کے سامنے ایک آدمی ٹانگیں پھیلائے،حمود کی کلائی پکڑے کھڑا تھا۔

''کون ہو اور تم نے حمود کی کلائی کیوں پکڑی ہوئی ہے۔''فاروق نے کہا۔

''اِس کی کلائی چھوڑ دو...'' بیگم جنید نے غصے سے کہا تواُس نے جلدی سے حمود کی کلائی چھوڑ دی ۔ کلائی کے آزاد ہوتے ہی وہ جلدی سے اُن کے ساتھ آکھڑا ہوا:

''کون ہو تم... اور ہمارے گھر میں کیا کر رہے ہو...''

''فاروق... اپنی بہن کو بتا ؤ... ہم کون ہیں...'' وہ ہنسا۔

''مم..میں ..یعنی کہ ...میں..میں بتاؤں..تت تم کون ہو ؟'' وہ ہکلایا۔

''ہاں...تت...تم ہی بتاؤ گے۔ہم...ہم کون ہیں...'' اُس نے بھی فاروق کی طرح ہکلاتے ہوئے کہا۔

''بس بہت ہو چکی...میں اور برداشت نہیں کروں گا...'' فاروق نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

''کیا بہت ہو چکی... اور تم کیا برداشت نہیں کرو گے...'' بیگم جنید نے حیرت سے پوچھا۔

'' میری نقل ... اور کیا... میں اپنی مزید نقل برداشت نہیں کروں گا... سمجھے تم لوگ...''

''سمجھ گئے... لیکن ایک بات تم بھی سمجھ لو...'' زینے کی طرف سے کلائی پکڑنے والے کا ساتھی بھی وہاں آگیا تھا۔

''میں کیا سمجھوں...!! '' فاروق نے آنکھیں نکالیں۔

''یہی کہ میں تمھاری نقل نہیں اُتار رہا ... میں ایسے ہی بات کرتا ہوں... کیوں شازی...؟ میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا...!''

''تم ٹھیک کہہ رہے ہو گامی...''

''اوہ...تو تم شازی اور غامی ہو...'' فاروق نے جلدی سے کہا۔

''ہاں... اور میں غامی نہیں... گامی ہوں...خبر دار جو میرا نام بگاڑا...'' گامی نے غصے سے کہا۔

''ارے واہ... تمھیں تو غصہ بھی آتا ہے...کمال ہے...'' حمود ہنسا۔

''لگتا ہے... تمھاری کلائی کا درد غائب ہوگیا ہے...'' گامی نے منہ بنایا۔

''ہاں... درد ختم ہوگیا ہے...کہیں کلائی دوبارا تو پکڑنے کا ارادہ نہیں ہے تمھارا...'' حمود کانپ اُٹھا۔

''فکر نہ کرو... میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے... ''

''اچھے بھائی... تم نے بتایا نہیں... کون ہو تم... اور ہماری زندگی میں بُرے وقت کی طرح کیوں گھس آئے ہو...'' فاروق نے کہا۔

''ہم باہر والے ہیں... تم بھول گئے فاروق!...اور ہاں... جلدی سے کھانا دستر خوان پر رکھ دیں... ہمیں بہت بھوک لگی ہے...'' گامی نے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔

چاروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا...جیسے کہہ رہے ہوں، یہ کیا چیزیں ہیں...

''کھانا بعد میں... پہلے یہ بتاؤ... تم ہمارے گھر میں کیسے گھس آئے...'' فرحانہ نے پوچھا۔

''بیگم شیرازی کے گھر سے ہوتے ہوئے... اور کیسے آتے یہاں...'' شازی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''لیکن اُن کا گھر تو بند ہے... باہر دروازے پر تالا لگا ہوا ہے... ''

''فرحانہ! شازی اور گامی کے آگے تالے پانی بھرتے ہیں... ادھر ہم ہاتھ لگاتے ہیں... ادھر تالے کھل جاتے ہیں... ویسے ہم بند عقل کے تالے بھی کھول دیتے ہیں... کوئی کھلوانا چاہے تو ہم حاضر ہیں...'' گامی کہتا چلا گیا۔

''فرحانہ! میں بتاتا ہوں... یہ جان گئے تھے... میں بیگم شیرازی کی چھت سے اُنھیں دیکھ رہا ہوں... یہ تم لوگوں سے باتیں کرتے کرتے بیگم شیرازی کے دروازے پر آئے اور پھر میں حیران رہ گیا۔ گامی نے دروازے پر لگے بڑے سے تالے کے ساتھ پتا نہیں کیا کیا... وہ فوراً کھل گیا... اِنہوں نے اندر آکر کنڈی لگائی اور اوپر چھت پر آکر مجھے قابو کر لیا، پھر ہمارے گھرمیں آگئے...'' حمود نے تفصیل بتائی۔

''اوہ...اوہ...کہیں تم چور اُچکے تو نہیں ہو...تالے توڑنے میں ایسے لوگ بہت ماہر ہوتے ہیں...'' بیگم جنید نے خیال ظاہر کیا۔

''چور اُچکے... ارے واہ... کیا کہنے ... کیا نام دیا ہے آپ نے ... مزا آگیا ہے...'' گامی ہنسنے لگا۔

''غامی... بے وقوف ہو تم...امی جان تمھیں چور اُچکے کہہ رہی ہیں اور تم ہنس رہے ہو...'' فاروق نے منہ بنایا۔

''منہ نہ بناؤ... منہ بنانا مجھے اچھا نہیں لگتا ہے۔ ارے... ارے...!!''وہ چونکا۔

''کک...کک... کیا ہوا بھائی...''

''تم نے مجھے غامی کہا... جب کہ میں نے تمھیں منع کیا تھا کہ میرا نام نہ بگاڑنا... میں گامی ہوں... غامی نہیں...اب اگر دوبارا میرا نام بگاڑنے کی کوشش کی تو دانت توڑ دوں گا تمھارے...'' گامی نے غصے سے کہا۔

''ٹھیک ہے،اب غامی نہیں کہوں گا لیکن یہ تو بتا دو... میرے دانت ٹوٹنے سے تمھیں کیا فائدہ ہوگا...''

''مجھے کیا فائدہ ہوگا... کچھ بھی نہیں...''

''تو بھائی! بنا فائدے کے، کسی کے دانت توڑنا اچھی بات ہے ؟اس لیے اپنے فیصلے پر غور کرلو...'' فاروق نے معصوم سی صورت بناتے ہوئے کہا۔

''تمھارا مطلب ہے...اپنے فائدے کے لیے کسی کے دانت توڑنا اچھی بات ہے؟'' اُس نے آنکھیں نکالیں۔

''مم...میں نے ایسی تو کوئی بات نہیں کہی...!''فاروق نے کہا۔

فاروق کی بات سن کر بیگم جنید ہنس پڑیں۔

''میرا فاروق کس قدر معصوم ہے... ''

''ما شاء اللہ... ایسے دو چار معصوم دُنیا میں اور ہو جائیں تو ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوجائے ...'' حمود ہنسا۔

''معصوم نہ ہوئے... یوریا کھاد ہوگئی... اس لیے کہ ہریالی یوریا کھاد سے بھی آتی ہے...'' شازی نے ہنس کر کہا۔

''تم میرا مذاق نہیں اُڑا سکتے...'' فاروق نے آنکھیں نکالیں۔

''کیوں... کیا تمھارے مذاق کے پر نہیں ہیں... حد ہوگئی...''

''شازی... چپ ہوجاؤ... میری بھوک میں اضافہ ہوگیا ہے... '' گامی نے کہا۔

''ارے...تم واقعی کھانا، کھانا چاہتے ہو...'' فرحانہ نے حیرت سے اُسے دیکھا۔

''کیا تم مذاق سمجھ رہی ہو...!!''

''ہاں... ہم ابھی تک تو مذاق ہی سمجھ رہے تھے...''

''غلط سمجھ رہے تھے... مجھے واقعی بھوک لگی ہے...'' گامی نے کہا۔

''اور مجھے بھی...'' شازی نے جلدی سے کہا۔

''ٹھیک ہے... پہلے کھانا کھالیں... پھر ہم تم سے یہاں آنے کا مقصد پوچھیں گے... تم چور اُچکے تو ہو نہیں... ہیں نا...'' فرحانہ نے کہا۔

''ہاں... ہم چور نہیں ہیں...'' گامی نے کہا۔

بیگم جنید نے دستر خوان پر کھانا لگا دیا... سب کھانا کھا چکے تو انھوں نے دستر خوان اُٹھا لیا...

'' اب بتاؤ... تم کون ہو...''

''ہم آپ کے خیر خواہ ہیں...'' گامی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''سبحان اللہ... کیا بات ہے... اللہ تعالیٰ ایسے خیر خواہ سب کو دے۔'' حمود نے چڑ کر کہا۔

''حمود ... چپ رہو... انھیں بات کرنے دو...'' بیگم جنید نے کہا۔

''ہم واقعی آپ کے خیر خواہ ہیں... اور اب تو ہم نے آپ کا نمک بھی کھا لیا ہے...'' گامی نے کہا۔

''تم نے ہمارا نمک نہیں... کھانا کھایا ہے...'' فاروق ہنسا۔

''ایک ہی بات ہے... کھانے میں نمک تو ہوتا ہی ہے نا...''

''اوہ...اوہ...''

''کیا تم واقعی سچ کہہ رہے ہو...'' بیگم جنید نے پوچھا۔

''میں سو فی صد سچ کہہ رہا ہوں...''

''کیا خیر خواہی ایسے ہوتی ہے... ! ہمارا سیروں خون خشک کر دیا تم نے۔'' حمود نے کہا۔

''ہم اپنے لوگوں سے ایسے ہی ملتے ہیں...'' گامی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''اپنے لوگ...!''حمود نے کہا۔

''بھئی خیر خواہی تو اپنوں کی ہوتی ہے نا...جب ہم تمھارے خیر خواہ ہیں تو تم لوگ ہمارے اپنے ہوئے نا... سیدھی سی بات تمھاری سمجھ میں کیوں نہیں آ رہی... حد ہوگئی...''

''ٹھیک ہے... مان لیا... تم ہمارے خیر خواہ ہو...اب یہ تو بتاؤ... تم یہاں اس انداز میں ہماری کون سی خیر خواہی کرنے آئے ہو...؟'' فاروق نے کہا۔

''یہ ابھی نہیں بتا سکتا... موقع آنے پر بتاؤں گا... اور ضرور بتاؤں گا... فکر نہ کرو...'' گامی مسکرایا۔

''بڑے عجیب ہو تم ...'' فرحانہ ہنسی۔

'' ہم واقعی عجیب ہیں... لیکن... اللہ کا شکر ہے... غریب نہیں ہیں۔''

''اور یہ بہت اچھی بات ہے...'' فاروق نے کہا۔

''کیا بہت اچھی بات ہے...؟'' شازی نے جلدی سے پوچھا۔

''یہی کہ تم غریب نہیں ... امیر ہو...''

''ہم امیر ہیں...یہ تم سے کس نے کہہ دیا ؟'' گامی مسکرایا۔

''بھئی سیدھی سی بات ہے... تم غریب نہیں ہو... اس کا مطلب ہے... تم امیر ہو... کیوں کہ غریب کا متضاد امیر ہی ہوتا ہے... ''فاروق نے کہا۔

''ہم امیر نہیں ہیں... لیکن اگر تم کہتے ہو...تو مان لیتے ہیں... ہم امیر ہیں۔'' گامی ہنسا۔

''میں ایک بات سوچ رہا ہوں...'' حمود کی آواز سن کر سب نے اُس کی طرف دیکھا۔ وہ کسی گہری سوچ میں لگ رہا تھا۔

''کیا...!!'' فرحانہ نے پوچھا۔

''یہی کہ گامی اور شازی ہمیں بے وقوف بنا رہے ہیں... یہ ہمارے ہمدرد ہرگز نہیں ہیں...''

''اوہ...اوہ...'' بیگم جنید کے منہ سے نکلا۔

''میرا بھی یہی خیال ہے...یہ ہمارے ہمدرد نہیں ہیں... کوئی پروگرام لے کر یہاں آئے ہیں اور ہمیں اس کی بھنک نہیں پڑنے دے رہے...'' فرحانہ نے کہا۔

''کیا میں بھی یہی سوچوں ...گامی اور شازی ہمارے ہمدرد اور دوست نہیں ہیں۔'' فاروق نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا۔

اُن کی باتیں سن کر گامی اور شازی مسکرا رہے تھے...

''تمھاری مرضی...ایسا سوچو... نہ سوچو... بہرحال ہمارا خیال یہی ہے، یہ بہت بڑے فراڈیے اور چالاک ہیں... '' حمود نے کہا۔

''دوستو! یہ مت بھولو... ہم نے تمھارا نمک کھایا ہے... اور یقین کرو... ہم نمک حرام نہیں ہیں...'' گامی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''ہو ں... ہو سکتا ہے، ہم غلط سوچ رہے ہوں لیکن نہ جانے میرا دل کیوں بے چین ہے... انسپکٹر جنید گھر نہیں لوٹے... فرحانہ کا کسی سے رابطہ نہیں ہو رہا... عجیب سی صورت حال ہے...'' بیگم جنید نے کہا۔ اُن کے چہرے پر پر یشانی کے آثار بڑے واضح تھے۔

''اوہ...اللہ اپنا رحم فرمائے.. ہم یہاں ہیں تو کوئی آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا ہے...'' گامی نے جلدی سے کہا۔

''لیکن تم یہاں ہو کیوں!... سوال تو یہ ہے...'' فرحانہ نے کہا۔

''یہ سوال واقعی اہم ہے... لیکن ہم ابھی اس کا جواب نہیں دے سکتے۔''

''''یہاں پھر ایک سوال پیداہوگیا ہے کہ تم ابھی جواب کیوں نہیں دے سکتے ؟'' فاروق بولا۔

''یہ وقت بتائے گا،ہمارا یہاں آنا کس قدر ضروری تھا۔ابھی صرف اتنا بتا دیتے ہیں...انسپکٹر جنید پارٹی کے خلاف ایک جال بچھایا جا رہا ہے... '' گامی نے کہا۔

''کک...کیا مطلب!!' وہ چلا اُٹھے۔پھر اچانک فاروق خوف زدہ نظر آنے لگا۔ یہ دیکھ کر گامی ہنسا:

''فاروق!تمھاری بہت تعریف سن رکھی ہے میں نے...لیکن تم مجھے بزدل نظر آرہے ہو...؟''

''کسی نے تمھیں فاروق کے بارے میں غلط بتایا ہے... یہ واقعی بہت بزدل ہے... '' حمود نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''تعریف کا شکریہ حمود... ارے... ارے...'' فاروق چونک اُٹھا۔

''یہ تعریف میں اب ارے ارے کہاں سے آگیا...''

'' پپ... پتا نہیں...کہاں سے آگیا... '' فاروق منمنایا۔

'' یہ کیا بات ہوئی...! تمھارے شکریے میں ارے ارے گھس آیا اور تمھیں معلوم ہی نہیں ہے... یہ توکوئی بات نہ ہوئی...'' گامی نے بُرا سا منہ بناتے ہوئے کہا۔

''ٹھیک کہا تم نے..لیکن اس میں اتنا بُرا منہ بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔''

''تو پھر کتنا برا منہ بنانے کی ضرورت تھی...! یہ بتا دو ...'' گامی ہنسا۔

''میں کیوں بتاؤں... تمھارا نوکر ہوں کیا...! خود سوچو... تمھیں کتنا بُرا منہ بنانے کی ضرورت تھی...'' فاروق نے منہ بنایا۔

''حد ہوگئی... اب تم نے بھی تو منہ بنایا ہے... '' گامی نے کہا۔

''جب تم بنا سکتے ہو...تو مجھ پر کون سی پابندی ہے... ''

''فاروق... تم کچھ بھول رہے ہو...'' فرحانہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''کیا بھول رہا ہوں میں ...'' وہ چونکا۔

''ارے ارے کو...''

''ارے ہاں! میں بھول گیا تھا... خیر میں بتاتا ہوں...''

''جلدی سے بتاؤ...'' گامی نے بے چینی سے کہا۔

''جلدی سے کیوں بتاؤں بھائی...''فاروق نے اُسے گھورا۔

''جلدی بتاؤ یا آہستہ ..لیکن مجھے گھورو تو نہ ... میں ڈر جاؤں گا...'' گامی نے گھبراتے ہوئے کہا۔

''تم کون ہو... میرے انداز میں باتیں کیوں کر رہے ہو...؟'' فاروق جھنجھلا اُٹھا۔

''میں ایسا ہی ہوں... تم ارے ارے کی وضاحت کرو...''

''حمود بھائی!تم اِن کے یہاں آنے سے پہلے کہہ رہے تھے ...میں ایک بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں...وہ کیا بات تھی؟''

''ارے ہاں! وہ بات ...وہ بات... '' وہ کہتا کہتا رک گیا۔

''کیا ہوا...'' فرحانہ نے پوچھا۔

''میں کہنا چاہتا تھا... کہ ہم اس بار بھی شاید چھٹیوں میں کسی تفریحی مقام پر نہیں جا سکیں گے۔'' اُس نے کہا۔

''اوہ... کیا یاد کرا دیا ... واقعی...ہماری زندگیوں میں تفریح نہیں... '' فاروق نے سرد آہ بھری۔

''اور تم نے کہا تھا...میں ایک سے زیادہ باتیں دعوے سے کہہ سکتا ہوں.. زیادہ کو رہنے دو... صرف ایک آدھ بات بتا دو...'' بیگم جنید مسکرائیں۔

''امی جان... آپ مسکرا رہی ہیں...'' فاروق نے حیرت سے پوچھا۔

''ہاں..مجھ پر مسکرانے کی پابندی نہیں ہے نا.. اس لیے مسکرا رہی ہوں۔'' وہ ہنسیں۔

''ارے... ارے ... آ پ کو کیا ہوا...''

''مجھے کچھ نہیں ہوا... تم بتاؤ...''

''مم...میں بھی وہی کہنا چاہتا تھا ... جو حمود کہہ چکا ہے...'' وہ مسکرایا۔

''مطلب ... جو میں سوچ رہا تھا... وہی تم سوچ رہے تھے۔'' حمود نے اُسے گھورا۔

''اِسے کہتے ہیں... ایک ساتھ سوچنا... بھئی واہ... تمھاری سوچ کتنی ملتی ہے...'' گامی ہنسا۔

''اور...تم بے شمار باتیں دعوے سے کہنے والی تھیں... اُن کا کیا ہوا...'' حمود نے کہا۔

''فرحانہ... اُن بے شمار باتوں میں سے صرف ایک بات بتا دو۔'' بیگم جنید نے کہا۔

''اُن بے شمار باتوں میں سے ایک بات یہ ہے... کہ فاروق الٹی سیدھی باتیں کرکے ہمارا وقت ہمیشہ ضائع کرتا رہے گا...'' وہ مسکرائی۔

''اوہ...میں تمھارا وقت ضائع کرتا ہوں۔'' فاروق فرحانہ کی طرف پلٹا۔

''ہاں... بے شک! امی جان سے پوچھ لو... حمود اور ابا جان بھی میری ہاں میں ہاں ملائیں گے...'' فرحانہ نے شوخی سے کہا۔

''اوہ...اوہ...آج مجھے معلوم ہوا.. تم میرے بارے میں کیاسوچتی ہو .. ارے... ابا جان... ابا جان کہاں رہ گئے... '' وہ چونکا۔

''وہ جہاں بھی ہوں گے... خیریت سے ہوں... مجھے یقین ہے۔'' بیگم جنید نے مسکراتے ہوئے کہا۔

عین اُسی وقت چھت پر کسی کے کودنے کی آوازآئی۔ سب چونک اُٹھے...

''یہ...یہ کیا تھا... '' فاروق کے منہ سے مارے خوف کے نکلا۔

''لگتا ہے... وہ آگیا...'' گامی نے اپنے ساتھی سے کہا۔

''ہاں... سب تیار ہوجاؤ... دشمن چھت پر آگیا ہے... وہ بہت تیز ہے.. بہت پھرتیلا ہے اور سب سے خطرناک بات... وہ بہت خطرناک ہے۔ '' شازی نے گویا اعلان کرتے ہوئے کہا۔

''ارے باپ رے... دشمن ہماری چھت پر آگیاہے... '' فاروق کانپ اُٹھا۔

''یار! کیوں ڈرنے کی اداکاری کر رہے ہو... میں کہتا ہوں... یہ وقت ادا کاری کرنے کا نہیں... دشمن کے مقابلے میں خم ٹھونکنے کا ہے...'' گامی نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

''ارے... تم نے تو کہا تھا... اب منہ نہیں بناؤں گا... '' فاروق مسکرایا۔

''معاف کر دویار... بھول گیا...'' گامی ہنسا۔

''چلو معاف کیا...کیا یاد کرو گے۔ سنو! جب تمھارا دل کرے... منہ بنا لینا... میری طرف سے اجازت ہے... بلکہ کھلی اجازت ہے...''

''اجازت کے لیے شکریہ...اب دشمن سے مقابلے کے تیار ہوجاؤ۔''

''فکر نہ کرو...ہم مقابلے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں... '' فاروق نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''اچھی بات ہے...'' گامی نے کہا۔

اسی وقت گھر کی چھت سے کوئی صحن میں کودا تھا... سب نے چونک کر دیکھا ۔کودنے والاگول مٹول سا ایک نوجوان تھا... وہ اُن کی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا... پھر اس کے ہونٹ حرکت میں آئے:

''دوستو! میں آگیا ہوں...''

(جاری ہے)

عبدالرشید فاروقی

لکھاری

عبدالرشید فاروقی

آپ بچوں کے ادب سے سال اُنیس سو تراسی سے منسلک ہیں۔ بے شمار کہانیاں لکھ چکے ہیں۔ تین جاسوسی ناولز ، چار کہانیوں کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ قسط وار ناول اِن کے علاوہ ہیں۔ ادب اطفال میں اُستاد جی کے نام