قسط 2
دروازہ کھلنے کی آواز سن کر انسپکٹر جنید نے سر اُٹھاکر دیکھا۔ اکرام دفتر میں داخل ہو رہا تھا:
''اکرام! کیسے آنا ہوا...؟''
''سر!ایک بابا جی آپ سے ملنا چاہتے ہیں...''
'' بھیج دو...'' اُنھوں نے مسکراتے ہوئے کہا اور میز پر پڑی فائل اُٹھا کر دیکھنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد ایک بوڑھا کمرے میں داخل ہوا۔ اُس کے سر کے بال سیاہ و سفید تھے۔ آنکھوں پر موٹے شیشوں کی عینک تھی اور دائیں ہاتھ میں چھڑی تھی۔ اُس نے ایک نظر انسپکٹر جنید پر ڈالی اور جلدی سے کرسی پربیٹھ گیا اُنھوں نے حیرت سے پہلے بوڑھے، پھر دروازے میں کھڑے اکرام کو دیکھا:
''سر! یہ بابا جی آپ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔''
''ٹھیک ہے... تم جائو... میں ان سے بات کر لیتا ہوں۔'' انسپکٹر جنید نے کہا۔ اکرام کمرے سے نکل گیا۔اُس کے جانے کے بعد وہ بوڑھے کی طرف متوجہ ہوئے ۔ اِس سے پہلے کہ وہ اُس سے کچھ پوچھتے تھے۔ وہ کہنے لگا:
''آپ انسپکٹر جنید ہیں...؟''
''جی ...میں ہی انسپکٹر جنید ہوں۔'' وہ مسکرائے۔
''میں آپ سے ایک بات کہنے آیا ہوں...''
''اچھا...''
''ہاں! کیا آپ میری بات سنیں گے؟''
''ضرور سنوں گا...آ پ مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہیں؟'' وہ اُس کی طرف پوری طرح متوجہ ہوگئے۔
''سنیے! میں ظالم ہوں۔''اُس نے اُن کی طرف قدرے جھکتے ہوئے کہا۔
''کیا مطلب!! میں آپ کی بات سمجھا نہیں ہوں...آپ وضاحت کریں گے ؟'' وہ مسکرائے۔
''ارے...آپ تو میری بات سن کر مسکرانے لگے۔ '' وہ حیرت سے بولا۔
''تو آپ کے خیال میں آپ کی بات سن کر مجھے کیا کرنا چاہیے تھا۔''
''وہی جو میرے ساتھ، میرے اپنے کرتے ہیں یعنی نفرت...وہ مجھ سے بہت نفرت کرتے ہیں، آپ بھی کیجئے...'' وہ آہستہ سے بولا۔
''میں آپ سے نفرت کیوں کروں۔ نفرت کرنا یوں بھی بُری بات ہے۔ '' وہ ہنسے۔
'' یہی بات تو میں اُن سے کہتا ہوں... نفرت کرنا اچھی نہیں، بُری بات ہے بلکہ بہت ہی بُری بات ہے اور بُری باتوں سے اللہ ناراض ہوتا ہے۔'' وہ بے حد سنجیدہ لگ رہا تھا۔
''آپ سچ کہہ رہے ہیں... بُری باتوں سے اللہ ناراض ہوتا ہے اور ہمیں اللہ کو ناراض نہیں کرنا چاہیے۔'' اُنھوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''آپ درست کہہ رہے ہیں...آپ کتنے اچھے ہیں انسپکٹر جنید! آپ سے مل کر بہت خوشی ہورہی ہے مجھے۔''یکایک وہ مسکرانے لگا۔ اُس کی مسکراہٹ دیکھ کر انسپکٹرجنید کو عجیب سا احساس ہوا... اُنھوں نے پہلو بدلا اور بولے:
''کیا آپ مجھے یہی بات بتانے کے لیے آئے ہیں کہ آپ بہت ظالم ہیں یا کوئی اور بات بھی ہے...''
اُن کی بات سن کر وہ اچانک خاموش ہوگیا...پھر کرسی سے اُٹھتے ہوئے کہنے لگا:
''آپ کو میرے ساتھ ایک جگہ چلنا ہوگا...''
'' کیا مطلب...!! '' وہ بھی اُٹھ کرکھڑے ہوگئے۔
''مطلب ہے... میں آپ کو اپنے ساتھ لے جانے آیا ہوں۔اِدھر میری آنکھوں میں دیکھئے ...آپ میرے ساتھ چل رہے ہیں نا...''بوڑھے نے اُن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔ اُنھیں ایک جھٹکا سا لگا...
''آپ میرے ساتھ چل رہے ہیں ناانسپکٹر جنید...'' وہ مسلسل اُن کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔وہ اُس کی آنکھوں کو دیکھ کر چونک اُٹھے۔وہ ایسی آنکھوں کی حقیقت جانتے تھے۔دُنیا میںایسی آنکھیں بہت کم تھیں... وہ اُس کی آنکھوں سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن بوڑھا اُن سے اپنی آنکھیں نہیں ہٹا رہا تھا۔ آخراُنھوں نے کہا:
''ہاں ... میں آپ کے ساتھ چل رہا ہوں...ہمیںکہاں جانا ہے۔''
''جہاں میں لے جائوں، آپ کوئی سوال نہیں کریں گے اور جیسا میں کہوں آپ ویسا ہی کہیں گے اور کریں گے... ٹھیک ہے نا...''
''ٹھیک ہے...'' انسپکٹر جنید نے کہا۔
''اب سب انسپکٹر اکرام کو بلائیں اور اُس سے کہیں، آپ میرے ساتھ جا رہے ہیں۔'' بوڑھے نے کہا۔ انسپکٹر جنید نے ایسا ہی کیا۔ اکرام نے حیرت سے اُنھیں دیکھا تھا۔ چھٹی کے قریب وہ دفتر سے کسی کے ساتھ نہیں جاتے تھے... یہ اُن کے اصول کے خلاف تھا۔ پھروہ یہ سوچ کر مطمئن ہوگیا تھا کہ ہوسکتا ہے... بوڑھا کسی مصیبت میں ہو اور اُسے اِن کی واقعی ضرورت ہو... وہ اپنی جیب میں بیٹھے تو بوڑھا اُن کے ساتھ اگلی سیٹ پربیٹھ گیا۔ جیپ ایک جھٹکے سے آگے بڑھی اور تیزی سے سڑک پر دوڑنے لگی...
''ہمیں غازی آباد قصبے میں جانا ہے... جانتے ہیں ... وہ کہاں ہے؟''
''جی... وہ شہر کی حدود سے باہر ہے... بڑا خوب صورت قصبہ ہے۔'' اُنھوں نے کہا۔
ہوں... درست کہہ رہے ہیں... آپ کی جیب میں موبائل فون ہے؟''
''جی... فون ہے...''وہ پوری طرح اُس کے کنٹرول میں تھے۔
''فون نکال کر مجھے دے دیں... آپ کو اس کی ضرورت نہیں ہے اب۔'' بوڑھے نے ہنس کر کہا۔ انسپکٹر جنید نے موبائل فون نکال کر اُسے دے دیا۔ فون اُس نے اپنی جیب میں رکھ لیااور ہنسنے لگا... جیپ تیزی سے سڑک پر دوڑ رہی تھی اور بوڑھا پاگلوں کی طرح ہنس رہا تھا۔انسپکٹر جنید حیرت سے اُسے دیکھ رہے تھے۔ جیپ شہر سے باہر نکلی تو اچانک بوڑھے نے زور سے کہا:
''انسپکٹر جنید... جیپ ایک طرف روک لیں...''
اُنھوں نے جیپ کو سڑک کنارے، ایک درخت کے نیچے روک لیا اور بوڑھے کو دیکھنے لگے۔ جیسے پوچھ رہے ہوں...اب کیا کرنا ہے...
بوڑھے نے اُنھیں جیپ سے نیچے اُترنے کا اشارہ کیا... وہ فوراً نیچے اُتر کر اُس کے سامنے کھڑے ہوگئے...
''لوگ کہتے ہیں،آپ بہت ذہین ہیں، بہت بہادر ہیںلیکن میں نے کتنی آسانی سے آپ کو قابو کر لیا ہے۔ ''وہ ایک بار پھر ہنسنے لگا ۔ اُسی وقت موبائل کی گھنٹی بجنے لگی۔ موبائل انسپکٹر جنید کا تھا... بوڑھے نے جیب سے اُن کا موبائل نکال لیا... سکرین پر لفظ فرحانہ جگمگا رہا تھا۔
''اوہ... یہ تو تمھاری بیٹی فرحانہ کی کال ہے...''
گھنٹی بجتی رہی لیکن بوڑھے نے کال نہ سنی... آخر گھنٹی بجنا بند ہوگئی۔
'' انسپکٹر جنید! اگر میں چاہوں تو بڑی آسانی سے تمھارا خاتمہ کر سکتا ہوں.. لیکن میں ایسا کروں گا نہیں۔ تمھارے ساتھ وہ کھیل کھیلوں گا کہ ہمیشہ یاد رکھو گے... چلیں، اب جیپ میں بیٹھیں۔'' اس نے کہا ۔
سفر ایک بارپھر شروع ہوا....آخر وہ غازی آباد قصبے کے ایک گھر کے سامنے رک رہے تھے۔
بوڑھے نے کسی کو زور سے پکارا تو گھر کا بڑا سا گیٹ کھلتا چلا گیا اور انسپکٹر جنید جیپ گھر کے اندر لے گئے۔
وہ ایک بڑا سا کمرہ تھا...اُس کے عین درمیان میں ایک بڑی سی میز کے گرد رکھی دو کرسیوںپر دو آدمی ٹانگیں پھیلائے بیٹھے تھے۔ انسپکٹر جنید کو دیکھ کر وہ مسکرائے۔ پھر موٹی ناک اور توے کی طرح سیاہ چہرے والے آدمی نے بوڑھے کو گھورا:
''جانی! اِس نے تمھیں زیادہ تنگ تو نہیں کیا...؟''
''اگر تنگ کیا ہے تو بتائو... ابھی اس کی ہڈی پھسلی ایک کر دیتے ہیں۔ یہ بنا کیا پھرتا ہے۔انسپکٹر کہیں کا...''سیاہ چہرے والے کے ساتھی نے کہا۔ اُس کی دائیں گال پر زخم کا نشان تھا۔
انسپکٹر جنید بوڑھے کے ساتھ دروازے کے قریب ہی کھڑے تھے۔ وہ کمرے کا جائزہ لے رہے تھے۔
''چاچا کامی...اچھا ماما...تم جانی کو نہیں جانتے ہیں، لیکن جانی سب کو اچھی طرح جانتا ہے... انسپکٹر جنید کو میں نے چوہے کی طرح پکڑا ہے۔اِن کے پورے عملے کے سامنے، مکھن میں سے بال کی طرح نکال کر لے آیا ہوں...راستے میں اِن سے کھیلتا آیا ہوں... یاد رکھیں... میں وہ ہوں ... جس کے سامنے اچھے اچھے پانی بھرتے ہیں ۔'' بوڑھے نے سینہ پھلاتے ہوئے کہا۔
''بہت خوب... چلو اب اپنا بوڑھا پن ختم کرو ... اور اصلی شکل میں واپس آجائو...'' چاچا کامی نے ہنستے ہوئے کہا۔
''جانی! میں تمھاری صلاحیتیوں سے تو ابھی واقف نہیں ہوں... لیکن تم میک اپ غضب کرتے ہو..کوئی تمھیں پکڑ نہیں سکتا ... '' اچھا ماما نے کہا۔
''بہت شکریہ ...تم کہتے ہو تو میک اپ ختم کر آتا ہوں...ورنہ میں نے بڑی محنت سے کیا تھا۔'' بوڑھے نے ہنستے ہوئے کہا۔
''جائو...اور جلدی آنا.. تمھارے آنے پر انسپکٹر جنید سے دو دو ہاتھ کریں گے... اس کی مرمت تو ہم تینوں مل کر کریں گے۔'' چاچا کامی نے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
''ٹھیک ہے... میں یوں گیا ... یوں آیا...''جانی نے کہا اور دروازے سے نکل گیا۔اُس کے جاتے ہی انسپکٹر جنید مسکرانے لگے:
''چاچا کامی... جانی اپنا میک اپ اُتار کر کب تک واپس آئے گا...''
''کیا مطلب... '' وہ چونکے۔
''میں پوچھ رہا ہوں ... وہ کتنی دیر بعد آئے گاواپس...''
دونوں نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ... پھر چاچا کامی بولا:
''اُسے واپس آنے میںکچھ منٹ تک جائیں گے، لیکن تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو... ؟''
''کہیں تم یہاں سے بھاگنے کا تو نہیں سوچ رہے ہو... اگر ایسی کوئی بات ذہن میں ہے تو فوراً اُسے جاتا کرو...'' اچھا ماما نے ہنستے ہوئے کہا۔
''کیوں جاتا کروں...'' وہ مسکرائے۔
''اِس لیے کہ تمھیں منہ کی کھانا پڑے گی ۔'' چاچا کامی نے جلدی سے کہا۔
''خیر ہے... میں بہت بار پہلے بھی منہ کی کھا چکا ہوں... ایک بار پھر کھا لوں گا۔''
''تو تم واقعی یہاں سے بھاگنا چاہتے ہو...؟''
''نہیں... بھاگنا نہیں چاہتا...میرا پروگرام دوسرا ہے...'' وہ مسکرائے۔
''دوسرا پروگرام... '' چاچا کامی نے دہرایا۔
''ہاں اور وہ ہے تمھاری مرمت... چلو تیار ہوجائو..میں بہت اچھی مرمت کرتاہوں... ''
اُن کی بات سن کر دونوں نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ... پھر ہنسنے لگے...
''انسپکٹر جنید !تم نے خواب بہت اچھا دیکھا ہے لیکن...'' اچھا ماما نے اُنھیں بُری طرح گھورا۔
''لیکن کیا...ماما...'' وہ ہنسے۔
''میرا نام ماما نہیں،اچھا ماما ہے...یاد رکھو۔'' اُس نے اِنھیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔
''ٹھیک ہے ۔ اب یاد رکھوں گا۔بتائو، لیکن سے آگے کیا کہنا چاہتے ہو؟''
'' ہماری مرمت والا خواب تم کبھی پورا نہیں کر سکو گے... یہ لکھ لو...''
''لیکن مجھے لکھنے کی ضرورت نہیں ہے... کیوں کہ میرے سارے اچھے خواب اللہ تعالیٰ ہمیشہ پورے کرتا ہے۔ تمھاری مرمت والا خواب جانی کی واپسی سے پہلے پہلے پورا ہوجائے گا... چلو اب تیار ہوجائو... میں وار کرنے لگا ہوں... بچ سکتے ہو ... تو بچ جائو...''انسپکٹر جنید نے ہنستے ہوئے کہا ۔ دونوں اُٹھ کر کھڑے ہوگئے...
''کرو وار ... ہم تیار ہیں...'' چاچا کامی نے غصے سے کہا۔
''یہ لو...'' انسپکٹر جنید نے کہا اور مڑے کر تیزی سے کھلے دروازے سے باہر نکل گئے...
''ارے... ارے ... یہ تو بھاگ نکلے..پکڑو اُسے..'' اُنھوں نے چاچا کامی کی چیختی ہوئی آواز سنی..... وہ رُکے نہیں۔کمرے سے باہر موجود راہ داری میں بھاگتے چلے گئے... اُن کا رخ گھر کے بیرونی دروازے کی طرف تھا۔ وہ راہ داری طے کرکے جیسے ہی قدرے کھلی جگہ پہنچے ...جانی اچانک اُن کے سامنے آدھمکا۔ اُنھوں نے اُس کی آنکھوں میں زمانے بھر کی حیرت دیکھی ۔اُنھوںنے پروا نہ کی اور جھکائی دے کر نکل گئے۔ وہ اِس وقت کھلے صحن میں تھے۔ صحن میں ایک طرف اُن کی جیپ کھڑی تھی۔ وہ تیزی سے جیپ کی طرف بڑھے لیکن پھر اچانک انھیں رُکنا پڑا... اُن کے سامنے جانی ایک بار پھر موجود تھا۔
''انسپکٹر جنید... تم یہاں سے بچ کر نہیں جا سکتے... اِس لیے یہ بھاگ دوڑ چھوڑدو...''
''کیوں چھوڑ دوں... یہ بھاگ دوڑ تو بڑے کام کی ہے بوڑھے جانی..'' انھوں نے اُسے جھکائی دینا چاہی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے... وہ اُن کے سامنے موجود تھا:
''اچھا ایک بات تو بتائو...میں نے تمھیں آنکھوں سے اپنے بس میں کر لیا تھا...پھرتم کیسے آزاد ہوگئے ...میرے ساتھ ایسا پہلے تو کبھی نہیں ہوا...''
''تم نے مجھے اپنے بس میں کر لیا تھا... یہ تمھارا خیال ہے، میرا نہیں... تم کیا سمجھتے ہو؟ میں پاگل ہوں۔ میں جان گیا تھا کہ تم بوڑھے نہیں ہو اور تمھاری آنکھوں کی طاقت بھی مجھ سے چھپی نہ رہی۔ جانی! تم مجھے نہیں جانتے...اگر جانتے ہوتے تو یوں منہ اُٹھا کر میرے دفتر میں نہ گھستے...میں تمھاری اصلیت جاننے کیلئے تمھارے ساتھ چلا آیا تھا... '' انسپکٹر جنید کہتے چلے گئے۔ اُنھوں نے دیکھا۔ اُس کے ساتھی چاچا کامی اور اچھا ماما بھی وہاں آگئے تھے۔
''یہ...یہ بہت تیز بھاگتا ہے...'' اچھا ماما نے کہا۔
''لیکن یہ وہاں سے بھاگا کیسے.. تم دونوں کہاں چلے گئے تھے...'' جانی نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
''ہم کہیں نہیں گئے تھے... یہ ہماری مرمت کرنے کے چکر میں تھا۔ہمیں للکار رہا تھا کہ اچانک کھلے دروازے سے بھاگ نکلا۔'' چاچا کامی نے کہا۔
''اوہ...اوہ...میں سمجھ رہا تھا.. انسپکٹر جنید میرے بس میں ہیں.. میرے غلام بن گئے ہیں... لیکن...'' وہ کہتے کہتے رُک گیا۔
''لیکن کیا... ؟'' اچھا ماما نے جلدی سے پوچھا۔
''لیکن یہ میرے بس میں تھے ہی نہیں۔ خیر... یہ یہاں آہی گئے ہیں تو واپس نہیں جا سکیں گے... یہ میرا تم دونوںسے وعدہ ہے...''جانی نے سینہ پھلاتے ہوئے کہا۔
''وعدہ نہ کرو جانی... تم منہ کی کھائو گے... ''وہ مسکرائے۔
''دیکھتے ہیں... منہ کی کون کھاتا ہے...'' جانی نے کہا اور خم ٹھونک کر کھڑا ہوگیا۔ اِس سے پہلے وہ لاپروا دکھائی دے رہا تھا۔ چاچا کامی اور اچھا ماما بھی چوکس ہوگئے۔ یہ دیکھ کر وہ مسکرائے :
''تم تینوں مل کر بھی مجھے یہاں سے جانے سے روک نہیں سکو گے... یہ میرا دعویٰ ہے۔''
''چاچا کامی اور اچھا ماما... تم دونوں اس پر پل پڑو... مار مارکر اِس کا بھرکس نکال دو...'' جانی نے کہا۔
''ہم دونوں...؟ تم کیوں نہیں یہ اچھا کام کرتے۔ سنا ہے، تم بہت اچھے لڑاکے ہو.. '' چاچا کامی نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ جانی نے اُسے گھور کر دیکھا۔
''اچھا ماما... تم کیا کہتے ہو؟''
''میرا جواب بھی کامی والا ہے... تم اِس کی دھلائی کرو گے اور ہم دیکھیں گے۔'' وہ مسکرایا۔
''اوہ...اوہ...یہ تم اچھا نہیں کر رہے ہو، تمھیں اِس کا جواب دینا ہوگا، تیار رہنا...'' جانی نے جل کر کہا۔
''ہم تیار ہیں...'' دونوں ایک ساتھ بولے اور پھر انسپکٹر جنید اچانک زمین پر گرتے چلے گئے... کیوں کہ کامی اور اچھے نے ایک ساتھ اُن پر چھلانگیں لگائی تھیں۔ وہ زمین پر گرتے ہی پھرتی سے اُٹھے تھے کہ دوبارا ڈھیر ہوگئے... اِس بار جانی نے اُن چھلانگ لگائی تھی...
''انسپکٹر جنید!کیاکر رہے ہیں...آپ کی بہادری کے بے شمار قصے سنے ہیں اور آپ ہیں کہ بار بار زمین پر گر رہے ہیں... ''
وہ اچھل کر کھڑے ہوگئے۔ اُنھوں نے دیکھا۔ راہ داری کے آخری کونے میں ایک لمبا آدمی کھڑا تھا۔
''تم کون ہو...؟''
وہ سمجھ رہے تھے ... اِس گھر میں صرف وہ تینوں ہی ہیں لیکن لمبے کی موجودگی بتا رہی تھی کہ اُن کا خیال غلط تھا۔
''میں اس گھر میں رہتا ہوں...'' وہ ہنسا۔
''گویا یہ تمھارا گھرہے...''
''یوں ہی سمجھ لیں...''
''سمجھ لوں ... مطلب، یہ گھرتمھارا نہیں ...کرائے کا ہے...''
''جو جی میں آئے، سمجھ لیں...'' اُس نے کندھے اُچکائے۔
''تم لوگ کون ہو اور مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟''
''ہم اچھے لوگ نہیں ہیں...'' وہ ہنسا۔
''جانتا ہوں۔ یہ بتائو، مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟''
' اِسے بتادو بھئی...''
لمبے آدمی کے خاموش ہوتے ہی اچانک انسپکٹر جنید کے سر سے کوئی وزنی چیز ٹکرائی اور وہ زمین پر گرتے چلے گئے...
( جاری ہے )

