قسط 4
دستک کے جواب میں ایک بوڑھے نے دروازہ کھولا:
''جی فرمائیے... آپ کو کس سے ملنا ہے...''
''میرا نام اکرام ہے...''
''اچھا نام ہے... لیکن آپ کو کس سے ملنا ہے...؟''
''میرا تعلق پولیس سے ہے...''
پولیس کا سن کر بوڑھے نے غور سے اُنھیں دیکھا اور ہنستے ہوئے بولا:
''لیکن آپ کے جسم پر پولیس والی وردی تو نہیں ہے...!''
''آپ کا مطلب ہے، جس کے جسم پرپولیس کی وردی نہ ہو... وہ پولیس والا نہیں ہو تا ہے...؟'' انھوں نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا۔
''میں نے ایسا تو نہیں کہا۔اچھا کہیے، آ پ کو کس سے ملنا ہے۔'' بوڑھے نے ہنس کر کہا۔
''یہاں ہمارے ایک دوست آئے ہیں، ہمیں اُن سے ایک بہت ضروری کام ہے...''انھوں نے کہا۔
''ہمیں، لیکن آپ تو اکیلے ہیں۔'' بوڑھے نے حیرت سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔
''ذرا اس درخت کے نیچے دیکھیں... وہ تین آدمی میرے ساتھی ہیں...'' وہ مسکرائے۔
''آپ کے ساتھی ہیں تو وہاں اتنی دُور کیوں کھڑے ہیں۔''
''ویسے ہی ، میں انھیں بلا لیتا ہوں، آجاؤ بھئی...''
انھوں نے حوالدار محمد حسین آزاد اور اس کے دو ساتھیوں کو آواز دی۔ وہ بھاگ کر ان کے پاس آگئے۔
''اب آپ ہمیں ہمارے دوست سے ملوا دیں ۔''
''آپ کے دوست سے ملوا دوں... کیا نام ہے آپ کے دوست کا...؟''
''جنید... '' اکرام نے کہا۔
''میں شرمندہ ہوں،آپ کی خواہش پوری نہیں کر سکتا ۔'' اُس نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
''کیوں نہیں پوری کر سکتے ؟'' اکرام نے حیرت سے پوچھا۔
''اس لیے کہ یہاں کوئی جنید نہیں ہے... '' اُس نے رُوکھے سے لہجے میں کہا۔
''کیا مطلب...!!
''مطلب یہ کہ... اس گھر میں جنید نام کا کوئی شخص نہیں آیا...''
''اوہ...آپ کون ہیں...؟''
''میں اس گھر کا مالک ہوں... نام ہے افضل پاپڑی والا۔'' وہ مسکرایا۔
''افضل پاپڑی والا...'' اُنھوں نے دہرایا۔
''ہاں! افضل پاپڑی والا...کیا آپ کو میرے نام پر اعتراض ہے۔'' اُس نے آنکھیں نکالیں۔
''بالکل نہیں... مجھے آپ کے نام پر بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ آپ کوئی بھی نام رکھ سکتے ہیں۔ میں اتناضرور کہوں گاکہ آپ جھوٹ کہہ رہے ہیں...'' انھوں نے کہا۔
'' جھوٹ... کیا مطلب!''
''مطلب یہ کہ آپ نے جھوٹ کہا ہے ...'' وہ مسکرائے۔
''میں نے کیا جھوٹ کہا ہے...؟''
''یہ کہ یہاں جنید نہیں ہے،ہمیں یقین ہے... وہ یہیں آئے تھے۔''
''وہ یہاں نہیں آئے ... ویسے یہ جنید ہے کون ؟''
''آپ نہیں جانتے ؟ وہ کون ہیں...؟'' اکرام نے کہا۔
''وہی تو پوچھ رہا ہوں... وہ کون ہے؟'' افضل پاپڑی والا نے منہ بنایا۔
''وہ ایک محب وطن انسان ہیں۔''
''وہ تو میں بھی ہوں...''
''لوگ اُنھیں انسپکٹرجنید کہتے ہیں۔''
''ارے ... تم انسپکٹر جنید کی بات کر رہے ہو...اوہ...!!!''
''ہاں... میں اُنہی کی بات کر رہا ہوں۔'' وہ مسکرائے۔
''اوہ!لیکن میرا جواب وہی ہے... وہ یہاں نہیں آئے۔''
'' تم جھوٹ بول رہے ہو بلکہ سفید جھوٹ بول رہے ہو۔'' اکرام نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''میں سچ کہہ رہا ہوں... وہ یہاں نہیں آئے۔''
''تب پھر ہم آپ کے گھر کی تلاشی لیں گے۔''
''مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے... آپ شوق سے تلاشی لیں۔''
''شکریہ...آپ پردہ کرالیں۔'' اکرام نے کہا۔
''اس کی ضرورت نہیں ہے۔'' پاپڑی والا مسکرایا۔
''کیوں...'' وہ چونکے۔
''اس لیے کہ اس گھر میں عورتیں نہیں ہیں... میں اپنے دو بیٹوں کے ساتھ رہتا ہوں۔''
''اوہ... ٹھیک ہے... چلیں پھر ...''
وہ ایک بڑا خوب صورت گھر تھا۔ گیٹ کے ساتھ ہی کھلا صحن تھا۔ صحن کے اُس طرف ایک طویل راہ داری تھی۔ کمروں کی تعداد دیکھ کر سب انسپکٹر اکرام حیران رہ گئے۔
''پاپڑی والا... آپ اس گھر میں اپنے دو بیٹوں کے ساتھ رہتے ہیں تو اتنے کمرے کس لیے؟''
''یہ کمرے میں نے نہیں بنوائے...اصل میں یہ گھرمیں نے خریدا تھا۔ ''
''ہوں... ٹھیک ہے۔'' اکرام نے کہا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک کمرے کی تلاشی لینے لگا... وہ سب باریک بینی سے ایک ایک چیز کا جائزہ لے رہے تھے۔آخر حوالدار محمد حسین آزاد نے اعلان کرنے والے انداز میں کہا:
''سر... یہاں انسپکٹر جنید نہیں ہیں...''
''اوہ...اوہ...'' ان کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
''میں نے پہلے ہی کہا تھا... وہ یہاں نہیں آئے۔ ''
''لیکن میں کہتا ہوں ...وہ یہیں آئے تھے...'' اکرام مسکرایا۔
''آئے تھے..کیا مطلب... کیا کہنا چاہتے ہیں آپ۔'' پاپڑی والا نے چونک کر پوچھا۔
''آپ کے بیٹے نظر نہیں آ رہے؟''
''وہ شہرتک گئے ہیں... شام تک واپس آئیں گے... اصل میں اس قصبے میں ضرورت کی کچھ چیزیں نہیں ملتیں تو انھیں شہر سے لانا پڑتی ہیں۔''
''اوہ ...اچھا...''
''محمد حسین !آ پ کو یہاںسر کی کوئی چیز تو نہیں ملی... مطلب کوئی ایسی چیز جو اُن کے استعمال میں رہتی ہو...'' اکرام نے کہا۔
''نہیں سر... مجھے اور میرے ساتھیوں کو ایسی کوئی چیز نہیں ملی... ہم نے اچھی طرح تلاشی لی ہے۔''
''ٹھیک ہے، تم یہاں اس کے پاس ٹھہرو۔ میں ایک بار پھر تلاشی لینا چاہتا ہوں...'' اکرام نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''انسپکٹر صاحب! آپ اپنا وقت برباد کر رہے ہیں، وقت بہت قیمتی ہے، اِس کی قدر کیجئے ...'' پاپڑی والا مسکرایا۔
''ہمارے انسپکٹر جنید کم قیمتی نہیں ہیں... آپ اپنا مشورہ پاس رکھیں... اور مجھے میرا کام کرنے دیں۔''
''ٹھیک ہے، میں اپنے کمرے میں جا رہا ہوں...فارغ ہوجائیں تو مجھے بلالیں...''
پاپڑی والا نے کہا اور ان کا جواب سنے بغیر وہاں سے چلتا ہوا راہ داری کے آخری کمرے میں چلا گیا۔
اب اکرام نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور آہستہ آواز میں کہنے لگا:
''انسپکٹر جنیدیہاں آئے تھے لیکن انھیں غائب کر دیا گیا ہے.. مجھے پورا یقین ہے،وہ یہیں کہیں چھپائے گئے ہیں اوریقینا ان کی جیپ بھی ٹھکانے لگا دی گئی ہے۔ ''
''اوہ... آپ کے یقین کی وجہ کیاہے سر...؟''
'' وہ یہاں کسی مصیبت میں تھے... انھوں نے مجھے کال تو ملائی تھی لیکن بات نہ کر سکے تھے... میں نے موبائل پر بھاگنے کی آوازیں سنی تھیں اور... اور...'' اکرام کہتا کہتا رُک گیا۔ پاپڑی والا دروازے میں کھڑا تھا۔ یہ چونکہ راہ داری کے عین سامنے موجود تھے ، اس لیے وہ انھیں صاف دکھائی دے رہا تھا۔
''انسپکٹر!آپ کی تلاشی مکمل ہوئی؟'' اُس نے اونچی آواز سے پوچھا۔
''نہیں... جب میں فارغ ہوںگا تو آپ کو بتا دوں گا... '' انھوں نے بھی بلند آواز سے کہا۔
''ٹھیک ہے... ذرا جلدی کیجئے گا... میں سونا چاہتا ہوں...'' اس نے کہا اور واپس کمرے میں چلا گیا۔
''ہاں تو میں کہہ رہا تھا... اور یہاں جو باتیں ہوئیں... وہ بھی میں نے سنی تھیں... اگرچہ آوازیں صاف نہیں تھیں... موبائل شاید اُن کی جیب میں آن تھا.. پھر اچانک وہ بند ہوگیا۔''
''سر! اس کا مطلب صاف صاف تو یہی ہے کہ وہ یہاں آئے تھے اور ان کے ساتھ کچھ غلط کیا گیا۔ جب تک وہ ہوش میں تھے... موبائل آن رکھا اور پھر کسی وجہ سے فون بند کر دیا... لیکن وہ آپ کو اشارہ دے چکے تھے...'' محمد حسین آزاد نے کہا۔
''اور مجھے یقین ہے... انھیں باقاعدہ منصوبہ بندی سے یہاں لایا گیا تھا۔ اوہ... اوہ...'' اچانک اکرام اچھل پڑا۔
''کیا ہوا سر... کیا ہوا...؟''
''اوہ ... میں سمجھ گیا... وہ جس بابا جی کے ساتھ دفتر سے نکلے تھے... ہو نہ ہو... یہ سا را کیا دھرا اُسی کا ہے... اوہ ...اوہ...محمد حسین ... ''
''کیاہوا سر...؟''
''مجھے لگتا ہے... اُن کی زندگی خطرے میں ہے... ہمیں جلداز جلد انھیں تلاش کرنا ہوگا... چلو شروع ہوجاؤ... لیکن ٹھہرو... !''
''اب کیا ہوا سر...؟'' محمد حسین حیران رہ گیا۔
''ہمیں تلاشی کے ساتھ ساتھ پاپڑی والا سے بھی پوچھ گچھ کرنی چاہیے۔''
''اوہ... آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں سر... ''
''ٹھیک ہے... میں تمھارے ایک ساتھی کے ساتھ پورے گھر کو کھنگالتا ہوں اور تم پاپڑی والا سے کچھ اگلوانے کی کوشش کرو، لیکن ذرا دھیان سے۔ ہو سکتا ہے، جتنا وہ معصوم نظر آتا ہے... اتنا ہو نہ...'' اکرام نے کہا اورکمرے میں گھس گیا۔
اس نے پورے گھر کی خوب ٹھونک بجا کر تلاشی لی،لیکن اُسے کوئی سراغ نہ ملا... وہ پریشان ہو گیا۔
''یا اللہ! اپنا رحم فرما... انسپکٹر جنید کو اپنی امان میں رکھنا...''
''سر...ہم نے پورا گھر اور ساری چھت... خوب اچھی طرح دیکھی ہے، دیوار یں اور فرش بجا بجا کر دیکھ لیے ہیں لیکن انسپکٹر جنید کا سراغ نہیں ملا... ان کی کوئی چیز بھی نظر نہیں آئی...اب کیا ہوگا... ہم انھیں کہاں تلاش کریں... ارے... ارے ! کہیں ایسا تو نہیں ... اُنھیں یہاں سے کہیں اورمنتقل کر دیا گیا ہو۔''
''اوہ... اوہ...بہت خوب! تم دُور کی کوڑی لائے ہو ، ضرور یہی ہے بات ہے، وہ یہاں نہیں ہیں ، کہیں اور رکھے گئے ہیں...'' اکرام جوش سے بھر گیا۔
''آپ درست کہہ رہے ہیں۔''
''اور اس جگہ کا پتا افضل پاپڑی والا یقینا جانتا ہوگا۔آؤ میرے ساتھ...'' اکرام نے کہا اورپاپڑی والا کے کمرے کے سامنے پہنچ گیا۔ کمرے کا دروازہ بند تھا اور اندر خاموشی تھی۔
''ارے ...یہاں تو خاموشی ہے۔ محمد حسین ! کیا تم اندر ہو...؟'' اندر سے کوئی جواب نہ آیا تو وہ چونکے۔
''پاپڑی والا!کیا آپ اندر ہیں ؟ کمرے میں خاموشی کیوں ہے...؟ کیا آپ سو تو نہیں گئے...؟''
اب بھی کوئی جواب نہ ملا تو وہ پریشان ہوگئے...
''یہ کیا چکر ہے...!!'' وہ بڑبڑائے۔
''اللہ اپنا رحم فرمائے... مجھے خطرے کی بو آ رہی ہے سر...''
'' سر... کیا آپ اندر ہیں...؟''
''اور کیا اندر خیریت ہے...؟''
اب بھی کوئی جواب نہ آیا...
''اللہ کا نام لے کر تم دروازہ کھولو... '' اکرام نے ماتحت کو حکم دیا۔
''ٹھیک ہے سر! میں دروازہ کھول رہا ہوں۔'' ماتحت نے کہا اور دروازے پر دباؤ ڈالا۔ہلکے دباؤ سے ہی دروازہ کھلتا چلا گیا۔وہ تیزی سے دروازے کے سامنے سے ہٹ گئے تھے۔ دروازہ چوپٹ کھلا تھا... اندر اب بھی مکمل خاموشی تھی۔ کسی کے سانس لینے کی آواز تک نہیں آ رہی تھی۔
اُن کے دل بری طرح دھڑک رہے تھے...
''سر! آپ اجازت دیں تو میں اندر جاؤں.... اللہ نے چاہا تو کچھ نہیں ہوگا ۔''
''کیا نام ہے تمھارا...'' اکرام نے پوچھا۔
''میں لیاقت ہوں...''
''ٹھیک ہے... تم اندر جاؤ...''
وہ اندر داخل ہواتو حیرت سے اُچھل پڑا... پھر اُس کے منہ سے مارے حیرت کے نکلا:
''یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں...؟''
''کیا دیکھ رہے ہو تم...؟'' اکرام جلدی سے دروازے کے سامنے آگیا اور پھر وہ بھی بری طرح اچھلا... ساتھ ہی اُس کے منہ سے مارے حیرت کے نکلا:
''ارے... کمرہ تو بالکل خالی ہے...''
''سب کہاں چلے گئے...!حیرت ہے... '' لیاقت کا منھ کھلا ہوا تھا۔
''اس کمرے کا اچھی طرح جائزہ لو... فرش اور دیوار اچھی طرح دیکھو... یقینا یہاں کوئی خفیہ دروازہ ہے...شاباش! شروع ہوجاؤ... '' اکرام نے کہا۔
کمرے میں ایک بیڈ کے علاوہ کوئی چیز نہیں تھی... اٹیچ باتھ روم کا دروازہ کھلا ہوا تھا... دیواریں بالکل صاف تھیں... اُن پر موجود پینٹ خوب چمک رہا تھا۔انھوں نے بیڈ بھی اُٹھا کر دیکھا... اس کے نیچے بھی کچھ نہیں تھا... باتھ روم کی ایک ایک چیز اچھی طرح دیکھ ڈالی لیکن انھیں مایوسی کے علاوہ کچھ نہ ملا۔ وہ پریشان ہوگئے۔
''سر... یہاں تو کچھ نہیں ہے...!'' لیاقت نے حیرت سے کہا۔
''میرا دل کہہ رہا ہے... یہاںکوئی خفیہ دروازہ ضرور ہے... ''
''جب ہم گھر کی تلاشی لے رہے تھے تو ممکن ہے ... وہ نکل گیا ہو.. خاموشی سے...''
''تم ایک بات بھول رہے ہو...''
''کون سی بات سر...؟''
''ہمارے ساتھی بھی غائب ہیں۔'' اکرم کا ذہن تیزی سے کام کر رہا تھا۔
''آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ... ''
''کیوں نہ ہم ایک بار پھر کمرے کا جائزہ لیں...''
''ضرور لینا چاہیے...''
وہ ایک بار پھر کمرے کا جائزہ لینے لگے۔
''سر... یہ کیا چیز ہے...!'
' لیاقت کی آواز سن اکرام بھاگ کر اس کے پاس گیا... وہ ایک دیوار کے پاس کھڑا تھا۔
''کیا چیز ہے...؟''
''سر! اس جگہ سے یہ دیوار آپ کو عجیب نہیں لگ رہی کیا! مم... میرا مطلب ہے... دیوار پر اس جگہ پینٹ کا رنگ قدرے مختلف نہیں ہے...؟ ''
اکرام نے غور سے دیکھا۔ لیاقت کی بات ٹھیک تھی... وہ بوتل کے ڈھکن جیسا ایک دائرہ تھا... اس دائرے کا پینٹ دیوار کے باقی پینٹ سے تھوڑا مختلف تھا... اکرام نے کمرے کی دوسری دیوار وں کا جائزہ لیا...سب پر اُس دائرے جیسے دائرے بنے ہوئے تھے... اور ان کے پینٹ کا رنگ بھی اسی دائرے جیسا تھا...گویا کمرے کی دیواروں کو ہلکے رنگ کے دائروں سے سجایا گیا تھا... اور یہ دائرے پہلی نظر میں دکھائی نہیں دیتے تھے...
''کچھ نہیں ہے لیاقت... ایسے دائرے تو دوسری دیواروں پر بھی ہیں... ہمیں کچھ اور تلاش کرنا ہے۔'' اکرام نے کہا۔
''نہیں سر... یہ دائرہ باقی دائروں جیسا نہیں ہے.. '' لیاقت مسکرا رہا تھا۔
''کیا کہنا چاہتے ہو تم...؟''
''سر! اس دیوار پر بس یہ ایک دائرہ ہی ہے جب کہ باقی دیوارں پر بہت سے دائرے ہیں...''
''اوہ... ارے ...تت...تم درست کہہ رہے ہو... اس پر تو میں نے غور ہی نہیں کیا...لگتا ہے... ہم خفیہ دروازہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں ...''
''سر... یہ دروازہ نہیں ... ایک دائرہ ہے...کیا میں اِسے دباؤں؟''
''ضرور دباؤ... تم دیکھنا... اس کمرے میں ایک دروازہ کھلے گا.. '' اکرام کے چہرے پر جوش تھا۔
اور پھر اکرام کا خیال درست ثابت ہوا... لیاقت نے جیسے ہی دائرے پر انگوٹھا رکھ کر دبایا... باتھ روم کے ساتھ والی دیوار میں ایک دروازہ کھلتا چلا گیا...
''وہ مارا...!!! ہم نے خفیہ دروازہ تلاش کرلیا ہے... '' لیاقت نے نعرہ لگایا۔
پھر وہ دروازے کی طرف لپکے...
( جاری ہے )

