🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
اُدھورا کھیل  ( قسط نمبر1)
جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

اُدھورا کھیل ( قسط نمبر1)

عبدالرشید فاروقی
عبدالرشید فاروقی
22 اگست، 2026۳۸ مرتبہ پڑھی گئی

اُدھورا کھیل ( قسط نمبر1) سنیں

( کچھناول کے بارے میں )

بچپن سے جناب اشتیاق احمد مرحوم اور اے حمید کے ناول خوب پڑھے ، پھر جب لکھنے کا وقت آیا تو اشتیاق احمد کا انداز تحریر اور تحریر کا سادہ پن پسند آیا ، پس اسی طرح لکھنے لگا۔ اُدھورا کھیل لکھنے کا ارادہ نہیں تھا لیکن ابن آس کو منع نہ کر سکا اور یوں یہ ناول صرف سات دن میں مکمل کرلیا ۔ یہ اصل میں جناب اشتیاق احمد مرحوم کے شہرہ آفاق کرداروں محمود ، فاروق ، فرزانہ اور انسپکٹر جمشید پر لکھا گیا تھا۔ اشتیاق احمد کے بہت سے ناول و خاص نمبر کمپوز کرنے اور پڑھنے کی وجہ سے ان کا انداز تحریر ذہن پر نقش تھا۔ اگرچہ اُن کے ناولوں سے دُوری کو کئی سال بیت چکے تھے لیکن بقول ابن آس میں انسپکٹر جمشید پر ناول لکھنے میں کامیاب ہوگیا۔ میری یہ حرکت کچھ لوگوں کو اچھی نہیں لگی اور بہت سوں نے بہت سراہا اور آیندہ بھی ان کرداروں پر لکھنے کا مشورہ دیا۔ میں چونکہ ان کرداروں پر لکھنے کی ذہنی طور پر آمادہ نہ تھا ، اس لیے دوسرے ناول جانی کی جھلکیاں تو لکھیں لیکن ناول نہیں لکھا۔ دوست احباب نے بہت کہا کہ بھائی جانی لکھ ڈالو لیکن دل ہی نہیں کیا۔ اصل میں ابن آس نے اس ناول کا عنوان بھی بتا دیا تھا ، وہ تھا۔۔۔ فرزانہ کا اغوا۔۔۔۔ لیکن میں نے بعد میں نام بدل دیا اور اُدھورا کھیل فائنل کیا۔ یہ ناول رائٹرز پبلی کیشنز لاہور سے ( میرا اپنا ادارہ ) شائع ہوا۔ لوگوں نے اِسے خوب سراہا لیکن اس بات کو نا پسند کیا کہ آپ نے اس کے کرداروں کے نام کیوں بدل دیے؟ خیر! انسپکٹر جمشید ناکسپٹر جنید بن گئے ، محمود کو بدل کر حمود کر دیا ، فاروق کو بالکل نہیں چھیڑا اور اُس کی حرکتوں کو ، فرزانہ کو فرحانہ کر دیا۔۔۔ باقی کردار اشتیاق احمد کی جمشید سیریز کے ہی رہنے دیے۔ اس ناول کی یہاں پہلی قسط پیش کی جا رہی ہے، مطلب پہلا باب۔۔۔۔کرداروں کا تعارف اس لیے نہیں کرا رہا کہ انسپکٹر جمشید سیریز کون بھول سکتا ہے! خیر ! اب آپ ناول پڑھیں اور میری بات بھی۔ مجھے آپ کی اچھی بُری رائے کا انتظار رہے گا۔ اس کے لیے ڈیجیٹل آرا والا سیکشن استعمال کیجیے ! شکریہ

OOO

میری بات

السلام علیکم !

برسوں پہلے جب میں بہت چھوٹا تھاتو… ارے! ارے ! پہلا ہی جملہ پڑھ کر آپ مسکرانے کیوں لگے اور کچھ بُرے بُرے منہ بنانے لگے۔ میں جانتا ہوں، آپ یہ حرکت کیوں کرنے لگے ...آپ سوچ رہے ہیں کہ برسوں پہلے تو ہر کوئی چھوٹا ہی ہوتا ہے۔ جب سبھی چھوٹے ہوتے ہیں تو مجھے یہ جملہ لکھنے کی کیا ضرورت تھی ؟ کوئی اور جملہ بھی تو لکھ جا سکتا تھا۔ آپ سچ کہہ رہے ہیں،مجھے واقعی ایسا نہیں لکھنا چاہیے تھا اب سوال یہ ہے کہ مجھے کیا لکھنا چاہیے تھا ؟ سچی کہوں تو مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ بات کہاں سے اور کس جملے سے شروع کروں ، بس جو فوری طور پر سمجھ میں آیا، وہ لکھ دیا۔ آپ کچھ محسوس نہ کریں اور مجھے بات مکمل کرنے دیں۔

ہاں توبرسوں پہلے جب میں بہت چھوٹا تھا،اتنا چھوٹا کہ پرائمری جماعت کی بڑی جماعتوں میں پڑھتا تھا، معلوم ہوا میرے ایک دوست کے ابا جان ناول لکھتے ہیں ۔ میں نے ایک دن اُس سے ناول لے کر پڑھا تو اتنا مزا آیا، اتنا مزا آیا کہ آج تک اس مزے کا مزا لے ہو رہا ہوں اور اسی مزے کا نتیجہ ہے، آپ یہ ناول پڑھنے بیٹھے ہیں۔ میں نے کوشش کی ہے کہ اِس میں وہ مزا ڈالنے کی کوشش کروں جو بابا جی کا خاصا رہا ہے۔ اگر آپ کو مزا کہیں دکھائی نہ دے تو اس میں سراسر اور سو فی صد قصور اس نکمے کا ہے۔ بابا جی کا ایک ادنیٰ سا قاری سمجھ کر معاف کر دیجیے گا ، معاف کرنا بہت اچھی بات ہے۔ اچھی باتیں اور اچھے اچھے کام تو سبھی کو کرنے چاہیے نا !!

اُدھورا کھیل کے بارے میں صاف اور کھری بات یہ کہ اِسے مجھ سے ابن آس نے زبردستی لکھوایا تھا۔ کس طرح ؟ یہ وُ ہی بتائیں تو مزا ہے....میرے لیے مزا تواِس ناول کا شائع ہونا ہے... انسپکٹر جمشید پر لکھا گیا یہ ناول انسپکٹر جنید کے نام سے آپ کے سامنے ہے۔ کچھ کرداروں کے نام بدل دیے ہیں اور کچھ بے چاروں کو ایسے ہی آپ کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ اِن سے اچھا سلوک کیجیے گا۔ وہ کہتے ہیں نا کہ جیسا کرو گے ویسا ہی بھروگے تو بھائی اِس ناول پر اچھی اچھی رائے دیجیے گا...اور اگر موڈ خراب ہوجائے تو بُری رائے بھی دے سکتے ہیں۔ رائے دینے کے معاملے میں آپ کو کھلی چھٹی ہے، جب چاہیں اور جیسی چاہیں کر سکتے ہیں...مم...مطلب ہے، دے سکتے ہیں۔

قارئین ! میںاِس ناول کو آپ کے سامنے پیش کرتے ہوئے کسی قدر گھبرا رہا ہوں اور تھوڑا شرما بھی رہا ہوں...اِس لیے کہ کہاںاشتیاق احمد اور کہاں یہ پدی... اب آپ یہ نہ کہہ اُٹھیے گا ، کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا...جی ہاں! میں خود کو پدی اور اس ناول کو پدی کا شوربا تصور کر رہا ہوں۔اِس بات سے ڈر اور گھبرا رہا ہوں، کہیں آپ نے پدی اور اِس کے شوربے کو ہضم نہ کیا تو؟اِس سے قبل کہ آپ کے ارادے خطرناک ہوں، آپ سے اجازت چاہوں گا،اِس یقین کے ساتھ کہ آپ اِس ناول کا مطالعہ کرکے رائے دیں گے۔ آپ کی آرأ کی روشنی میں انسپکٹر جنید سیریز کا آیندہ ناول لکھا جائے گا...اِس ناول کے اختتام پر آپ اُس کی جھلکیاں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ وہ صرف جھلکیاں ہیں ، ناول لکھنا ابھی باقی ہے۔ بہت شکریہ!

والسلام

عبدالرشید فاروقی

باب نمبر 1

کیسے ہو؟

''میں ایک بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں۔'' حمود نے کہا۔

''اور میں ایک سے زیادہ باتیںکہہ سکتا ہوں۔'' فاروق مسکرایا۔

''میں بے شمار باتیں دعوے سے کہہ سکتی ہوں۔'' فرحانہ ہنسی ۔

''ٹھیک ہے ،لیکن یہ جملہ تم بغیر ہنسے بھی کہہ سکتی تھی۔ بلا وجہ ہی ہنسی ضائع کر دی تم نے۔ '' فاروق نے بُرا سا منہ بنایا۔

''ہنسی میری ضائع ہوئی ہے تم نے منہ کیوں بنایا اور وہ بھی بُرا سا بلکہ بہت ہی بُرا سا۔'' فرحانہ کہتی چلی گئی۔

''کون سی بات اچھی نہیں ہے ...'' بیگم جنید نے بے خیالی میں پوچھا۔

''منہ بنانا... '' وہ مسکرائی۔

''دھت تیرے کی...'' اُنھوںنے فاروق سے بھی زیادہ بُرا منہ بنایا تھا۔

''امی جان! یہ جملہ تو میرا ہے...آپ نے کیوں بول دیا؟'' حمود اُن کی طرف پلٹا۔

''اِس جملے پر کہیں نہیں لکھا،یہ حمود کا جملہ ہے... اِسے کوئی دوسرا نہیں بول سکتا ہے۔'' اُنھوں نے جواب دیا۔

''واہ... امی جان واہ... اِسے کہتے ہیں ... تڑ سے جواب دینا ۔'' فاروق مسکرایا۔

''جی نہیں... اِسے تڑ سے جواب دینا نہیں کہتے ... منہ توڑ جواب دینا کہتے ہیں... تم اِتنا بھی نہیں جانتے ... حد ہوگئی ...'' فرحانہ نے جلدی سے کہا تو بیگم جنید مسکرانے لگیں۔

''میں ایک بات دعوے سے کہہ سکتا ہوںاور میں مذاق نہیں کر رہا ... بے حد سنجیدہ ہوں۔'' حمود نے قدرے زور سے کہا۔

'' میں نے کہا تھا، میں ایک سے زیادہ باتیں کہہ سکتا ہوں اور میں بھی سنجیدہ ہوں۔''

''میں بے شمار باتیں دعوے سے کہہ سکتی ہوں۔ ایسا میں نے کہا تھا... میں بھی حد درجے سنجیدہ ہوں۔'' فرحانہ بولی۔

''تم تینوں سنجیدہ ہوتو یہاں غیر سنجیدہ کون ہے؟'' بیگم جنید نے بُرا سا منہ بنایا۔

''آپ... امی جان! '' حمود مسکرایا۔

''میں ... وہ کیسے؟'' اُنھوں نے آنکھیں نکالیں۔

''مجھے بھوک لگی ہے اور آپ دسترخوان پر کھانا لگا ہی نہیں رہیں... اِس معاملے میں آج آپ غیر سنجیدہ ہیں ... یہ میرا دعویٰ ہے۔'' حمود نے منہ بنایا۔

''اِسے کہتے ہیں، کھودا پہاڑ نکلا چوہا... '' فاروق نے حمود سے بھی زیادہ بُرا منہ بناتے ہوئے کہا۔

'' تمھارا دعویٰ ٹھیک ہے... میں کھانا لگانے میں واقعی سنجیدہ نہیں ہوں۔'' وہ مسکرائیں۔

''اورآپ سنجیدہ کیوں نہیں ہیں... ؟''

'' اِس لیے کہ میں پریشان ہوں۔''اچانک وہ پریشانی دکھائی دینے لگیں۔

''اوہ ...اورآپ پریشان کیوں ہیں؟'' فرحانہ چونکی۔ فاروق بھی اُن کی طرف دیکھنے لگا۔

''تمھارے ابا جان ابھی تک گھر نہیں آئے... جبکہ اُنھیں پانچ منٹ پہلے گھنٹی بجا دینی چاہیے تھی۔''

تینوں نے اپنی کلائیوں پر دیکھا... اور پھر دھک سے رہ گئے۔

''اوہ...ارے... واقعی...''وہ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ پھر اُنھوں نے بے اختیار دروازے کی طرف دوڑ لگا دی۔ حمود نے کنڈی کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھاکہ گھنٹی بج اُٹھی... اُنھوںنے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا... کیوں کہ گھنٹی بجانے کا انداز انسپکٹر جنید کا نہیں تھا...

''مم... مم... مجھے خطرے کی بو آ رہی ہے... '' فاروق نے دبی آواز میں گویا اعلان کر دیا۔

''مم... مم... مجھے بھی خطرے کی بو آ رہی ہے۔'' حمود کانپ گیا۔

''لل...لل...لیکن تم میری نقل کیوں اُتار رہے ہو... '' فاروق نے اُس کی طرف دیکھا۔

''حمود ! کسی کی نقل نہیں اُتارنی چاہیے۔''فرحانہ مسکرائی۔

''میں اس کی نقل اُتار نہیں بلکہ چڑھا رہا تھا۔ '' حمود نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''گھنٹی بج چکی ہے اور تم ادھر ادھر کی ہانک رہے ہو...ہے کوئی تک۔'' بیگم جنید کی جھنجھلائی ہوئی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی تو حمود کا رُکا ہاتھ کنڈی کی طرف بڑھا ہی تھا کہ فرحانہ بول اُٹھی:

''فاروق کی بات ٹھیک ہے...میں بھی خطرہ محسوس کر رہی ہوں... ''

''تو اب کیا کریں پھر... ؟''

اُسی وقت گھنٹی ایک بار پھر بج اُٹھی۔ وہ کانپ کر رہ گئے۔

''یہ تو طے ہے... گھنٹی بجانے کا انداز ابا جان کا نہیں ہے...''

''اس کا مطلب ہے...دروازے کی اُس طرف وہ نہیں،کوئی اور ہے۔''

''وہ کوئی اور ہمارا دشمن بھی ہو سکتا ہے... '' حمود نے کہا ۔ پھر چونک کر بولا:

''میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی ہے۔''

''لیکن یہ کام تمھارا نہیں ... فرحانہ کا ہے۔''

''کون سا کام...؟''

''ترکیب بتانے والا...'' فاروق مسکرایا۔

''حد ہوگئی ...'' فرحانہ نے منہ بنایا۔

''تم نے ٹھیک سوچا...جائو ... ''

حمود نے کھا جانے والی نظروں سے فاروق کو گھورا اور زینے کی طرف بھاگ اُٹھا۔

اُسی وقت گھنٹی ایک بار پھر بج اُٹھی۔ اِس بار گھنٹی بجانے کا انداز پہلے سے مختلف تھا۔

''اوہ...گھنٹی بجانے کایہ انداز پہلے سے مختلف ہے۔'' فرحانہ بولی۔

''ہاں...اس کا مطلب پھر یہ ہوا...باہر ایک نہیں...دو آدمی ہیں۔ ارے باپ رے...مارے گئے پھرتو...'' فاروق کانپ کر رہ گیا۔

''فاروق! کبھی سنجیدہ بھی ہو جایا کرو...'' فرحانہ نے اُسے گھورا۔

''مشکل ہے...''

''کیا مشکل ہے...''

''سنجیدہ ہونا...اور کیا۔''فاروق مسکرایا۔

''تم اب پھر ایک بات بھول رہے ہو۔'' بیگم جنید اُن کے پاس چلی آئی تھیں۔

''آج کہیں بھولنے کا دن تو نہیں ہے امی جان...؟''

''مجھے کیا پتا...ہے کہ نہیں۔'' وہ مسکرائیں۔

''اوہ...میں سمجھ گئی...'' فرحانہ چونکی۔ پھر کلائی پر موجود موبائل گھڑی سے انسپکٹر جنید کے نمبر ملانے لگی۔ جلدجیسی جدید گھڑیاں پروفیسر دائود نے اُنھیں تحفہ دی تھیں۔ گھڑی پہلی نظر میں، نظر ہی نہیں آتی تھی۔ اُسے دیکھنے کے لیے کلائی کو بغور دیکھنا پڑتا تھا۔ موبائل گھڑیوں سے اُن کے بہت سے مسائل فوری حل ہوگئے تھے۔

پھر اِس سے پہلے کہ انسپکٹر جنید کال اُٹھاتے...موبائل گھڑی سے ہلکی سی ٹوںٹوں کی آواز آنے لگی۔ یہ بہت مدہم آواز تھی۔ توجہ کرنے سے اُسے سنا جا سکتا تھا۔ فرحانہ نے گھڑی پر ہاتھ پھیرا تو حمود کی آواز سنائی دینے لگی۔ وہ بہت آہستہ بات کر رہا تھا:

''فرحانہ! دروازہ کھول دو...باہر ابا جان ہی ہیں...لیکن ان کے ساتھ ایک آدمی بھی ہے۔ بالکل سیاہ رنگ ہے اُس کا۔''

''کک...کک...کیا کہہ رہے ہو تم...باہر ابا جان ہیں،تم کہاں ہو؟''

''میں بیگم شیرازی کی چھت پر ہوں ...یہاں سے سب صاف دکھائی دے رہا ہے...وہ ابا جان ہی ہیں۔''

''لل...لل...لیکن گھنٹی بجانے کا انداز تو ان کا نہیں تھا...اور ہاں! اب تک دو مختلف انداز میں گھنٹی بجائی گئی ہے... میں بہت الجھن محسوس کر رہی ہوں۔'' فرحانہ نے کہا۔

''تم نیچے کیوں نہیں جا رہے...اچھی طرح تسلی کرکے بتائو... یہ نہ ہو کسی مصیبت میں پھنس جائیں۔تم جانتے ہو، مصیبت میں کوئی کام نہیں آتا ہے۔'' فاروق کہتا چلا گیا۔ فرحانہ اور بیگم جنید نے اُسے بُری طرح گھورا...جیسے کہہ رہی ہوں...تم نے آخری جملہ فضول بولا ہے۔

''میں نیچے گلی میں نہیں جا سکتا...'' اُس کے لہجے میں بے بسی تھی۔

''کیوں...کیا بیگم شیرازی کے گھر میں زینہ نہیں ہے...''

''زینہ تو ہے...''

''تو پھر...''

''زینے کے دروازے کو دوسری طرف سے شاید تالا لگا دیا گیا۔''

''اوہ...لیکن کیوں...تالا کیوں لگاہے...تالے تو رات کو لگائے جاتے ہیں اور ابھی رات کا دور دور تک کوئی نشان نہیں ہے...'' فاروق کہتا چلا گیا۔

وہ حیران تھے... وہ اپنی چھت سے کئی بار بیگم شیرازی کی چھت سے ہوتے ہوئے باہر گلی میں گئے تھے۔

''اس لیے کہ وہ گھر میں موجود نہیں ہیں...شاید اپنے کسی رشتے دار کے ہاں گئی ہوئی ہیں... ہم جانتے ہیں... وہ اکثر جاتی رہتی ہیں۔'' حمود کی آواز آئی۔ اسی وقت گھنٹی پھر بجائی گئی اور ساتھ ہی زور زور سے دروازہ بجایا جانے لگا۔ وہ دھک سے رہ گئے۔ کیسی بھی مجبوری ہوتی... اُن کے ابا جان ایسے دروازہ نہیں بجاتے تھے اور پھر ایک خیال آنے پر وہ کانپ اُٹھے:

''اِس...اِس کا مطلب ہے... باہر ابا جان کے میک اپ میں کوئی دشمن ہے۔''

''اوہ...اوہ...'' بیگم جنید کے منہ سے نکلا۔

''اب...اب ...ہم کیا کریں امی جان؟'' فرحانہ اُن کی طرف گھومی۔

''تم سن رہے ہو حمود...'' بیگم جنید نے کہا۔

''ہاںمیں سب سن رہاہوں... اور دیکھ بھی رہا ہوں...'' اُس کی لرزتی ہوئی آوازسنائی دی۔

''تم سن سکتے ہو،دیکھ نہیں سکتے... اس لیے کہ یہ ویڈیو کال نہیں ہے۔''

''تم غلط سمجھیں... میں تمھاری بات نہیں کر رہا ہوں...باہروالوں کی بات کر رہا ہوں۔''

''باہروالوں کی بات..ارے...یہ..یہ تو...''فاروق نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہنا چاہا۔

''فاروق! اب یہ نہ کہہ دینا...یہ تو کسی ناول کا نام ہو سکتا ہے۔ صورت حال اچھی نہیں ہے... '' فرحانہ نے کہا تو فاروق نے جلدی سے ہونٹ بھینچ لیے۔

''حمود ! تم باہر کیا دیکھ رہے ہو...جلدی سے بتائو۔''

''اوہ... ارے باپ رے...'' اس کی آواز کانپ رہی تھی۔

''کچھ بھی کہنے سے پہلے سن لو...تم فاروق نہیں، حمود ہو... اس لیے ، اس کے جملے نہ چرائو...یہ تو تم جانتے ہی ہوگے...چوری کرنا اچھی بات نہیں ہے اور...''

''فاروق! تم تھوڑی دیر چپ نہیں رہ سکتے ..'' بیگم جنید نے غصے سے کہا۔

''جی رہ سکتا ہوں... یہ لیجیے، میں چپ ہوگیا...اور کوئی حکم ...'' اس نے جلدی سے کہا۔

''پاگل آدمی...یہ تم چپ ہوئے ہو... چپ ہونا اِسے کہتے ہیں...'' فرحانہ نے منہ بنایا۔

''تو کسے کہتے ہیں پھر...آج بتا ہی دو میری اچھی بہن...''

''فاروق...'' بیگم جنید غصے سے بولیں۔

''جی امی جان...میں حاضرہوں... حکم کیجئے...''

''اب بالکل نہیں بولنا...باہر کوئی دشمن ہے اور تمھارے ابا جان نہ جانے کہاں ہوں گے۔''

'' ہاں حمود...تم باہر کیا دیکھ رہے ہو...''

''یہ کہ اباجان... ابا جان نہیں رہے...''

''ابا جان نہیں رہے...کیا مطلب...!!''

''مطلب یہ کہ اباجان کے میک اپ میں کوئی اور تھا۔'' حمود نے کہا۔

''یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو...''

دروازے کو اب اور زور زور سے بجا یا جا رہا تھا۔

''اس لیے کہ اُس نے اپنا میک اپ اُتار دیا ہے۔وہ ایک جھلی سی تھی۔ جانتے ہو... جھلی کے نیچے سے کیا نکلا...ایک سیاہ چہرہ...مم...مم...مجھے تو ڈر لگ رہا ہے ... فرحانہ...''

''شوق سے ڈرولیکن بھائی ...ہمیں تو نہ ڈرائو...'' فاروق نے کہا اور پھر جلدی سے ہونٹ بھینچ لیے تھے۔

''فرحانہ ...اپنے ابا جان کا نمبر ملائو...میرا دل بیٹھا جا رہا ہے... اللہ اپنا رحم فرمائے...''

وہ انسپکٹر جنید کا نمبر ملانے لگی۔ اُسی وقت غصے سے بھری ایک خوف ناک آواز اُن کے کانوں سے ٹکرائی:

''تمھارے اندر شرافت ہے تو جلدی سے دروازہ کھول دو... ورنہ...''

''اندر شرافت نہیں ہے... ورنہ وہ ضرور دروازہ کھول دیتا...اور چوں کہ وہ اندر نہیں ہے... اس لیے دروازہ نہیں کھلے گا... آپ شرافت سے جہاں سے آئے ہیں..وہیں چلے جائیں تو مہربانی ہوگی۔''فاروق نے اُونچی آواز سے کہا تو باہر خاموشی چھاگئی۔

''تمھارے ابا جان کا نمبر ملا...'' بیگم جنید نے سرگوشی کی۔

''اُن کا نمبر نہیں مل رہا... نہ صرف ان کا بلکہ انکل اکرام کا بھی نمبر نہیں مل رہا ہے... '' فرحانہ نے کہا۔

''اوہ...اوہ...''

وہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ جیسے کہہ رہے ہوں... اب کیا کریں۔ باہر مسلسل خاموشی تھی۔ جیسے انھیں سانپ سونگھ گیا ہو...

''فرحانہ! تم کچھ بھول رہی ہو...'' فاروق مسکرایا۔

''میں کچھ بھول رہی ہوں...'' وہ بڑبڑائی ...پھر چونک اُٹھی:

''تم نے ٹھیک کہا...''

''تو پھر سوچو کوئی زبردست ترکیب ....ایسی ترکیب کہ مزا آجائے۔'' فاروق مسکرایا۔

'' مزا آجائے... کسے مزا آجائے ...''

''باہر والوں کو...ہمیں مزے کا کیا کرنا ہے... ارے...!'' وہ کہتے کہتے اُچھل پڑا۔

''لگتا ہے... تم نے فرحانہ سے پہلے ترکیب سوچ لی ہے...''

''ترکیب..نہیںتو... میں نے کوئی ترکیب نہیں سوچی ... ترکیبیں سوچنا میرا نہیں... فرحانہ کا کام ہے اور یہ سوچ ہی رہی ہے...''فاروق جلدی جلدی کہتا چلا گیا۔

''تو پھر تم اچھلے کیوں...؟'' بیگم جنید نے منہ بنایا۔

''مزے سے مجھے کھانا یاد آگیا ...کھانا یاد آجائے تو بھوک چمک اُٹھتی ہے ...بھوک چمک اُٹھے تو کھانا کھا لینا چاہیے، کیا خیال ہے... پہلے کھانا کھا لیں... باہر والوں سے بعد میں نمٹ لیں گے، کیوں باہر والو!تمھیں کوئی اعتراض تو نہیں۔''

''ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، اعتراض اس وقت ہوگا... جب تم ہمارے بغیر کھانا کھائو گے...'' باہر سے ہنس کر کہا گیا۔

''کک...کیا مطلب...!!'' فاروق نے حیرت سے کہا۔

''مطلب یہ کہ ہم بھی کھانا ، کھانا چاہتے ہیں۔ کیوں نہ آج مل کر کھائیں ۔ سنا ہے،مل کر کھانے سے کھانے میں برکت ہوجاتی ہے ... اور فاروق تم جانتے ہو... برکت اچھی چیز ہے... جہاں چلی جائے... رنگ لگ جاتے ہیں... اب رنگ لگنے کا مطلب تو تم جانتے ہی ہوگے... ہے نا...'' باہر سے کہا گیا۔ فاروق... فرحانہ اور بیگم جنید دنگ رہ گئے... بات کرنے کا انداز بالکل فاروق جیسا تھا۔ فاروق حیرت سے اپنا آپ ٹٹول رہا تھا۔

''فاروق بھائی! تم خاموش کیوں ہوگئے... جواب کیوں نہیں دے رہے ہو... اور تم اس وقت کر کیا رہے ہو...''

''مم...مم... یعنی کہ میں...''

''ہاں...آں...تت...تت...تم... مم...مم... میں تم سے ہی پوچھ رہا ہوں، فرحانہ سے نہیں... حمود سے پوچھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا...''ہنس کر کہا گیا۔

''کک...کیوں،اس سے پوچھنے کا سوال کیوں نہیں پیدا ہوتا۔'' فاروق نے حیرت سے پوچھا۔

''اس لیے کہ وہ تمھارے پاس نہیں ہے... ''

''اوہ...تت...تت...تو کہاں ہے وہ...''

''بیگم شیرازی کی چھت سے ہمیں دیکھ رہا ہے...''

''اوہ...اوہ...'' تینوں کے منہ سے ایک ساتھ نکلا۔

باہر اب مکمل خاموشی چھا گئی تھی۔ جیسے وہاں کوئی نہ ہو۔

''باہر والو! کیا تم چلے گئے؟''فاروق نے کہا لیکن کوئی جواب نہ آیا۔

وہ حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے... باہر جو بھی لوگ تھے... وہ ان کے بارے میں سب جانتے ہیں...یہ سوچ کر ہی ان کے دل بیٹھنے لگے... اسی وقت گھر کے اندر کسی کے بھاگنے کی آواز اُن کے کانوں سے ٹکرائی...اُنھوں نے گھوم کر دیکھا تو دھک سے رہ گئے... اُن کے اُوپر کے سانس اُوپر اور نیچے کے نیچے رہ گئے...ساتھ ہی ایک آواز سنائی دی:

'' کیسے ہودوستو...''

( اس ناول کی اگلی قسط کل شائع ہوگی )

OO

عبدالرشید فاروقی

لکھاری

عبدالرشید فاروقی

آپ بچوں کے ادب سے سال اُنیس سو تراسی سے منسلک ہیں۔ بے شمار کہانیاں لکھ چکے ہیں۔ تین جاسوسی ناولز ، چار کہانیوں کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ قسط وار ناول اِن کے علاوہ ہیں۔ ادب اطفال میں اُستاد جی کے نام