حسن اتفاق دیکھیں کہ جنگل کے دو درخت جو آمنے سامنے تھے ان پر دو بڑے سے شہد کی مکھیوں کے چھتے لگے ہوئے تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں شہد کی مکھیاں دن میں مختلف اقسام کے پھولوں سے رس چوس کر اکٹھا کرتیں اور واپس اپنے اپنے چھتے میں آکر چھوڑ دیتیں۔ اور پھر باقی مزدور مکھیاں اس رس کو دن رات ایک کرکے شہد بنانے میں مصروف رہتیں۔ ان سب کو یہ ذمہ داری ان کی ملکہ "رانی" نے سونپ رکھی تھی۔ ملکہ رانی ایک خوبصورت اور چمکدار مکھی تھی، جو سب کو کام کے ساتھ انصاف اور محنت کا درس دیتی تھی۔ ملکہ رانی کا چھتہ جنگل کے سب سے بہترین شہد کے لیے مشہور تھا۔ لیکن اس کے برعکس تھوڑی دور دوسرے گھنے درخت پر ایک اور چھتہ بھی تھا۔ جو ملکہ زارا نامی مکھی کے زیر حکومت تھا۔ دونوں چھتوں میں ہمیشہ سے رقابت تھی کہ کون سب سے زیادہ شہد اکٹھا کرتا ہے اور کس کا چھتہ مضبوط اور منظم ہے۔
ایک دن ملکہ زارا کی چند مکھیاں اڑتی ہوئی ملکہ رانی کے چھتے کے قریب آئیں اور طنزیہ انداز میں بولیں۔
"ہم نے سنا ہے کہ تمہارے پاس اس بار کم شہد ہے۔۔۔کہیں ایسا تو نہیں کہ تم سب مکھیاں کمزور پڑ گئی ہو۔ اور تمہاری ملکہ بوڑھی ہو گئی ہے۔۔۔؟"
"اس جنگل میں ہم سب سے زیادہ محنتی کوئی اور ہے ہی نہیں، اور ہمارا چھتہ کبھی کمزور نہیں ہوگا۔۔۔!" ملکہ رانی کی محافظ مکھیوں نے فخر سے جواب دیا۔
"اچھا۔۔۔پھر کیوں نہ ہم ایک مقابلہ کریں۔۔۔؟ اگلے چاند تک دیکھتے ہیں کہ کون زیادہ شہد اکٹھا کرتا ہے۔ جو ہارے گا، وہ جیتنے والوں کے لیے اپنی تمام مزدور مکھیاں کام کیلئے بھیجے گا۔۔۔ یہ ہماری ملکہ زارا کا تمہارے لیے چیلنج ہے۔۔۔!"ملکہ زارا کی پیغامچی مکھیوں نے مقابلے کی دعوت دی اور واپس اڑ گئیں۔
یہ سارا ماجرہ فوراً ملکہ رانی کے گوش گزار کیا گیا۔ یہ سن کر چھتے میں ہلچل مچ گئی۔ سب مکھیاں جوش میں آ گئیں۔ ملکہ رانی نے سب کو جمع کیا۔
"یہ وقت ہے ثابت کرنے کا کہ ہم سب سے زیادہ محنتی اور طاقتور ہیں! سب مزدور مکھیاں فوراً کام پر لگ جاؤ۔ تم سب جو روزانہ ایک سو گرام شہد بناتی ہو اب مزید محنت کرکے دیڑھ سو گرام روزانہ کی بنیاد پہ شہد بناؤ گی۔ !" ملکہ رانی نے حکم صادر کیا۔ اور سب کو مختلف ذمہ داریاں سونپ دیں۔
ملکہ رانی کے چھتے میں ایک ببلی نامی مکھی بھی تھی۔ جو کہ سب سے محنتی مکھی تھی، سب سے پہلے کام پر لگی۔ وہ صبح سویرے نکلتی۔ سیب اور بادام کے درختوں سے رس چوسنا نہایت مشقت آمیز کام تھا جو کہ ببلی بخوبی کرتی تھی۔ اور سب سے زیادہ رس اکٹھا کرنے کی کوشش بھی کرتی۔ جبکہ اس کے بر عکس زوم نامی ایک مکھی تھی۔ جو چالاک مگر کاہل تھی۔ زوم نے سوچا کہ اگر وہ چالاکی سے زیادہ شہد حاصل کر لے تو ملکہ رانی کی آنکھوں کا تارا بن جائے گی۔
رات کے اندھیرے میں زوم نے دوسری مکھیوں کے خانوں میں گھس کر ان کا شہد چوری کرنا شروع کر دیا۔ کچھ دنوں میں اس کے حصے میں سب سے زیادہ شہد جمع ہو چکا تھا۔
ادھر ملکہ زارا کی مکھیاں بھی کسی موقع کی تلاش میں تھیں۔ وہ چھپ کر ملکہ رانی کے چھتے کی نگرانی کر رہی تھیں اور جب موقع ملتا تب کچھ شہد چرانے کی کوشش کرتیں۔
ایک دن ببلی نے زوم کو شہد چوری کرتے ہوئے دیکھ لیا۔
"زوم! تم یہ کیا کر رہی ہو۔۔۔؟ یہ تو دھوکہ ہے!" ببلی نے غصے سے کہا۔
"کامیابی حاصل کرنے کے لیے چالاکی اور دھوکہ دہی کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔!" زوم نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ ببلی کو غصہ آیا۔ مگر اس نے سوچا کہ یہ معاملہ ملکہ کے سامنے ہی رکھنا بہتر ہوگا۔
ملکہ زارا کی جانب سے دیا گیا اختتامی وقت اب قریب آچکا تھا۔ دونوں چھتوں کی مکھیوں نے ڈھیر سارا شہد اکٹھا بھی کر لیا تھا۔ ملکہ رانی کی مکھیوں نے نہایت ایمانداری سے اپنی ذمہ داری انجام دی سوائے زوم مکھی کے۔ جبکہ ملکہ زارا کی مکھیوں نے زیادہ تر وقت بے ایمانی کر کے شہد اکٹھا کرنے میں گزارا۔ لیکن پھر بھی وہ ملکہ رانی کے چھتے سے زیادہ شہد نہ بنا سکی تھیں۔
ایک رات زارا کی مکھیاں خاموش نہ رہ سکیں۔ وہ چپکے سے آئیں اور رانی کے چھتے پر حملہ کر دیا!
"ہمیں تمہارا سارا شہد چاہیے۔۔۔!" ملکہ زارا کی سپاہی مکھیاں حملہ کرتے ہوئے چلائیں۔ ملکہ رانی کی فوجی مکھیاں بھی تیار ہو گئیں۔ ہوا میں گھن گرج ہونے لگی۔ جیسے کوئی بڑا طوفان آ گیا ہو۔ دونوں چھتوں کی مکھیاں آپس میں بھڑ گئیں۔ ببلی بہادری سے لڑ رہی تھی۔ مگر اچانک اس نے دیکھا کہ زوم پیچھے ہٹ کر چھپ رہی ہے!
"زوم! تم کیوں نہیں لڑ رہی ہو؟" ببلی نے چیخ کر کہا۔
"یہ میرا کام نہیں۔۔۔میں خطرے میں نہیں پڑ سکتی۔ !" زوم نے بہانے بناتے ہوئے بزدلی سے کہا۔
اسی وقت چھتے کی نگرانی پہ معمور گروس مکھی نے آکر ملکہ رانی کو زوم کی بزدلی اور چوری کا راز بتا دیا۔ ملکہ رانی نے سخت غصے میں آکر اعلان کیا۔
"دھوکہ دینے والوں کی ہمارے چھتے میں کوئی جگہ نہیں! یہ جنگ ختم ہو تو اسے دیکھ لیا جائے گا" دوسری طرف ببلی اور باقی سپاہی مکھیاں بہادری سے لڑیں اور آخرکار زارا کی مکھیاں پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئیں۔ ملکہ زارا کی مکھیاں اپنی ہار تسلیم کر چکی تھیں۔ لیکن اب بھی ان میں رقابت باقی تھی۔
ملکہ رانی کے اپنے چھتے میں تمام محافظ اور مزدور مکھیوں کو اکٹھا ہونے کیلئے کہا۔ چند ہی لمحوں میں وہ سب ایک ساتھ تھے۔
"کامیابی مبارک ہو تم سب کو۔۔۔یہ سب تمہاری نیک نیتی اور بہادری کا صلہ ہے۔ اس جیت کی خوشی میں تم سب کو ایک دن کی چھٹی دی جاتی ہے۔" ملکہ زارا نے اعلان کیا تو سب میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
"لیکن۔۔۔ لیکن ایک بات مجھے معلوم پڑی ہے کہ زوم مکھی نے اس جنگ اور مقابلے میں نہایت بزدلی دکھائی اور اس سے بڑھ کر نہایت بری بات کہ دھوکے سے شہد چرایا اور اپنے حصے کے خانے میں جمع کر لیا۔" ملکہ رانی کا انداز نہایت غضبناک تھا۔ "میں زوم کو اس غلطی کی بناء پر اپنے چھتے سے نکلنے کا حکم دیتی ہوں۔ محافظ مکھیو۔۔۔ جلد از جلد زوم کو میرے چھتے سے نکال باہر پھینکو۔۔۔ اور پھر کبھی اسے داخل نہ ہونے دینا۔" ملکہ رانی کا حکم ہوا اور چند محافظ مکھیوں نے زوم کو اٹھا کر چھتے سےباہر پھینک دیا۔
ملکہ زارا اپنی شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھی۔ جب اس کی مکھیاں واپس آئیں تو ملکہ زارا اپنی محافظ و سپاہی مکھیوں پہ بھڑک پڑی۔
"تم سب نے شکست تسلیم کر کے میرا غرور خاک میں ملا دیا ہے۔ میں اتنی جلدی ہار ماننے والی نہیں ہوں۔ تم سب جلد از جلد واپس جاؤ اور ملکہ رانی کو شکست دے کر اس کے چھتے کا سارا شہد لے کر آؤ۔" ملکہ زارا نے تلخی سے کہا۔ اس کے چھتے کی تمام مکھیاں حملہ کرنے کیلئے ابھی پر تول ہی رہی تھیں کہ انہیں کچھ دھواں سا دکھائی دیا۔ وہ سب گھبراگئیں۔ لمحہ بہ لمحہ دھواں بڑھتا گیا اور دھویں کی شدت کی وجہ سے ان سب کا سانس بند ہونے لگا۔ ملکہ زارا اس اچانک آفت سے گھبرا گئی اور جلدی سے چھتے سے باہر نکلی تو دیکھا کہ چند انسان درخت پر چڑھے ہوئے ہیں، انہوں نے ہاتھوں میں لاٹھیاں پکڑی ہوئی ہیں اس میں سے دھواں نکل رہا ہے۔ ملکہ زارا کو یہ سمجھنے میں قطعاً دیر نہ لگی کہ وہ شکار کرنے جارہے تھے لیکن خود شکار ہوگئے۔ اس کے ذہن میں آخری خیال یہ آیا کہ بس اب اس کے چھتے کا سارا شہد انسانوں کے ہتھے چڑھ گیاہے۔ دوسری مکھیوں کی طرح وہ بھی بے ہوش ہو کر زمین پر گرنے لگی تھی۔
*
ملکہ رانی اپنے چھتے سے ملکہ زارا کے چھتے کا انسانوں کے ہاتھوں ہوتا سلوک دیکھ رہی تھی۔
"ببلی۔۔۔ کیا کرنا چاہیے اب۔۔۔؟" پاس کھڑی ببلی سے ملکہ نے پوچھا۔
"ملکہ عالیہ۔۔۔ ملکہ زارا نے ہمارے ساتھ بہت برا کیا ہے۔ ان کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ اسی سلوک کی حق دار ہیں۔" ببلی نے کہا۔ لیکن ملکہ رانی کسی گہری سوچ میں تھی۔ اچانک اس نے دیکھا کہ ملکہ زارا بے ہوش ہو کر نیچے گرنے والی ہے۔
"تم ایسا کرو جلد از جلد ملکہ زارا کو اٹھا لاؤ، وہ بے ہوش ہونے والی ہے۔" ملکہ رانی نے کہا۔ ببلی اور تین چار مکھیاں تیزی سے اڑتی ہوئی گرتی ہوئی ملکہ زارا کی طرف اڑ گئیں۔ اور اسے زمین پر گرنے سے پہلے ہی دبوچ لیا۔
ملکہ زارا کی جب آنکھ کھلی تو اس نے خود کو محفوظ جگہ پر پایا۔ اس کے آس پاس کئی محافظ مکھیاں منڈلا رہی تھیں۔
"میں۔۔۔ کہاں ہوں۔۔۔؟" اس نے پوچھا۔
"ملکہ رانی کے چھتے میں۔۔۔" ببلی نے کہا۔ ملکہ زارا کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ اسی لمحے ملکہ رانی بھی پاس پہنچ گئی۔
"اب کیسا محسوس ہو رہا ہے ملکہ زارا۔۔۔؟ "
"بہت بہتر۔۔۔ لیکن میں تو تمہاری دشمن ہوں۔۔۔ تم نے مجھے کیوں بچایا۔۔۔؟ اور میرے چھتےکا کیا ہوا۔۔۔؟ کیا انسان اسے لے گئے۔۔۔؟" زارا نے سوال پوچھے۔
"تمہار چھتے کا تو نام و نشان مٹ چکا ہے۔۔۔ انسانوں نے اب تک شہد کو بوتلوں میں بھر بھی لیا ہوگا۔ اور رہی بات دشمنی کی تو۔۔۔ یہی فرق ہے میرے اور تمہارے بیچ میں۔ " ملکہ رانی نے کہا تو ملکہ زارا کو ندامت محسوس ہوئی۔
"واقعی۔۔۔ تمہارے حسد میں میں اتنی حد تک آگے بڑھ گئی تھی کہ مجھے کسی قسم کی ہمدردی کا احساس تک نہ رہا اور اےنی غافل ہو گئی تھی کہ انسانوں کے حملے کا بھی علم نہ ہوا۔۔۔ میں شرمندہ ہوں۔ مجھے معاف کردو ملکہ رانی۔" ملکہ زارا نے کہا۔ وہ واقعی شرمندہ تھی
"جاؤ۔۔۔ معاف کیا۔۔۔ !" ملکہ رانی نے کہا۔
"لیکن اب نہ تو میرے پاس کوئ چھتہ ہےاور نہ ہی میرے پاس میری ماتحت مکھیاں۔۔۔ میں کیا کروں گی؟ " ملکہ زارا نے افسردگی سے کہا۔
"تم۔۔۔ میری ماتحت بن کر کام کرنا چاہو تو کر سکتی ہو۔۔۔ بولو۔۔۔ منظور ہے؟ ملکہ رانی نے اسے پیشکش کی۔
" منظور ہے ملکہ عالیہ۔۔۔۔ !" ملکہ زارا نے کہا۔ اور پاس کھڑی تمام مکھیاں ہنس دیں۔ اس کی آنکھوں میں شرمندگی تھی۔
"میں نے ہمیشہ خود کو سب سے زیادہ چالاک سمجھا۔ لیکن درحقیقت میں سب سے بڑی بے وقوف تھی۔" وہ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
"دانائی اسی میں ہے کہ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر ایک نیا راستہ اختیار کیا جائے۔ تمہارا چھتہ ختم ہو چکا۔ لیکن تم اب بھی اپنی محنت سے ایک نئی زندگی بنا سکتی ہو۔" ملکہ رانی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"میں وعدہ کرتی ہوں کہ آئندہ صرف ایمانداری سے کام کروں گی۔" زارا نے سر جھکا کر کہا۔
"یہی تو ہماری کامیابی کا راز ہے۔۔۔ ایمانداری، محنت اور رحم دلی!" ببلی نے خوشی سے کہا۔
