🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
رنکو کی شرارت
نرسری (۳-۵ سال)جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

رنکو کی شرارت

رضوان بھٹی
31 اکتوبر، 2026۲ مرتبہ پڑھی گئی

رنکو کی شرارت سنیں

بہار کا موسم تھا اور سوندھی سوندھی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ سبز گھاس پر شبنم کے قطرے چمک رہے تھے، اور درختوں کی شاخوں پر چڑیاں چہچہاہٹ میں مصروف تھیں۔ ایک چھوٹے سے سرسبز علاقے میں رنکو نامی ایک شرارتی خرگوش اپنی ماں اور تین بہن بھائیوں کے ساتھ رہتا تھا۔ رنکو کا سب سے اچھا دوست جیمو تھا۔ جو ہمیشہ اس کی حرکتوں میں ساتھ دیتا تھا۔

“رنکو۔۔۔! میں بازار جا رہی ہوں۔ جب تک میں واپس نہ آؤں تم گھر پر رہنا۔ اور سب کا خیال رکھنا۔ اور اگر باہر جاؤ بھی تو چاچا طالب کے کھیتوں میں مت جانا، وہاں بہت خطرہ ہے۔" رنکو کی ماں نے کہا تو رنکو نے فوراً سر ہلا کر بظاہر ماں کی بات مان لی۔ ماں کے گھر سے نکلتے ہی رنکو نے جیمو کو آنکھ ماری اور مسکرایا۔ جیسے کہ وہ کچھ نیا کرنے والا ہو۔ کچھ ہی دیر بعد رنکو نے جیمو کو کہنی ماری۔

“سنو۔۔۔گھر پر بیٹھ کر کیا کرنا؟ چلو چاچا طالب کے کھیتوں میں چلتے ہیں۔ وہاں بہت مزیدار گاجریں اور بند گوبھی ہیں۔”

“لیکن تمہاری امی نے منع کیا تھا، اگر پکڑے گئے تو۔۔۔؟” جیمو تھوڑا ہچکچایا تو رنکو نے قہقہہ لگایا۔ “ارے چوہا دل خرگوش۔۔۔! زندگی میں کچھ مزہ بھی ہونا چاہیے۔ کبھی کبھی خطرات مول لینے چاہیں۔ آؤ۔۔۔میں تمہیں بہادری سکھاتا ہوں۔” رنکو نے شرارت سے کہا۔ اور اپنے بہن بھائیوں کو آپس میں کھیلتا دیکھ کر چپکے سے باہر نکل گیا۔

دونوں دوست کھیت کی طرف روانہ ہو گئے۔ جیسے ہی وہ چاچا طالب کے کھیت کے قریب پہنچے تو چند پندوں (چڑیا جیسے عقل مند پرندے) جو ایک درخت پر بیٹھے تھے نے انہیں یوں چوری چھپے جاتا دیکھ لیا اوران پر طنز کرنا شروع کر دیا۔ ایک پندہ چونچ مارتے ہوئے بولا:

“واہ۔۔۔! یہ دیکھو! چھوٹے بہادر خرگوش۔۔۔! جو اپنی ماں کی نافرمانی کر کے ہیرو بننا چاہتے ہیں۔”

“بس پکڑے جانے کی دیر ہے۔۔۔پھر دیکھنا چاچا طالب کا جوتا کہاں کہاں لگتا ہے۔” دوسرے پندے نے کہا اور قہقہہ لگایا۔

"تم دیکھتے جاؤ۔۔۔ میں یوں گیا اور مزے سے گاجریں کھا کر یوں واپس آیا۔" رنکو نے کہا اور آگے بڑھ گیا۔

جلد ہی وہ دونوں کھیت کے اندر تھے۔ تازہ سبزیاں ہر طرف لہلہا رہی تھیں۔ رنکو نے ایک موٹی گاجر کھینچی اور مزے سے کھانے لگا۔

“اف۔۔۔! کیا ذائقہ ہے! جیمو، تم بھی کھاؤ۔” رنکو نے جیمو کو دعوت دی۔ جیمو نے بھی ہچکچاتے ہوئے ایک گاجر کھینچی اور کھانے لگا۔

لیکن ان کی خوشی زیادہ دیر نہ رہی۔ کیونکہ اچانک ایک گرج دار آواز گونجی۔

“ارے! یہ میرے کھیت میں کون گھس آیا۔۔۔؟”یہ چاچا طالب تھے، جو دھوتی پہنے، سر پر پکڑی رکھے اور ہاتھ میں بڑی چھڑی لیے تیزی سے ان کی طرف بڑھ رہے تھے۔ رنکو اور جیمو نے آواز سنی تو ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ جیمو نے فوراً دوڑ لگا دی، رنکو بھی پھرتی سے اس کے پیچھےہولیا۔ لیکن اچانک رنکو کی جیکٹ کھیت کے چاروں طرف لگے حفاظتی باڑھ میں اٹک گئی۔

“ارے نہیں۔۔۔! میں پھنس گیا!” رنکو نے گھبرا کر کہا۔

"ہمت کرو۔۔۔ اگر چاچا طالب کے ہتھے چڑھ گئے تو جیکٹ کے ساتھ ساتھ اپنی کھال سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے۔" جیمو نے دوڑتے ہوئے کہا۔ رنکو نے مکمل طاقت سے خود کو باڑھ سے چھڑانا چاہا تو اس کی جیکٹ پھٹ گئی۔ اس نے غنیمت جانتے ہوئے جیکٹ کو وہیں چھوڑا اور آگے بڑھ گیا۔ اتنی دیر میں چاچا طالب اس کے قریب پہنچ گئے۔ ان کی آنکھیں غصے سے لال تھیں۔ اور چہرہ سوج گیا تھا۔

“اب پکڑے گئے ہو، چھوٹے چور۔۔۔! اب سارا اگلا پچھلا حساب پورا کروں گا۔ ” چاچا طالب نے کہا اور لمبی چھلانگ لگا کر رنکو کو دبوچ لیا۔ جیمو بھاگنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔

"ٹھہرو۔۔۔ ابھی تمہارا بندوبست کیے دیتا ہوں۔" چاچا طالب نے رنکو کو کان سے پکڑ کر اپنے چہرے کے برابر کرتے ہوئے کہا۔ ایک خوف کی لہر اس کے بدن میں رینگ گئی۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ اب اس کی شامت آچکی ہے۔ لیکن پھر بھی ایک آخری کوشش کرنا تو بنتا تھا۔

رنکو نے ہوا میں معلق تھا اور کانوں سے جگڑا ہوا تھا، اس کے پاؤں آزاد تھے۔ اس نے اپنے پچھلے پاؤں سے چاچا طالب پر زور سے حملہ کیا۔ چاچا طالب اس اچانک حملے کیلئے قطعاً تیار نہیں تھا۔ وہ کچھ سٹپٹا سا گیا، اس کی گرفت تھوڑی سی کمزور ہوئی۔ یہ ہی موقع کو غنیمت جان کر رنکو نے خود کو نیچے کی سمت زور دیا۔ اور چاچا طالب کے ہاتھوں سے آزاد ہو کر نیچے گر گیا۔ اور چاچا طالب کی نظروں کے سامنے سے یہ جا وہ جا۔

“ہاہاہا۔۔۔! اب تو نافرمانی کا مزہ آیا؟” رنکو کو بھاگتا دیکھ کر ایک پندہ بولا۔

"دیکھو۔۔۔! جیکٹ بھی گئی اور عزت بھی۔ بس ماں کے جوتے کھانے کی دیر ہے!” دوسرے پندے نے کہا۔

" وہ بھی گھر پہنچ کر مل ہی جائیں گے۔" پہلے پندے نے کہا۔ اور کھلکھلا کر ہنس دیا۔

“چپ کرو۔۔۔زیادہ دانشمندی نہ جتاؤ۔!” رنکو نے زبان نکالی اور کہا۔ جیمو اس کی نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا۔

جب وہ گھر پہنچا تو ماں پہلے ہی واپس آ چکی تھی۔ جیسے ہی اس نے رنکو کو بغیر جیکٹ کے دیکھا، اس کی نظریں سخت ہو گئیں۔

“کہاں تھے تم؟” ماں نے پوچھا۔

“وہ… میں… بس باغ میں کھیل رہا تھا۔” رنکو نے نظریں چرائیں۔

“رنکو چاچا طالب کے کھیت میں گیا تھا اور پکڑا بھی گیا!” جیمو نے فوراً بول دیا۔ وہ یوں گویا ہوا جیسے وہ اس سارے مسئلے سے عاری ہو۔ ماں نے غصے سے رنکو کو گھورا۔

“میں نے منع کیا تھا۔۔۔پھر بھی گئے تم۔۔۔؟ اب کوئی مزے کی چیز نہیں۔ صرف باسی پتے ملیں گے کھانے کو اور بستر میں آرام۔۔۔ یہ ہی ہے تمہاری سزا۔۔۔تاکہ تمہیں نافرمانی کا سبق ملے!” ماں نے کہا۔ رنکو نے مایوس ہو کر سر جھکا لیا۔ اس کے بہن بھائی مزے سے گاجر کا سوپ پی رہے تھے۔ پندے باہر درخت پر بیٹھے قہقہے لگا رہے تھے۔ جیمو کنی کترا کر وہاں سے رفو چکر ہوگیا۔ رنکو نے بستر کی طرف جاتے وقت ایک لمبی سانس لی اور سوچا۔

“اگلی بار میں نافرمانی نہیں کروں گا۔!”

لکھاری

رضوان بھٹی

جناب رضوان بھٹی بچوں کے مقبول لکھاری ہیں ، عرصہ دراز سے بچوں کے لیے خوبصورت کہانیاں لکھ رہے ہیں ، کہانی گھر کے لیے یہ ان کی پہلی کہانی ہے