رنگ واپس لوٹانے والی لڑکی
(سانوی راجپوت)
پہاڑیوں کے قریب ایک گاؤں تھا جہاں آہستہ آہستہ رنگ غائب ہونے لگے تھے۔سب سے پہلے آسمان کا نیلا رنگ پھیکا پڑنے لگا۔ پھر کھیتوں کی ہریالی بھی مدھم ہونے لگی۔
زارا نے نے محسوس کیا کہ گاؤں کے بچے پھول، پرندوں کے پر اور رنگ برنگے پتھر توڑ کر یا اُٹھا کر اپنے بستروں کے نیچے رکھے ڈبوں میں جمع کر رہے تھے۔ وہ خوبصورت چیزوں سے اتنی محبت کرتے تھے کہ انہیں ضرورت سے زیادہ اپنے پاس رکھنے لگے تھے۔
زارا نے بھی اپنا ڈبا کھولا۔اُس کے اندر تین چمک دار پنکھڑیاں، ایک سرخ موتی اور ایک پیلا پتا تھا۔ وہ پتا پہلے ہی بھورا ہوچکا تھا۔ وہ گھاس کے میدان میں واپس گئی اور پتے کو اسی جگہ رکھ دیا جہاں سے اُسے اُٹھایا تھا۔ اُس نے سرخ موتی اُس ندی میں واپس ڈال دیا جہاں وہ چمک رہا تھا۔ پھر پھولوں کی پنکھڑیاں اُس پودے کے قریب رکھ دیں جو ابھی کھلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ فوراً کوئی جادوئی تبدیلی نہیں آئی لیکن اگلی صبح جب زارا نے میدان کو دیکھا تو وہ پہلے سے کچھ زیادہ تروتازہ دکھائی دے رہا تھا۔
دوسرے بچے اُسے دیکھ رہے تھے۔ پھر ایک ایک کرکے سب اپنے ڈبے لے آئے۔ کچھ کو شرمندگی محسوس ہو رہی تھی اور کچھ تجسس میں مبتلا تھے۔سب نے وہ چیزیں واپس کرنا شروع کردیں جو اُنہوں نے وہاں سے اُٹھائی تھیں۔ گاؤں پہلے جیسا خوبصورت تو نہ بن سکا لیکن رنگوں کے مدھم ہونے کی رفتار کم ہوگئی۔
OO
