🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
جنگل کی سانجھ
جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

جنگل کی سانجھ

رشید عاطف ، سوراب بلوچستان
19 اکتوبر، 2026۸۹ مرتبہ پڑھی گئی

جنگل کی سانجھ سنیں

بہت وقت پہلے کی بات ہے ایک وادی کے درمیان میں "سبزہ زار" نام کا ایک پرفضا اور گھنا جنگل واقع تھا جہاں طرح طرح کے جانور اور پرندے بڑی محبت اور اتحاد کے ساتھ رہتے تھے۔ اس جنگل میں اونچے اونچے صنوبر، شیشم، پیپل اور آم کے درخت موجود تھے جن کی گھنی شاخیں آفتاب کی تیز دھوپ کو روکے رکھتی تھیں اور پرندوں کے لیے بسیرے کا بہترین ذریعہ تھیں۔ جنگل کے بیچوں بیچ ایک شفاف ندی بہتی تھی جس کا ٹھنڈا پانی سب جانور مل جل کر پیتے تھے۔

اس جنگل میں ایک سمجھدار اور معمر ہاتھی رہتا تھا جسے سب پیار سے "دانا دادا" کہتے تھے۔ جنگل کے تمام فیصلے دانا دادا کی دیکھ بھال اور مشورے سے ہوا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ایک چالاک لیکن لاپروا بندر "نٹو" ایک شریر خرگوش "ٹوپی" ایک محنتی گلہری "چکی" اور ایک پروقار شیر "شیرخان" بھی اسی وادی کے نمایاں کردار تھے۔

سب کچھ بہت خوبصورت چل رہا تھا لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا جنگل کے کچھ چھوٹے اور جوان جانور درختوں اور پودوں کی اہمیت سے ناواقف ہوتے چلے گئے۔ نٹو بندر کا پسندیدہ مشغلہ یہ تھا کہ وہ ایک شاخ سے دوسری شاخ پر چھلانگیں لگاتے ہوئے درختوں کے پتے توڑتا، کچی ٹہنیاں توڑ کر نیچے پھینک دیتا اور پھلوں کو آدھا کھا کر ضائع کر دیتا۔ چکی گلہری جب بھی اسے منع کرتی کہ "نٹو بھائی! درختوں کو نقصان نہ پہنچاؤ، یہ ہمارے سائے اور خوراک کا ذریعہ ہیں" تو نٹو ہنس کر کہتا"سارے جنگل میں اتنے درخت ہیں اگر میں چند ٹہنیاں توڑ بھی دوں تو کیا فرق پڑتا ہے؟"

خرگوش ٹوپی بھی پودوں کی جڑوں کو کھود کر ان کی نرم کونپلوں کو پیروں تلے روند دیتا تھا۔ جانوروں کی اس لاپرواہی کی وجہ سے ندی کے کنارے لگے چھوٹے پودے سوکھنے لگے اور ندی کا پانی بھی آہستہ آہستہ کم ہونے لگا۔

ایک روز جٹھ کے مہینے کی کڑی دھوپ اور گرم ہواؤں نے پورے علاقے کو گھیر لیا۔ اس بار گرمی اتنی شدید تھی کہ بارشوں کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہ تھا۔ کئی ہفتے گزر گئے مگر آسمان سے ایک بوند نہ ٹپکی۔ گرمی کی شدت سے ندی کا پانی سوکھنے لگا اور جنگل کی مٹی خشک ہو کر پھٹنے لگی۔

جن درختوں کو نٹو بندر اور دیگر جانوروں نے نقصان پہنچایا تھا، ان پر پتے نہ ہونے کے برابر رہ گئے تھے، جس کی وجہ سے جنگل کے ایک بڑے حصے سے سایہ غائب ہو چکا تھا۔ اب جانوروں کو شدید دھوپ کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اور پینے کے پانی کی شدید قلت ہو گئی تھی۔

ایک دوپہر گرمی اور پیاس سے نڈھال ہو کر تمام جانور دانا دادا کے پاس جمع ہوئے۔ نٹو بندر پیاس اور دھوپ سے نڈھال تھا، اس کی طاقت ختم ہو چکی تھی۔ اس نے روتے ہوئے کہا "دانا دادا! یہ کیا ہو رہا ہے؟ ندی کیوں سوکھ گئی اور ہمیں سایہ کیوں نہیں مل رہا؟ ہم تو گرمی سے مر جائیں گے!"

دانا دادا نے ایک لمبی سانس لی اور شفقت سے تمام جانوروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

"میرے بچو! یہ سب ہماری اپنی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ تم لوگوں نے درختوں اور پودوں کی قدر نہیں کی۔ تم نے ان کی ٹہنیاں توڑیں، کونپلیں مسلیں اور نئے پودے لگانے کے بجائے پرانے درختوں کو نقصان پہنچایا۔ کیا تم جانتے ہو کہ درخت اور پودے ہماری زندگی کے لیے کتنے ضروری ہیں؟"

تمام جانور خاموشی سے دانا دادا کی بات سننے لگے

"درخت صرف ہمیں پھل اور سایہ ہی نہیں دیتے بلکہ یہ زمین کو مضبوطی سے تھامے رکھتے ہیں۔ جب بارش ہوتی ہے تو درختوں کی جڑیں پانی کو زمین کے اندر جذب کرتی ہیں جس سے ندی نالوں میں پانی برقرار رہتا ہے۔ درخت ہوا کو صاف کرتے ہیں اور ماحول کو ٹھنڈا رکھتے ہیں۔ جہاں درخت زیادہ ہوتے ہیں، وہاں بادل کھینچ کر آتے ہیں اور بارشیں ہوتی ہیں۔ پودے نہ ہوں تو زمین بنجر ہو جاتی ہے اور زندگی کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔"

شیرخان نے بھی دانا دادا کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا "ہاں! ہم شکار کرنے والے جانور بھی ان درختوں کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اگر درخت نہیں ہوں گے تو چرند پرند نہیں ہوں گے، اور اگر وہ نہیں ہوں گے تو ہمارا وجود بھی ختم ہو جائے گا۔"

نٹو بندر اور خرگوش ٹوپی کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا۔ انہوں نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ نٹو نے کہا "دانا دادا! ہمیں معاف کر دیں۔ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ درخت اور پودے ہماری سانسوں اور پانی کا راز ہیں۔ اب ہم کیا کریں تاکہ ہمارا جنگل دوبارہ ہرا بھرا ہو جائے؟"

دانا دادا نے مسکرا کر کہا، "ابھی بھی وقت ہے۔ اگر ہم سب مل کر محنت کریں اور پودوں کی حفاظت کا عہد کریں تو قدرت ہم پر دوبارہ مہربان ہو سکتی ہے۔"

اگلی ہی صبح جنگل کے تمام جانوروں نے ایک ساتھ مل کر کام شروع کیا۔ نٹو بندر نے خشک زمین پر بیج بکھیرے، چکی گلہری نے اپنے چھوٹے پنجوں سے مٹی کھود کر جڑیں لگائیں، اور دانا دادا نے ندی کے بقیہ پانی سے ان نئے پودوں کو سیراب کیا۔ خرگوش اور دیگر جانوروں نے چھوٹے پودوں کے گرد باڑ بنائی تاکہ کوئی انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔

کچھ ہی دنوں کی محنت اور دیکھ بھال کے بعد بارش کے سیاہ بادل آسمان پر نمودار ہوئے۔ چھما چھم بارش شروع ہو گئی! تمام جانور خوشی سے ناچنے لگے۔ خشک ندی دوبارہ شفاف پانی سے بھر گئی اور سوکھے ہوئے درختوں پر نئے اور سبز پتے نکل ائے۔

اس دن کے بعد سے جنگل کے تمام جانوروں نے ایک اصول بنا لیا کہ کوئی بھی کسی درخت یا پودے کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور ہر جانور ہر سال کم از کم ایک نیا پودا لگائے گا۔

لکھاری

رشید عاطف ، سوراب بلوچستان