🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
قلفی  چور
جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

قلفی چور

ذوالفقار علی بخاری
13 اکتوبر، 2026۵۶ مرتبہ پڑھی گئی

قلفی چور سنیں

”بھائی۔۔۔۔محقق۔۔۔آج بڑے خوش دکھائی دے رہے ہیں۔“

میاں بھلکڑ اپنے بڑے بھائی کو کمرے میں داخل ہوتا دیکھ کربولے۔

”کیا کروں۔۔۔۔کام ہی کچھ ایسا ویسا کیا ہے۔تمھیں تو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ میرے کام ہمیشہ ہی بڑے نرالے ہوتے ہیں۔“

میاں محقق مسکرا کر بولے۔

”لگتا ہے کہ کوئی بڑی کامیابی ملی ہے۔“

میاں بھلکڑ نے طنز کیا۔

”بھئی۔۔۔ویسی کامیابی تونہیں ملی ہے جیسی آپ نے حاصل کی تھی بچپن میں۔“

میاں محقق نے چھوٹے بھائی کے سامنے کرسی رکھتے ہوئے جواب دیا۔

”ہیں۔۔ہیں۔۔اب چھوٹے بھائی کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔۔۔۔آپ کو شرم نہیں آتی ہے۔میں نے جب نقل کرکے امتحان پاس کیا تھا تب میں نا سمجھ تھا۔اُس کامیابی کے بعد کبھی امتحانات میں نقل کرکے پاس ہونے کی کوشش نہیں کی ہے۔“

میاں بھلکڑ اپنی کتاب بستر پر پھینکتے ہوئے بولے۔

”اورنہیں تو کیا۔۔مقابلہ اپنوں کے ساتھ ہی کیا جاتا ہے۔کسی اور کو ستانے میں اتنا مزہ بھی تو نہیں آتا ہے۔ وہ دن یاد کرو جب تم نے ایک خراب انڈے کو بیس دن مرغی کے نیچے رکھا تاکہ اُس میں سے چوزہ نکل سکے۔۔۔لیکن پھر ہوا کیا۔“

میاں محقق نے دو سال پہلے کے واقعے کو یاد کروایا تو میاں بھلکڑ خاموش ہو گئے۔

”جواب دیجیے۔۔۔۔میاں بھلکڑ۔“

میاں محقق نے چھوٹے بھائی کو جوش دلوانے کی کوشش کی۔

میاں بھلکڑ سرجھکائے خاموش بیٹھے رہے۔

کیوں کہ اُن کے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں تھی کہ وہ اپنی بے وقوفی کو درست ثابت کر سکیں۔

”جواب دیجیے۔۔۔۔میاں بھلکڑ۔خاموشی جرم ہے۔“

میاں محقق نے چھوٹے بھائی کو ایک بار پھرستانے کی کوشش کی۔

چند لمحے سوچنے کے بعد میاں بھلکڑ اپنی نالائقی تسلیم کرتے ہوئے بولے:

”وہ۔۔۔بات دراصل یہ تھی کہ مجھے پتا نہیں تھا کہ مرغی ٹھیک انڈوں پر بیٹھتی ہے۔ورنہ میں نے ایسی غلطی کیوں کرنی تھی بھلا۔۔آخر۔میں ایک محقق کا بھائی ہوں۔“

میاں محقق جواب سن کر مسکرائے لیکن خاموش رہے۔

میاں بھلکڑ کی مسلسل خاموشی پر میاں محقق بولے:

”دیکھو۔۔میں نے تمھاری مرغی کا انڈہ کھانے سے پہلے انڈے گھر لانا شروع کیے تھے۔“

میاں محقق اپنی بات مکمل نہ کرسکے کیوں کہ میاں بھلکڑ نے بات اُچک لی تھی۔

”بھائی جان۔۔۔کیوں کہ آپ اسکول میں پڑھتے نہیں تھے اور گھر آکر بھی کھیلتے کودتے تھے تب ہی ہر پرچے میں انڈہ ملا کرتا تھا۔“

میاں بھلکڑ نے بھائی کی طرف دیکھتے ہوئے بات مکمل کی اور زور دار قہقہہ لگایا۔

”بُری بات۔۔۔چھوٹے۔میاں۔۔میری بات تو مکمل سنو۔۔۔پھر مذاق کرلینا۔۔۔۔میں نے تحقیقی کام کیا ہے۔۔۔اہم ترین۔“

میاں محقق نے اپنی شرٹ کے کالر کو جھاڑتے ہوئے کہا۔

”ارے۔۔۔واقعی۔۔۔کہیں مارکونی کی مانند کچھ ایجاد تو نہیں کرلیا ہے۔“

میاں بھلکڑ شرارت کے موڈ میں تھے اِس لیے مسلسل ہنسی مذاق کر رہے تھے۔

”ارے۔۔۔نہیں۔۔۔یار۔۔۔میں نے کچھ اور تجربہ کیا ہے۔“

میاں محقق سنجیدہ ہوکر بولے۔

”لگتا ہے کہ پھر کوئی انوکھا کارنامہ سرانجام دے آئے ہیں۔۔۔جیسے پہلے مرغی کو پکڑنے چلے تھے اور گٹر میں گر گئے تھے۔“

میاں بھلکڑ نے ایک سال پہلے ہونے والے اندوہناک واقعے کو یاد دلوایا۔

”بس۔۔۔بھی کرو۔۔۔ایک بار کوئی گرتا ہے۔۔۔بار بار تھوڑی گرتا ہے انسان۔“

میاں محقق شرمسار ہو کر بولے۔

”کچھ لوگ۔۔۔بار بار گرتے ہیں۔“

میاں بھلکڑ قہقہہ لگا کر بستر پر لیٹ گئے اور دونوں پاؤں آسمان کی جانب کرکے ہنسنے لگے۔

”اِس میں کیا ہے۔۔۔بھئی۔۔۔میں جب بھی ابا جی کے کہنے پر کچرا پھینکنے جاتا تھا تو کوڑے کے ڈرم کے پاس پھسل جاتا تھا۔اُس کے بعد یہ ذمہ داری اباجی نے سنبھال لی۔۔بہرحال، بات دراصل یہ ہے کہ میں نے تجربے سے معلوم کیا ہے کہ اگر دودھ میں چینی اور کھویا ڈال کر سات گھنٹوں تک فریج میں رکھ دیا جائے تو مزیدار قلفی بن جاتی ہے۔“

میاں محقق نے سنجیدگی سے بات مکمل کی۔لیکن میاں بھلکڑ کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔

”یہ بتاؤ کہ تم ہنس کیوں رہے ہو، کہیں کچھ دال میں کالا تو نہیں ہے۔“

میاں محقق نے استفسار کیا۔

”دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ ہرا ہرا ہے۔“

میاں بھلکڑ سنجیدگی سے بولے۔

“ ایسا کیوں ہوگا بھلا۔“

میاں محقق نے پوچھا۔

”یہ تو آپ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔۔۔بھائی۔“

میاں بھلکڑ سنجیدگی سے بولے۔

”یعنی کچھ ہو چکا ہے۔“

میاں محقق نے گھورتے ہوئے پوچھا۔

”جی ہاں۔۔۔۔سات گھنٹوں کے بعد اگر فریج کھولی جائے اور قلفی بنی بنائی مل جائے تو اُسے مفت کا مال سمجھ کر کھا لیا جاتا ہے۔“

میاں بھلکڑ بات مکمل کرتے ہی کمرے سے بھاگ نکلے۔

میاں محقق کو بات سمجھ آچکی تھی لہذا اُنھوں نے تیزی سے میاں بھلکڑ کے پیچھے بھاگنا مناسب سمجھا۔

میاں محقق نے جس کام کو سرانجام دینے میں کئی گھنٹے لگائے،اُنھیں اُس کا ثمر نہ مل سکا۔کیوں کہ اُن کی محنت کا پھل کوئی اور چرا گیا تھا۔

میاں محقق کی دو ہفتوں کی تحقیق دھری کی دھری رہ گئی تھی کہ میاں بھلکڑ نے اپنا کام کر دکھا یا تھا۔

میاں محقق صحن میں چلاتے ہوئے میاں بھلکڑ کو پکڑنے کی کوشش کرنے لگے لیکن وہ ہاتھ نہیں آئے۔

آخرکار تھک ہار کر میاں محقق بڑبڑانے لگے۔

”میاں بھلکڑ۔۔۔۔قلفی چور۔۔۔پڑ جائیں تجھے مور۔“

۔ختم شد۔

لکھاری

ذوالفقار علی بخاری