ہاروت اور ماروت دو فرشتے تھے جنہیں انسانوں کی آزمائش کے لیے آسمان سے اس دنیا میں بھیجا گیا۔ وہ شہر بابل میں نوجوانوں کی شکل میں آئے اور وہاں کے لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ جب بھی کوئی ان کے پاس جادو سیکھنے آتا تو وہ اسے بتا دیتے کہ جادو سیکھنا حرام ہے اور اسے سیکھنے سے تم ایمان سے محروم ہو جاؤ گے۔ جن کے دل میں ایمان کا نور ہوتا، وہ تو ڈر کر رک جاتے، مگر کچھ بدبخت پھر بھی جادو سیکھتے اور ایمان سے محروم ہو جاتے۔
ایک دن ایک عورت ان کے پاس آئی جس کا نام زہرا تھا۔ ہاروت اور ماروت نے اسے بھی سمجھانے کی کوشش کی کہ جادو مت سیکھو، مگر وہ نہ مانی تو انہوں نے اسے جادو سکھا دیا۔
ہاروت اور ماروت فرشتے تھے، اس لیے انہیں اسمِ اعظم بھی آتا تھا، جسے پڑھ کر وہ جب چاہیں آسمان پر جا سکتے تھے۔ انہوں نے غلطی سے اپنا یہ راز زہرا کو بتا دیا۔ اس نے دونوں کو بہلا پھسلا کر اسمِ اعظم بھی سیکھ لیا۔ جونہی اس نے اسمِ اعظم پڑھا تو وہ آسمان پر تو نہ جا سکی، کیونکہ وہ ایک گناہ گار انسان تھی، بلکہ وہ سیارہ زہرہ پر جا پہنچی اور وہیں قید ہو گئی۔ آج تک وہ وہیں قید ہے۔
مگر بچو! زہرا کی یہ کہانی ایک فرضی قصہ ہے، جسے کسی نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ حقیقت میں زہرہ نظامِ شمسی کا دوسرا سیارہ اور زمین کا قریبی ہمسایہ ہے۔
زہرہ کا سورج سے اوسط فاصلہ تقریباً 10 کروڑ 82 لاکھ کلومیٹر ہے۔ یہ سورج کے گرد ایک چکر تقریباً 225 زمینی دنوں میں مکمل کرتا ہے، جب کہ اپنے محور کے گرد ایک چکر مکمل کرنے میں تقریباً 243 زمینی دن لیتا ہے۔ آپ نے دیکھا کہ زہرہ کو اپنے محور کے گرد گھومنے میں سورج کے گرد چکر لگانے سے بھی زیادہ وقت لگتا ہے۔ یعنی اس کا محوری دورانیہ اس کے سال سے بھی طویل ہے۔
زہرہ زمین کے برعکس اپنے محور پر الٹی سمت میں گھومتا ہے۔ اسی لیے وہاں سورج بظاہر مغرب سے طلوع ہوتا اور مشرق میں غروب ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
زہرہ نظامِ شمسی کا گرم ترین سیارہ ہے۔ یہاں کا اوسط سطحی درجۂ حرارت تقریباً 465 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ اس کی سطح سیسے جیسی دھات کو بھی پگھلا دینے کی حد تک گرم ہے۔ اس شدید گرمی کی بنیادی وجہ اس کے گرد موجود کاربن ڈائی آکسائڈ کی انتہائی گھنی فضا ہے۔ یہ فضا گرین ہاؤس اثر پیدا کرتی ہے، جس کے باعث حرارت فضا میں پھنس جاتی ہے اور آسانی سے خلا میں واپس نہیں نکل پاتی۔ نتیجتاً زہرہ کی سطح کا درجۂ حرارت بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔
زہرہ چاند کے بعد آسمان میں نظر آنے والی روشن ترین قدرتی شے ہے۔ اس کے گھنے بادل سورج کی روشنی کا بڑا حصہ منعکس کرتے ہیں، اسی وجہ سے یہ ہمیں بہت روشن دکھائی دیتا ہے۔ چونکہ زہرہ سورج سے زیادہ دور نہیں دکھائی دیتا، اس لیے اسے عموماً صبح کے وقت طلوعِ آفتاب سے پہلے یا شام کو غروبِ آفتاب کے بعد دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے عام طور پر ’’صبح کا تارا‘‘ یا ’’شام کا تارا‘‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم، یہ کوئی حقیقی ستارہ نہیں بلکہ ہمارے نظامِ شمسی کا ایک سیارہ ہے۔
کل صبح جب آپ فجر کی نماز کے لیے نکلیں تو آسمان کی طرف نظر اٹھا کر زہرہ سیارے کو ضرور دیکھیے گا۔

