🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
احترامِ اساتذہ
نرسری (۳-۵ سال)جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

احترامِ اساتذہ

رشید عاطف ، سوراب بلوچستان
8 اکتوبر، 2026۴۶ مرتبہ پڑھی گئی

احترامِ اساتذہ سنیں

​حمزہ ساتویں جماعت کا ایک بہت ہوشیار لیکن بلا کا شرارتی بچہ تھا۔ وہ اکثر اسکول میں اپنے دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق کرتا اور اساتذہ کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا۔ جب بھی اس کے ریاضی کے استاد محترم جناب طارق صاحب اسے سبق پر توجہ دینے اور باقاعدگی سے مشق کرنے کی ہدایت کرتے تو وہ اسے اکتاہٹ کے ساتھ سنتا اور ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا۔

​ایک دن استادِ محترم نے کلاس میں ایک اہم اور پیچیدہ فارمولا سکھایا اور تمام بچوں سے کہا "بچو! اس سوال کی گھر جا کر اچھی طرح مشق کر لیجیے گا، کیونکہ آئندہ ٹیسٹ میں یہ سوال لازمی آئے گا۔"

​کلاس کے تمام بچوں نے استاد کی بات پر عمل کیا، لیکن حمزہ نے ہمیشہ کی طرح سوچا "یہ تو بہت آسان ہے، مجھے تو سب آتا ہے، مشق کرنے کی کیا ضرورت ہے!" اور وہ شام کو پڑھنے کے بجائے کھیلنے چلا گیا۔

​اگلے ہفتے جب اسکول میں ٹیسٹ ہوا اور پرچہ سامنے آیا تو حمزہ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ سوال وہی تھا جو استاد صاحب نے بورڈ پر سمجھایا تھا، لیکن مشق نہ کرنے کی وجہ سے حمزہ فارمولے کا اہم حصہ بھول چکا تھا۔ وہ کافی دیر تک سر پکڑ کر بیٹھا رہا اور بالآخر اس کا پرچہ ادھورا ہی رہ گیا۔

​ٹیسٹ کا نتیجہ آیا تو حمزہ کے نمبر سب سے کم تھے۔ وہ شرمندگی کے مارے سر جھکائے اپنی سیٹ پر بیٹھا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ استاد صاحب سب کے سامنے اسے ڈانٹیں گے، لیکن ٹیسٹ کے بعد استاد طارق صاحب نے اسے پیار سے اپنے پاس بلایا۔

​انہوں نے ڈانٹنے کے بجائے حمزہ کو بہت شفقت سے پاس بٹھایا، اسے پانی پلایا اور خود اپنے ہاتھ سے وہ مشکل سوال دوبارہ آسان طریقے سے سمجھا دیا۔ استاد صاحب نے مسکرا کر فرمایا "حمزہ بیٹا! استاد والدین کی طرح ہوتے ہیں جو ہمیشہ آپ کی بھلائی چاہتے ہیں۔ جب آپ ان کی باتوں اور نصیحتوں پر عمل نہیں کریں گے تو نقصان آپ کا اپنا ہوگا۔ اساتذہ کا ادب اور ان کی بات ماننا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔"

​استاد صاحب کا یہ طریقہ اور شفقت دیکھ کر حمزہ کی آنکھوں میں ندامت کے آنسو آ گئے۔ اسے اپنی غلطی کا شدید احساس ہوا۔ اس نے سچے دل سے اپنے استادِ محترم سے معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ وہ آئندہ ہمیشہ ان کی بات پر مکمل عمل کرے گا۔

​اس دن کے بعد حمزہ نے نہ صرف اساتذہ کا احترام اپنا شعار بنا لیا، بلکہ محنت کر کے کلاس کا سب سے باادب اور بہترین طالب علم بن گیا۔

لکھاری

رشید عاطف ، سوراب بلوچستان