آخری موقع
محمد موسیٰ ۔ بہاول پور
احمد ایک عام سا طالب علم تھا۔ اسے سائنس کے تجربات بہت پسند تھے، لیکن وہ نئی چیزیں کرنے سے اکثر گھبراتا تھا کیونکہ اسے ڈر لگتا تھا کہ کہیں وہ ناکام نہ ہو جائے۔
ایک دن اسکول میں سائنس کا مقابلہ ہونے والا تھا۔ احمد نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی اس میں حصہ لے گا۔ اس نے کئی دن محنت کرکے ایک خوبصورت سا ماڈل تیار کیا۔ وہ بہت خوش تھا اور اسے یقین تھا کہ اس کا ماڈل سب کو پسند آئے گا۔
مقابلے کے دن جب احمد نے اپنا ماڈل میز پر رکھا تو اچانک اس کا ایک اہم حصہ ٹوٹ کر نیچے گر گیا۔ احمد کو بہت دکھ ہوا۔ اس نے سوچا، ’’اب میں مقابلے میں حصہ نہیں لے سکتا۔‘‘
وہ اپنا سامان سمیٹنے ہی والا تھا کہ اس کے دوست حمزہ نے کہا، ’’تمہارے پاس ابھی وقت ہے۔ ایک بار کوشش کرکے دیکھو۔‘‘
احمد نے دوست کی بات مانی۔ اس نے ٹوٹا ہوا حصہ دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی، مگر پہلی بار کامیاب نہ ہوا۔ اس نے دوبارہ کوشش کی اور آخرکار ماڈل ٹھیک ہوگیا۔
جب احمد نے ججوں کے سامنے اپنا ماڈل پیش کیا تو سب نے اس کی محنت اور حوصلے کی تعریف کی۔ نتیجہ آیا تو احمد نے پہلا انعام حاصل کیا۔
احمد بہت خوش ہوا۔ اسے احساس ہوا کہ اگر وہ پہلی مشکل کے بعد ہمت ہار جاتا تو شاید وہ یہ کامیابی حاصل نہ کر پاتا۔
