ایک چھوٹے سے شہر میں حامد نام کا ایک ذہین لڑکا رہتا تھا۔ اس کے والد ایک دکان پر کام کرتے تھے اور ہمیشہ اسے سکھاتے تھے، “بیٹا! انسان کے پاس دولت کم ہو تو کوئی بات نہیں، لیکن اگر سچائی اور امانت داری نہ ہو تو وہ سب کچھ کھو دیتا ہے۔”
ایک دن اسکول سے واپسی پر حامد کو راستے میں ایک بٹوا ملا، جس میں کافی رقم اور ایک شناختی کارڈ موجود تھا۔ حامد نے سوچا کہ ان پیسوں سے وہ اپنے پسندیدہ کھلونے خرید سکتا ہے، لیکن اسے اپنے والد کی بات یاد آ گئی۔ رات بھر وہ کشمکش میں رہا، مگر آخر کار اس کی تربیت جیت گئی۔
اگلے دن اسکول پہنچ کر اس نے وہ بٹوا اپنے استاد کے حوالے کر دیا۔ استاد نے شناختی کارڈ کی مدد سے بٹوے کے مالک کو تلاش کر لیا۔
کچھ ہی دیر میں بٹوے کے مالک، ایک بزرگ شخص، اسکول پہنچ گئے۔ بٹوے کو دیکھ کر ان کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ اس میں ان کے گھر کے ضروری اخراجات کے پیسے تھے۔ انہوں نے حامد کو دعائیں دیتے ہوئے کہا، “بیٹا! اگر یہ رقم نہ ملتی تو میرے لیے جینا دشوار ہو جاتا۔”
حامد نے مسکرا کر جواب دیا، “انکل! میرے والد نے سکھایا ہے کہ امانت میں خیانت نہیں کرنی چاہیے۔”
استاد اور تمام بچوں نے حامد کی اس سچائی اور دیانت داری پر اس کی بھرپور تعریف کی۔ اس دن حامد کو جو قلبی سکون ملا، اس نے اسے ہمیشہ کے لیے سچ بولنے اور امانت دار بننے کا پکا عزم دے دیا۔
