🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
دو میٹھے بول
جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

دو میٹھے بول

ساجدہ امیر
12 ستمبر، 2026۳۷ مرتبہ پڑھی گئی

دو میٹھے بول سنیں

​دو میٹھے بول

ساجدہ امیر

​شہر سے باہر ایک کلومیٹر کے فاصلے پر فیصل کا ایک کیفے تھا۔ ہر شام وہاں لوگوں کی چهیل پهیل رہتی تھی۔ گرمیوں کے اس موسم میں لوگ شہر کی گرمی اور شور سے دور، کھلے ماحول اور تازہ ہوا میں ٹھنڈے مشروبات کے ساتھ برگر، شوارما، چپس اور دوسرے مزےدار کھانوں سے لطف اندوز ہونا پسند کرتے تھے۔ کیفے میں کھانے پینے کی چیزیں تو اچھی تھیں ہی، لیکن وہاں کا پیارا ماحول بھی لوگوں کو بار بار کھینچ لاتا تھا۔

​اچانک کیا ہوا کہ کامیابی کی راہ پر چلنے والا فیصل کا کاروبار دن بدن نیچے جانے لگا۔ جہاں کبھی لوگوں کا ہجوم ہوتا تھا، وہاں اب گنتی کے چند لوگ ہی نظر آتے تھے۔ مسلسل نقصان سے تنگ آ کر آخرکار فیصل نے کیفے بیچنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے شہر بھر میں اشتہارات دیے، کئی خریداروں نے دلچسپی بھی دکھائی مگر مناسب قیمت پر بات نہ بننے کے سبب سودا نہ ہو سکا۔

​ایک دن عثمان نامی ایک شخص خریدار بن کر آیا۔ دونوں کے درمیان معاملات طے پائے، رضامندی ہوئی اور کیفے عثمان کے نام ہو گیا۔

​کچھ ہی دنوں میں عثمان نے کیفے کی ترتیب بدل کر اسے نکھارنا شروع کر دیا اور اس کا نام بدل کر "آل ٹائم" رکھ دیا۔ افتتاح کے طور پر اس نے ایک دن مفت جوس کا اہتمام کیا اور ساتھ ہی بڑے آرڈرز پر اگلے ایک ہفتے تک جوس مفت دینے کی زبردست آفر دی۔ اس آفر سے فائدہ اٹھانے کے لیے بہت سے لوگ آ گئے۔ جب انہوں نے برگر اور شوارما کے ساتھ دوسری چیزوں کا ذائقہ چکھا تو وہ اس قدر پسند آیا کہ لوگ گھر کے لیے بھی پارسل کروانے لگے۔

​چند ماہ کی محنت کے بعد عثمان کا کیفے پورے شہر میں مشہور ہو گیا۔ اب دوسرے شہروں سے آنے والے لوگ بھی وہیں بیٹھنا پسند کرتے تھے۔ ایک دن فیصل کا ادھر سے گزر ہوا تو کیفے پر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر دنگ رہ گیا۔

​”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، فیصل بھائی!“

ابھی وہ وہیں سوچ میں کھڑے تھے کہ عثمان کی آواز پر ان کی توجہ ٹوٹی۔

​”وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! الحمدللہ، آپ سنائیں؟“ فیصل نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

​عثمان کے اصرار پر فیصل اندر داخل ہوا اور چائے کے ساتھ سینڈوچ کھانے لگا۔

​”عثمان بھائی! اگر برا نہ مانیں تو ایک بات پوچھوں؟“ فیصل نے چائے کا کپ نیچے رکھتے ہوئے کہا۔

​”جی جی، بالکل پوچھیں۔“

​”اس کیفے میں تو مجھے مسلسل نقصان ہو رہا تھا، لوگوں نے آنا چھوڑ دیا تھا... آخر آپ نے یہ سب کیسے کر دکھایا؟“ فیصل کے پوچھنے پر عثمان مسکرا دیا۔

​”بھائی! کیفے خریدنے کے بعد میں نے سب سے پہلے یہاں کے پرانے ملازمین سے بات کی اور نقصان کی اصل وجہ جانی۔ شاید آپ کو برا لگے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ نے اپنے رویے کی وجہ سے اپنا کاروبار خود ختم کیا تھا۔“

​عثمان کی بات سن کر فیصل حیران رہ گیا اور وجہ پوچھی۔

​”وہ ایسے کہ آپ نے ملازمین کی تنخواہ کم کر دی اور کام زیادہ بڑھا دیا۔ آپ کے غصے اور غلط رویے نے سب کو پریشان کر دیا۔ آپ اپنی ناکامی کا غصہ ان پر نکالتے اور بلاوجہ ڈانٹتے رہتے، جبکہ قصوروار وہ نہیں تھے۔ آپ کے اس رویے کا اثر گاہکوں پر بھی ہونے لگا۔ بیچارے ملازمین مجبوری کی وجہ سے صرف اس امید پر کام کر رہے تھے کہ دو پیسے مل جائیں، ورنہ جہاں روز بے عزتی ہو وہاں کون رکنا چاہتا ہے؟ دوسری طرف، زیادہ منافع کمانے کے چکر میں آپ نے چیزوں کے دام بڑھا دیے اور مقدار کم کر دی۔ بس، میں نے اس کے بالکل الٹ کیا اور آج نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔“ عثمان نے کیفے میں بیٹھے لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

​فیصل کو اپنی غلطی کا شدید احساس ہوا اور اس نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔

​”بھائی! ہر کاروبار میں پہلی شرط اپنے ساتھ کام کرنے والے ہر شخص کی عزت کرنا ہے۔ دوسری شرط گاہک کی جیب اور ضرورت کا خیال رکھنا ہے۔ یہی زندگی اور کاروبار کا اصول ہے۔ ہم سامنے والے کو جتنا خلوص دیں گے، اتنا ہی پلٹ کر پائیں گے۔ انسان کو ہر جگہ اور ہر بار صرف اپنے فائدے کی فکر نہیں کرنی چاہیے؛ کبھی کبھار دو میٹھے بول اور عزت ہی ہمارا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔“

​عثمان نے فیصل کی طرف دیکھا، جن کی آنکھوں میں اب پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں تھا۔

لکھاری

ساجدہ امیر

محترمہ اردو ادب کی دُنیا میں ساجدہ امیر کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ ان کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب سے ہے لیکن کچھ وجوہات کے باعث انہیں دنیا کے مختلف علاقوں میں بھی رہنا ہوتا ہے۔ بچوں کے لیے اب تک ان