شہر سے باہر وہ الگ تھلگ سا گھر آسیب زدہ مشہور تھا۔ بعض من چلوں نے اس میں رات گزارنے کی کوشش کی مگر ہر کوئی چیختا چلاتا باہر نکلتا اور طرح طرح کی کہانیاں سناتا۔ مگر اس رپورٹر کو ان باتوں پر یقین نہیں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ لوگ بات کا بتنگڑ بنا لیتے ہیں اور آسیب جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس گھر میں رات گزارکرثابت کرے گا کہ یہ جن بھوت اور چڑیل ۔۔۔سب بکواس ہے۔
لوگوں کے منع کرنے کے باوجود وہ رات کے وقت اس گھر میں داخل ہوکر وہاں کا جائزہ لینے لگا ۔ خالی گھر میں ہر طرف مکڑیوں کے جالے لگے تھے۔ فرش پر چوہے دوڑ رہے تھے۔ اس نے ایک ایک کمرے کو بغور دیکھا مگر وہاں سواۓ وحشت کے کچھ نہ تھا۔ وہ اس وقت اس کمرے میں کھڑا تھا جو شاید کبھی ڈرائنگ روم ہوگا۔ اس کی دیوار پر بارہ سنگھے کا سر لگا ہوا تھا ۔
'ہنہ، مکڑیاں ، چوہے اور بارہ سنگھے کا سر ۔ یہ ہے یہاں کا آسیب۔۔۔!' اس نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
'تم ٹھیک کہتے ہو۔' بارہ سنگھا بول پڑا۔ 'میں بھی ہر ایک کو یہی سمجھاتا ہوں کہ آسیب وغیرہ کچھ نہیں ہوتا ہے۔'
بارہ سنگھے کو بولتے دیکھ کر رپورٹر خوفناک آواز میں چیختا اور پھر سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ اُٹھا۔

