🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
اُدھورا  کھیل  / قسط نمبر 10
جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

اُدھورا کھیل / قسط نمبر 10

عبدالرشید فاروقی
عبدالرشید فاروقی
6 ستمبر، 2026۵۸ مرتبہ پڑھی گئی

اُدھورا کھیل / قسط نمبر 10 سنیں

''پروفیسر صاحب! وہ مارا....'' انسپکٹر جنید چلااُٹھے۔

''شکریہ جنید!میں نے یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ایسے ہی مواقع کے لیے بنائی ہیں۔ بے ہوش کرنے والی اور بے ہوش ہونے سے بچانے والی۔'' انھوں نے ہنس کر کہا۔

ہال میں موجود سب لوگ بے ہوش ہوگئے تھے ... سوائے انسپکٹر جنید، خان رحمان ، پروفیسر داؤد، اکرام اور اس کے ماتحتوں کے۔

خان رحمان نے آگے بڑھ کر انسپکٹر جنید کو کھول دیا۔ اکرام ، محمد حسین آزاد اور اس کے دونوں ماتحت بھی آزاد ہوگئے۔

''پروفیسر صاحب! یہ لوگ کب تک بے ہوش رہیں گے؟''

''اگر ان کے چہروں پر پانی کے چھینٹے نہ ماریں جائیں تو ایک گھنٹے بعد انھیں ہوش آجائے گا۔'' وہ مسکرائے۔

''اور اگر پانی کے چھینٹے مارے جائیں تو ...''

''تو فوراً ہوش میں آجائیں گے...'' انھوں نے کہا۔

''شکریہ! اب ہمیں موٹے باس کو دیکھنا ہے... اس سے پہلے کہ وہ یہاں آئے... ہمیں اس تک پہنچنا ہوگا۔'' انسپکٹر جنید نے کہا۔

''ٹھیک ہے، آئیں پھر..اس کے پیچھے چلتے ہیں۔'' خان رحمان نے کہا۔

وہ دروازہ نمبر پانچ کھول کر اندر داخل ہوئے تو حیران رہ گئے...اُن کے سامنے کمرہ نہیں، ایک گلی تھی۔ وہ اس میں بھاگنے لگے۔ گلی کے اختتام پر ایک کمرہ تھا۔ انھوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، فوراًکمرے میں داخل ہوگئے.... کمرے میں بڑی بڑی مونچھوں والا ایک بونا ٹانگیں پھیلائے کھڑا تھا۔ وہ اُسے دیکھ کر چونک اُٹھے۔بونے کے سر پر جوکروں کی طرح رنگ برنگی ٹوپی تھی اور چہرے پر شیطانی مسکراہٹ...

''کیا ارادے ہیں دوستو...؟'' اُس نے ہنستے ہوئے پوچھا۔

''بڑے نیک ارادے ہیں... تم کون ہو اور یہاں کیا کر رہے ہو چھوٹی سرکار؟'' اکرام نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

''اوہ... ارے... تمھیں میرا نام کس نے بتایا؟'' بونا حیرت سے اچھل پڑا۔

''کک...کیا مطلب... کیا تمھارا نام چھوٹی سرکار ہی ہے؟''

''ہاں... میں چھوٹی سرکار ہوں...''

''تمھارا باس کہاں ہے؟'' انسپکٹر جنید نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

''تم انھیں چھوڑو اور یہ بتاؤ... یہاں کیا کر رہے ہو؟'' چھوٹی سرکار نے منہ بناتے ہوئے کہا۔پھر وہ چونکا...

''ارے...تم تو ہال میں بندھے ہوئے تھے... ارے... وہ...وہ ...'' وہ ہکلایا۔

''کیا ...وہ...وہ...'' پروفیسر داؤد نے جھلاتے ہوئے کہا۔

''مم...میرا مطلب ہے... ہمارے ساتھی کہاں ہیں... تم یہاں کیسے پہنچے اور تمھیں کھولا کس نے؟''

''تمھارے ساتھی ہال میں آرام کر رہے ہیں... بھاگ دوڑ کر تھک جو گئے تھے۔'' انسپکٹر جنید ہنسے۔

''یہ ...یہ کیسے ہو سکتا ہے... وہ تھکنے والے نہیں ہیں۔'' چھوٹی سرکار نے حیرت سے پوچھا۔

''چھوڑو ان باتوں کو اور بتاؤ... تمھارا باس کہاں ہے؟'' محمد حسین آزاد نے کہا۔

''تم ان تک نہیں پہنچ سکتے ...''

''کیوں...'' خان رحمان نے چونک کر کہا۔

''اس لیے کہ وہ یہاں سے چلے گئے ہیں۔''

''اوہ...نہیں۔'' پروفیسر داؤد کے منہ سے نکلا۔

''ایک بات کہوں... تم بُرے پھنسے ہو... '' چھوٹی سرکار نے ہنس کر کہا۔

''کوئی بات نہیں...ہم ہمیشہ ہی بُرے پھنستے ہیں۔'' خان رحمان نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

''اکرام... یہ ہمارا وقت ضائع کر رہا ہے... اس کی تھوڑی سی مرمت کر دو۔'' انسپکٹر نے پلٹ کر اکرام سے کہا۔

''سر... تھوڑی سی کیوں... زیادہ کر دیتا ہوں۔'' وہ مسکرایا۔

''تھوڑی سی اس لیے کہ یہ تھوڑا سا ہی تو ہے۔'' وہ ہنسے۔

''ٹھیک ہے... جیسے آپ کی مرضی...'' اکرام نے کندھے اچکائے ۔

''اوہ...تو تم میری مرمت کرانا چاہے ہو... انسپکٹر جنید۔'' چھوٹی سرکار نے چونک کر کہا۔

'' ہاں... فکر نہ کرو... تھوڑی سی ہی کراؤں گا۔'' انھوں نے ہنس کر کہا اور اکرام کو اشارہ کیا۔ ان کا اشارہ پاتے ہی اکرام نے بلا کی پھرتی سے بونے پر چھلا نگ لگائی... لیکن یہ کیا... وہ تو ایک طرف کھڑا مسکرا رہا تھا۔

سب دھک سے رہ گئے... اس نے بے حد پھرتی سے خود کو بچایا تھا۔

''اکرام... یہ ٹیڑھی کھیر ہے... ذرا احتیاط سے کھانا۔'' خان رحمان نے ہنس کر کہا۔

''سر... آپ فکر نہ کریں... میں ٹیڑھی کھیر کھانے میں ماہر ہوں... کئی بار کھا چکا ہوں۔'' اکرام نے ہنس کر کہا اور زمین پر بیٹھ گیا... چھوٹی سرکار نے چونک کر اُسے دیکھا...

''تم زمین پر کیوں بیٹھ گئے...اس پر حملہ کرو...ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔'' پروفیسر داؤد نے کہا۔

اُن کے خاموشی ہوتے ہی اکرام نے کمال پھرتی سے بلی کی طرح چھوٹی سرکار پر چھلانگ لگادی... اس بار وہ خود کو بچا نہ سکا اور اکرام کی زد میں آکر الٹ کر زمین پر گر گیا۔

''واہ... کیا بلی چھلانگ تھی۔'' خان رحمان مسکرائے۔

''شکریہ سر...'' اکرام نے زمین سے اُٹھتے ہوئے کہا۔ چھوٹی سرکار ابھی تک زمین پر لیٹی تھی۔ وہ لمبے لمبے سانس لے رہی تھی۔ یہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے۔ انھیں امید نہیں تھی کہ وہ اس قدر جلد ڈھیر ہوجائے گا۔

''چھوٹی سرکار ! کب تک لیٹے رہو گے... اُٹھواور ہمیں اپنے باس کے بارے میں بتائو...'' انسپکٹر جنید نے کہا۔

''انسپکٹر جنید! اس سے نہ اُلجھو... میں یہاں تمھارا انتظار کر رہا ہوں۔'' اچانک کمرے میں باس کی آواز گونجی۔

وہ چونک کر ادھر ادھر دیکھنے لگے۔ آواز دیواروں سے نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔

''اوہ... اس کا مطلب ہے... تم نہ صرف ہمیں دیکھ رہے ہو بلکہ ہماری باتیں بھی سن رہے ہو۔'' انسپکٹر جنید نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''یہی بات ہے... آجاؤ اب...'' باس نے ہنستے ہوئے کہا۔

''لیکن تم اس وقت ہو کہاں؟'' خان رحمان نے پوچھا۔

''ہال میں...جہاں تم نے میرے غلاموں کو بے ہوش کیا تھا۔''

''لل...لل...لیکن ...'' خان رحمان نے کہنا چاہا۔

''خان رحمان! یہاں ضرور کوئی خفیہ راستا ہے...''انسپکٹر جنید نے کہا۔

''اوہ..خفیہ راستا...لیکن وہ نظر تو آ نہیں رہا۔''

''خفیہ راستے آسانی سے نظر آجائیں تو انھیں خفیہ کون کہے۔'' وہ مسکرائے

وہ واپس ہال میں پہنچے... باس اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھا تھا اور اس کے غلام پہلے کی طرح قطار میں کھڑے تھے۔

باس انھیں دیکھ کر مسکرایا اوربولا:

''جنید! آپ نے کام تو زبردست کرلیا تھا لیکن ...''

''لیکن ...کیا...!!''

''لیکن میں نے پروفیسر داؤد کی بات سن لی...کہ ان پر پانی کے چھینٹے ماریں جائیں تو یہ فوراً ہوش میں آجائیں گے...دیکھیں! یہ سب ہوش میں ہیں۔''

''اوہ...اوہ...'' ان کے منہ سے نکلا۔

''اس کا مطلب ہے...یہاں کچھ خاص نظام بھی ہے۔''

باس خاموش رہا...پھر بولا:

''اب ادھر کھڑے ہوجائیں اور میری بات غور سے سنیں...''

''کہو موٹے باس... کیا کہنا چاہتے ہو؟'' خان رحمان نے کہا۔

''پہلے ایک سوال کا جواب دیں... میں آپ لوگوں کو بڑے ادب سے مخاطب کرتا ہوں اور آپ مجھے موٹاباس کہتے ہیں۔ میں نے سنا تھا ، ادب و احترام آپ لوگوںکی گھٹی میں ہے ... لیکن...''

''پہلے ایسا ہی تھا... لیکن ہم طے کیا ہے کہ دشمن کو عزت نہیں دیں گے۔ مجرم لوگ عزت کے قابل نہیں ہوتے ہیں۔'' انسپکٹر جنید نے کہا۔

''ہم تمھیں موٹا باس کہہ کر مخاطب کرتے ہیں ... کیا تمھیں بُرا لگتا ہے۔'' اکرام نے پوچھا۔

''نہیں... لیکن آپ لوگوں کے بارے میں سن رکھا تھا... اس لیے یہ بات کی... ورنہ آپ مجھے کچھ بھی کہہ سکتے ہیں ... '' باس نے کہا۔

''اچھا ... یہ بتاؤ... تمھارے ارادے کیا ہیں؟'' انسپکٹر جنید نے کہا۔

''میرے ارادے اچھے نہیں ہیں ... ''

''اس کا تو ہمیں بھی اندازہ ہے... تم بُری نیت سے سامنے آئے ہو لیکن یاد رکھنا، تمھارے ارادے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اور ہم بچ کر نکل جائیں گے... ان شاء اللہ۔''انھوں نے کہا۔

''بھول ہے آپ کی، آپ مجھے نہیں جانتے، ان لوگوں کو نہیں جانتے ، میرے ایک اشارے پر یہ جان پر کھیلنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں...کیوں بھئی غلاموں... میں ٹھیک کہہ رہاہوں نا...''

''ہاں!آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں،آپ صرف اشارہ کریں،ہم اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔'' جانی نے ہنس کر کہا۔ باقی اس کی تائید میں سر ہلانے لگے۔

''اوہ...اوہ...'' انسپکٹر جنید کے منہ سے نکلا۔

اچانک باس کے موبائل کی گھنٹی بجنے لگی۔ اس نے جیب سے فون نکالا اور دوسری طرف کی بات سننے لگا... اسے اپنی طرف سے غافل دیکھ کر انسپکٹر جنید نے اس پر چھلانگ لگادی ... وہ باس کی کرسی پر گرے...کیوں کہ وہ کرسی چھوڑ کر تین قدم دور کھڑا تھا۔ فون اب بھی اس کے کان سے لگا ہوا تھا۔ وہ حیران رہ گئے۔ جب کہ باس کے غلام ہنسنے لگے ۔

''لگتا ہے ... باس بھی ٹیڑھی کھیرہے۔'' اکرام نے منہ بنایا ۔

''لیکن چھوٹی سرکار جیسی نہیں... وہ آپ کے دوسرے ہی وار میں زمین چاٹنے لگا تھا۔'' کاکا نے زور سے کہا۔

''ارے... تت... تو کیا تم بھی اس چھوٹے کمرے میں ہونے والی لڑائی دیکھ رہے تھے ۔'' خان رحمان نے چونک کر اسے دیکھا۔

''ہم سب ہی دیکھ رہے تھے ۔''شاشا ہنسا۔

''اور وہاں ہونے والی باتیں بھی سن رہے تھے۔'' اچھا کامی مسکرایا۔

''اوہ...لیکن کیسے... یہاں کوئی سکرین تو نظر نہیں آرہی ۔'' اکرام نے حیرت سے پوچھا۔

''سکرین ہے... لیکن آپ لوگوں کو نظر نہیں آئے گی۔'' بابا نے کہا۔ اس کے خاموشی ہوتے ہی انسپکٹر جنید باس پر جھپٹے۔ اُس نے مچھلی کی طرح تڑپ کر اپنی جگہ چھوڑنا چاہی لیکن وہ ایسا نہ کر سکا... انسپکٹر جنید اس بار پہلے سے زیادہ ہوشیار تھے، وہ باس کو لیتے زمین پر گرے ... موبائل اس کے ہاتھ سے نکل کر جانی کے قریب چلا گیا۔ اس نے جلدی سے وہ اُٹھالیا۔ باس زمین پر گرا ضرور تھا لیکن اس نے کمال مہارت سے انسپکٹر جنید کو ہوا میں اچھال دیا تھا۔ پھر وہ اچھل کر کھڑا ہوگیا ۔

''انسپکٹر جنید!آپ کو خاموشی سے فرحانہ کے یہاں آنے کا انتظار کرنا چاہیے ۔ وہ یہاںآلے... پھر شوق سے لڑ لینا۔'' اُس نے اطمینان سے جواب دیا۔ وہ اس کے اطمینان کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ حیرت کی ایک بات یہ بھی تھی کہ اس کے کسی غلام نے انسپکٹر جنید اور باس کی اچھل کود میں مداخلت نہیں کی تھی۔

''کیا مطلب ! فرحانہ یہاں آرہی ہے ۔ ارے باپ رے...!''

''اب اُس کے ساتھ حموداورفاروق بھی ہوں گے۔'' باس مسکرایا۔

''تمھارے ارادے بہت خطرناک لگ رہے ہیں۔'' پروفیسر داؤد نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا۔

باس نے پروفیسر داؤد کی بات سنی اَن سنی کرتے ہوئے جانی سے کہا:

''جانی! میرا فون دو...''

جانی نے اُسے فون پکڑایا اور واپس اپنی جگہ پر چلا گیا۔

''موٹے! میں سوچ رہا ہوں کیوں نہ ہم تم پر حملہ کر دیں۔''انسپکٹر جنید نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''حملہ فضول ہوگا...میرے غلام آپ کے ساتھیوں کی چٹنی بنا کر رکھ دیں گے۔'' باس نے کہا۔

''پروا نہیں... ویسے بھی ہمیں چٹنی بہت پسند ہے... ''

''ٹھیک ہے... کیسے حملہ کرنا چاہتے ہو۔''

''پہلے زمانے میں جس طرح جنگیں شروع ہوتی تھیں... ہم بھی ویسے ہی شروع کرنا چاہتے ہیں۔یعنی...''

''یعنی...کیا...؟''

''یعنی تمھارے ایک آدمی سے میرا ایک ساتھی مقابلہ کرے گا... اس طرح ایک ایک کرکے دونوں طرف سے لوگ سامنے آئیں گے۔ جس کے ساتھی ڈھیر ہو گئے ... وہ ہار جائے گا۔''

''ارے واہ... زبردست لیکن جنید اس طرح تو آپ ہار جائیں گے، کیوں کہ میرے ساتھی لڑائی بھڑائی کے ماہر ہیں ... اور تمھارے دو ساتھی لڑنا نہیں جانتے۔'' اُس کا اِشارہ خان رحمان اور پروفیسر داؤد کی طرف تھا۔

''اللہ مالک ہے۔ یہ ہمت کرکے لڑ لیں گے، کیوں پروفیسر صاحب! کیا آپ لڑ سکیں گے؟'' انسپکٹر جنید اُن کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرائے۔

''کک...کک... کیا مطلب...!!!'' وہ چونک اُٹھے۔

''مطلب، آپ باس کے غلاموں میں سے کسی سے مقابل کرسکیں گے۔''

''اوہ... ارے باپ رے...نن نہیں...''وہ بوکھلا اُٹھے۔

''اِس کا مطلب ہے... آپ کسی سے نہیں لڑیں گے۔''

''ایسا تو میں نے نہیں کہا...'' اُنھوں نے جلدی سے کہا۔

''نن نہیں... کا کیا مطلب ہے... یہ بتادیں پھر۔''

''مجھے ڈر لگ رہا ہے جنید،لیکن میں کوشش ضرور کر وں گا۔'' انھوں نے کہا تو انسپکٹر جنید مسکرادیے۔

''سن لیا موٹے باس... میری ٹیم کے سب سے کمزور ممبر بھی لڑنے کی کوشش کریں گے۔''

''کوشش...'' باس اور اس کے غلام ہنسنے لگے۔

''ہنسنے کی ضرورت نہیں، اپنا کوئی غلام بھیجو،اُس سے مقابلہ کرنے کے لیے ادھر سے میں اپنا ایک ساتھی بھیجوں گا۔''

''ٹھیک ہے انسپکٹر جنید... میں اپنا ایک غلام بھیجتا ہوں... '' باس نے کہا۔ اس نے کاکاکو اشارہ کیا۔ وہ ایک قدم آگے آگیا۔

''پہلی ناکامی کا داغ دھونے کا اس سے اچھا موقع تمھیں نہیں ملے گا۔''

''باس! آپ دیکھیں گے... میں اپنے مخالف کو اناًفاناً زیر کرلوں گا۔'' کاکا نے مسکراتے ہوئے کہا۔

'' انسپکٹر جنید! میرا شیر تیار ہے... اِس سے مقابلے کے لیے آپ کسے بھیج رہے ہیں۔''

''اِس سے کون مقابلہ کرے گا بھئی؟'' انسپکٹر جنید نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا۔

''مم...میں ...'' محمد حسین آزاد نے کہا۔

''آپ رہنے دیں سر، اس سے میں مقابلہ کرتا ہوں۔'' لیاقت نے کہا۔

''تم نہیں... اس سے میں مقابلہ کرتاہوں۔''اسد نے کہا۔

''واہ.. تم نے میرے ساتھیوں کا جذبہ دیکھا۔'' انسپکٹر جنید باس کی طرف گھومے۔

ایسے میں کاکا نے جمپ لیا اور انسپکٹر جنید کے سامنے آ کھڑا ہوا:

''میرے مقابلے میں کون آرہا ہے۔''

''میں...'' اسد چلتا ہوا کاکا کے سامنے جا کھڑا ہوا۔انسپکٹر جنید ایک طرف ہٹ گئے۔

کاکا نے نظر بھر کر اسے دیکھااور ہنستے ہوئے کہنے لگا:

''تم واقعی میرا مقابلہ کرو گے۔''

''میرا نام اسد ہے...'' اس نے ہنس کر کہا۔

''میں شیر کی طرح طرح تمھارا مقابلہ کروں گا۔''

''اوہ... اچھا... چلو اب مجھ پر وار کرو...'' کاکا مسکرایا۔

کاکا کے چپ ہوتے ہی اسد نے اس کے پیٹ میں ٹکر ماری... لیکن کاکا ٹس سے مس نہ ہوا... اسد کی ٹکر اس کا کچھ نہ بگاڑ سکی۔ وہ حیران رہ گیا۔

''تم مجھے نہیں جانتے ...آؤ دوبارا وار کرو...'' کاکا ہنسا۔

اسد نے ایک نظر انسپکٹر جنید کو دیکھااور اچانک گھوم کر کاکا کے چہرے پر لات ماری... وار چونکہ غیر متوقع تھا، اس لیے کاکا مار کھا گیا اور زمین پر گر پڑا۔ اسے گرتے دیکھ کر اسد نے اس کی پسلی میں ٹھوکر مارنا چاہی لیکن کاکانے اس کا پائوں پکڑ کر زور سے گھمادیا... وہ گھومتے ہوئے زمین پر گرا... کاکا اچھل کر کھڑا ہوگیا۔ پھر اس نے ایک ٹھوکر اسد کی گردن پر رسیدکر دی... وہ درد سے چیخ اُٹھا۔ پھر کاکا نے اسے ٹھوکروں پر رکھ لیا... اسد بری طرح چیخ رہا تھا۔ پھر اچانک اس نے کاکا کی ٹانگ پکڑ کر ایک زور دار جھٹکا دیا ۔ کاکا سنبھل نہ سکا اور زمین پر آ رہا۔ اسد کمال پھرتی سے اُٹھا اور کاکا کے سر پر ایک زور دار مکا دے مارا۔ اس کے منہ سے چیخ نکل گئی۔

''وہ مارا... شاباش...اسد... تم نے کمال کر دیا۔'' انسپکٹر جنید خوشی سے اچھل پڑے۔

''ویری گڈ اسد...مار مار کر اس کا بھرکس نکال دو۔ بڑا آیا کاکا کہیں کا۔'' اکرام نے کہا۔

اسی وقت اسد اچھل کر گرا، کاکا نے سپرنگ کر طرح اچھل کر اس کے سینے پر ٹکر ماری تھی۔

''شاباش..کاکا...اسے چھوڑنا نہیں۔'' باس چہک اُٹھا۔

اب دونوں آمنے سامنے کھڑے تھے اورایک دوسرے کو گھور رہے تھے۔ پھر اچانک کاکا نے گھوم کر اسد کی کنپٹی پر کک ماری... اسد الٹ کر گرا اور پھر اُٹھ نہ سکا۔ چوٹ شدید لگی تھی۔وہ زمین پر پڑالمبے لمبے سانس لے رہا تھا۔

''اسد... واپس آجاؤ...میں کسی اور کو بھیجتا ہوں۔'' انسپکٹر جنید نے کہا۔ اسد نے کچھ کہنا لیکن اُنھوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے منع کر دیا۔ وہ اُٹھا اور واپس اپنی جگہ پر چلا گیا۔

''انسپکٹر جنید ..آپ کا ایک ساتھی تو ہار گیا ۔'' باس نے ہنستے ہوئے کہا۔

''افسوس ہے... اب میں اپنا دوسرا ساتھی بھیجوں گا۔'' انھوں نے کہا۔

''شوق سے بھیجیں...''

انھوں نے اکرام کو اشارہ کیا...وہ خم ٹھونک کر میدان میں آگیا۔ دوسری طرف سے باجا اس کے مقابلے میں آگیا۔

''میں باجا ہوں...''باجا نے اکڑ کہا۔

''اوہ... تب میں بجا دوں گا۔'' اکرام ہنسا۔

''اکرام ... یہ کچھ بجانے کا وقت نہیں... لڑنے کا وقت ہے۔ اس لیے بجانے ، گانے کا خیال جاتا کرو اور اسے شکست دو۔'' خان رحمان نے کہا۔

''آپ سمجھے نہیں سر...'' اکرام مسکرایا۔

''تو تم سمجھا دو نا ...''

''یہ باجا ہے اور میں اسے ضرور بجاؤں گا... آپ دیکھ لینا۔'' اکرام کہہ رہا تھا کہ باجا دوڑ کر اس کی طرف آیا ... وہ شاید اسے ٹکر مارنا چاہتا تھا لیکن اکرام یہ دیکھ کر حیران رہ گیا... وہ اس سے دو قدم کے فاصلے پر آکر رک گیا تھا۔ پھر اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتا... باجا نے اس کا باجا بجا دیاتھا... اس نے ایک ٹانگ پر گھوم کر اس کی پسلیوں کی خبر لے لی تھی...اکرام اپنی پسلیاں پکڑ کر بیٹھتا چلا گیا۔ اس کے چہرے پر شدید تکلیف کے آثار تھے۔ یہ دیکھ کر باجا نے فخر سے باس کی طرف دیکھا...دوسرے ہی لمحے وہ منہ کے بل زمین پر گر ا... اکرام اُس کے سر پر کھڑا مسکرا رہا تھا۔

''میں نے کہا تھانا... تمھارا باجا ضرور بجاؤںگا۔''

''تمھاری ایسی کی تیسی...'' وہ بھنا کر اُٹھا اور اس سے بھڑ گیا... وہ گتھم گتھا ہونے لگے۔ کبھی باجا کا پلڑا بھاری ہوتا تو کبھی اکرام کا... انسپکٹر جنید لڑائی دیکھنے کے ساتھ ساتھ ہال کا بغور جائزہ لے رہے تھے۔

''شاباش اکرام...شاباش۔''پروفیسر داؤد چلائے۔

''شش...شش...شکریہ پروفیسر صاحب۔'' اکرام نے کہا۔ ساتھ ہی اس نے باجا کی پیٹھ بجا ڈالی۔ کوئی تین منٹ تک یہ لڑائی جاری رہی... آخر اکرام نے باجا کا واقعی باجا بجا دیا... وہ زمین پر اوندھے منہ لیٹا ہوا تھا ... اُس کے منہ سے خون کی لکیر بہہ رہی تھی۔

''واہ..اکرام..واہ..تم تو چھا گئے۔'' خان رحمان خوشی سے جھوم اُٹھے۔

''باس... مقابلہ ایک ایک سے برابر ہوا... اب کسے بھیجو گے؟'' انسپکٹر جنید مسکرائے۔

''بابا کو...چلو بابا...میدان میں اُترو...'' باس نے ہنستے ہوئے کہا۔

''مم...میدان میں... لیکن یہاں میدان کہاں ہے... ہم اس وقت تمھارے ہال میں کھڑے ہیں۔'' پروفیسر داؤد نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

''جس جگہ لڑائی ہو.. اُسے میدان جنگ ہی کہتے ہیں..آپ اتنا بھی نہیں جانتے پروفیسر صاحب۔''

''اوہ... اچھا... میں سمجھا ...''

بابا کے مقابلے میں انسپکٹر جنید نے محمد حسین آزاد کو بھیجا... دونوں آمنے سامنے کھڑے ہوگئے۔ پھر محمد حسین آزاد نے مسکراتے ہوئے کہا:

''بھائی ...ایک کام کرتے ہیں...ہم دیسی لڑائی لڑتے ہیں۔''

''دیسی لڑائی... وہ کیسی ہوتی ہے۔'' بابا نے حیران ہو کر کہا۔ محمد حسین آزاد کی بات سن کر انسپکٹر جنید مسکرادیے۔

''میں دیسی کشتی کی بات کر رہا ہوں...اس کے بڑے فائدے ہیں... ایک فائدہ یہ ہے کہ ہم میں سے کسی کو چوٹ نہیں لگے گی...اور نہ ہی کسی کے خون نکلے گا...''

''اوہ... تو تم فری اسٹائل کی بجائے دیسی کشتی لڑنا چاہتے ہو۔'' بابا ہنسا۔

''ہاں... ولایتی کشتی میں چوٹیں بہت لگتی ہیں قسم سے۔'' محمد حسین آزاد نے معصومیت سے کہا۔

''ٹھیک ہے... جیسے تمھاری مرضی۔''بابا نے کندھے اُچکائے۔

''تو پھر آئو... اللہ کا نام لیتے ہیں۔'' محمد حسین آزاد مسکرایا۔

''حد ہوگئی... تم کشتی کرنے لگے ہو یا کھانا کھانے ۔ '' اکرام نے منہ بنایا۔

''سیانے کہتے ہیں، کوئی بھی اچھا کام کرنے سے پہلے اللہ کا نام ضرور لینا چاہیے... اس کے بڑے فائدے ہیں۔''

''تم نے ٹھیک کہا، سیانے سچ کہتے ہیںلیکن ان کی آج کل مانتا کون ہے.. مٹی پلید کرکے رکھ دی ہے لوگوں نے، اپنے سیانوں کی۔''خان رحمان نے کہا۔

''چلو یار ...اب کشتی شروع کرو۔'' انسپکٹر جنید نے کہا ۔

دونوں کشتی کرنے لگے... محمد حسین آزاد دیسی کشتی میں ماہر تھا... اس لیے اس نے جلد ہی بابا کو چت کرلیا۔

بابا کے چت ہوتے ہی باس بول اُٹھا:

''باجا...بابا...تم نے دوسری بار شکست کھائی ہے...''

''بب...باس ...معاف کر دیں۔''باجا نے گڑگڑاتے ہوئے کہا۔

''پہلی ناکامی پر معاف ہی تو کیا تھا.. اب دوبارا معافی...سوچوں گا، جاؤ اپنی جگہ پر...''

باجا اور بابا نے کچھ کہنا لیکن باس نے ہاتھ اُٹھا کر انھیں خاموش کر دیا۔ وہ سر جھکائے اپنی جگہ پر چلے گئے۔

''اب مقابلہ ایک دو کا ہوگیا ہے۔میں اپنا چوتھا پہلوان بھیج رہا ہوں...تم بھی بھیجو۔'' انسپکٹر جنید نے کہا۔ انھوں نے پروفیسر داؤد کو اشارہ کیا۔

''کک...کک... کیا مطلب۔''وہ چونک اُٹھے۔

''میرے چوتھے پہلوان آپ ہیں پروفیسر صاحب...''وہ مسکرائے۔

''اوہ...ارے باپ رے... تب میں آج ضرور مارا جاؤں گا جنید۔'' پروفیسر داؤد تھر تھر کانپنے لگے۔

''حد ہوگئی، ابھی مقابلہ شروع بھی نہیں ہوا اور آپ کانپنے بھی لگے۔ مقابلہ کیا خاک کریں گے۔'' باس ہنسا۔

''تم اپنا چوتھا غلام بھیجو... یہ جیسے تیسے کرکے مقابلہ کر ہی لیں گے۔'' انسپکٹر جنید نے کہا۔

''یارجنید!مجھے لڑنا نہیں آتاہے... اس لیے کہ میں پہلوان نہیں، سائنس دان ہوں...'' پروفیسر داؤد کے چہرے پر خوف ہی خوف تھا۔

''اوہ...انسپکٹر جنید...یہ لڑائی ایک شرط پر شروع ہوگی۔'' باس نے کہا۔

''شرط...کون سی شرط...!'' وہ چونکے۔

''پروفیسر داؤد کو اپنی جیب میں موجود ساری چیزیں میرے حوالے کرنا ہوں گی۔کیا پتا... یہ لڑائی کے دوران اپنی کوئی ایجاد استعمال کر لیں۔'' باس نے کہا۔

''اوہ... یہ نہیں ہو سکتا... '' پروفیسر داؤد نے جلدی سے کہا۔

''تب پھر یہ لڑائی بھی نہیں ہوگی۔''

''اوہ! جب کہ میں یہ لڑائی ہر صورت چاہتا ہوں۔'' انسپکٹر جنید مسکرائے۔

''تو ان سے کہیں یہ اپنی جیب خالی کر دیں۔''

''ٹھیک ہے..پروفیسر صاحب! آپ جیب سے اپنی چیزیں نکال کر اسے دے دیں۔''

''لل...لیکن جنید...جیبیں تو پہلے ہی خالی ہیں۔'' پروفیسر دائود نے اپنی جیبیں سب کے سامنے اُلٹ دیں...

''اوہ...ارے! یہ تو خالی ہیں...'' باس چونکا۔

''موٹے باس! تمھارے غلام مجھے یہاں زبردستی لائے تھے، اگر ساری بات بتا کر لاتے تو ایسی اور بھی بہت سی چیزیں ساتھ لے آتا...'' پروفیسر داؤد برے برے منہ بناتے ہوئے کہا۔

''اوکے! چلو شاشا،اِن کی چٹنی بنا دو، کافی دن ہوگئے ہیں چٹنی کھائے۔'' باس نے ہنستے ہوئے شاشا کو اشارہ کیا۔ شاشا اپنی جگہ سے اُچھلا اور پروفیسر داؤد کے سامنے آگیا۔

'' چٹنی...تم چٹنی کھانا چاہتے ہو!''وہ گھبرا گئے۔

''ہاں! مجھے چٹنی بہت پسند ہے۔'' باس ہنسا۔

''لیکن میری چٹنی مزے کی نہیں ہوگی...''

''کیوں... مزے کی کیوں نہیں ہوگی ...''

''اس لیے کہ بوڑھی چٹنی مزے کی نہیں ہوتی۔'' پروفیسر داؤد نے کہا۔

''بابا جی... میں آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔'' شاشا نے ہنستے ہوئے کہا۔

''آتا ہوں یار.. ایسی بھی کیا جلدی ہے۔'' پروفیسر داؤد نے کہا ۔

''پروفیسر صاحب! ہمت کریں...مجھے یقین ہے...آپ یہ لڑائی جیت جائیں گے۔''انسپکٹر جنید نے اُن کی حوصلہ افزائی کی۔

''بابا جی! پہلے آپ وار کریں گے یا مجھے اجازت ہے۔'' شاشا مسکرایا۔

''بیٹا... مجھ میں اتنی ہمت کہاںجو وار کروں... تم ہی کرلواور دیکھنا... ذرا خیال سے کرنا... بوڑھا ہوں۔'' پروفیسر داؤد نے کہا۔

''ٹھیک ہے... پہلا وار میں ہی کرتا ہوں۔'' شاشا نے کہا اور پروفیسر داؤد پر چھلانگ لگادی... وہ ڈر کر نیچے گرے اور اس کی طرف لڑھک گئے۔ شاشا اُن کے اوپر سے ہوتا ہوا زمین پر گرا...

''ارے... !!'' وہ پلٹا۔

''فکر نہ کرو بیٹا، میں ڈر گیا تھا...تم دوبارا وار کرو۔'' اُنھوں نے مسکراتے ہوئے کہا اور کھڑے ہوگئے۔

شاشا بھنا کر ان کی طرف دوڑا۔ اور قریب آتے ہی اُن کے سینے میں ٹکر ماری ،ٹکرپروفیسر دائود کے سینے میں نہ لگ سکی... وہ اپنی ہی جھونک میں رکوع کے بل دور تک چلا گیا۔ پھر پھنکارتا ہوا واپس پلٹا اور غضب ناک نظروں سے اُنھیں دیکھنے لگا:

''بیٹا! میں نے کہا تھا، خیال سے وار کرنا... میں بوڑھا ہوں... سینے پر ٹکر کیسے برداشت کر سکتا تھا، اس لیے ایک طرف ہوگیا،محسوس نہ کرنا.. .''

''واہ..آپ نے تو کمال ہی کر دیا...بھئی بہت خوب۔'' انسپکٹر جنید نے چہکتے ہوئے کہا۔

''شکریہ جنید ...'' وہ کہہ رہے تھے کہ شاشا ایک بار پھر اُن پر جھپٹا لیکن وہ تیزی سے ایک طرف ہوگئے۔

''اوہو... کیا کر رہے ہو...وار کرو تم مجھ پر...'' انھوں نے کہا۔

''مم...میں ...میں وار ہی تو کر رہاہوں...لیکن...'' شاشا ہکلایا۔

''لیکن...کیا...؟''

''لیکن آپ میرے ہر وار سے بچ جاتے ہیں۔''

''اوہ... یہ تو بہت بُری بات ہے... خیر! تم ایک بار پھر کوشش کرو... شاید اس بار کامیاب ہوجاؤ... چلو شاباش...'' پروفیسر داؤد نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اُن کے ساتھی اس صورت حال سے لطف لے رہے تھے۔

شاشا ایک بار پھر حملہ کرنے کے لیے پر تول چکا تھا...

''آپ اس بار میرے وار سے بچ نہیں سکیں گے باباجی...'' شاشا نے کہا اور ایک ٹانگ پر کسی لٹو کی طرح گھومنے لگا۔ اُسے گھومتے دیکھ کر پروفیسر داؤد پریشان ہوگئے۔کیونکہ وہ جس رفتار سے گھوم رہا تھا... اُس پر نظر رکھنا مشکل تھا۔ انھوں نے انسپکٹر جنید کی طرف دیکھا۔ انھوں نے زمین کی طرف اشارہ کیا۔ پروفیسر داؤد مسکرا دیے۔ پھر جب شاشا گھومتا ہوا، اُچھل کر اُن کی طرف آیا تو وہ فوراً زمین پر چیت لیٹ گئے...شاشا گھومتا ہوا آگے نکل گیا۔ ایک بار پھر اپنا وار خالی جاتے دیکھ کر اُسے جیسے آگ لگ گئی... وہ اُن کی طرف بھاگا۔ وہ گھبرا اُٹھے،پھر اچانک ہال میں اُن کی چیخ گونجی اور وہ زمین پر گر کر ساکت ہوگئے۔

''شاباش... شاشا...'' باس نے ہنسا۔

''لو بھئی انسپکٹر جنید ... پروفیسر صاحب تو گئے۔ ویسے آپ نے انھیں شاشا کے مقابلے میں بھیج کر غلطی کی تھی۔''

''اب عام جنگ ہوگی...خان رحمان ! آپ سب ان پر ٹوٹ پڑیں...'' انسپکٹر جنید نے چیخ کر کہا۔ اسی وقت باس اچھل کر کھڑا ہوگیا۔

''گویا اب دوبدو لڑائی ہوگی۔ ٹھیک ہے.. تم سب بھی ان پر ٹوٹ پڑو۔''

گھمسان کا رن پڑا۔ دونوں پارٹیاںایک دوسرے سے گتھم گتھاہوگئیں۔ باس اور انسپکٹر جنید ایک دوسرے پر بڑھ چڑھ کر وار کر رہے تھے۔

باس کے ساتھی چونکہ تعداد میں زیادہ تھے..اس لیے ان کا پلڑا بھاری تھا۔ لڑتے لڑتے شاشا انسپکٹر جنید کے سامنے آگیا۔ انھوںنے اس کی گردن پر کھڑی ہتھیلی سے کاری وار کیا تووہ بلبلا اُٹھا۔

''باس! آپ کسی اور کو پکڑ لیں ... انھیں میں دیکھتا ہوں۔''

''ٹھیک ہے... لیکن ذرا ہوشیاری سے... یہ بہت تیزہیں۔''

ایسے میں انھوں نے ایک ٹانگ گھماکر اس کے پہلو میں دے ماری۔ وہ تلملا اُٹھا:

''میں آپ کو نہیں چھوڑوں گا...''

''شوق سے نہ چھوڑنا...'' وہ مسکرائے اور جھکائی دے گئے ۔ شاشا نے انھیں ٹکر مارنا چاہی تھی۔وار خالی جاتے دیکھ کر شاشا واپس پلٹا...اور تقریباً ہوا میں اُڑتا ہوااُن کی طرف آیا... وہ چوکنے تھے... انھوں نے ذرا سا ہٹ کر اسے دبوچ لیا اور پھر ایک طرف اُچھال دیا۔وہ زمین پر گرتے ہی چیخ پڑا...وہ بھاگ کر اس کے پاس گئے اور اسے ٹھوکروںپر رکھ لیا... تھوڑی ہی دیر میں وہ بے سدھ ہوگیا۔ یقینا بے ہوش ہوگیا تھا۔ انسپکٹر جنید پلٹے لیکن پھر فوراً اُلٹ کر گرے... ماشا نے اُن پر وار کیا تھا۔ وہ گرتے ہی کسی سپرنگ کی طرح اچھلے اور ماشا کے سامنے کھڑے ہوگئے۔

''تم نے پیچھے سے وار کیا...''

''پھر کیا ہو...؟اس وقت سب جائز ہے۔ دیکھ نہیں رہے،سب ایک دوسرے سے اُلجھ رہے ہیں ... گر رہے ہیں ... اُٹھ رہے ہیں۔'' ماشا ہنسا۔

''ہاں... یہ تو ہے... یہ لو میرا وار... '' انسپکٹر جنید نے کہا اور اچھل کر ماشا پر وار کیا ... پھرتی اتنی تھی کہ وہ سنبھل نہ سکا...اُلٹ کر گرا اور ساکت ہوگیا۔ وہ مسکرا دیے... اب انھوںنے ہال میں نظریںدوڑائیں۔ خان رحمان، اکرام ، محمد حسین آزاد، لیاقت اوراسد چار لوگوںکو بے ہوش کر چکے تھے۔ ان کے مقابلے میں ابھی بھی چار لوگ موجود تھے۔ باس اُن کے علاوہ تھا۔انھوں نے دیکھا... اکرام نے باس کو پیچھے سے پکڑ رکھا تھا اور وہ خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایسے میں لیاقت بھی اُس سے چمٹ گیا۔ یہ دیکھ کر باس کے دوآدمی تیزی سے اُن کی طرف بڑھے...

''اکرام ،لیاقت... بچنا۔'' انسپکٹر جنید نے چیخ کر کہا۔ اکرام نے جلدی سے باس کو چھوڑ ااور زمین پر لڑھکتا چلا گیا۔ لیاقت نے بھی کمال پھرتی سے خود کو بچا لیا تھا۔ انسپکٹر جنید نے باس پر چھلانگ لگادی اور اُسے لیتے ہوئے زمین پر گرے... ساتھ ہی انھوں نے اس کی گردن پر ایک زور دار ہاتھ جڑ دیا۔ باس کے منہ سے گھٹی گھٹی چیخ نکلی۔

''وہ مارا ! '' خان رحمان کی چیختی ہوئی آواز ہال میں گونجی۔

''ابھی کہاں مارا خان رحمان...دُعا کرو، جلدہی مار دوں۔'' وہ باس کی گردن دبا رہے تھے جس کی وجہ سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔

ایسے میںاکرام کی آوازگونجی:

''لو بھئی... اللہ کے حکم سے ایک اور بے ہوش کر دیا۔''

''مبارک ہوسر...'' محمد حسین آزاد نے خوش ہو کر کہا لیکن پھر چیخ مار کر زمین پر گرا... باس کے ایک ساتھی نے اس کے سر میں مکا مار ا تھا۔

''جانی! تم کہاںہو...؟'' باس کے منہ سے نکلا۔

''یہ...یہ... میرے شکنجے میں ہے موٹے باس۔'' خان رحمان نے ہنس کر کہا۔

''خان رحمان... ذرامیری آنکھوںکو دیکھنا...'' جانی نے کہا۔

''میں کیوں دیکھوں تمھاری آنکھوںمیں۔کیا یہ سونے کی ہیں۔'' اُنھوں نے تنک کر کہا اور بازوئوںکا شکنجہ سخت مزید کر دیا۔

''بہت خوب... خان رحمان ! اس کی آنکھوں میں بھول کر بھی نہ دیکھنا... اس کی آنکھیں بڑی خطرناک ہیں۔'' انسپکٹر جنید نے چیخ کر کہا۔

''خطرناک آنکھیں... اوہ...ا رے باپ رے... یہ... یہ تو کسی ناول کا نام ہو سکتا ہے۔''

''خان رحمان ... بُری بات ہے... یہ وقت ناول کانام رکھنے کا نہیں ہے۔ تم جانی کا بھرکس نکالو اور میں اس باس کا مربہ بناتا ہوں۔''

''ٹھیک ہے... میں آپ کو جانی کا بھرکس کھلاؤں گا اور آپ مجھے باس کا مربہ کھلانا... '' خان رحمان نے کہا۔اچانک جانی نے ایک زور دار جھرجھری لی اور خان رحمان کی گرفت سے نکل گیا۔

''مربہ تو اب میں آپ کا بناؤں گا... خان رحمان۔'' جانی پاگلوں کی طرح اُن پر ٹوٹ پڑا۔ وہ ان پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کر رہا تھا۔

''ارے باپ رے...'' لیاقت نے اپنے مدمقابل کو ایک جھٹکے سے الٹ دیا اور بھاگ کر خان رحمان کی مدد کو آیا۔ اس نے جانی کی کمر پر زور سے لات ماری۔ وہ خان رحمان پر گرا...

''اوہ... یہ میں نے کیاکیا۔'' اسی وقت کسی نے پیچھے سے اُس کی کمر پر لات رسید کی اور وہ جانی پر گرا۔

'' اوہ... انسپکٹر جنید ...اوہ...'' خان رحمان کی درد سے بھری آواز سن کر انسپکٹر جنید نے باس کو ایک جھٹکے سے دُور اُچھال دیا۔ وہ ادھ موا سا ہو گیا تھا۔وہ پھرتی سے خان رحمان کی طرف آئے... اس دوران لیاقت اٹھ گیا تھا اور جانی اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا جب کہ خان رحمان سیدھے لیٹے ہوئے تھے۔

''خان رحمان... آپ ٹھیک تو ہیں۔''

''اللہ کا شکر ہے۔ میں ٹھیک ہوں...ارے ...اوہ...'' جانی نے اُن کے سینے پر ہاتھ مارا تھا۔ انسپکٹر جنید نے جانی کے ایک لات رسید کر دی۔وہ الٹ کر گرا۔ انھوں نے جلد ہی باس کے باقی ساتھیوںکو بھی بے ہوش کر دیا۔ باس ہوش میں تو تھا لیکن اُس میں اُٹھنے کی ہمت نہیں تھی۔جانی بھی ادھ موا تھا۔ وہ دونوں زمین پر لیٹے... لمبے لمبے سانس لے رہے تھے۔

''انسپکٹر جنید! یہ نہ سمجھنا کہ تم کامیاب ہوگئے۔ یہ تمھاری عارضی فتح ہے۔ اصل فتح میری ہوگی...'' باس نے کہا۔

''اللہ رحم فرمائے گا...فی الحال تم اپنے زخم چاٹو ... میں باہر کا چکر لگا کر آتا ہوں۔ اکرام ..تم اس کا موبائل قبضے میں لے لو.. ہمارے بہت کام آئے گا۔'' انسپکٹر جنید نے کہا۔

''انسپکٹر جنید ! آپ میری مرضی کے بغیر یہاں سے باہر نہیں جا سکتے، یاد رکھنا...''

''تمھاری مرضی...کیا مطلب...!!'' وہ مسکرائے۔

''اصل میں ، میں نے دروازہ نمبر ایک کو سمجھا رکھا ہے، وہ کسی کو میری مرضی کے بغیر ہال سے باہر نہ جانے دے۔''

''اوہ...دیکھا جائے گا۔'' انھوں نے کہا اور اکرام کی طرف مڑے:

''ٹھیک ہے سر... میں موبائل لے لیتا ہوں۔'' اکرام نے کہا اور باس کی جانب بڑھنے لگا۔

''یہ لو موبائل، لیکن یہ اب کسی کام کا نہیں رہا...میں نے تمھاری نظر بچا کر پہلے فارمیٹ کیا،پھر اُسے خراب کر دیا۔سم بھی توڑ چکا ہوں،اب یہ بچوں کا کھلونا ہے ، یہ لو انسپکٹر جنید کو دے دو۔'' باس نے مشکل سے کہا اور موبائل اکرام کی طرف کھسکا دیا۔ اکرام نے دیکھا۔فون ڈیڈ تھا۔

''اوہ...سر...یہ تو واقعی ڈیڈ ہے...ہمارے کسی کام کا نہیں رہ گیا۔''

''اوہ...اوہ...ارے...'' اچانک وہ چونک اُٹھے۔

( جاری ہے )

عبدالرشید فاروقی

لکھاری

عبدالرشید فاروقی

آپ بچوں کے ادب سے سال اُنیس سو تراسی سے منسلک ہیں۔ بے شمار کہانیاں لکھ چکے ہیں۔ تین جاسوسی ناولز ، چار کہانیوں کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ قسط وار ناول اِن کے علاوہ ہیں۔ ادب اطفال میں اُستاد جی کے نام