اُنھوں نے دیکھا،وہ فاروق تھا۔اس کے پیچھے آئی جی شیخ نثار احمد کھڑے تھے۔وہ جلدی سے اندر چلے آئے:
''تم آگئے فاروق...؟'' حمود نے پوچھا۔
''ابھی نہیں... تھوڑی دیر میں آؤں گا۔'' وہ مسکرایا۔
''کہاں ہیں وہ تینوں..'' آئی جی نثار احمد نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔
''انکل! وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے... '' فرحانہ مسکرائی۔
''فرار ہوگئے... وہ کیسے... دروازہ تو باہر سے بند تھا۔''انھوں نے حیرت سے پوچھا۔
فرحانہ نے تفصیل بتائی تو اُن کا منہ کھلا رہ گیا...
''اوہ...پھر تو وہ چھلاوے تھے...''
''بالکل...وہ بہت تیز تھے۔میں تو حیران ہوں...وہ مجھے لیے بغیر واپس کیسے چلے گئے۔''
''حد ہوگئی! میں نے انھیں گرفتار کرانے کے لیے کس قدرشان دار ترکیب سوچی تھی۔افسوس! تم نے اُس پر پانی پھیر دیا۔'' فاروق نے منہ بنایا۔
''کوئی بات نہیں... افسوس نہ کرو... اللہ نے چاہا تو ہم انھیں پھر گرفتار کرا دیں گے۔''
''فاروق!کیا اباجان کاکچھ پتا چلا ؟میرا مطلب ہے،اُن سے کوئی رابطہ ہوا۔''
''اُن سے کوئی رابطہ نہیں ہوا... نہ صرف وہ بلکہ انکل اکرام ،محمد حسین آزاد بھی اپنے دو ماتھیوں کے ساتھ غائب ہیں۔ ''
''اوہ...ارے...انکل خان رحمان سے بات کی۔''
''انکل آئی جی کے ساتھ یہاں آتے ہوئے میں نے اُن کے فون سے اُن سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن اُن کا فون بند جا رہا ہے۔پروفیسر انکل کا فون بھی بند ہے...اُن کے گھر والوں سے بات کی تو پتا چلا ،وہ اُنھیں تلاش کر رہے ہیں ۔ گویا وہ دونوں بھی ابا جان کی طرح غائب ہیں...اللہ اپنا رحم فرمائے...میرا تو دل بیٹھا جا رہا ہے ... پتا نہیں، وہ کون ہے جو ہمارے ساتھیوںکو ایک ایک کرکے غائب کر رہا ہے... لیکن وہ ایسا کیوں کر رہا ہے، کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔'' فاروق کہتا چلا گیا۔
''اوہ...اوہ... حالات بہت خراب ہیں۔انکل! آپ ہی کہیں اب ہم کیا کریں... ہمیں تو کچھ سجھائی نہیں دے رہا ہے۔'' حمود نے فکرمندی سے کہا۔
''تم پریشان نہ ہوں...میں کچھ کرتا ہوں...'' آئی جی نثار احمد نے کہا۔
''ضرور کچھ کیجئے... میرا تو دل بیٹھا جا رہا ہے۔'' بیگم جنید نے کہا۔
''بھابھی! اللہ رحم فرمائے گا... میں اب چلتا ہوں۔'' آئی جی نثار احمد نے کہا اور پھر وہ چلے گئے۔ اُن کے جانے کے بعد بیگم جنید تو اپنے کمرے میں چلی گئیں اور وہ گامی ، شازی کو گھورنے لگے:
''ارے باپ رے...ہمیں ایسے کیوں گھور رہے ہیں۔'' گامی گھبرا گیا۔
''تت...تت... تو پھر کیسے گھوریں... یہ بتادیں، ہم ویسے گھورلیں گے۔'' فاروق مسکرایا۔
''یوں بھی یہ حضرت گھورنے میں ماہر ہیں۔'' حمود نے جل کر کہا۔
''کیا گھورنا ضروری ہے! گھورے بغیر بھی تو بات کی جا سکتی ہے۔'' گامی ہنسا۔
''ٹھیک ہے تو پھر بتائیں، آپ کون ہیں اور ہماری خیر خواہی پر کیسے آمادہ ہوگئے... جب کہ ہم زندگی میں پہلی بار آپ کو دیکھ رہے ہیں،کیوں فرحانہ! میں ٹھیک کہہ رہا ہوںنا...؟''
''ہاں...گامی! تمھاری طرف سے ہمیں مکمل اطمینان نہیں ہے۔ میں تو سوچ رہی ہوں... تم کسی وقت بھی ہم پر وار کر سکتے ہو۔'' فرحانہ نے کہا۔
اس کی بات سن کر گامی اور شازی ایک دوسرے کو دیکھنے لگے... پھر شازی کہنے لگا:
''کیا آپ کو ہم پر یقین نہیں ہے...''
''سچ کہوں تو ففٹی ففٹی...'' وہ مسکرائی۔
''ففٹی ففٹی... '' گامی کے منہ سے نکلا۔
''ہاں... ففٹی ففٹی... یعنی ہے بھی اور نہیں بھی۔ یہ مت بھولو،تم کس طرح ہمارے گھر میں گھسے تھے۔ کوئی خیرخواہ ایسے بھلا کب کسی کے گھر میں داخل ہوتا ہے۔''
''اور جو ہم نے کاکا، باجا اور بابا کے خلاف تمھارا ساتھ دیا تھا، وہ کیا تھا۔ کوئی بُرا سوچنے یا چاہنے والا ایسا کب کرتا ہے!'' گامی نے کہا۔
''ٹھیک کہہ رہے ہو... لیکن اگر تم کچھ وضاحت کر دو تو ہمارا مزید اطمینان ہوجائے گا۔'' حمود نے کہا۔
''ہوں... بات تو تم لوگوں کی بھی ٹھیک ہے...اچھامیںاپنی کہانی سناتا ہوں پھر۔'' گامی نے ہتھیار پھینک دیے۔
''اوہ... تو تمھاری بھی کوئی کہانی ہے...؟ '' فاروق نے منہ بنایا۔
''اورمیری کہانی انتہائی درد ناک ہے ، سنو گے تو رونے لگو گے۔''
''اوہ...ارے باپ رے...تب...تب تم اپنی کہانی نہ سنائو۔'' فاروق نے بوکھلا کر کہا۔
''کک...کیوں... ؟'' گامی نے حیرت سے پوچھا۔
''اس لیے کہ درد ناک کہانیاں سن کر میں واقعی رونے لگتا ہوں۔'' فاروق نے جلدی سے کہا۔
''ٹھیک ہے، آج جی بھر کر رو نا... کیوں کہ ایسی درد بھری کہانی تم نے اس سے پہلے کبھی نہیں سنی ہوگی۔'' گامی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''ارے ...نن نہیں۔'' فاروق نے بوکھلا گیا۔
''گامی! اِسے چھوڑو..اورتم اپنی کہانی سنائو۔'' حمود نے فاروق کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔
گامی نے ایک نظر سب پر ڈالی اور کہنے لگا:
''میں نے بہت قتل کئے ہیں...''
''اوہ... ارے باپ رے...ت... تب پھر تم تو ایک قاتل ہو۔'' فاروق اُچھل پڑا۔
''میں کب کہہ رہا ہوں ... میں قاتل نہیں ہوں۔'' گامی نے منہ بنایا۔
''یار! خاموش رہو، اِسے کہانی سنانے دو۔'' حمود نے جھلا کر کہا۔
''ہاں تو میں کہہ رہا تھا... میںنے بہت قتل کئے ہیں۔''
''اب یہ بھی بتادو ، کیوں کئے تھے؟'' فاروق نے پوچھا۔
''میں مجبور تھا...!!''
''اور تم کیوں مجبور تھے؟''
''اچھا ... یوںمزا نہیں آئے گا... میں شروع سے کہانی سناتا ہوں... ''
'' تو سناؤ نا... بار بار بریک کیوںلگا رہے ہو۔''
''میں اپنے ماں باپ کے ساتھ ایک خوب صورت گائوں میں سکھ چین کی زندگی گزار رہا تھا۔ میرے بوڑھے والدین مجھے دیکھ دیکھ کر جیتے تھے۔ میری ایک چھوٹی اور پیاری سی بہن تھی۔اس کا نام اریشہ تھا... وہ سب کی آنکھ کا تارا تھی۔ دوسری جماعت میں پڑھتی تھی... بلا کی ذہین تھی۔اپنی جماعت میں ہمیشہ پہلی پوزیشن لیتی تھی وہ۔ ہمارا لکڑیوں کا ایک چھوٹا سا ٹال تھا۔ اُس کی آمدن سے ہماری گزر بسر آسانی سے ہو جاتی تھی...ہمارا گاؤںدو پہاڑوں کے درمیان واقع تھا۔وہ جمعہ کا دن تھاجب وہ میرے پاس آیا تھا۔ وہ سرخ و سفید رنگ اور موٹے قد کا آدمی تھا۔ شکل و صورت سے شریف آدمی دکھائی دے رہا تھا۔ وہ میرے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔باتوں باتوں میں اس نے میری آمدنی کے بارے میں پوچھا ...میں نے بتا یا... اتنے پیسے کما لیتا ہوں کہ گزر بسر آسانی سے ہو جاتی ہے۔ میں اپنی کمائی سے مطمئن ہوں اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں، وہ میری باتیں توجہ سے سن رہا تھا... جب میں خاموش ہوا تو کہنے لگا ۔ تم بہت اچھے آدمی ہو... میں تمھاری مدد کرنا چاہتا ہوں...میںنے پوچھا... تم میری کس سلسلے میں مدد کرنا چاہتے ہو تو وہ کہنے لگا۔ اگر میرے ساتھ مل کر کام کرو تو میں تمھیں بہت سے پیسے دوںگا۔ اتنے کہ تم اس گاؤ ں کے سب سے امیر آدمی بن جائو گے... اس کی بات سن میں حیران رہ گیا۔وہ میرے لیے بالکل اجنبی تھا ۔ شاید کسی اور علاقے کا تھا۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا... میں اپنی زندگی سے مطمئن ہوں میرے بھائی... آپ کسی اور کی مدد کر دیں... اس گاؤ ں میں بہت سے نوجوان بے روز گار پھر رہے ہیں ... تم ان کی مدد کرو...کہوگے تو میں اُن سے تمھیں ملا دوں گا۔ میری بات سن کر وہ بڑے زور سے ہنسااور کہنے لگا... تم عجیب آدمی ہو... میں تمھاری مدد کرنا چاہتا ہوں اور تم کسی اور کی مدد کرنے کا کہہ رہے ہو۔ اس کی بات سن کر میں نے کہا تھا،کسی اور کا اس لیے کہہ رہاہوںکہ مجھے زیادہ پیسوں کی ضرورت نہیںہے۔ میںاپنی زندگی سے خوش ہوں... پھر وہ یہ کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا کہ سوچ لو ...میں پندرہ دن بعد دوبارا تمھارے پاس آؤ ں گا،پھر جو تمھارا فیصلہ ہو...''گامی یہاں تک کہہ کر چپ ہوگیا ۔
''اوہ... وہ پندرہ دن بعد آیاتھا یا نہیں...؟'' فرحانہ نے پوچھا۔
''وہ پندرہ دن بعد آیا تھا۔ وہ جیسے ہی میرے پاس بیٹھا، میں نے اس سے کہا... میں تمھارے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہوں... اس لیے کہ مجھے پیسوں کی اشد ضرورت ہے۔ میری بات سن کر وہ پہلے حیران ہوا ، پھرمسکراتے ہوئے کہنے لگا۔ ان پندرہ دنوں میں کیا ہوا کہ تم خود مجھے کہہ رہے ہو... ''
''بات تھی بھی حیران کن... تم نے اس کے ساتھ کام کرنے کی حامی کیوں بھری جب کہ تم اپنی زندگی سے ، اپنی کمائی سے مطمئن تھے۔'' حمود نے پوچھا۔
''اصل میں وہ پندرہ دن ہماری سکھ چین سے بھری زندگی میں طوفان لے آئے تھے۔میری والدہ کو ایک موذی بیماری نے آ گھیرا تھا۔ چھوٹی بہن اسکول سے گھر آتے ہوئے پتھروں سے پھسل گئی تھی ۔وہ سر میں شدید چوٹ لگنے کی وجہ سے کومے میں چلے گئی تھی،والدہ تین چاردنوں میں ہی اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ پے دَرپے لگنے والی چوٹوں سے پورا نظام درہم بھرم ہوگیا۔ میں پیسے پیسے کو محتاج ہوگیا۔ لوگوں سے قرض لینے کی نوبت آگئی تھی۔'' گامی ایک بار پھر چپ ہوگیا۔اُس کا چہرہ بجھ سا گیا تھا۔
''اوہ...اوہ...'' سب کے منہ سے ایک ساتھ نکلا ۔
''بڑی مصیبت آئی تھی تم پر...'' حمود نے دُکھ بھرے لہجے میں کہا۔
''پھر کیا ہوا...''
''میرے حالات سن کر اُس نے دُکھ کا اظہار کیا اور مجھے اپنے ساتھ ایک شہر میں لے گیا...وہ ایک بہت بڑا ٹرانسپورٹر تھا۔اس کی ان گنت چھوٹی بڑی گاڑیاں تھیں جو ملک بھر میں بھاگتی دوڑتی تھیں... ان گاڑیوں میں مسافر بردار بسیں تھیں اور سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لانے لے جانے والے ٹرالرتھے۔ وہ ارب پتی تھا شاید ۔ اس نے مجھے ڈرائیوروں پر نگران مقرر کر دیا۔ چونکہ مجھے بہت اچھی تنخواہ ملتی تھی، اس لیے میرے حالات دنوں میں ہی پھر گئے۔ میں نے اپنے گاؤں میں ایک شاندار گھر تعمیر کرلیا۔ شادی ہوئی تو میری بیوی، والد اور بہن کی دیکھ بھال کرنے لگی۔ میری زندگی کا سکھ چین لوٹ آیا تھا۔ پھر ایک دن اتفاق سے مجھے معلوم ہوا کہ میرا مالک کسی غیر قانونی دھندے میں ملوث ہے... اطلاعات واضح نہیں تھیں لیکن میرے کان کھڑے ہوگئے۔ میں ملک میں بسنے والے ان لوگوں میں سے ایک ہوں جو اِس گئے گزرے دَور میں بھی اپنے وطن سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں۔ اِس کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والوں کے خلاف ہر وقت صف آرا ہونے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ غیر قانونی دھندہ کیا تھا، یہ مجھے بہت بعد میں معلوم ہوا... لیکن میں یہ کبھی نہیں جان سکا کہ وہ اس دھندے کے لیے کون سی جگہ استعمال کرتا ہے۔ میں نے اپنے ذرائع سے جاننے کی سرتوڑ کوشش کی لیکن میں کامیاب نہ ہو سکا۔ میرے مالک کا نام فقیر پرندہ تھا۔شکل و صورت سے انتہائی معصوم لیکن اصل میں وہ ایک ظالم انسان تھا۔ چھوٹی چھوٹی بات پر اپنے ملازموں کو ڈانٹ پلا نا اس کی عادت تھی۔ میں نے دبے لفظوں میں اُسے کئی بار اِس عادت کے بُرے اثرات سے آگاہ کیا تھا لیکن وہ دولت و طاقت کے نشے میں چور تھا۔ میری کسی بات کو خاطر میں نہ لایا۔ قصہ مختصر! میں نے ایک دن چپکے سے اس کی نوکری چھوڑ دی... سچ پوچھو تو میں اُس کے چنگل سے فرار ہوگیا تھا۔ میرے پاس بہت سی دولت جمع ہوگئی تھی۔ میں نے گاؤ ں والا گھر فروخت کرکے ایک دُور افتادہ شہر میں گھر خرید لیا اور اپنے گھر والوں کے ساتھ زندگی گزارنے لگا۔ میں نے جوتوں کا ایک چھوٹا سا کارخانہ لگا لیا تھا ۔ اللہ نے اس میں خوب برکت دی اور میری دولت میںتیزی سے اضافہ ہونے لگا۔ پھر ایک دن فقیر پرندے نے مجھے آلیا... اس نے اپنے بندوں کے ذریعے میرے کارخانے کو آگ لگوا دی۔ مجھے بہت نقصان ہوا۔ اُس نے اِسی پر بس نہیں کی... وہ میری جان کے دَرپے ہوگیا۔ وہ کہتا تھا... تم نے میری نوکری کیوں چھوڑی؟میں تمھیں زمین سے اُٹھا کر آسمان پر لے گیااور تم نے مجھے چھوڑ دیا۔ جانتے ہو، تمھارے جانے کے بعد مجھے کتنے مسائل کا سامنا کرنا پڑا... میں تمھیں معاف نہیں کروں گا... برباد کر دوں گا... اور پھر اس نے ایسا ہی کیا... ایک کار ایکسیڈنٹ میں میری بیوی اوراکلوتی بچی ہلاک ہوگئی... بظاہر تو وہ اتفاقی حادثہ تھا لیکن میں جانتا تھا، وہ فقیر پرندے نے کرایا تھا۔ اس حادثے میں، میں شدید زخمی ہوا تھا.. اب میری زندگی کا مقصد فقیر پرندے سے بدلہ لینا تھا۔ اس نے مجھے برباد کیا، میں اُسے کرنا چاہتا تھا، چنانچہ میں اُس کی ٹوہ میںرہنے لگا۔ وہ عام طور پر لوگوں کے سامنے نہیں آتا۔اُس کا سارا کام اُس کے آدمیوں نے سنبھالا ہوا ہے، وہ اُنھیں بڑی بڑی تنخواہیں دیتا ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے، اِن دنوں وہ اِس شہر میں آیا ہوا ہے اور ملک کے خلاف کوئی سازش کرنے کے چکرمیںہے۔ بس میں اس کی تلاش میں یہاں آیا ہوں۔'' گامی خاموش ہوگیا۔ سب اُسے دیکھ رہے تھے۔ اُس کے چہرے پر عجیب سا دَردتھا۔
''اوہ...اوہ... واقعی بے حد دَرد بھری کہانی ہے تمھاری۔'' فرحانہ نے کہا۔
''لیکن تم نے کہا تھا...ہمارے خلاف سازش ہو رہی ہے... وہ سازش کیا ہے اور کون کر رہا ہے... اور تمھیںکیسے معلوم ہوا۔''
گامی مسکرایا اور بولا:
''میرے کچھ دوست جرائم پیشہ بھی ہیں۔بس اُنھوں نے ہلکا سااِشارہ دیا تھاکہ انسپکٹر جنید پارٹی کے گرد جال بُنا جا رہا ہے...اُن کی بیٹی کو اغوا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔یہ سن کر میں نے طے کرلیا کہ آپ کی حفاظت کروں گا... اور سازش کرنے والوں کے خلاف لڑوں گا... شازی میرا جگری دوست ہے...یہ سارے معاملات میں میرے ساتھ ہے۔ آپ دیکھ ہی چکے ہیں۔'' گامی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''ہاں! دیکھ چکے ہیں لیکن تم نے سازش کرنے والے کا نام تو بتایا ہی نہیں ہے۔'' فاروق نے گامی کو گھورا۔
''اِس میں گھورنے کی بھلا کیا تک ہے۔'' گامی ہنسا۔
''میںکیا جانوں،تک ہے کہ نہیں۔ تم مہربانی کرکے سازشی کا نام بتا دو۔''
''اُس کا نام معلوم نہیں ہوسکا ہے، لیکن میرے دوست اُسے سونگھتے پھر رہے ہیں۔جیسے ہی اُنھیں بھنک پڑی... وہ فوراً مجھے بتا دیں گے۔''گامی نے کہا۔
''گامی! تمھاری کہانی میں کچھ سوال جواب طلب ہیںاگر کہو تو پوچھوں۔'' فرحانہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''پوچھیں... کیا پوچھنا چاہتی ہیں؟''
''تمھاری کہانی کا پہلا جملہ یہ تھا کہ میں نے بہت قتل کئے ہیں لیکن پوری کہانی میں اِس کا دوبارہ ذِکر نہیںہوا، کیوں؟''
''اس کا جواب یہ ہے... بیوی اور بیٹی کے ہلاک ہونے کے بعد میں نے شرافت چھوڑ دی تھی۔ جرائم پیشہ لوگوں کے ساتھ مل گیا تھامیں۔ ایسا میں نے فقیر پرندہ سے انتقام لینے کی خاطر کیا تھا۔ جہاں ٹیڑھی انگلیوں سے گھی نکلتا ہو... وہاں سیدھی انگلیوں کو کوئی نہیں پوچھتا...میں ہر اُس ظالم کے خلاف ہتھیار اُٹھاتا ہوںجو میرے ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ افسوس! مجھے ایسے بہت سے لوگوں کو مارنا پڑا...'' گامی نے بتایا۔
''اوہ... اوہ... تو یہ بات ہے...'' حمود نے کہا۔
''اور اس بات نے ہمیں بتا دیا ... ہم اس وقت ایک غنڈے سے باتیں کر رہے ہیں... یہ غنڈے صاحب بہت دیر سے ہمارے گھر میں موجود ہیں۔ اِنھوں نے ہمارے ساتھ کھانا بھی کھایا ہے۔'' فاروق نے بُرا سا منہ بناتے ہوئے کہا۔
''اوکے...اب یہ بتائو...تم میری حفاظت کیوں کرنا چاہتے ہو... اور صرف میری ہی کیوں ... میرے بھائیوں کی کیوں نہیں۔'' فرحانہ مسکرائی۔
''اس لیے کہ مجھے انسپکٹر جنید پارٹی کے کارناموں میں آپ کا کردار بہت اچھا لگتا ہے... '' اس نے یک دم کہا تو وہ سب چونک اُٹھے:
''اوہ... اس کا مطلب ہے، ہمارے کارنامے تم شوق سے پڑھتے ہو۔''
''ایسی ہی بات ہے...'' وہ مسکرایا۔
''تمھیں صرف فرحانہ کا کردار پسند ہے...؟''فاروق نے پوچھا۔
''ہاں...صرف فرحانہ کا...''
''لیکن تم باتیں سو فیصد میرے انداز میں کرتے ہو، یہ کیا بات ہوئی! تمھیں میرے کردار کو بھی پسند کرنا چاہیے۔'' فاروق نے معصومیت سے کہا تو سب ہنس پڑے۔
''اوکے...آپ فکر نہ کریں،آیندہ میں آپ کے کردار کو بھی پسند کرنے کی کوشش کروںگا۔''گامی نے ہنستے ہوئے کہا۔
'' صرف کوشش...'' فاروق نے تنک کر کہا۔
''میں صرف کوشش کر سکتا ہوں... وعدہ نہیں کرسکتا ۔''
''اوہ...ارے ...ارے...'' اچانک حمود چونک اُٹھا۔
''کیا ہوا حمود...چونکے کیوں؟'' فرحانہ نے جلدی سے کہا۔
''ہم یہاں گپیں ہانک رہے ہیں ... ادھر ابا جان اور دوسرے لوگ نہ جانے کس حال میںہوںگے...''
''اوہ...اوہ...آئی جی انکل نے بھی کوئی رابطہ نہیںکیا ہے۔''
''اوہ...اب ہم کیا کریں۔'' فرحانہ نے پوچھا۔
''یہ تو تم بتاؤ گی...'' فاروق نے جلدی سے کہا۔
''میں کیوں بتاؤ ں گی بھلا... تم بھی تو بتا سکتے ہو۔''
''تم اس لیے کہ ترکیبوں کی فیکٹری تمھارے پاس ہے... ہمارے پاس نہیں۔'' فاروق ہنسا۔
''اوہ...ٹھیک ہے ، میں سوچتی ہوں کوئی ترکیب...'' فرحانہ نے کہا اور سوچ میں گم ہوگئی۔
''تگڑی ترکیب سوچنا... خبردار جوماٹھی سوچی!'' فاروق نے کہا۔
فرحانہ اُسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔
اچانک دروازے پرمسلسل دستک ہونے لگی۔ سب نے چونک کر ایک دوسرے کو دیکھا...
پھر فاروق نے آہستہ سے کہا:
''میں ایک بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں۔''
''یہ موقع دعوے سے بات کہنے والانہیں ہے۔ یار!کیوں بے وقت کا راگ الاپنے کی کوشش کرتے ہو، موقع محل بھی دیکھ لیا کرو۔'' گامی نے منہ بنایا۔
''تم کچھ بھی کہو لیکن میں اپنی بات پر قائم ہوں، یہ کہ میں ایک بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں۔'' فاروق نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''تم اپنی بات کہنے سے باز نہیں آنے والے... اس لیے جلدی سے کہہ دو جو کہنا چاہتے ہو۔'' حمود نے جل کر کہا۔
''یہ کہ آنے والا اندھا ہے یا پاگل۔'' فاروق مسکرایا۔
''دھت تیرے کی... تم یہ بات کیسے کہہ سکتے ہو کہ وہ اندھا ہے یا پاگل۔'' حمود نے جل کر ران پر ہاتھ مارا۔
''حمود! باہرگھنٹی کا بٹن لگا ہے کہ نہیں۔''
''لگا ہے ۔'' حمود نے حیران ہوکر کہا۔
''اور جس کو وہ بڑا بٹن نظر نہ آئے... تم اُسے کیا کہو گے؟''
''اندھا...!''
''جو بٹن دیکھنے کے باوجود نہ دبائے...اُسے؟''
''یار وہ پاگل ہوگا...'' اُس نے جھنجھلا کر کہا۔
''حد ہوگئی یار!کہاں کی بات کہاں لے جاتے ہو۔'' گامی نے ہنس کر کہا۔
''جیسے تم کبھی لے کر ہی نہیں گئے۔'' فاروق نے ایسے انداز سے کہا کہ سب کی ہنسی نکل گئی۔
''جب دروازہ ٹوٹ جائے گا... تب تم اُٹھوگے۔'' کمرے سے بیگم جنید کی آواز سن کر حمود جلدی سے اُٹھا اور دروازے کی طرف دوڑا۔
''دروازہ کھولنے سے پہلے پوچھ ضرور لینا کہ باہر کون ہے۔''
''میںپاگل نہیںہوں...ضرور پوچھوںگا۔ ہاں تو بھئی ! باہر والے تم کون ہو۔'' حمود نے قدرے بلند آواز سے کہا۔
دروازے پر دستک یکایک رُک گئی۔پھرایک نحیف سی آوازاُنکی سماعتوں سے ٹکرائی:
''میں پاگل ہوں...''
''اوہ...! ارے باپ رے... بب...بب...باہر تو واقعی کوئی پاگل ہی ہے ۔'' فاروق ہکلایا۔
''لیکن اِس میں ہکلانے والی کون سی بات ہے؟'' فرحانہ نے اُسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھاتو وہ سہم گیا۔ یہ دیکھ کر گامی، شازی اور فرحانہ بے اختیار مسکرادیے۔
''اب سہم کیوں گئے ...؟''
''حد ہوگئی... بولتا ہوں تو بولتے ہو، کیوں بولتے ہو اور سہمتا ہوں تو پھر بولتے ہو کہ سہمتے کیوں ہو..آخر میں جائوں کہاں...؟''
''فاروق! تم پاگل ہو... قسم سے۔'' فرحانہ ہنس پڑی۔
''میں پاگل نہیںہوں... پاگل تو باہر ہے ...کیوں حمود؟''
''دھت تیرے کی...'' حمود نے ران پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔
''تم ایسے کیوں کھڑے ہو، دروازہ کیوں نہیں کھولتے؟'' فرحانہ نے حمود سے جھلا کر کہا۔
''کیسے کھول دوں...! دستک رُک چکی ہے اور ایک جملے کے بعد باہر مکمل خاموشی ہے۔''
''اوہ...'' سب کے منہ سے ایک ساتھ نکلا۔
دروازے پر دستک دوبارا ہونے لگی۔ اُنھوںنے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔جیسے پوچھ رہے ہوں،اب کیا کریں...؟
''دروازہ کھولیں... میں پاگل ہوں۔'' باہر سے ایک بار پھر کہا گیا۔
''فرحانہ ! دروازہ کھول دوں؟''
''نہیں،ابھی نہیں...اوہ...!!'' فرحانہ چونک اُٹھی۔پھر فاروق کی طرف پلٹی:
''جاؤ ... اب تو بیگم شیرازی گھر میں ہی ہوں گی۔''
فاروق نے زینے کی طرف دوڑ لگائی تو فرحانہ بول اُٹھی:
''بھاگ کر جانے کی کیا ضرورت ہے... آرام سے بھی جا سکتے ہو۔''
''میں بھاگا اس لیے کہ کوئی چھت سے نہ کود پڑے۔'' فاروق نے بھاگتے ہوئے کہا۔
''دروازہ کھولیں... میں پاگل ہوں۔'' باہر سے ایک بار پھر کہا گیا۔
''کھولتے ہیں... تھوڑا صبر کریں پاگل صاحب۔'' شازی نے زور سے کہا تو باہر ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
تھوڑی ہی دیر میں فاروق سیڑھیاں اُترتا دکھائی دیا۔سب نے دیکھا، اُس کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں... وہ دھک سے رہ گئے۔
( جاری ہے)

