قسط 7
اُنھوں نے دیکھا ۔دروازے میں دو لمبے تڑنگے آدمی کھڑے تھے... وہ بہت خوف ناک تھے۔ وہ دھک سے رہ گئے... ایسے میں کاکا کی چیختی ہوئی آواز سنائی دی:
''آہا... تم آگئے میرے دوستو...اب مزا آئے گا...''
''کک...کیا مطلب...'' فاروق نے چونک کر اسے دیکھا۔
''مطلب یہ کہ ...یہ میرے ساتھی ہیں اور تمھاری ہڈی پسلی ایک کرنے آئے ہیں۔'' وہ ہنسا۔
''اوہ... لیکن...؟''
''اب یہ لیکن کہاں سے آ ٹپکا...؟'' گامی نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
''یہ تو مجھے نہیں پتہ... یہ کہاں سے ٹپکا..البتہ یہ ہے جائز۔'' فاروق مسکرایا۔
''جائز... تو کیا کوئی لیکن ناجائز بھی ہوتا ہے؟''
''ہاں... کچھ لیکن ناجائز بھی ہوتے ہیں... ''
''تم ناجائز کو چھوڑو ... صرف جائز لیکن کی وضاحت کر دو۔'' فرحانہ نے ہنس کر کہا۔
''جائز لیکن یہ ہے ،کاکا بھی تو ہماری ہڈی پسلی ایک کرنا چاہتا تھا لیکن ہوا کیا... یہ بے بس پڑے ہیں...اور مزے کی بات یہ ہے... اس کی مرمت میں حمود، فاروق اور فرحانہ کا کوئی ہاتھ نہیں ہے... ''فاروق نے کہا۔
''فاروق ...تم نے درست کہا... ہم ابھی تیل دیکھ رہے ہیں اور اس کی دھار بھی...''فرحانہ مسکرائی۔
''تم لوگ ہمیں بھول رہے ہو...!'' دروازے کی طرف سے آواز آئی۔
''اوہ...ہم تو واقعی آپ کو بھول گئے۔''
''باجا...بابا...خبردار...ان کی باتوں میں نہ آنا۔ یہ دوسروں کو باتوں میں الجھا کر اپنا الو سیدھا کرلیتے ہیں...'' کاکا نے چلاتے ہوئے کہا۔
''یہ ٹھیک نہیں کہہ رہا...ہمارا الو تو پہلے ہی سیدھا ہے...اور سیدھی چیز کو سیدھا کرنا کہاں کی عقل مندی ہے۔''فاروق نے جلدی جلدی کہا۔
''حد ہوگئی ...تم بھی نہ...!!'' حمود ہنسا۔
''تم فکر نہ کرو کاکا... باجا اور بابا ان کی بینڈ بجا دیں گے... ''
''اور مجھے یقین ہے بابا...تم ایسا ضرور کروگے۔''
'' تمھاری یہ حالت کس نے کی ہے؟'' باجا نے کہا۔ پھر اس نے پلٹ کر دروازہ بند کرکے کنڈی لگا دی۔
''حمود... تم زمین پر پڑے کیا کر رہے ہو...؟ اب اُٹھ بھی چکو۔'' فرحانہ نے منہ بناکر کہا تو وہ جلدی سے اُٹھ کر اُن کے پاس چلا آیا۔
''تم نے بتایا نہیں کاکا... تمھاری یہ حالت کس نے کی؟''
کاکا نے گامی کی طرف اشارہ کر دیا۔
''اوہ...یہ کون ہے...؟انسپکٹر جنید کا کوئی ساتھی تو نہیں لگتا...'' بابا نے حیرت سے پوچھا۔
''ہاں... یہ ان کا ساتھی نہیں ہے... میں یہاں آیا تو یہ خم ٹھونک کر میرے مقابلے میں آگیا... اور کہنے لگا... میرے ہوتے ہوئے تم فرحانہ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ بھی نہیں سکتے... آخر یہ مجھ سے ٹکرا گیا... اور میں...'' کاکاچپ ہوگیا۔
''اوہ...تو یہ بات ہے...''
''باتیں بہت ہوچکیں... اب کام ہوجائے۔''
''کام...کون سا کام...؟''
''تم لوگوں کی مرمت والا کام... لو سنبھلو... ہم وار کرنے لگے ہیں۔''بابا نے کہا اورپھر وہ ایک ٹانگ پر لٹو کی طرح گول گول گھومنے کا نظارا ایک بار پھر دیکھنے لگے۔بابا اور باجا تیزی سے گھوم رہے تھے ... پھر وہ ان کی طرف بڑھے...
''سب دائرے کی صورت میں ہوجائیں... '' فرحانہ نے چیخ کر کہا۔
سب پھرتی سے دائرے کی صورت میں کھڑے ہوگئے۔ اس سے پہلے کہ دونوں ان سے ٹکراتے... حمود، شازی اور گامی ان سے جا ٹکرائے... سب ایک دوسرے میں الجھ کر زمین پر گر پڑے... پھر ایک عجیب منظر دکھائی دیا... پانچوں ایک ساتھ اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
''بہت خوب... بھئی بہت ہی خوب...''فاروق مسکرایا۔
''بہت خوب کے بچے...!! تم نے بابا ...باجا پرچھلانگ کیوں نہ لگائی۔'' فرحانہ نے غصے سے کہا۔
''وہ ...وہ تم جانتی تو ہو۔'' وہ منمنایا۔
''میں کیا جانتی ہوں...؟''
''یہی کہ میں گول گول گھومتی چیزوں سے بہت ڈرتا ہوں،اسی لیے تو بچپن میں لٹو چلانے سے بھاگتا تھا۔''
''فاروق! تم..تم بہت بزدل ہو.. لڑائی بھڑائی سے بھاگتے ہو.. جبکہ تمھاری زبان قینچی سے زیادہ تیزچلتی ہے ... '' فرحانہ نے منہ بنایا۔
''یہ مجھ پر بے جا الزام ہے... تہمت ہے... اور فرحانہ ...تہمت لگانا اچھی بات نہیں ہے... یہ تو تم اچھی طرح جانتی ہی ہو... میرے نزدیک چونکہ تم بہت اچھی ہو... اس لیے تمھیں چاہیے... ہمیشہ اچھی اچھی باتیں کرو... اس سے صحت بھی اچھی رہتی ہے... اور تم نے دیکھا... میں کتنی اچھی اچھی باتیں کر رہا ہوں... جب ابا جان گھر آئیں تو تم میری ان کے سامنے اچھے سے تعریف کرنا...اور دیکھنا ... میری کوئی اچھی بات رہ نہ جائے... اچھی طرح سمجھ گئی ہو نا...؟'' فاروق کہتا چلا گیا۔
''توبہ ہے تم سے... لفظ اچھی کی تم نے کتنی اچھی بے حرمتی کی ہے..بے چاری کیا سوچتی ہوگی... کیسے بندے کے ہتھے چڑھ گئی میں...'' گامی نے ہنس کر کہا۔
''کون بے چاری...'' بیگم جنید نے بے خیالی سے پوچھا۔
''اچھی... اور کون؟''
''اوہ...تم بھی فاروق کی طرح پاگل ہو؟'' وہ مسکرائیں۔
''تعریف کے لیے شکریہ...'' گامی مسکرایا۔
''کاکا... تم نے ٹھیک کہا تھا... ہم ان کا سرمہ بنانے آئے ہیں اور یہ بے پرکی اُڑا رہے ہیں... ہے کوئی تک...'' بابا نے منہ بنایا۔
''تک تو واقعی کوئی نہیں بابا جی...ویسے اگر آپ کہیں گے تو ہم پروں والی بھی اُڑا سکتے ہیں..کچھ بھی اُڑانے میں ہم یوں بھی بہت ماہر ہیں..کیوں حمود۔'' فاروق نے حمود کی طرف دیکھا۔
''اپنی بے سروپا باتوں سے مجھے دُور ہی رکھو فاروق... '' حمود نے جل کر کہا۔
''ٹھیک ہے،لیکن اس میں جلنے کی تو کوئی بات نہیں ہے۔'' فاروق نے مسکراتے ہوئے کہا تو حمود برے برے منہ بنانے لگا۔ یہ دیکھ کر سب کی ہنسی نکل گئی۔
''کاکا... اس فاروق کے بچے کی مزے دار باتیں سن کر میں سوچ رہا ہوں... فرحانہ کو چھوڑ کر اسے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں... ہمارا دل تو لگائے رکھے گا۔'' بابا نے ہنستے ہوئے کہا۔
''خیال برا نہیں ہے۔'' کاکا مسکرایا۔
''ارے باپ رے... میں تو مارا گیاپھر...ان کے ارادے تو خطرناک ہو رہے ہیں...اُف...'' فاروق کانپ اُٹھا۔
''خطرناک ارادے... تمھارا مطلب ہے... ان کا پہلا ارادہ خطرناک نہیں ہے.. یعنی مجھے اغوا کرنااِ ن کا خطرناک ارادہ نہیں ہے۔'' فرحانہ غرائی۔
''مم...مم...میں نے ایسا تو نہیں کہا...لو میں کہہ دیتا ہوں... ان کا پہلا ارادہ دوسرے سے زیادہ خطرناک ہے... اور اے بابا، باجا، کاکا... تم تینوں اپنے پہلے ارادے پر قائم رہو..'' فاروق نے بات کے آخر پر بابا ، باجا کی طرف دیکھا تھا۔
''تمھارا مطلب ہے ... ہم فرحانہ کو اغوا کرلیں؟'' باجا زور سے ہنسا۔
''فاروق... تم پاگل تو نہیں ہوگئے ہو... اپنی سگی بہن کو اغوا کرنے کا کہہ رہے ہو... ''فرحانہ مسکرائی۔
''اوہ...تت... تت... تو اور کیا کہوں...؟'' وہ گڑ بڑا گیا۔
''تم کچھ مت کہو... بس خاموش رہو۔'' فرحانہ نے تلملا کر کہا۔
''سب لوگ لڑ سکتے ہیں، باتیں کر سکتے ہیں اور صرف میں خاموش رہوں، یہ زیادتی سی نہیں ہوجائے گی میرے ساتھ۔''فاروق نے بے بسی سے سب کو دیکھا۔
''اُف ... تم آخر کیا چیز ہو...؟ اتنا بولتے ہو... تھکتے نہیں...؟''
''ہاہاہاہا...بڑی چیز ہو تم...واہ...'' بابا زور سے ہنسا۔
''لوفرحانہ... بابا نے تمھارے سوال کا جواب دے دیا۔'' فاروق مسکرایا۔
''کس سوال کا... '' وہ چونکی۔
''اس کا کہ میں کیا چیز ہوں...''
''یقین ہوگیا... تم واقعی پاگل ہو...!!'' وہ غصے سے بولی۔
''ہاں... میں پاگل ہوں... اور مجھے پاگل لوگوں کا علاج کرنا آتا ہے۔'' فاروق نے کہا اور بابا، باجا کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
''کیا ارادے ہیں ...؟''وہ ہنسے۔
''میرے ہاتھوں میں بہت دیر سے خارش ہو رہی تھی... وہ دُور کرنا چاہتا ہوں...'' فاروق نے کہا اور بابا، باجا پرچھلانگ لگا دی۔وہ بے خبری میں مار کھاگئے اور اچھل کر گرے...
''وہ مارا...!!! '' حمود چلایا۔
''ابھی کہاں مارا... '' فاروق نے کہا اور بابا کے چہرے پر ٹھوکر ماری... اس کے منہ سے چیخ نکل گئی... پھر دونوں اچھل کر کھڑے ہوگئے۔
''تم لوگوں نے ہمیں مذاق سمجھ لیا ہے!'' فاروق نے دانت پیستے ہوئے کہا اور باجا کو ٹکر مارنا چاہی...لیکن وہ سنبھل چکا تھا...وہ جلدی سے ایک طرف ہوگیا اور فاروق اپنی ہی جھونک میں بیرونی دروازے کی طرف چلا گیا... اچانک وہ سنبھلا اور اس نے بڑے اطمینان سے دروازے کی کنڈی کھول دی... ساتھ ہی اس کی آواز سنائی دی:
''تم انھیں سنبھالو، میں مدد لے کر آتا ہوں۔'' وہ تیزی سے گھر سے باہر نکلا اور دروازے کو باہر سے کنڈی لگا دی...
''وہ مارا... فاروق زندہ باد...'' فرحانہ نے نعرہ لگایا۔
''حد ہوگئی فرحانہ... ابھی تو تم فاروق پر آنکھیں نکال رہی تھیں اور اب۔'' حمود نے جلدی سے کہا۔
''اب اس نے ذہن کا دُرست استعمال کیاہے... پہلے تو بونگیاں ہی مار رہا تھا... '' وہ مسکرائی۔
''بہت چالاک تھا فاروق کا بچہ...''کاکا نے منہ بناکر کہا۔
''وہ فاروق کا بچہ نہیں... خود فاروق تھا... میرا شیر بھائی۔'' فرحانہ ہنسی۔
''زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں... ہم مدد آنے سے پہلے تم سب کی چٹنی بنائیں گے اور فرحانہ کی چٹنی بوری میں ڈال کر لے جائیں گے...'' بابا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''لگتا ہے... تم پر فاروق کا رنگ چڑھ گیا ہے۔'' باجا نے ہنس کر کہا۔
''ہاں... وہ باتیں بڑے مزے کی کرتا ہے...''
''اب ہم ایک ساتھ حملہ کریں گے اور مسلسل کریں گے ، ہمارے پاس وقت بہت کم ہے... فاروق کا پتا نہیں... کب مدد لے کر آجائے۔''
''ٹھیک کہہ رہے ہو...''
''چلو بھئی چالاک لوگو تیار ہوجاؤ...'' باجا نے کہا اور پھر وہ دونوں اُن پر ٹوٹ پڑے... گھمسان کا رن پڑا ... انسپکٹر جنید کے گھر کابڑا سا صحن میدان جنگ بن گیا۔ بیگم جنید ایک کونے میں جا کھڑی ہوئی تھیں۔
وہ ایک دوسرے پر بڑھ چڑھ کر حملے کر رہے تھے لیکن اُن میں سے کوئی بھی کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکا تھا۔
کاکا چونکہ بندھا ہوا تھا... اس لیے وہ لڑائی میں شریک نہیں تھا... وہ بے بسی سے سب کو لڑتے ہوئے دیکھ رہا تھا ... گامی ، شازی ، حمود اور فرحانہ کے ہاتھ پاؤں تیزی سے چل رہے تھے۔ بابا اور باجا دو تھے ۔۔۔اور وہ چار... اس لیے ان کا پلڑا بھاری تھا۔
''بابا...باجا.. کسی طرح مجھے کھول دو تاکہ میں تمھارا ساتھ دے سکوں۔'' اچانک کاکا زور سے چلایا۔
''ہم کوشش کریں گے ... موقع پاکر تمھیں کھول دیں...فی الحال لڑائی کا مزا لو...'' بابا نے فرحانہ کو سر کے اوپر سے اچھالتے ہوئے کہا۔ اسی وقت حمود نے اسے ٹکر مارنا چاہی لیکن وہ مچھلی طرح تڑپ کرایک طرف نکل گیا۔
''دوستو... اگرچہ ہم چار ہیں اور یہ دو... لیکن یہ ہمارے قابو نہیں آ رہے ہیں ...!! '' حمود نے باجا کے منہ پر مکا مارا ... لیکن اس کا نشانہ خطا گیا...
''انھیں دائرے میں لے لو... اس طرح ہماری دال نہیں گلے گی...'' فرحانہ، بابا کے داؤ سے بچنے کے لیے زمین پر لڑھک گئی تھی۔
''لیکن فرحانہ... ہمیں دال نہیں گلانا ... مار مار کر انھیں ادھ موا کرنا ہے۔'' گامی نے ایک ٹانگ پر گھومتے ہوئے کہا۔ اس پر حملہ آورباجا اپنی ہی جھونک میں دور تک چلا گیا۔
پھر اچانک ان چاروں نے بابا...باجا کو دائرے میں لے لیا۔
''اب ان کی چٹنی بننا لازمی ہے۔'' فرحانہ نے ہنس کر کہا۔
''دیکھتے ہیں...کون کس کی چٹنی بناتا ہے۔'' باجا غصے سے اس کی طرف جھپٹا تو فرحانہ جلدی سے ایک طرف ہٹ گئی اور وہ دائرے سے نکل گیا... اس کے سامنے ہی کاکا پڑا تھا۔ اس نے آؤ دکھا نہ تاؤ...وہ جھک کر کاکا کی رسیاں کھولنے لگا۔ فرحانہ نے اس کی پیٹھ پر ٹھوکر ماری لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا...یہ دیکھ کر حمود نے اس پر چھلانگ لگادی... وہ جیسے ہی باجا سے ٹکرایا... کاکا اچھل کر کھڑا ہوگیا۔ساتھ ہی اس نے نعرہ لگایا:
''واہ میرے دوست... '' اسی وقت فرحانہ نے اس کے پیٹ میں زور سے لات ماری ۔ وہ پیٹ پکڑ کر جھک گیا... پھر بھناتا ہوا سیدھا ہوا اور فرحانہ کو خونخوار نظروں سے گھورنے لگا:
''ز...ز...زیادہ زور سے تو ٹکر نہیں لگ گئی...؟''
''ابھی بتاتا ہوں...'' اُس نے بھنا کر کہا اور فرحانہ پر چھلانگ لگا دی۔ وہ اس کے لیے تیار تھی... تڑپ کر ایک طرف ہٹ گئی... بلاشبہ دونوں پارٹیاں بلا کی پھرتیلی تھیں۔
''کیوں اپنا وقت برباد کر رہے ہیں...؟اگر واقعی پیسوں کے لیے فرحانہ کو لے جانا چاہتے ہو تو وہ ہم سے لے لو اور جان چھوڑو...'' اچانک حمود نے چلا کر کہا۔
''کیا کہا...پیسے تم سے لے لیں؟''بابا... باجالڑنا بھول گئے۔
''دوستو! ان کے جھانسے میں نہ آنا...لڑتے رہو...'' کاکا نے انھیں کھڑے دیکھ کر کہا۔ لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔
''ان کی باتوں میں نہ آنا... انھوں نے مجھے بھی لالچ دیا تھا، لیکن...'' کاکا نے گامی کے چہرے پر مکا مارنا چاہا لیکن اُس نے خود کو بچالیا۔
''تم نے ہماری آفر نہیں مانی تھی اور کہا تھا... تم ایسا نہیں کر سکتے... اور یہ کہ تم نے کسی کو زبان دی ہے۔'' حمود نے مسکراتے ہوئے کہا۔
'' اوہ... اوہ...'' بابا ... باجا کے منہ سے ایک ساتھ نکلا۔
اُن کے چہرے سرخ ہورہے تھے۔
''کیا تم سچ کہہ رہے ہولڑکے...؟'' بابا نے پوچھا۔
''وہ میں... سچ ہی کہہ رہا ہوں...'' وہ گڑبڑا گیا۔ اچانک ایک سوچ نے اسے گھیرا تھا کہ اگر انھوں نے کوئی رقم مانگ لی تو کہاں سے دے گا... انسپکٹر جنید بھی وہاں نہیں تھے... خان رحمان ضرور کسی بڑی رقم کا بندوبست کر سکتے تھے لیکن ... وہ الجھ کر رہ گیا تھا۔
''سچ ہی کہہ رہاہوں...اس بات کا کیامطلب ہے۔'' باجا نے اُسے گھورا۔
''اس کا مطلب ہے... میں سوچ کر بتاؤںگا۔'' حمود نے جلدی سے کہا۔
''دیکھا میں نہ کہتا تھا ... ضرور یہ کوئی گیم کرنا چاہتا ہے... اور تم فاروق کو کیوں بھول گئے ہو... وہ کسی بھی وقت یہاں کسی کو لا سکتا ہے۔'' کاکا نے کہا۔ وہ فکر مند دکھائی دے رہا تھا۔
''کچھ بھی ہوجائے.... ہم یہاں سے ناکام نہیں لوٹیں گے....'' بابا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''اوہ...'' کاکا کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
''سچ بتاؤ.. تم ہمیں پیسے دوگے...؟ اگر تم پیسے دینے کا وعدہ کرو توہم فرحانہ کو اغوا نہیں کریں گے۔'' باجا نے حمود سے کہا۔
''پیسے فرحانہ سے اچھے نہیں ہیں، میرے پاس ہوتے تو ضرور دے دیتا۔'' حمود نے کہا۔
''اس کا مطلب ہے.... تم نے مجھ سے جھوٹ کہا تھا۔'' اس نے آنکھیں نکالیں۔
''وہ...وہ... میں ...میں...'' حمود ہکلایا۔
''حمود...تم بکری نہیں ہو جو میں میں کر رہے ہو.. سیدھی طرح کہو... ہم پیسے نہیں دیں گے... ہمارے پاس ہیں ہی نہیں...'' فرحانہ نے منہ بنا کر کہا۔
''اوہ...چلو بھئی کاکا... شروع ہوجاؤ...اب ان سے کوئی رعایت نہیں کرنی...'' بابا نے غصے سے کہا۔
''اوہ...تو کیا تم پہلے ہم سے رعایت کر رہے تھے۔'' حمود چونکا۔
''ہاں... ہم رعایت ہی کر رہے تھے...اصل اور جان توڑ لڑائی تو اب ہوگی... تم دیکھ ہی لو گے...'' بابا ہنسا۔
پھر واقعی ان کے ہاتھ پاؤں پہلے سے زیادہ تیزی سے چلنے لگے... انھیں خود کو بچاتے ہوئے دانتوں پسینہ آرہا تھا۔
''شازی .. ہمیں ہر حال میں انھیں شکست دینی ہے.. سمجھے!'' گامی نے بابا پر چھلانگ لگاتے ہوئے کہا۔
''حد ہوگئی... تم لوگ لڑتے ہوئے بھی باتیں کر رہے ہو... خاموشی سے نہیں لڑسکتے۔''بیگم جنید نے جھلا کر کہا۔ وہ اُن سے قدرے فاصلے پر ایک دیوار سے چمٹی کھڑی تھیں۔
''لڑ سکتے ہیں... لیکن ایسی لڑائی میں مزا نہیں آئے گا۔'' حمود نے کہا۔
''کیسی لڑائی میں مزا نہیں آئے گا ۔؟'' فرحانہ نے کاکا کے وار سے خود کو بچاتے ہوئے کہا۔
''خاموش لڑائی سے...'' محمو دنے ہوا میں اچھلتے ہوئے باجا کے وار سے خود کوبچاتے ہوئے کہا تھا۔
''خاموش لڑائی... ارے...یہ...یہ تو کسی ناول کا نام ہو سکتا ہے۔'' گامی نے کاکا کے کندھے پر زور دار مکا مارتے ہوئے کہا۔ مکا کھاکر کاکا زور سے چیخا تھا۔
''گامی... تم فاروق کی نقل کیوں اُتار رہے ہو؟'' فرحانہ نے بابا کے وار سے بچتے ہوئے کہا۔
''اس لیے کہ وہ یہاںموجود نہیں ہے اور کسی کو تو اُس کے حصے کا کام کرنا ہی ہے۔'' گامی ہنسا۔
''کاکا...باجا...کیا تم دروازہ کھولے بغیر اس گھر سے باہر نکل سکتے ہو۔'' اچانک بابا کی آواز سنائی دی۔
''ہاں... '' انھوں نے ایک ساتھ کہا۔ وہ لڑائی چھوڑ کر ایک طرف جا کھڑے ہوئے تھے۔ بابا پہلے ہی اُن سے الگ ہوگیا تھا۔ وہ چاروں بھی تھکن محسوس کر رہے تھے۔ وہ بھی سانس لینا چاہتے تھے، اس لیے انھوں نے بھی ہاتھ روک لیے۔
''کیا ارادہ ہے باباجی...؟'' حمود نے پوچھا۔
''میرا خیال ہے.. ہمیں فرحانہ کو اغوا کرنے کا خیال دل سے نکالنا ہوگا۔'' بابا مسکرا رہا تھا۔
''شکر ہے ... آپ کو کوئی اچھا خیال تو آیا۔'' حمود بھی مسکرایا۔
''بابا! یہ تم کیا کہہ رہے ہو...ہم اُنھیں کیا جواب دیں گے جو اس کے انتظار میں بیٹھے ۔'' کاکا نے حیرت سے کہا۔
''تمھاری بات ٹھیک ہے..لیکن میرے دوست! جیل میں جانے سے بہتر ہے... ہم اس کا خیال دل سے نکال دیں۔''بابا یکایک سنجیدہ ہوگیا تھا۔
''جیل...کیا مطلب...!!'' کاکا اچھلا۔
''میں خطرے کی بو محسوس کرر ہا ہوں،تم فاروق کو بھول گئے... میری چھٹی حس اعلان کر رہی ہے... وہ بس آنے ہی والا ہے...''
''اوہ... تو یہ بات ہے... لومیں تو چلاپھر۔'' کاکا نے کہا اور کسی سپرنگ کی طرح ہوا میں اچھلا... اور اگلے ہی لمحوں میں وہ منڈیرکے اوپر کھڑا تھا... پھر اس سے کہ پہلے وہ کچھ کرتے ... بابا اور باجا بھی زور سے اچھلے اور کاکا کے ساتھ جا کھڑے ہوئے...
''پکڑو انھیں...'' فرحانہ زور سے چلائی۔حمود، گامی اور شازی تیزی سے زینے کی طرف دوڑے اور اوپر چڑھتے چلے گئے،لیکن پھر منہ لٹکائے واپس آگئے..
''وہ چھت سے گلی میں کود گئے تھے... ہم کچھ نہیں کر سکے فرحانہ...'' گامی نے کہا۔
'' اوہ ...کوئی بات نہیں۔'' وہ مسکرائی ۔
اسی وقت بیرونی دروازہ ایک جھٹکے سے کھل گیا۔
( جاری ہے)

