🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
 چھوٹی سی نیکی
نرسری (۳-۵ سال)جماعت ۱ تا ۳جماعت ۷ تا ۱۰

چھوٹی سی نیکی

جویریہ ارشد عباسی
3 ستمبر، 2026۱۱۵ مرتبہ پڑھی گئی

چھوٹی سی نیکی سنیں

ایک گاؤں میں علی نام کا ایک بچہ رہتا تھا۔ وہ بہت ذہین اور محنتی تھا۔اُسے اپنی چیزیں دوسروں کے ساتھ بانٹنا بالکل پسند نہیں تھا۔ اگر اس کے پاس کوئی کھلونا ہوتا تو وہ کسی دوست کو ہاتھ بھی نہ لگانے دیتا تھا۔

ایک دن علی اسکول سے گھر واپس آ رہا تھا کہ راستے میں اسے ایک بوڑھا نظر آیا۔ بوڑھے کے ہاتھ میں سبزیوں کی ایک بھاری ٹوکری تھی۔ اچانک ٹوکری کا ایک کنارہ ٹوٹ گیا اور ساری سبزیاں سڑک پر بکھر گئیں۔

یہ دیکھ کرعلی رُک گیا۔ پہلے اُس نے سوچا کہ اسے گھر جانے میں دیر ہو رہی ہےلیکن پھر اُسے اپنی امی کی بات یاد آگئی:

"بیٹا! کسی ضرورت مند کی مدد کرنا بھی نیکی ہے۔"

علی نے اپنا بستہ ایک طرف رکھا اور سڑک پر بکھری ہوئی سبزیاں اٹُھانے لگا۔ تھوڑی ہی دیر میں اس نے تمام سبزیاں دوبارہ ٹوکری میں رکھ دیں۔

بوڑھے نے مسکرا کر کہا:

"بیٹا! اللہ تمھیں خوش رکھے، تم نے آج میری بہت مدد کی ہے۔"

علی نے جواب دیا:

"اس میں شکریہ کی کیا بات ہے؟ آپ کو مدد کی ضرورت تھی، اس لیے میں نے مدد کر دی۔"

اگلے دن اسکول میں اُستاد نے اعلان کیا کہ کلاس میں ایک نئے طالب علم کا داخلہ ہوا ہے۔ اس کا نام حمزہ تھا۔ وہ خاموش بیٹھا تھا اور کسی سے بات نہیں کر رہا تھا۔

علی نے دیکھا کہ حمزہ کے پاس رنگوں کا ڈبہ نہیں تھا، جبکہ استاد نے سب بچوں کو تصویریں بنانے کا کام دیا تھا۔ علی نے اپنا رنگوں کا ڈبہ نکالا اور حمزہ کی طرف بڑھا دیا۔

"تم میرے رنگ استعمال کر سکتے ہو۔"

حمزہ کے چہرے پر خوشی پھیل گئی۔ اس نے کہا:

"شکریہ علی! آج تم میرے پہلے دوست ہو۔"

علی کو پہلی بار محسوس ہوا کہ اپنی چیز کسی کے ساتھ بانٹنے سے چیز کم نہیں ہوتی بلکہ خوشی بڑھ جاتی ہے۔

کچھ دن بعد علی بیمار ہو گیا اور کئی دن اسکول نہ جا سکا۔ جب وہ واپس آیا تو اسے معلوم ہوا کہ حمزہ نے اس کے تمام چھوٹے ہوئے کام اپنی کاپی سے لکھ کر رکھے تھے۔

حمزہ نے کہا:

"تم نے میری مدد کی تھی، اس لیے میں نے بھی تمھاری مدد کی۔"علی مسکرایا۔

ّّ اسے سمجھ آ گیا کہ نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی۔ انسان دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے تو کسی نہ کسی شکل میں وہ آسانی واپس اس کی زندگی میں ضرور آتی ہے۔

اس دن علی نے دل میں فیصلہ کیا کہ وہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کرے گا اور اپنی خوشیاں دوسروں کے ساتھ بانٹے گا۔

OOO

لکھاری

جویریہ ارشد عباسی

میرا نام جویریہ ارشد عباسی ہے۔ میرا تعلق کراچی سے ہے۔ مجھے لکھنے کا بہت شوق ہے۔میں نے 2011 میں لکھنے کا آغاز کیا۔ اس وقت میں دورِ طالب علمی میں تھی۔ اس وقت میں نے کئی کہانیاں لکھی تھیں۔