🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
جادوئی سکرین اور تتلی کا سفر
نرسری (۳-۵ سال)جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

جادوئی سکرین اور تتلی کا سفر

ہادیہ رشید
3 ستمبر، 2026۲۷ مرتبہ پڑھی گئی

جادوئی سکرین اور تتلی کا سفر سنیں

شام کا دُھندلاسا وقت تھا۔ احمد معمول کے مطابق صوفے پر اوندھے منہ لیٹا، ٹیبلٹ پر ایک بے مقصد سی ویڈیو گیم کھیل رہا تھا۔اُس کی اُنگلیاں سکرین پر تیزی سے چل رہی تھیں۔اُس کی آنکھوں میں اُکتاہٹ تھی اور چہرے پر بیزاری... وہ دن رات اس شیشے کے ڈبے میں قید تھا، نہ اُسے کھڑکی سے جھانکتے ہوئے پرندوں کی چہچہاہٹ سنائی دیتی تھی اور نہ ہی کسی کتاب کے ورق اُلٹنے کا احساس تھا۔ 

اچانک سکرین کو ایک عجیب سا جھٹکا لگا۔گیم کے شور کی جگہ ایک دھیمی اور پرسکون سی آواز گونجنے لگی۔ احمد امجد نے چونک کر دیکھا تو سکرین کے بالکل درمیان میں ایک خوبصورت نیلے رنگ کی تتلی پَر پھڑپھڑاتی ہوئی نمودار ہوئی تھی۔ تتلی کے پَروں سے چمک دار سنہری ذرات جیسی کوئی چیز نکل رہی تھی۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ دھیرے دھیرے سکرین کے شیشے کو چیرتی ہوئی کمرے کی ہوا میں تیرنے لگی:

''تم کون ہو اورمیری گیم کہاں غائب ہوگئی ہے؟''احمد نے گھبرا کر پوچھا۔

''میں لفظوں کے دیس کی مسافر ہوں، تم نے سکرین کو صرف اُنگلیاں چلانے کا آلہ سمجھ رکھا ہے۔ آج میں تمھیں دکھاتی ہوں کہ کہانیوں کی اصل دُنیا کیسی ہوتی ہے!'' تتلی کی آواز بہت میٹھی تھی۔

اُس نے احمد کی اُنگلی کو چھوا۔ اگلے ہی لمحے کمرے کی چھت یکایک غائب ہو گئی۔احمد کو جیسے ہلکا سا جھٹکا لگا تھا۔ اُس کی آنکھیں ایک لمحے کے لیے بند ہوئی تھیں۔ اُس نے آنکھیں پھاڑ کر اپنے ارد گرد دیکھا تو حیران رہ گیا۔وہ ایک سرسبز وادی کے درمیان میں کھڑا تھا۔ اُس کے اِرد گرد موجود درختوں پر ، پتوں کی جگہ رنگ برنگے حروف جھول رہے تھے۔ قریب سے گزرتی ہوئی ندی میں پانی کے بجائے چمکتے ہوئے لفظ بہہ رہے تھے۔اُس کے سامنے ایک شان دار روشن محل تھا۔ محل کی پیشانی پر سنہری حروف میں  لکھا ہوا کہانی گھر چمک رہا تھا۔محل کے دروازے پر ایک بزرگ قلم پکڑے مسکرا رہے تھے۔ بزرگ کے اِردگرد سیکڑوں ہنستے کھیلتے کردار موجود تھے ۔کہیں ایک شیر بکری کے بچے کو نصیحت کر رہا تھا تو کہیں تین ننھے جاسوس ہاتھ میں شیشے لیے جیسے کوئی راز ڈھونڈ رہے تھے۔ کہیں ایک پرندہ محنت کا گیت گا رہا تھا۔ سب سے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ہر کردار کے سر پر ایک چھوٹی سی گھنٹی تھی۔ گھنٹی جب ہلتی تو ایک سحر انگیز آواز گونجنے لگتی تھی، گویا کہانی خود بخود سنائی دے رہی ہو۔

''کیا یہ سب سچ ہے؟''احمد نے وہاں موجود ایک خوش اخلاق ہرن کو چھو کر دیکھا:

''یہ سچ سے بھی زیادہ خوبصورت ہے!''تتلی نے کہا۔

''جب تم صرف اسکرین پر انگلیاں مارتے ہو تو تمھارا دماغ تھک جاتا ہے لیکن جب تم کہانیاں پڑھتے اور سنتے ہو تو تمہارا تخیل پرواز کرنے لگتا ہے۔ یہ دُنیا تمھارے ہی جیسے اُن بچوں کی ہے جو لفظوں کی طاقت کو پہچانتے ہیں۔''

تتلی نے احمد کے ہاتھ میں ایک چمکتا ہوا لفظ رکھا،اُس پر لکھا تھا، سوچ...پھرایک زوردار جھماکا ہوا اور احمد ہڑبڑا کر سیدھا بیٹھ گیا۔اُس نے دیکھا کہ وہ اپنے گھر کے صوفے پر تھااور اُس کے سامنے ٹیبلٹ رکھا تھا۔گیم سکرین سے غائب تھی۔اُس کے سامنے کہانی گھر کی رنگین ویب سائٹ کھلی تھی، جہاں بچوں کی آڈیو کہانیاں مدہم سروں میں بج رہی تھیں۔ احمد کی آنکھوں سے اب بیزاری اُڑ چکی تھی۔اُس نے مسکرا کر ہیڈفون کانوں پر لگائے اور ایک نئی مہم کے آغاز پر کلک کر دیا۔ اس کے لیے اسکرین اب صرف شیشہ نہیں، ایک کھلی کھڑکی بن چکی تھی۔

لکھاری

ہادیہ رشید

ہادیہ رشید آٹھویں جماعت میں پڑھتی ہے ، اسے کہانیاں پڑھنے کا شوق ہے، لکھنے کی بھی کوشش کرتی ہے ، ایک سو لفظی کہانی آپ دیکھ ، پڑھ رہے ہیں، پڑھ کر بتائیں کہ کیسی ہے!