''ارے باپ رے... یہاں تو سیڑھی ہے...''
''ایسے دروازوں کے آگے ہمیشہ سیڑھی ہی ہوتی ہے ۔'' اکرام مسکرایا۔
''ہمیں بڑی احتیاط سے نیچے جانا ہوگا... کیوں کہ دشمن نیچے ہی ہوگا۔'' اکرام نے آہستہ سے کہا۔
''وہ بوڑھا بڑا تیز نکلا... ہمیں بے وقوف بناگیا۔'' لیاقت نے کہا۔
وہ نیچے اترنے لگے۔ سیڑھی کے اختتام پر ایک بڑا سا کمرہ تھا۔ انھوں نے دیکھا... وہاں کوئی نہیں تھا...
''ارے... یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے... '' لیاقت کے چہرے پر حیرت تھی۔
''وہ سامنے والی دیوار میں سبز دروازہ دیکھ رہے ہو... وہ لوگ یقینا اُس کے پار ہوں گے۔'' اکرام نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''دروازے کے پار...'' لیاقت نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا۔
''اوہ...لیاقت.. تم نے مجھے فاروق یاد کرا دیا۔'' اکرام کے منہ سے نکلا۔
''وہ یہاں ہوتے تو کہتے... ارے... یہ توکسی ناول کا نام ہو سکتا ہے... افسوس... وہ اس وقت یہاں نہیں ہیں... میں انھیں بہت پسند کرتا ہوں۔''
''وہ تو سب کو پسند ہیں..آؤ اب دروازے کے اس طرف جاتے ہیں۔''
وہ تیز تیز چلتے ہوئے دروازے کے قریب پہنچے... اکرام نے دروازے کو دھکیلا تو وہ بلا چوں چراکھلتا چلا گیا... دوسری طرف بھی سیڑھی تھی... وہ سیڑھی اُوپر جا رہی تھی ...
''ارے ...یہ تو اوپر جا رہی ہے...''
''مم...مطلب ہے... اوپر ...''
''اوہ...بھاگو... کہیں وہ نکل نہ جائیں... پاپڑی والا نے ہمیں بے قوف بنایا ہے...'' اکرام نے جلدی جلدی کہا۔وہ تیزی سے زینہ عبور کرکے اوپر پہنچے تو دھک سے رہ گئے... وہ گھر سے باہر ایک گلی میں کھڑے تھے...
''اوہ... افضل پاپڑی والا نے ہمیں واقعی بے قوف بنا دیا... وہ محمد حسین آزاد اور اسدکو اپنے ساتھ لے گیا ...نہ جانے اس نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ہوگا۔'' اکرام نے کہا۔ وہ جھنجھلایا ہوا تھا۔
''اب ہم انھیں کہاں تلاش کریں ...ارے...ہم انھیں فون تو کر ہی سکتے ہیں ... اس طرح پتا چل جائے گا... وہ اس وقت کہاں ہیں؟'' لیاقت نے چونک کر کہا۔
''تمھارا کیا خیال ہے... پاپڑی والا نے فون ان کے پاس رہنے دیے ہوں گے۔ اکرام نے کہا۔ پھر اچانک وہ مسکرانے لگا۔ ایک خیال اس کے ذہن میں آیا تھا۔ اس نے جیب سے فون نکالا اور حمود کو کال کرنے لگا:
''ارے...! حمود کا نمبر کیوں بندہے...؟''
''کیا ہوا سر...؟'' لیاقت نے چونک کر پوچھا۔
''حمودکا موبائل آف جا رہا ہے... حیرت ہے... وہ کبھی بھی اپنا فون بند نہیں کرتا... ''
''آپ فاروق اور فرحانہ کو کال کرکے دیکھیں... ''
اکرام نے باری باری فاروق اور فرحانہ کے نمبر ملائے، لیکن کسی سے بات نہ ہو سکی... ان کے موبائل بھی آف جا رہے تھے۔
''یہ کیاہو رہا ہے ہمارے ساتھ۔ارے.. مجھے خان رحمان سے بات کرنی چاہیے۔''
''سر! کیا آپ کو آئی جی صاحب سے بات نہیں کرنی چاہیے۔؟'' لیاقت نے کہا۔
''ابھی نہیں... ابھی کوئی بات واضح نہیں ہے... خان رحمان سے بات کرنا بہتر ہوگا۔'' اکرام نے کہا اور خان رحمان کے نمبر ملائے... دوسری طرف سے ان کی چہکتی ہوئی آواز اُس کے کانو ں سے ٹکرائی:
''آہا... اکرام آج تم نے مجھے کیسے یاد کرلیا...؟''
''سر...میں بہت پریشان ہوں... ''
'' پریشان کیوں ہو...جلدی سے بتا دو۔'' وہ بولے۔
''میری پریشانی کی وجہ انسپکٹر جنید ہیں ..!''
''کیا مطلب...'' خان رحمان کی چونکتی ہوئی آواز سنائی دی۔
''اور میرے ماتحت محمد حسین آزاد بھی میری پریشانی کی وجہ ہیں...''
''اکرام ...تم مجھے بھی پریشان کر رہے ہو... جلدی سے بتاؤ... کیا بات ہے... یہ دونوں تمھیں پریشان کیوںکر رہے ہیں؟''
''سر...انسپکٹر جنید اور محمد حسین آزاد کو اس کے ماتحت سمیت کسی نے غائب کر دیا ہے۔'' اکرم نے جلدی سے بتایا۔
''کیا...!!!'' خان رحمان چلا اُٹھے۔
''میں ٹھیک کہہ رہا ہوں... عجیب حالات ہیں...''
''اوہ...اوہ! فاروق اور فرحانہ کہاں ہیں...؟''
''میں نے انھیں کال کی ہے لیکن ان تینوں کے موبائل بند جا رہے ہیں۔''
''کک...کیا مطلب...؟ یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟''
''کیا کروں... ایسی بات کہنے پر میں خود کو مجبور پارہا ہوں سر... '' اکرام نے بے بسی سے کہا۔
''مجھے تفصیلات بتاؤ...'' خان رحمان کی آواز سے فکرمندی صاف جھلک رہی تھی۔
اکرام انھیں تفصیلات بتانے لگا...
''اوہ...اوہ... حالات واقعی خراب ہیں اکرام ...'' خان رحمان نے تفصیل سن کر کہا۔
''ایسی ہی بات ہے سر...''
''اکرام... میں آ رہا ہوں.. تم انسپکٹر جنید کے گھر پہنچو.. میں وہیں آؤںگا... ان شاء اللہ۔'' خان رحمان نے کہا اور اکرام نے فون بند کر دیا۔
''چلو بھئی... ہمیں گھرکے مین دروازے پر چلنا ہے اور وہاں سے انسپکٹر جنید کے ہاں جانا ہے... خان رحمان وہیں آ رہے ہیں...'' اکرام نے کہا۔ وہ گھوم کر گھرکے سامنے پہنچے تو دھک سے رہ گئے... ان کی موٹر سائیکلیں غائب تھیں۔
''اوہ...پاپڑی والا میری سوچ سے زیادہ تیز نکلا...''
''سر!اب ہم انسپکٹر جنید کے گھر کیسے جائیں گے...؟'' لیاقت نے پریشانی سے پوچھا۔
''پریشان کیوںہوتے ہو۔ ! ہم کسی جنگل میں نہیں کھڑے۔ شہر تک کوئی نہ کوئی سوار ی مل ہی جائے گی ہمیں... '' اکرام نے کہا۔
''کیوں نہ ہم کسی سے لفٹ لے لیں...'' لیاقت نے کہا۔
''لفٹ سڑک سے ملے گی.. یہاں توکوئی نہیں آئے گا ہمیں لفٹ دینے .. ارے ...'' اکرام کہہ رہا تھا کہ اچانک چونک اُٹھا۔
''کیا ہوا سر...''
''یہاں سے شہر آدھ گھنٹے کی مسافت پر ہے... خان رحمان ایک گھنٹے بعد پہنچیں گے ...'' اکرام نے کہا۔
''تو سر...اس میں ارے کی کہاں گنجائش نکل آئی...'' لیاقت ہنسا۔
''میں نے سوچا... خان رحمان سے ملاقات سے پہلے اس گھر کے بارے میں معلومات لے لوں۔یہ کس کا ہے ،کیا واقعی پاپڑی والایہاں رہتا ہے.. یہاں سے انسپکٹر جنید اور محمد حسین آزاد اپنے ماتحت سمیت غائب کیے گئے ہیں... اس لیے اس کے بارے ہمیں ساری معلومات ہونی چاہئیں۔'' اکرام کہتا چلا گیا۔
''آپ ٹھیک کہتے ہیں سر...''
''چلو پھر... غازی آباد قصبے کے لوگوں سے ملتے ہیں... شاید کوئی کام کی بات مل جائے۔''
انھوں نے نظریں اُٹھا کر سامنے دیکھا... ایک درخت کے نیچے دو آدمی کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ انھوں نے محسوس کیا... وہ بار بار کن اکھیوں سے ان کی طرف دیکھ رہے تھے...
''کیوں نہ ان دو لوگوں سے بات کی جائے... ویسے بھی وہ غیرمحسوس طور پرہمیں دیکھ رہے ہیں۔''
''چلو... لیکن خیال رہے... وہ پاپڑی والا کے بندے بھی ہو سکتے ہیں۔'' اکرام نے مسکراتے ہوئے کہا۔
'' ہم ہوشیار رہیں گے...''
وہ چلتے ہوئے ان کے پاس پہنچے تو وہ انھیں اپنے قریب دیکھ کر چونک اُٹھے۔
''آپ کون ہیں...نوجوانو...''
''یہی سوال ہم آپ سے کرتے ہیں.. آپ کون ہیں اور افضل پاپڑی والا کے گھر کے ارد گرد کیوں پھر رہے ہو؟'' ان میں سے ایک نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
''واہ...یہ ہوئی نا بات...میں پولیس انسپکٹر ہوں،یہ میرے ساتھی ہیں۔''
''ارے باپ رے... آپ...آپ پولیس والے ہیں۔'' وہ اُچھلے۔
''ڈرنے کی ضرورت نہیں...ہم آپ سے کچھ پوچھنا چاہتے ہیں.. .کیا آپ ہمارے سوالوں کے جواب دیں گے۔'' اکرام نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''ضرور دیں گے... پوچھیں جو پوچھنا چاہتے ہیں۔''
''بہت خوب... سب سے پہلے آپ اپنے نام بتا دیں تاکہ بات چیت میں آسانی رہے۔''
''میں شہزاد اور یہ رفیق ہے... ہم اس قصبے میں رہتے ہیں... زمین دار خاندان سے تعلق ہے ہمارا... '' اب تک بات کرنے والے نوجوان نے بتایا۔
''ٹھیک ہے... آپ افضل پاپڑی والاکے بارے میں ہمیں کیا بتا سکتے ہیں۔''
''مطلب... وہ کیسا آدمی ہے...'' اکرام نے کہا۔
شہزاد اور رفیق ایک دوسرے کو دیکھنے لگے...جیسے پوچھ رہے ہوں... بتائیں کہ نہ بتائیں...پھر وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے:
پاپڑی والا کوئی اچھا آدمی نہیں ہے انسپکٹر صاحب۔'' شہزاد نے آہستہ سے کہا۔
''اوہ...کیاکام کرتا ہے وہ...؟''
'' وہ کوئی کام نہیں کرتا ہے... لیکن اس کے پاس بہت پیسہ ہے... قصبے کے لوگ اس سے ڈرتے ہیں۔'' رفیق نے کہا۔
''اوہ...اوہ... لیکن اس کے پاس پیسہ آیا کہاں سے؟''
''یہ تو ہمیں نہیں معلوم کہ اس کے پاس پیسہ کہاں سے آیا ہے... اتنا ضرور جانتے ہیں... اس کے تعلقات بڑے بڑے لوگوں سے ہیں ...وہ اکثر یہاں ان سے ملنے آتے رہتے ہیں... '' شہزاد نے کہا۔
''تم یہ باتیں کیسے جانتے ہو...؟'' اکرام مسکرایا۔
''یہ باتیں ہم ہی نہیں... پورا قصبہ جانتا ہے۔'' رفیق ہنسا۔
''اس کی کوئی اولاد ہے...؟''
''اس نے ابھی شادی ہی نہیں کی تو اولاد کہاں سے آگئی۔''
''کیا مطلب، کیا اس نے ابھی تک شادی نہیں کی؟'' وہ حیران رہ گئے۔
''لیکن وہ تو بتا رہا تھا، اس کے دو بیٹے ہیں۔'' لیاقت کی بات سن کر دونوں ہنس پڑے اور بولے:
''جھوٹ بولا ہوگااُس نے آپ سے۔ وہ تو مستی کرتا پھر تا ہے۔ شہر چلا جائے تو کئی کئی دن وہیں رہتا ہے۔ سنا ہے... اس نے وہاں بھی گھر بنایا ہوا ہے۔''
''مستی کرتا پھرتا ہے... اس عمر میں...'' اکرام نے کہا۔ اُن کی باتیں حیران کرنے والی تھیں۔
''عمر... کیا ہوا اُس کی عمرکو...؟ جوان آدمی ہے اور اس عمر میں لوگ مستیاں ہی کرتے ہیں۔ سیر سپاٹا کرتے ہیں ،کھاتے پیتے ہیں ۔'' شہزاد نے ہنستے ہوئے کہا۔
''کیا کہا... افضل پاپڑی والا جوان آدمی ہے۔'' وہ دھک سے رہ گئے۔
''ہاں... میں نے غلط نہیں کہا۔''
''لل... لل...لیکن جس سے ہماری ملاقات ہوئی... وہ توایک بوڑھا تھا... '' اکرام نے حیرت سے کہا۔
''انسپکٹر صاحب! پاپڑی والا بوڑھا نہیں ہے... ویسے وہ بوڑھوں کا خیال بہت رکھتا ہے۔'' رفیق نے کہا۔
''اوہ... آپ کا بہت بہت شکریہ...'' اکرام نے کہا ۔
''کوئی بات نہیں... ہم پولیس کا بہت احترام کرتے ہیں۔'' شہزاد مسکرایا۔
''اچھی بات ہے... اب ہم چلتے ہیں... ویسے یہاں سے کوئی گاڑی شہر کے لیے ہمیں آسانی سے مل جائے گی نا...؟''
''ضرور مل جائے گی... ''
''ایک بار پھر شکریہ... آپ نے ہم سے بہت تعاون کیا...اللہ حافظ۔'' لیاقت نے مسکراتے ہوئے کہا۔
وہ حیران و پریشان سڑک پر پہنچے ... جلد ہی اُنھیں ایک کار میں لفٹ مل گئی۔ وہ ایک نوجوان آدمی تھا...
''کہاں جانا ہے آپ لوگوں نے...'' اُس نے با اخلاق لہجے میں پوچھا۔
''سرور چوک پر اُتار دیجیے گا ہمیں...''
''اچھی بات ہے...'' نوجوان نے مسکراتے ہوئے کہا اور کارآگے بڑھا دی۔
اُنھوں نے ابھی پانچ ہی منٹ کا سفر طے کیا تھا کہ کار ایک جھٹکے سے رُک گئی۔ ساتھ ہی انھوں نے نوجوان کے چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھے۔
''اوہ...اسے بھی ابھی بند ہونا تھا.. سوری..مجھے نیچے اُتر کر دیکھنا ہوگا.. '' وہ ان سے مخاطب تھا۔
''ضرور دیکھیں... مناسب سمجھیں تو میں آپ کی مدد کروں۔'' اکرام نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''اوہ نہیں... میں دیکھ لیتا ہوں... آپ زحمت نہ کریں ... بیچ سڑک رُک جانا اِس کی عادت ہے۔'' نوجوان نے مسکراتے ہوئے کہا اور کار سے نیچے اُتر گیا۔ وہ انجن سے چھیڑ چھاڑ کرتا رہا... پھر موبائل پر کسی سے بات کرنے لگا۔ وہ اندر بیٹھے سب دیکھ رہے تھے۔ آخر اس نے موبائل واپس جیب میں ڈالا اور ایک بار پھر انجن دیکھنے لگا.. جلد ہی وہ کار میں واپس آگیا۔اس نے چابی گھمائی تو کار فوراً اسٹارٹ ہوگئی۔ اُن کا سفر ایک بار پھر شروع ہوگیا۔
''اُمید ہے... آپ نے محسوس نہیں کیا ہوگا... یہ مجھے تنگ کرتی رہی ہے، کام ہونے والا ہے اس کا لیکن مجھے فرصت ہی نہیں ملتی۔'' وہ کہتا چلا گیا۔
''کوئی بات نہیں... ویسے آپ کام کیاکرتے ہیں۔''اکرام نے پوچھا۔
''میں کاروباری آدمی ہوں... آپ کیا کرتے ہیں؟''
''میں سب انسپکٹر اکرام ہوں اور یہ میرا ماتحت...'' اکرام نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''کیا کہا...!!!'' وہ چلا اُٹھا ... ساتھ ہی کار ایک جھٹکے سے رُک گئی... اس نے ایمرجنسی بریک لگائی تھی۔سڑک پر اکا دکا گاڑیاں تھیں ۔
''کیا ہوا نوجوان...؟'' اکرام حیران تھا۔
''آپ فوراً میری کار سے نیچے اُتر جائیں...'' اُس نے چیخ کر کہا۔
''کک... کیا مطلب...!'' وہ دھک سے رہ گئے ۔
''میں نے کہا.. آپ فوراً کار سے اُترجائیں... میں آپ کو شہر لے کر نہیں جاؤں گا۔''وہ غرایا۔
''لیکن کیوں ...!!! یکایک آپ کو کیا ہوا...؟'' لیاقت نے حیرت سے کہا۔
''مجھے پولیس سے نفرت ہے... بلکہ شدید نفرت ہے... اس لیے آپ میری کار سے اُتر جائیں۔''اُس نے بُرا سا منہ بناتے ہوئے کہا۔
''اوہ...لیکن آپ کو پولیس سے نفرت کیوں ہے...؟ یہ تو بتائیں۔''
''میں آپ کو کیوں بتاؤں... ؟ آپ بس میری کار سے نکل جائیں۔'' اس کے لہجے میں سختی تھی۔
''اوکے... لیکن آپ اچھا نہیں کر رہے ہیں۔'' اکرام نے کہا۔
''سر... اپنا تعارف کرا دیں۔''
''آپ پولیس والے ہیں... اور میں پولیس والوں سے شدید نفرت کرتا ہوں...اس لیے اب آپ جلدی سے اُتر جائیں۔'' نوجوان بھنااُٹھا۔
''آپ انسپکٹر جنید کو جانتے ہیں ۔'' لیاقت نے نوجوان سے کہا۔
''انسپکٹر جنید... کون انسپکٹر جنید ...؟''
''لیاقت ...وقت ضائع نہ کرو... اُترو...ہم کوئی ٹیکسی لے لیں گے۔ ایسے بداخلاق لوگوں کے ساتھ سفرکرنا مجھے ویسے بھی پسند نہیں...'' اکرام نے منہ بناتے ہوئے کہا اورکار سے اُتر گیا۔ لیاقت نے اُس کی پیروی کی۔ وہ جونہی اُترے.. نوجوان نے کار چلا دی۔
''عجیب آدمی تھا...''
''میں چاہتاتو زبردستی شہر تک جا سکتا تھا... لیکن انسپکٹر جنید نے ہماری ایسی تربیت نہیں کی...ہمیں کوئی ٹیکسی دیکھنا ہوگی...'' اکرام نے کہا۔ جلد ہی وہ ایک پیلی ٹیکسی میں موجود تھے ...
''ہمیں شہر جانا ہے...''
''ٹھیک ہے...''ڈرائیور نے ٹیکسی چلا دی۔
''ارے... آپ نے پیسے تو بتائے ہی نہیں...'' لیاقت نے حیرت سے پوچھا۔
''اس لیے کہ جو آپ دیں گے... میں خوشی سے رکھ لوں گا۔'' ڈرائیور نے ہنس کر کہا۔
''واہ... بہت اچھے آدمی ہو...خوشی ہوئی آپ سے مل کر ۔'' لیاقت نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ بھی مسکرا دیا۔
ٹیکسی تیزی سے سڑک پر دوڑ رہی تھی... اچانک ڈرائیور نے کہا:
''سر...آپ سگریٹ پیتے ہیں تو پیش کروں!''
''ارے نہیں،میں سگریٹ نہیں پیتا..سگریٹ اور اس جیسی دوسری چیزوں سے تو میری جان جاتی ہے۔ آپ کا شکریہ۔'' اکرام نے جلدی سے کہا۔
''اوہ... کیا میں سگریٹ پی سکتاہوں۔''
''سوری... مجھے سگریٹ کا دھواں بھی پسند نہیں ہے۔''
''اچھا... ٹافی کھانے کی اجازت تو دے دیں۔'' ڈرائیور زور سے ہنسا۔ وہ تیس پینتیس سال کا ہنس مکھ جوان تھا۔
''ہاں... ٹافی آپ کھا سکتے ہیں...'' اکرام نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ڈرائیور نے ایک ٹافی منہ میں ڈال لی... پھر اس نے دو ٹافیاں اکرام کودیتے ہوئے کہا:
''سر... یہ بہت خاص ٹافیاں ہیں... میرے ایک بھائی بیرون ملک سے لے کر آئے تھے... میں نے گاڑی میں رکھ لیں ... خود مزے سے کھاتا ہوں اور اگر کوئی اچھہ سواری مل جائے تو اُسے بھی پیش کرتا ہوں... یقین کیجئے... جو بھی میری ٹافیاں کھاتا ہے... اَش اَش کر اُٹھتا ہے۔''
''اوہ...ایسی عمدہ ٹافیاں ہیں یہ؟'' اکرام نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اس نے ایک ٹافی لیاقت کو پکڑا دی۔
''میں ٹافیاں نہیں کھاتا، لیکن تم نے تعریف کی ہے تو سوچا... چیک کر لیتا ہوں۔'' اکرام نے ہنستے ہوئے کہا۔ وہ ٹافی کھولنے لگا...پھر جیسے ہی ٹافی کھلی... اُس کی ناک سے زہریلا دھواں ٹکرایا اور اگلے ہی لمحے وہ بے ہوش ہوتا چلا گیا۔ دوسری طرف لیاقت بھی بے ہوش ہوچکا تھا۔اُن کے بے ہوش ہوتے ہی ڈرائیور نے یک دم بریک لگادی...وہ مسکرا رہا تھا۔
( جاری ہے )

