یہ کہانی ننھی پری کی ہے جو پرستان کی ملکہ یاسمین کی بیٹی تھی۔ اس کا نام سون پری تھا، وہ اپنے نام ہی کی طرح بہت پیاری تھی۔ نیلی نیلی آنکھیں، شہد جیسے سرخ بال اور گلابی سیب جیسے گالوں والی بہت ہی معصوم پری تھی۔ پرستان کے تمام لوگ اس سے بہت پیار کرتے اور اس کے لاڈ اٹھاتے تھے۔ اس کی کوئی خواہش رد نہ کی جاتی، ہر دم کنیزیں اس کا خیال رکھتیں اور اس کے روٹھنے سے پہلے ہی سب اسے منا لیتے تھے۔ غرض یہ کہ سون پری پرستان میں سب کی آنکھ کا تارا تھی، لیکن اتنے لاڈ پیار اور محبتوں نے سون کو ضدی اور خود سر بنا دیا تھا۔
اب اس نے بڑوں کا احترام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ وہ کھانے پینے، کپڑے پہننے اور باہر جانے غرض کہ ہر معاملے میں سب کو پریشان کرتی۔ حد تو یہ تھی کہ وہ اپنی ماں، یعنی پرستان کی ملکہ کی بات بھی نہیں مانتی تھی اور ہر وقت سب کو ستاتی رہتی تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ چونکہ وہ بہت پیاری ہے، اس لیے سب کا کام اسے پیار کرنا اور اس کی ضد ماننا ہے اور یہ اس کا حق ہے۔ جب اس کا دل چاہتا، وہ محل سے باہر جا کر کھیلنا شروع کر دیتی۔ اسے کتنا ہی منع کیا جاتا، وہ مان کر نہ دیتی اور اپنی ضد پوری کر کے ہی دم لیتی۔ ملکہ نے اسے کتنی ہی بار سمجھایا کہ بڑوں کی بات ماننی چاہیے، بڑے جو کہتے ہیں وہ بچوں کے بھلے کے لیے کہتے ہیں، لیکن سون کو یہ سب باتیں کب سمجھ میں آتی تھیں! وہ تو بس اپنی ہی دنیا میں مگن تھی۔
ایک روز ہوا یوں کہ پرستان میں صبح ہی سے بارش ہو رہی تھی اور موسم بھی خراب تھا۔ سون کا دل چاہا کہ وہ بارش میں جا کر نہائے۔ اسے معلوم تھا کہ اگر کنیزوں نے دیکھ لیا تو وہ اسے روکنے کی کوشش کریں گی، اس لیے وہ چپکے سے محل سے باہر نکل گئی۔ سون کا دل چاہ رہا تھا کہ آج اکیلے ہی ذرا دور دراز کے علاقے کی سیر کی جائے۔ وہ بھیگے موسم میں اپنے پر سنبھالتی، موسم سے لطف اندوز ہوتی چلتی رہی اور اسے احساس ہی نہ ہوا کہ وہ کتنی دور آ گئی ہے۔
جب اندھیرا پھیلنے لگا تو اسے احساس ہوا کہ وہ تو بہت دور نکل آئی ہے۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو اسے اپنا محل کہیں نظر نہ آیا۔ اب تو وہ بہت پریشان ہوئی۔ پیدل چلتے چلتے اس کے پاؤں دکھ گئے تھے اور بھوک کے مارے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے لیکن وہاں بیٹھنے کے لیے نہ تو کوئی شاہی کرسی تھی اور نہ کھانے کے لیے عمدہ و لذیذ کھانے۔ ابھی وہ اتنی چھوٹی تھی کہ صحیح سے اڑنا بھی نہیں آتا تھا۔ اس نے سوچا کہ چلیں میں اڑان بھر کر دیکھوں، شاید میرا محل نظر آ جائے، لیکن اس کوشش میں اس کے ننھے پر پھڑپھڑا کر رہ گئے اور وہ تھوڑا سا اڑ کر پھر زمین پر آ گئی۔ اب تو سون بہت اداس ہوئی اور اسے رہ رہ کر خود پر غصہ آنے لگا کہ وہ بغیر کسی کو بتائے اور پوچھے اتنی دور کیوں نکل آئی!
اس وقت اس کا سب سے بڑا مسئلہ بھوک تھا اور آس پاس اسے ایسا کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا جس سے وہ اپنی بھوک مٹا سکتی۔ سون پرستان کی ملکہ کی بیٹی تھی، جہاں کھانے میں ہر روز نت نئی ڈشیں بنتی تھیں۔ جب بھی سون کھانا کھانے بیٹھتی تو بہت نخرے کرتی اور سب کو پریشان کرتی کہ یہ نہیں کھاؤں گی، وہ مجھے پسند نہیں ہے۔ اس وقت اسے اپنی امی کی بات یاد آئی جو ہمیشہ کہتی تھیں کہ "ان باتوں سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں۔ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ شکر ادا کرنے والے بندوں سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور اپنی نعمتوں کے خزانوں سے ان کے لیے مزید نعمتیں اتارتا ہے"۔ لیکن سون ان باتوں کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتی تھی۔
بھوک سے نڈھال سون نے درخت سے ٹیک لگائی اور وہیں گھاس پھوس پر بیٹھ گئی۔ وہ دل ہی دل میں پشیمان ہو رہی تھی اور اللہ سے معافی مانگ رہی تھی کہ اے اللہ! مجھے ایک بار میرے گھر پہنچا دے، پھر میں کبھی کسی کو پریشان نہیں کروں گی اور ہمیشہ تیرا شکر ادا کروں گی۔
ابھی سون کی آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا ہی تھا کہ اس نے دیکھا اس کے پاس سرخ رنگ کا سیب پڑا تھا۔ سون نے جلدی سے سیب اٹھایا اور کھانا شروع کر دیا۔ سیب نہایت میٹھا اور خوش ذائقہ تھا۔ وہ جس درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی، وہ سیب ہی کا درخت تھا اور اس پر سرخ سرخ سیب لگے ہوئے تھے۔ سون نے جلدی جلدی بہت سے سیب توڑے، خوب سیر ہو کر کھائے اور اللہ کا شکر ادا کیا۔
اب اسے بھوک تو نہیں لگ رہی تھی لیکن جنگل میں اکیلے ہونے کی وجہ سے اسے ڈر لگ رہا تھا۔ وہ اللہ سے دعا کر رہی تھی کہ اس کی امی اس کی تلاش میں سپاہیوں کو بھیج دیں اور وہ جلدی اپنے گھر پہنچ جائے۔ دعا کرتے کرتے سون کی آنکھ لگ گئی اور وہ اسی درخت سے ٹیک لگائے سو گئی۔
صبح سون کی آنکھ پرندوں کی سریلی چہکار سے کھلی۔ وہ اپنے آس پاس اتنے پیارے پیارے پرندوں کو دیکھ کر چونک گئی۔ آہستہ آہستہ گزرے ہوئے دن کے مناظر اسے یاد آنے لگے اور وہ ایک دم سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ ارے یہ کیا! میں نے تمام رات اکیلے جنگل میں بسر کر دی؟ کیا میری امی نے کسی کو بھی مجھے ڈھونڈنے نہیں بھیجا؟
وہ یہ سوچ کر رونے لگی کہ میں نے سب کو بہت تنگ کیا ہوا تھا، شاید اسی لیے مجھے کسی نے نہیں ڈھونڈا۔
وہ اور بھی زور زور سے رونے لگی۔ پاس ہی پیاری مینا بیٹھی تھی، اس سے سون کا رونا نہ دیکھا گیا، اس نے سون کے پاس آ کر کہا:
پیاری سون پری! تم مت روؤ، میں ابھی جا کر پرستان کی ملکہ کو تمہارا پتا بتاتی ہوں۔
دوسری طرف پرستان میں ملکہ اور تمام لوگ بہت پریشان تھے۔ سب سون کو ڈھونڈ رہے تھے، لیکن سون چونکہ بہت دور جنگل میں چلی گئی تھی، اس لیے کوئی اسے ڈھونڈ نہ سکا۔ ملکہ اداسی سے باغ میں ٹہل رہی تھی کہ اس کے پاس درخت پر وہی مینا آ کر بیٹھ گئی۔ مینا ملکہ سے مخاطب ہوئی: پیاری ملکہ! اداس مت ہوں، سون پری دور جنگل میں ہے۔ آپ میرے ساتھ سپاہیوں کو روانہ کر دیں، میں ان کی رہنمائی کر دوں گی۔ ان شاء اللہ آپ کی سون خیریت سے آپ کے پاس واپس آ جائے گی۔
ملکہ یہ سن کر بہت خوش ہوئی اور اسی وقت مینا کے ساتھ سپاہیوں کو سون کو لینے بھیجا اور مینا کو انعام کے طور پر شاہی باغ میں رہنے کی دعوت دی۔
سون جنگل میں اداس بیٹھی تھی۔ آج اس کا اپنے محل سے باہر دوسرا دن تھا، اب اسے لگ رہا تھا کہ شاید اس کی پوری زندگی اسی جنگل میں ہی گزر جائے گی۔ وہ اداس سی بیٹھی تھی کہ اسے آسمان پر ایک ساتھ بہت سے پروں کے پھڑپھڑانے کی آوازیں آنے لگیں۔ جب آوازیں قریب آئیں تو سون کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ پرستان کے سپاہی اپنی ننھی منی سون پری کو لینے پہنچ چکے تھے۔
اب سون پری بڑی ہو رہی ہے۔ اس کے پر بھی بڑے ہو گئے ہیں، وہ اب اچھے سے اڑ سکتی ہے اور خود واپس اپنے محل بھی آ سکتی ہے۔ لیکن اب وہ کبھی بھی اپنی امی، ملکہ یاسمین کی اجازت کے بغیر محل سے نہیں نکلتی اور جب بھی اس کا دل سیر کرنے کو چاہتا ہے، تو وہ اپنے ساتھ اپنی کنیزوں کو بھی لے لیتی ہے۔ وہ اب بہت اچھی پری بن گئی ہے، جو بڑوں کا احترام کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہے۔
