کسی زمانے میں ایک شہزادہ اپنے والد،یعنی بادشاہ سلامت سے ناراض ہوکر محل سے نکل پڑا۔ بھئی اس زمانے میں ایسا ہی ہوا کرتا تھا۔ مگر نہیں! بات یہاں سے شروع نہیں ہوتی۔
یہ بات ہے ان دنوں کی جب ہم چھوٹے سے بچے تھے، جیسے سب ہی ہوا کرتے ہیں۔ اس دور میں بچوں کو پڑھنے سے پہلے کہانی سننے کی تفریح مہیا کی جاتی تھی۔گھر کا کوئی بڑا چاہے والدین میں سے کوئی یا بڑے بہن بھائیوں میں سے کوئی یا پھر دادا، دادی، نانا یا نانی یا کوئی بھی بڑا یہ فریضہ گاہے بگاہے انجام دیا کرتا تھا۔ میرے پاس بہت سے ایسے بڑے اللہ کی مہربانی سے موجود تھے، والدین، تایا جان، پھپھو، خالائیں اور سب سے بڑھ کر دادا جان۔
دادا جان کی سنائی کہانیاں سب سے منفرد ہوتی تھیں۔ ایک تو وہ کہانیوں کے دور سے تعلق رکھتے تھے اورپھر ریٹائرمنٹ کے باعث کہانی سنانے کا سب سے زیادہ وقت بھی ان کے پاس ہی ہوتا تھا۔ سننے والوں میں اس وقت صرف میں ہی اس عمر کا تھا تو اپنی تو موج لگی ہوئی تھی۔
ان کی سنائی ہوئی کئی کہانیاں بعد ازاں قدیم اردو ادب میں لکھی ہوئی بھی پڑھیں جو کہ زبان در زبان ایک سے دوسرے تک سفر کرتی آئی تھیں مگر یہ کہانی کبھی نہ کسی سے سنی نہ پڑھی، سوچا ایک نئی حماقت کرتے ہیں اور اسے یہاں پیش کردیتے ہیں۔ یا تو آپ سب کے لیے بھی ایک نئی چیز ہوگی یا پھر کوئی یہ بتا دے گا کہ جی ہاں! ہم نے بھی فلاں وقت فلاں سے یہ کہانی کبھی سنی تھی۔اب یاداشت اور تخیل کے سہارے اس کہانی کو لکھ رہا ہوں تو آئیے آگے بڑھتے ہیں۔
بات ہم یہ کر رہے تھے کہ ایک شہزادہ اپنے والد بادشاہ سے ناراض ہوکر محل چھوڑ کر چلا گیا۔ اس نے اصطبل سے اپنا گھوڑا لیا اورمحل کی حدود سے باہر نکل گیا۔ جانا کہاں ہے؟ یہ بات اس کے ذہن میں نہیں تھی۔ محل سے دور چلے جانا ہے، بس یہی بات اس پر سوار تھی۔ ابھی وہ پہلا ہی موڑ مڑا تھا کہ اس کو محسوس ہوا کہ گھوڑے پر اس کے پیچھے کوئی اور بھی سوار ہے۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنا چاہا تو وہ دوسرا سوار اچھل کر اس کے کندھے پر آبیٹھا۔ یہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کا اپنا بہت ہی عزیز پالتو بندرلشکارا تھا۔
شہزادہ اسے یہاں اچانک دیکھ کر حیران بھی ہوا اور خوش بھی کہ چلو ایک سے دو بھلے، سفر میں تنہائی کا احساس نہ ہوگا۔یہ بندر بادشاہ کو اس کے کسی دوست بادشاہ نے تحفے میں دیا تھا اور اس کی خاص بات یہ تھی کہ یہ بالکل انسانوں کی طرح باتیں کرسکتا تھا، جی ہاں! بالکل انسانوں کی طرح۔
بندر میاں نے شہزادے کے کندھے پر سے چھلانگ لگائی اور گھوڑے پر شہزادے کے آگے براجمان ہوگیا۔
”لشکارے میاں! تم کہاں سے ٹپک پڑے؟“ شہزادے نے افسردہ مسکراہٹ کے ساتھ سوال کیا۔
”شہزادے صاحب! جہاں آپ وہاں میں۔اب آپ تو مجھے بھول آئے، میں نے شاہی باغ کے درخت پر سے آپ کو گھوڑے پر سوار محل سے باہر جاتے دیکھا تو آپ کے پیچھے پیچھے دوڑا چلا آیا۔“ لشکارا بندر اپنے دانت نکال کر بولا۔
”چلو یہ بھی اچھا کیا، میں نے تو سوچا تھا کہاں تم میرے ساتھ خوار ہوتے رہو گے، شاہی باغ کے کیلے کھاتے رہتے لیکن اب آگئے ہو تو میری تنہائی کا تو علاج ہو ہی گیا۔“
”جی مالک!آپ کو اکیلا کیسے چھوڑ سکتا تھا۔“ بندر باچھوں کو مزید پھیلاکر چہکا اور شہزادے نے گھوڑے کی رفتار مزید بڑھا دی۔
اونچی نیچی پگ ڈنڈیوں سے ہوتے اب شہزادے کا گھوڑا ایک کچی سڑک پر آچکا تھا، اردگرد کھیت اور درخت دور دور تک پھیلے نظر آرہے تھے اورکہیں کہیں کسان بھی اپنے کھیتوں میں کام کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ تھوڑی دور جا کر بندر نے ایک دم کہا:
”شہزادہ معظم! ایک مسئلہ ہوگیا ہے۔“
”وہ کیا لشکارے؟“
”مجھے بھوک لگ گئی ہے، آپ کو دیکھتے ہی بھاگ آیا تھا، کیلے تو آج کھا ہی نہیں سکا۔“
”جیسے ہی کوئی سرائے نظر آئی، ہم وہاں رکیں گے، کچھ دیر صبر کرلو اب۔“
”نہیں نہیں! صبر نہیں کرسکتا۔“
”تو پھر؟ کیلے تو یہاں کہیں ملیں گے نہیں۔“
”تو کیا ہوا؟ وہ سامنے دیکھیں، ریڑھی پر دال بھن رہی ہے، مجھے دال لے دیں۔“ بندر نے دور ایک دھواں اڑاتی ہوئی ریڑھی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حل پیش کیا۔ شہزادے نے دیکھا تو واقعی وہاں ایک شخص دال بھون رہا تھا۔ گھوڑے کو اس کے پاس لے جا کر اس نے تھوڑی سی بھنی ہوئی دال بندر کے لیے لے کر اس کو تھما دی اور آگے چل دیا۔
لشکارے نے خوش ہوکر دال کھانا شروع کردی اور کھاتے کھاتے ایک دانہ ہاتھ میں لے کر شہزادے کی جانب مڑا:
”شہزادے صاحب! آپ بھی دال کھا لیں، بڑے مزے کی ہے۔“
”نہیں بھئی! میرا ابھی دل نہیں کر رہا۔“ شہزادہ بے دلی سے بولا۔
”تو میں کون سا پیٹ بھر کر کھانے کا کہہ رہا ہوں، ایک دانہ ہی تو دے رہا ہوں۔“
”نہیں بھئی!“
”اب میری اتنی سی بات بھی نہیں مانیں گے؟“
شہزادے نے بندر کو لاچارگی کے انداز میں دیکھا اور اس کے ہاتھ سے دال کا دانہ اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لیا۔ بندر یہ دیکھ کر اپنے مخصوص انداز میں ”کھی کھی‘‘ کرکے ہنسنے لگا اور شہزادہ گھوڑے کوآگے بڑھاتا چلا گیا۔
کچھ ہی دیر میں راستہ ان کو ایک قصبے میں لے گیا، یہاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر پھیری والے کچھ نہ کچھ بیچتے نظر آرہے تھے۔ ایسے میں ایک جگہ ایک شخص دہی بیچتا نظر آیا تو لشکارے نے شہزادے سے کہا:
”شہزادے صاحب! میں نے دہی لینا ہے۔“
”دہی؟ تم دہی کا کیا کرو گے؟“
”بس مجھے تو لینا ہے، ایک کونڈا دہی۔“
”بھئی!تم دہی کا کیا کروگے اور پھر ہم گھوڑے پر کہاں کونڈا سنبھالتے پھریں گے؟“
”مجھے نہیں پتا، یا تو مجھے دہی لے دو یا پھر لا میری دال کا دانہ واپس کر!“ بندر بگڑ کر بولا۔
اب شہزادہ دال کا دانہ بھلا کہاں سے واپس کرتا؟ مرتا کیا نہ کرتا، دہی والے سے ایک کونڈا دہی کا خریدا اور گھوڑے پر اپنے پیچھے باندھ لیا۔
ابھی چند ہی قدم اور آگے چلے ہوں گے کہ ایک طرف ایک رسی بیچنے والا نظر آیا۔ لشکارے نے پھر سے آواز لگائی:
”شہزادے صاحب! میں نے رسی لینی ہے۔“
”رسی؟اب رسی کا تم کیا کرو گے؟“
”بس مجھے تو لینی ہے، ایک گچھارسی۔“
”بھئی! تم رسی کا کیا کروگے اور پھر ہم گھوڑے پر رسی کو کہاں رکھیں گے، پہلے ہی دہی کا کونڈاتم نے لے لیا ہے؟“
”مجھے نہیں پتا، یا تو مجھے رسی لے دویا پھر لا میری دال کا دانہ واپس کر!“ بندر پھر سے بگڑ کر بولا۔
اب شہزادہ دال کا دانہ بھلا کہاں سے واپس کرتا؟ مرتا کیا نہ کرتا، رسی والے سے ایک گچھا رسی کا خریدا اوراسے بھی گھوڑے پر اپنے پیچھے باندھ لیا۔
مزید چند قدم اور آگے چلے تو انہیں ایک ڈھول والا ڈھول بجاتا ہوانظر آیا۔بندر اسے دیکھتے ہی چلااٹھا:
”شہزادے صاحب! میں نے بھی ڈھول لیناہے۔“
”ڈھول؟دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟“
”بس مجھے تو لینا ہے، ایک بڑا سا ڈھول۔“
”آخراب تم ڈھول کا کیا کروگے اور پھر پہلے ہی گھوڑے پردہی کا کونڈا اور رسی کا گچھہ موجود ہے، اس ڈھول کو کہاں رکھیں گے؟“
”مجھے نہیں پتا، یا تو مجھے ڈھول لے دو یا پھر لا میری دال کا دانہ واپس کر!“ بندر پھر سے بگڑ کر بولا۔
اب شہزادہ دال کا دانہ بھلا کہاں سے واپس کرتا؟ مرتا کیا نہ کرتا،ڈھول والے سے ایک بڑا سا ڈھول بھی خریدا اوراسے بھی گھوڑے پرلاد لیا۔
سورج اب ڈھلنے والا تھا اورایسے میں شہزادے کوجنگل کے بیچ ایک سرائے نظر آگئی جس کی چمنی سے دھواں نکل رہا تھا۔ شہزادے نے خدا کا شکر ادا کیا کہ سرائے سے پہلے مزید کوئی پھیری والا بندر کو نہیں ملا ورنہ اس کی خواہشات کا سلسلہ تھمنے والا نہیں تھا۔
شہزادے نے گھوڑے کو سرائے کے باہر درختوں کے جھنڈ میں باندھا اور لشکارے کو کندھے پر بٹھائے سرائے کے دروازے پر دستک دی۔ تین چار مرتبہ کی دستک کے بعد اندر سے ایک نسوانی آواز سنائی دی:
”کک...کون ہے؟“
”مسافر ہوں، پناہ چاہتا ہوں۔“ شہزادے نے جواب میں کہا۔
”یہاں کیا کر رہے ہو؟ تمہیں معلوم نہیں یہاں انسان نہیں آتے؟“ دروازہ کھلا اور اندر سے ایک بوڑھی عورت کا جھریوں بھرا پریشان چہرہ دکھائی دیا۔
”اماں جی! شام ہورہی ہے، اب میں اور کہاں جاؤں؟ کیا آپ بتائیں گی کہ مسئلہ کیا ہے؟“ شہزادے نے ادب سے سوال کیا۔
”مسئلہ یہ ہے کہ یہ سرائے ایک آدم خور دیو کی ملکیت ہے، وہ ابھی واپس آنے والا ہے۔ انسانوں کو تو وہ دیکھتے ہی کھا جاتا ہے اور پھر تمہارے ساتھ تو یہ کلموہا بھی ہے، ان کو تو وہ بہت ہی شوق سے کھاتا ہے۔“ بڑھیا نے لشکارے بندر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا۔
”اوہو! تو یہ بات ہے۔ مگر کیاآپ ہماری کچھ مدد نہیں کرسکتیں؟ بس ایک رات کی توبات ہے۔ میرا وعدہ ہے کہ صبح ہوتے ہی ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔ میں آپ کو کچھ اشرفیاں بھی دے سکتا ہوں۔“ شہزادے نے درخواست کی۔
اشرفیوں کے نام پر بڑھیا کچھ نرم پڑتی دکھائی دی اور بولی:
”اشرفیاں؟ تمہارے پاس کہاں سے آئیں اشرفیاں؟ تم کیا کوئی شہزادے ہو؟“
”نہیں نہیں! میں تو ایک مداری ہوں، اس بندر کا تماشا دکھا کر گزر بسر کرتا ہوں، بادشاہ لوگ خوش ہوکر انعام میں اشرفیاں، ہیرے، جواہرات اور بہت کچھ دے دیتے ہیں۔“ شہزادے نے جلدی سے بات بنائی اور جیب سے چند اشرفیاں نکال کربڑھیا کے سامنے کردیں۔
”ہوں! ہے تو بڑا مشکل مگر اس سرائے کی پہلی منزل پر ایک پرانا کمرہ ہے، میں تمہیں آج کی رات وہاں سونے کی اجازت دے سکتی ہوں۔ کھانا بھی دیو کے آنے سے پہلے دے دوں گی مگر یاد رہے کہ دیو کے آنے کے بعد تم لوگوں کی آواز نہ نکلے۔اور ہاں! اوپر والے کمرے کے فرش میں ایک سوراخ ہے جوعین دیو کے بستر کے اوپر ہے، اس پر میں برتن رکھ دوں گی، اسے وہاں سے ہرگز نہ اٹھانا۔“
بڑھیا نے اشرفیوں کی چمک دیکھ کر گویا ہامی بھر لی اور وہ دونوں اپنا سامان اٹھائے سرائے کی پہلی منزل کے پرانے سے کمرے میں شب گزاری کرنے چل دیے۔کچھ دیر میں بڑھیا نے ان کو کھانے کے لیے بھنا ہوا گوشت اور روغنی نان لا کر دیے جو انہوں نے خوب مزے سے کھائے۔
سارا دن کے سفر سے تھکے ہوئے تو تھے ہی،کھانا کھاتے ہی ان دونوں کو نیند آگئی اور وہ نیند کی وادی میں اترتے چلے گئے۔ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ ان دونوں کی آنکھ کھل گئی۔ یوں لگتا تھا جیسے زلزلہ آگیا ہو۔ ابھی وہ سوچ ہی رہے تھے کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ ایک گرج دار آواز گونجی:
”آدم بو! آدم بو! آدم بو!“
وہ سمجھ گئے کہ دیو واپس آگیا ہے اور شاید اس کو شہزادے کے جسم کی انسانی بو محسوس ہوگئی ہے۔ ایسے میں ان کو پہلے سرائے کا دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی اورپھر بڑھیا کی آوازآئی:
”آؤ بیٹا آؤ! آج بڑی دیر کردی۔ آدم بو یہاں کہاں، یہ تو میرا عطر ختم ہوگیا ہے،اس لیے تجھے میرے پاس سے انسانی بو آرہی ہوگی۔ جلدی سے اندر آجا! میں نے تیرے لیے خاص دنبے کا گوشت بھونا ہے۔“
”خالہ! تجھے کتنی مرتبہ کہا ہے کہ عطر ختم ہونے سے پہلے مجھے بتا دیا کر،کسی روز تو ایسے ہی میرے ہاتھوں ماری جائے گی۔“ دیو غرا کر بولا اور سرائے کا دروازہ بند ہونے کے ساتھ اس کے قدموں کی آواز پھر سے سنائی دینے لگی۔ اس کے چلنے سے مکان یوں ہل رہا تھا جیسے زلزلہ آگیا ہو۔
کچھ دیر تک تو انہیں اوپر تک دیو کے کھانا کھانے کی آوازیں آتی رہیں پھر ایک زور دار ڈکار کی آواز کے بعد دیو نے اپنے سونے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی اس کے فلک شگاف خراٹے سرائے میں گونجنے لگے۔
شہزاد ے نے سکون کا سانس لیا کہ دیو کو ان کی موجودگی کا علم نہیں ہوسکااور اب وہ سوگیا ہے مگر یہ سکون بہت دیر تک برقرار نہ رہ سکا، بندر اس کے کان میں آکر بولا:
”مالک! بڑا مسئلہ ہوگیا ہے!“
”اب کیا ہوگیا لشکارے؟“ شہزادے نے بے چارگی سے پوچھا۔
”مجھے.....ہنسی آرہی ہے۔“
”کیا؟ ہنسی؟ ہنسی کی کیا بات ہے اور یہ کون سا وقت ہے ہنسنے کا؟“
”مجھے نہیں پتا، مجھے ہنسی آرہی ہے بس۔“
”تو بابا! ہنس لو میں کیا کروں؟“
”بات یہ ہے کہ میں نے اس برتن کو ہٹا کر اس سوراخ میں ہنسنا ہے۔“ بندر رازدارانہ انداز میں بولا۔
”کیا!!!“ شہزادہ دبی دبی آواز میں چلایا اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔
”لشکارے!یہ تو مجھے معلوم ہے کہ تم ایک بندر ہو مگر اتنے نامعقول نکلو گے، یہ کبھی نہیں سوچا تھا۔“
”بھئی شہزادے صاحب!نامعقول ہوں یا ناخلف، اب یا تو مجھے سوارخ میں ہنسنے کی اجازت دو یا پھر لا میری دال کا دانہ واپس کر!“
”یہ عجیب مصیبت ہے، اچھا باباجاؤ دفع ہو، ہنس لو سوراخ میں۔“ شہزادہ غصے سے بولا اوربستر میں واپس لیٹ کر چادر منہ پر تان لی۔ بندر تیزی سے سوراخ کی جانب بڑھا اور اس پر رکھے برتن کو ہٹا کر اس میں جھانک کر دیکھا۔ نیچے دیو اپنی چارپائی پر سو رہا تھا اور اس کے خراٹوں سے چھت لرز رہی تھی۔
بندر نے اپنا منہ سوراخ میں ڈال کر اپنی مخصوص ”کھی کھی“ شروع کردی۔ بھلا ہودیو کے خراٹوں کا، بندر کی ہنسی اس میں دب کر رہ گئی اوردیو کی نیند میں خلل نہ آسکا۔ اپنا شوق پورا کرکے لشکارابرتن کوسوراخ پر رکھ کر واپس بستر میں آکر لیٹ گیا اور شہزادے نے پھر سکون کا سانس لیا۔
ابھی شہزادہ نیند کی وادی میں دوبارہ اترنیہی والا تھا کہ بندر ایک مرتبہ پھر سے اس کی چھاتی پر آبیٹھا۔
”اب کیا ہے لشکارے؟ سونے نہیں دو گے آج؟“ شہزادہ بالکل بے بس ہوچکا تھا۔
”سونا تو ہے، مگر ایک مسئلہ ہوگیا ہے۔“
”اب کیا مصیبت آن پڑی ہے؟“
”وہ بات یہ ہے کہ....مجھے پیشاب آرہا ہے۔“
”کیا بکواس ہے بھئی! اب آرہا ہے تو کسی کونے میں کرلو، میں اس سلسلے میں کیا کرسکتا ہوں؟“
”کونے میں نہیں، میں نے تو پیشاب اس سوراخ میں کرنا ہے۔“
”کیا!!!“ شہزادے کی آنکھیں طیش اور حیرت سے پھیل چکی تھیں۔
”کیا مجھے مروانے کا پورا پروگرام ہے تمہارا؟“
”یہ میں نہیں جانتا! اب یا تو مجھے سوراخ میں پیشاب کرنے کی اجازت دو یا پھر لا میری دال کا دانہ واپس کر!“ بندر نے اپنا کامیاب حربہ پھر سے آزما دیا اور شہزادہ پھر سے چادر منہ پر ڈال کر اپنی عافیت کی دعائیں مانگنے لگا۔
بندر پھر سے سوراخ کے پاس گیا اور برتن کو ہٹا کر رفع حاجت سے فارغ ہوگیا۔ دیو کے جسم پر جب بندر کا پیشاب گرا تو وہ ہڑبڑاکر جاگ گیا۔سوراخ میں اس کو بندر کی سرخ چمکتی ہوئی آنکھیں دکھائی دیں تو وہ گڑبڑا بھی گیا۔
”تو کون؟“ دیو نے گرج دار آواز میں سوال کیا۔
”تو کون؟“ بندر نے اس کی آواز کی نقل اتارتے ہوئے الٹا سوال کرلیا۔
”میں دیو۔“
”میں دیو کا بھی پیو!(پنجابی میں باپ کو کہتے ہیں)۔“بندر نے مزاحیہ لہجے میں کہا۔
”اچھا؟ تو ہوجائے مقابلہ؟“ دیو نے پوچھا۔
”ہوجائے۔“
”ٹھیک ہے! تو پھر اپنی مونچھ دکھاؤ۔“ دیو نے کہا۔
”پہلے تم دکھاؤ۔“ بندر نے پلٹ کر کہا۔
”ٹھیک ہے، یہ لو دیکھو۔“ دیو نے اپنی مونچھ کا بال اتار کر سوراخ کے قریب کر دیا۔ بندر جلدی سے کونے میں گیا اور رسی کاگچھا کھول کر ساری رسی سوراخ میں لٹکا دی۔ اتنی بڑی مونچھ دیکھ کر دیو ہل کر رہ گیا۔
”اب....اب....اپ....اپنا تھوک دکھاؤ۔“ دیو اپنا تھوک نگلتے ہوئے بولا،
”نہیں، پہلے تم دکھاؤ۔“ بندر نے فرمائش کی تو دیو نے چھت کی طرف تھوک دیا۔ ساری چھت اور بندر کا منہ تھوک سے گیلا ہوگیا۔
”اب تم دکھاؤ۔“ دیو گرجا۔
بندر جلدی سے کونے میں پڑا دہی کا کونڈا لے آیا اور سارا دہی سوراخ میں سے نیچے پھینک دیا۔ دیو دہی میں نہا گیااور اندر ہی اندر لرز گیا کہ اتنا تھوک تو کسی بہت ہی بڑی بلا کا ہوسکتا ہے۔پھر بھی ہمت کرکے بولا:
”اچھ....چھا... اب اپنا پیٹ بجاؤ۔“
”پہلے تم ہی بجا کر دکھاؤ۔“ بندر نے غرا کر جواب دیا اور دیو نے اپناپیٹ بجانا شروع کردیا۔
پیٹ کی آواز سے سرائے کے درودیوار لرزنے لگے، شہزادہ جاگ تو رہا ہی تھا، پیٹ کی آواز پر سہم کر کھڑا ہوگیا تھا۔ جیسے ہی دیو نے پیٹ بجانا بند کیا، بندر کونے میں پڑا بڑا سا ڈھول اٹھا لایا اور ”ڈھماڈھم ڈھم ڈھما ڈھم ڈھم“ پوری قوت سے اسے بجانا شروع کردیا۔
ڈھول کی آواز کی دہشت سے دیو کے اوسان خطا ہوگئے، اتنی گرج دار آواز کسی بہت ہی بڑی مخلوق کے پیٹ کی ہوسکتی تھی۔ دیو نے اپنی چارپائی سے چھلانگ لگائی اور بھاگتا ہوا سرائے سے باہر نکل گیا اور اس کے قدموں کی آواز دور ہوتی چلی گئی۔
کچھ دیر تو سناٹا چھایا رہا پھر شہزادے نے خوش ہو کر لشکارے کو گود میں اٹھا لیا اور اس کو داد دی۔ایسے میں سرائے کی بڑھیا بھی اوپر آگئی، جب اس کو ساری بات بتائی گئی تو وہ بھی بے حد خوش ہوئی۔ اس نے ان کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ اس دیو نے زبردستی اس کی سرائے پر ایک عرصہ سے قبضہ کررکھا تھا اور آج بندر نے اپنی عقل مندی سے اسے بھگا کر ایک بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔
ایسے میں بندر نے اپنی جیب سے لفافہ نکال کر دال کا ایک دانہ اپنے منہ میں ڈالا اور ایک دانہ شہزادے کی جانب بڑھا دیا۔ شہزادے نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایااور دال کا دانہ اپنے منہ میں ڈال لیا۔
ختم شد
