چند گھروں پر مشتمل چھوٹی بستی تھی۔ جسے وہاں کے مکینوں نے "مجاہد فورس کالونی" کا نام دیا ہوا تھا۔ سب بستی والے مل جل کر رہتے تھے۔ انہوں نے کالونی کی باقاعدہ تنظیم بھی بنارکھی تھی۔ جس کا صدر چھپو دادا تھا۔
چھپو دادا دراصل پوتے پوتیوں والا دادا نہیں بلکہ غنڈہ گردی والا دادا تھا، وہ انتہائی بد اخلاق۔ منہ پھٹ اور ڈھیٹ انسان تھا۔ لیکن حماقت سے بھرپور انسان تھا۔ ہر آنے والے خطرے میں کالونی والے اسے ہی آگے کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ کالونی میں چھپو دادا کا ہر سو چرچا تھا۔
ایک رات کالونی میں کچھ چور آگئے اور کافی سارا قیمتی سامان چرا لے گئے، کسی کو کان وکان خبر ہی نہ پڑی۔
اگلی صبح کو جب تمام کالونی والوں کو یہ خبر پڑی کہ رات تو کالونی میں چور صفایا کر گئے ہیں، تو
سب بھاگم بھاگ چھپو دادا کی دوکان پر گئے، چھپو دادا پیشے کے لحاظ سے قصاب تھے۔ اور بدقسمتی سے اس وقت دوکان پر تشریف فرما نہ ہوئے تھے۔ کالونی والوں نے اسے دوکان پر موجود نہ پایا تو سب گھر کی طرف بھاگے۔
چھپو دادا صبح کے وقت گھر کے صحن میں ایکسر سائز کرنے میں مصروف تھا۔ جب چھپو نے اتنے سارے لوگوں کا شور و غل سنا تو وہ سمجھا کہ شاید یہ لوگ میری بغاوت پر اتر آئے ہیں اوراب یہ مجھے مار کر ہی دم لیں گے۔ تو اس نے چھت کا رخ کیا اور بھاگم بھاگ سیڑھیاں پھلانگتا ہوا چھت پر چڑھ گیا۔ کالونی والے بھی اس کے پیچھے "دادا سنو۔۔۔دادا سنو" کی صدائیں بلند کرتے ہوئےچھت پر چڑھ گئے۔ چھت کے آخری سرے پر سے چھپو نے یہ سارا منظر دیکھا اور بچنے کی کوئی سبیل نہ جانی تو چھت سے نیچے چھلانگ ہی لگادی۔ اور دھڑام سے نیچے گرا۔ مگر وہ جس جگہ گرا تھا وہاں بہتا ہوا گندے پانی کا ایک نالہ تھا۔ چھپو سیدھا اس نالے میں آگرا۔
کچھ ہی دیر میں کالونی والے نالے کے قریب پہنچ گئے اور ارد گرد پھیل گئے۔ جب چھپو دادا نے ڈرتے ڈرتے اپنا منہ نالے سے باہر نکالا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ سب لوگ اسے دیکھ کر ہنس رہے ہیں۔ (اس کے خیال میں وہ کسی اچھے سے سوئمنگ پول میں گرا تھا)۔
"چھپو دادا۔۔۔ گھر سے نہا دھو کر دوکان پر آؤ۔۔۔ پھر بات کرتے ہیں۔" ایک صاحب نے کہا۔ اور سب واپس ہولیے
چھپو اسی حالت میں گھر کی جانب روانہ ہوا۔ اس کی صاف و سفید بنیان اور شلوار نالے میں گرنے کی وجہ سے بالکل کالی ہو گئی تھی۔ اور وہ شکل جس سے سارا دن حیوانیت ٹپکتی تھی اب گند کی وجہ سے ہیبت ناک بن گئی تھی۔
گلی میں کچھ بچے کرکٹ کھیل رہے تھے۔ جب ان کی نظر چھپو دادا پر پڑی تو مارے خوف کے بچے "بھوت بھوت" کہتے ہوئے اپنے گھروں کی جانب بھاگ کھڑے ہوئے۔ خیر چھپو کو اس سے کونسا فرق پڑتا تھا وہ اسی شان سے چلتا ہوا گھر کی جانب رواں دواں تھا
**
"ارے ارے۔۔۔ یہ موٹا کہاں سے آگیا۔ ارے ہے کوئی محلے والا ہے کوئی جو اس کالے بھوت سے جان چھڑائے۔ یہ تو سیدھا میرے گھر ہی میں گھس گیا۔۔۔ ٹھہر تو۔۔۔ ٹھہر یہاں۔۔۔ میں ابھی تیرے باپ کو بلا کے لاتی ہوں۔ وہ تیری تکا بوٹی کر کے چیل کوؤں کو ڈال دے گا۔ تو نے نام بھی سنا ہو گا اس کا اس کا نام چھپو دادا ہے۔"
"وہ تو میں ہی ہوں چھپو دادا۔۔۔"
چھپو جب گھر میں داخل ہوا تو اس کی بیوی نے جو کہ کھانا پکارہی تھی چمٹا لہراتے ہوئے کہا۔ جواب میں چھپو نے بھی اپنی شناخت کرادی۔
"اوہ۔۔۔کیا تو کلموئا بنا پھر رہا ہے۔۔۔ تو تو صحن میں " بردش" کر رہا تھا پھر یہ سب کیسے۔۔۔۔؟" وہ حیران تھی، چھپو نے سارا ماجرا اسے سنایا تب کہیں سکون کا سانس آیا۔
چھپو نہا دھو کراپنی دوکان پر گیا اور اتنے میں سارے لوگ اس کے گرد جمع ہو گئے۔ پھر رات والا واقعہ سنایا گیا۔ اور چوکیدار کی فرمائش کی گئی۔ اتنی خطرناک "واردات" کی بنا پر کوئی بھی چوکیداری کرنے کو تیار نہیں تھا۔ ( شاید انہیں پتا تھا کہ معاوضہ بالکل بھی نہیں ملے گا ۔ یہ بوجھ کا ٹوکرا بھی چھپو دادا نے اپنے سر پر خود ہی باندھ لیا۔ اور چوکیداری کرنے پر آمادہ ہو گیا۔
رات کا سناٹا ہر طرف چھایا ہوا تھا اور چاند اپنی آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ جس طرح چاند جاگ رہا تھا اسی طرح چھپو دادا بھی جاگ رہا تھا۔ چھپو سیٹی پر سیٹی بجاتا ہوا اور اپنے پسندیدہ گانے گاتا ہوا ادھر سے ادھر افریقی ڈانس کر رہا تھا کہ اچانک ایک سمت سے چند چور آگئے۔ انہوں نے چھپو کو اس طرح ناچتے دیکھا۔
ان میں سے ایک نے کہا: "لگتا ہے اس نے ناشتے میں مینڈک کھا لیا ہے... اور اب مینڈک اس کے پیٹ میں اچھل کود کر رہا ہے تبھی تو اس کو چین نہیں آ رہا اور یہ بھی مینڈک کی طرح پھدک رہا ہے۔"
اچانک چھپو دادا کی نظر ان چوروں پر پڑی۔ دونوں "فریقین" گھبرا گئے۔ دونوں فریقوں کو یہ معلوم ہو گیا تھا کہ چوکیدار اور چور اب آمنے سامنے ہو چکے ہیں۔ اور کچھ نہ کچھ ہو گا ضرور۔ لیکن چھپو نے سیاست لڑاتے ہوئے نہ صرف "دھینگا مشتی" سے بچ گیا بلکہ ان سے یہ کہا:
"اگر تم سب کچھ لے جانا چاہتے ہو تو میری کچھ شرطیں تمہیں قبول کرنی ہوں گی"۔ چوروں نے بھی شرط ماننے کیلئے قبولیت ظاہر کی۔ چھپو نے شرط کچھ یوں بیان کی ۔
"ہم دونوں ایک دوسرے کو کہانی سنائیں گے۔ کہانی میں ہامی بھرنی ہوگی۔ یاد رہے کہ ہامی صرف ہاں میں ہونی چاہیے۔ اگر تمہاری طرف سے ہامی ناں میں ہوئی تو میں جو چاہوں تمہیں مانتا ہو گا اگر ناں میری طرف سے ہوئی تو تم جو بولو گے وہ سب کچھ میں کروں گا۔" چوروں نے یہ شرط قبول کرلی۔
چوروں کے سردار نے کہانی سنانا شروع کی جو کہ کچھ یوں تھی۔
"میرا والد ایک بینک مینجر تھا۔ اس کی تنخواہ تین روپے ماہانہ تھی ۔ ہر ماہ میرا والد تین روپے لے کر آتا تو ہم شاپنگ کرنے گاؤں چلے جاتے۔ وہاں سے مہینے کا راشن، گوشت، سبزی، کھانے پینے کی اشیاء، بچوں کے کھلونوں سے بھرا ہوا تھیلا ، اسکول کا سامان، غرض کہ ہر دنیاوی سامان لے آتے اور پھر بھی ایک روپیہ پچیس پیسے بچ جاتے۔ وہ سامان ہم گھر لے جاتے اور بقیہ پیسے خیرات کے طور دے دیتے۔" چھپو ساری کہانی کے دوران کے ہاں ہاں کرتا رہا۔ جب کہانی ختم ہوئی تو چور گھبرا گئے۔ اور چھپوے کو کہانی سنانے کا کہا۔ چھپونے کہانی کچھ یوں سنائی ۔
"ایک مرتبہ میں اور میرا والد سری لنکا کے شہر دہلی گئے۔۔۔پھر وہلی سے ہم نے ایک جہاز بک کروایا۔ وہ جہاز ہمیں دہلی کے خوبصورت گاؤں واشنگٹن میں چھوڑ آیا۔ وہاں سے میرے والد نے سرسوں کے بیچ خریدے۔ پھر ہم نے وہ بیج بوئے۔ ایک ماہ بعد وہ بیج پودے بن گئے۔ ان پودوں میں سے لوہے کی سلاخیں نکلیں ۔ لوہے کی سلاخوں کے اوپر پیاز کے پھول لگ گئے۔ ان پھولوں میں سے بند گوبھی کے پھول نکلے۔ پھر ہم جب اسے توڑنے لگے تو وہ روئی کے پھول بن گئے اور ہم نے روئی چن لی۔ پھر وہ روئی ہم نے ایک بوڑھی عورت کو دی اس نے ہم سے کچھ پیسے لئے اور اس روئی سے پلاسٹک کا دھاگہ بنا کر دے دیا۔ پھر ہم درزی کے پاس گئے درزی نے ہمیں کپڑے بنا کر دیئے۔ اور پھر ہم واپس اپنے پیارے ملک پاکستان میں آگئے۔ لیکن جہاز کے ریلوے اسٹیشن پر ہمارے کپڑے کسی نے چوری کر لیے ۔" چور برابر ہاں ہاں کر رہے تھے۔ لیکن جب چھپونے یہ الفاظ بولے تو ان کے اوسان خطا ہو گئے۔ وہ الفاظ یہ تھے۔
"اب وہ کپڑے جو اسٹیشن سے چوری ہوئے تھے تمہارے بدن پر ہیں۔" ان الفاظ پر چور اگر ہاں کرتے تو بھی پھنستے اور اگر ناں کرتے تو بھی۔ لیکن انہوں نے موقع غنیمت جان کر وہاں سے بھاگنے کو ہی بھلا سمجھا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے چھپو کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ چھپو نے فاتحانہ قہقہہ لگایا۔۔۔ اور زور کی سیٹی بجا کر آواز لگائی۔
"جاگتے رہو۔۔۔"
