🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
جب پھول بھی رو پڑے
نرسری (۳-۵ سال)جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

جب پھول بھی رو پڑے

عبدالرشید فاروقی
عبدالرشید فاروقی
1 اگست، 2026۵ مرتبہ پڑھی گئی

جب پھول بھی رو پڑے سنیں

پارک کے اُس میں حصے میںرنگ رنگ کے پھول مسکرا رہے تھے۔اُن کی خوش بو سے وہ حصہ مہک رہا تھا ۔ خلاف توقع اُس وقت وہاں کوئی نھیں تھا۔ جب کہ پارک کے جھولوں والے حصے میں بہت رَش تھا۔وہ پھولوں کی کیاریوں کے پاس ہی سکڑا ، سمٹا… ایک درخت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ اُس کا گول سا چہرہ آنسوئوں سے تر تھا۔ اُس کی عمر دس سال رہی ہوگی۔ پھولوں میں بیٹھا، وہ کوئی پھول ہی لگ رہا تھا،لیکن وہ پھول اُس وقت چپکے چپکے آنسو بہا رہا تھا۔ اُس کے نرم گرم آنسو گالوں سے ہوتے ہوئے گھاس پر گرتے تو وہ بے چین ہوجاتی۔ چھوٹے بڑے پھول اُس کے دَرد کو محسوس کر رہے تھے ۔ اُس کے دَرد نے اُنھیں بھی دُکھی سا کر دیا تھا۔ وہ آپس میں سر گوشیاں کر رہے تھے۔ گیندے کے ایک بڑے سے پھول نے اُس کی طرف جھکتے ہوئے آہستہ سے پوچھا:

'' دوست! میں دیکھ رہا ہوں… تم کافی دیر سے بیٹھے رو رہے ہو۔ کیا بات ہے… کیا مجھے بتانا پسند کرو گے۔''

اُس نے ننھی سی آواز سنی تو رونا بند کر دیا۔ آواز میں ہمدری تھی جسے اُس نے صاف محسوس کیاتھا۔ دُکھ اور تکلیف میں ہمدردی کے دو بول بہت اہم ہوتے ہیں۔ اُس نے توجہ کی تو دیکھا … اُس کے بالکل قریب گیندے کا ایک بڑا سا پھول اُس کی طرف جھکا ہوا تھا۔ وہ حیران رہ گیا:

''یہ تم ہو پیارے گیندے؟''

''ہاں! یہ میں ہی ہوں… تم رو کیوں رہے ہو؟''

اِس سے پہلے وہ کچھ کہتا، اُس کے کانوں سے ایک اور آواز ٹکرائی:

''میں تمھیں دیکھ رہا ہوں اور سُن بھی رہا ہوں۔'' یہ گلاب تھا۔ سرخ رنگ کا… زندگی سے بھرپور۔

''دوست! ہم سب بھی تمھارے رونے کی وجہ جاننا چاہتے ہیں…'' بہت سی آوازیں اُسے ایک ساتھ سنائی دیں۔

''اوہ… میں تو سمجھا تھا، یہاں اکیلا ہوں لیکن …''

''لیکن ہم سب بھی یہاں موجود ہیں… '' موتیا کا پھول، گلاب کے چھوٹے بڑے پھول، گھاس اور کیاریوں میں شان سے کھڑے دوسرے پودوںنے ایک ساتھ کہا تھا۔

''تمھارا نام کیا ہے دوست؟'' گھاس نے اُس کے پائوں میں گدگدی کی۔

''میں نور ہوں…'' وہ آہستہ سے بولا۔

''ارے واہ… کتنا پیارا نام ہے تمھارا… یقینا تم اپنے امی ابو کی آنکھوںکا نور ہوگے۔'' گیندے نے خوشی سے جھومتے ہوئے کہا۔

''امی ابو… '' اُس کے دل پر چوٹ لگی۔

''کیا ہوا … کچھ اپنے بارے میں بتائو ہمیں ۔''

''میں نور ہوں… اپنے چچا جان کے گھر میں، اُن کے ساتھ رہتا ہوں۔''

''چچا جان کے ساتھ… اُن کے گھر میں… ''ننھی کلی نے کہا۔

''تم اپنے امی ابو کے ساتھ کیوں نھیں رہتے ہو… ؟''

''میرے امی ابو نھیں ہیں نا، اِس لیے اُن کے ساتھ رہتا ہوں…''

''کیوں نھیں ہیں… کہاں گئے وہ…؟'' ننھی کلی مسکرائی۔

''ایک سال پہلے دونوں ایک حادثے میں … اللہ تعالیٰ کے پاس چلے گئے تھے۔ چچا ، چچی اور اُن کے تین بچوں کے سوا میرا کوئی نھیں ہے۔''

''اوہ… ہمیں معاف کرنا… ہم نے تمھارا زخم تازہ کر دیاہے۔'' گلاب نے جلدی سے کہا۔

''کوئی بات نھیں…''اُس نے آنسو پونچھ لیے۔

''لیکن تم رو کیوں رہے تھے؟''

''عید قریب آ رہی ہے… میرے چچا اور چچی نے فیصلہ کیا ہے۔ اِس بار عید پر میرے لیے نئے کپڑے نھیں بنیں گے۔''

''کیوں… تمھارے لیے نئے کپڑے کیوں نھیں بنیں گے۔'' ایک چھوٹے سے پودے نے جلدی سے پوچھا۔

''وہ کہتے ہیں… اس بار کاروبار ٹھیک نھیں ہے۔ اُن کے بچوں کے کپڑے بن جائیں تو بڑی بات ہے۔ '' وہ بہت دُکھی ہو رہا تھا۔

''اوہ… مطلب، وہ اپنے بچوں کے کپڑے تو بنائیں گے، لیکن تمھارے نھیں… یہ کیا بات ہوئی؟''

''پتا نھیں… کیا بات ہوئی۔ میرے امی ابو ہمیشہ میرے لیے اچھے اچھے کپڑے بناتے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس چلے گئے ہیںنا… اِس لیے وہ کپڑے نھیں بنا سکتے ہیں۔'' نور نے دُکھی دل کے ساتھ کہا۔

''وہ نھیں بنا سکتے لیکن اللہ جی تو تمھارے لیے کپڑے بنا سکتے ہیں نا… تم اُن سے کہو … وہ تمھارے لیے کپڑے بنا دیں گے۔'' گھاس نے چٹکی لی۔

''اللہ جی سے کہوں… !کیا وہ واقعی کپڑے بنا دیں گے…!!''

'' کیوں نھیں بنائیں گے۔و ہی تو سارے کام کرنے والے ہیں۔ پھر اُنھوں نے تمھارے ابو امی کو اپنے پلاس بلا لیا ہے، کپڑوں کی ذمہ داری تو اَب اُن کی بنتی ہے نا… بس تم اُن سے کہو… مجھے یقین ہے۔ وہ تمھیں مایوس نھیں کریں گے۔ وہ کسی کو بھی مایوس نھیںکرتے۔ سب کا خیال رکھتے ہیں۔ کوئی اُس سے مانگے ہی نہ تو وہ کیا کرے… '' گیندے کا پھول کہتا چلا گیا۔ سب نے گھوم کر اُس کی طرف دیکھا۔

''گیندے انکل! یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں… اللہ جی کیسے کپڑے بنائیں گے…کیا وہ درزی ہیں؟'' ننھی کلی حیران تھی۔

''یہ تو مجھے نھیں معلوم لیکن اتنا جانتا ہوں… سب کے سارے کام بس وُہی کرتا ہے۔وہی سب کو روٹی دیتا ہے۔ دُکھ اور سُکھ اُسی کے قبضے میں ہیں۔ جسے چاہتا ہے… دیتا ہے۔ ایک بزرگ کہہ رہے تھے۔ سبھی کچھ اللہ جی کی طرف سے ہوتا ہے، اُس کے علاوہ کسی سے نھیں ہوتا ہے۔اِس لیے میں کہتا ہوں… اللہ جی کو نور کے لیے کپڑے بنانا ہی ہوں گے۔اب وہ کیسے بنائیں گے… یہ بات میں نھیںجانتا ہوں۔''

''بزرگ کہہ رہے تھے… کون سے بزرگ۔'' موتیا جلدی سے بولا۔

'' ہفتہ پہلے ایک بابا جی یہاں میرے پاس اپنے دو پوتوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔وہ اُنھیں سمجھا رہے تھے۔ اُن کی باتیں مجھے بہت اچھی لگ رہی تھیں۔ میں نے سب توجہ سے سنیں اور یاد کرلی تھیں۔'' گیندے نے مسکراتے ہوئے کہا۔

''اوہ… مجھے واقعی اللہ جی سے کہنا ہوگا…کیا میں ابھی کہوں…؟'' نور خوش ہوگیا۔

'' عید تو ابھی دُور ہے۔''

'' اللہ جی نے کپڑا بھی خریدنا ہوگا …تم … تم ابھی اُن سے کہو… '' ننھا گلاب بولا۔

نور نے دُعا کے لیے ہاتھ بلند کر لیے…وہ جانتا تھا۔ اُس کے ابو امی کو جب بھی اللہ جی سے کچھ مانگنا ہوتا تھا تو وہ ہاتھ اُٹھا کر مانگا کرتے تھے…اِس لیے اُس نے بھی ہاتھ اُٹھا لیے تھے… وہ کہہ رہا تھا:

''اللہ جی! آپ نے میرے ابو امی کو اپنے پاس کیوں بلالیا … اُن کے جانے کے بعد میرے چچا کے بیٹے مجھے بہت تنگ کرنے لگے ہیں۔ وہ بات بات پر مجھے مارتے ہیں۔ کھانے کے لیے اپنی چیزیں بھی نھیں دیتے ہیں مجھے۔ ابو امی کے بعد وہ لوگ ہمارے گھر میں رہنے لگے ہیں۔ ہماری ساری چیزوں پر اُنھوں نے قبضہ کرلیا ہے۔ وہ سب کے سامنے تو مجھے بیٹاکہتے ہیں لیکن میں جانتا ہوں، وہ مجھے اپنا بیٹا نھیں سمجھتے… اگر سمجھتے تو مجھے بڑے اسکول سے اُٹھوا کر چھوٹے سے اسکول میں کیوں داخل کرواتے… اللہ جی! اب وہ کہتے ہیں… عید پر وہ اپنے بچوں کے کپڑے تو سلوائیں گے ، میرے لیے نھیں لیںگے… یہ تو اچھی بات نھیں ہے۔ '' وہ سانس لینے کے لیے رُکا تو دیکھا… گیندے کے چھوٹے بڑے پھول، گلاب ، موتیے اور سرسبز گھاس… سبھی اُس کی طرف متوجہ تھے۔ وہ دوبارا کہنے لگا:

''اللہ جی! آپ سب کو سب کچھ دیتے ہیں… مجھے بس دو چیزیں دے دیں… '' نور کے ہاتھ اُٹھے ہوئے تھے اور اُس کی آنکھوں میں جانے چھوٹے چھوٹے موتی کہاں سے چلے آئے تھے۔

'' اللہ جی! انکار مت کیجئے گا… مجھے دو چیزیں تو ہر حال میں لینی ہیں… خوش ہو کر دیں یا چچا کی طرح خفا ہو کر…'' وہ کہتے کہتے ایک بار پھر رُ ک گیا۔درد سے بھرے اُس کے الفاظ نے وہاں موجود سبھی کو دُکھی کر دیا تھا۔ اُن کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے تھے۔وہ قدرے بلند آواز میں کہہ رہا تھا:

''پیارے اللہ جی! وہ دو چیزیں ہیں… نئے کپڑے اور بہت سا پیار…جب سے ابو امی کو آپ نے اپنے پاس بلایا ہے، کوئی مجھے پیار ہی نھیں کرتا ہے۔ میں ہمیشہ دُکھی رہتا ہوں۔ روتا رہتا ہوں… کوئی میرے آنسو نھیں پونچھتا… کوئی مجھے چپ نھیں کراتا… آپ سب کو سب دیتے ہیں۔ مجھے بھی دے دیں … اللہ جی! دیں گے نا مجھے یہ دو چیزیں…'' اُس کی آنکھیں بندتھیں اور چہرہ آنسوئوں سے جیسے بھیگ رہا تھا۔ اچانک ایک آواز اُس کے کانوں سے ٹکرائی:

''اچھے نور ! تمھیں دو چیزیں ضرور ملیں گی…''

اُس نے جلدی سے آنکھیں کھولیں اور اپنے سامنے موجود پھولوں کو دیکھنے لگا۔

''یہ کون بولا تھا… کیا اللہ جی…؟'' سب حیران تھے۔

آواز دوبارہ آئی:

''اچھے نور! تمھیں دونوں چیزیں ضرور ملیں گی اور ہمیشہ ملیں گی…آئو میرے پاس… مجھے اللہ جی نے بھیجا ہے۔ اُنھوںنے مجھے یہ دونوں چیزیں بہت دی ہیں اور کہا ہے… میں تمھیں دے دوں… بیٹا! آئو میرے پاس … ''

نور نے محسوس کیا… آواز اُس کے عقب سے آ رہی تھی۔ اُس نے جلدی سے گھوم کر پیچھے دیکھا… وہاں اُجلے کپڑوں میں، ایک بزرگ بانھیں پھیلائے، اُکڑوں بیٹھے تھے۔ اُن کی سفید داڑھی آنسوئوں سے تر تھی… وہ جانے کب سے وہاں موجود تھے۔وہ یتیم بچوں کے لیے ایک ادارہ چلاتے تھے۔

''دوست! جائو… اللہ جی نے تمھاری دُعا سن لی ہے۔وہ سب کی سنتا ہے…سب کی سننا چاہتا ہے، لیکن …سنانے والے اُسے سناتے ہی نھیں ہیں… اُس سے کہتے ہی نھیں ہیں۔جائو… اللہ جی کی مدد آپہنچی…'' گیندے کا پھول کہہ رہا تھا۔تھوڑی دیر پہلے وہاں دُکھ ، دَرد تھااور اب ہر طرف خوشی ہی خوشی تھی … ہر کوئی مسکرا رہا تھا…

نور آہستہ آہستہ بزرگ کی طرف قدم اُٹھانے لگا۔ وہ بانھیں پھیلائے بیٹھے تھے۔ دُور… پارک کے دروازے سے چالیس فٹ دُور ایک مکان کی چھت پر نور کا چچا … یہ سب دیکھ رہاتھا…

عبدالرشید فاروقی

لکھاری

عبدالرشید فاروقی

آپ بچوں کے ادب سے سال اُنیس سو تراسی سے منسلک ہیں۔ بے شمار کہانیاں لکھ چکے ہیں۔ تین جاسوسی ناولز ، چار کہانیوں کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ قسط وار ناول اِن کے علاوہ ہیں۔ ادب اطفال میں اُستاد جی کے نام