🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
تھوڑی سی محبت!
جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

تھوڑی سی محبت!

محمود مجید
31 اگست، 2026۱۱۱ مرتبہ پڑھی گئی

تھوڑی سی محبت! سنیں

صبح اُٹھتے ہی میری نظر صنوبر کے درخت پر ٹک گئی۔ وہ برف کی وجہ سے جھک سا گیا تھا۔ رات بھر ہونے والی برف باری نے ہر شے کو سفید چادر میں ڈھانپ دیا تھا۔صنوبر کی شاخیں برف کے بوجھ تلے دبی زمین کو چھونے لگی تھیں،جسے کوئی تھکا ہوا بوڑھا وقت کے سامنے سر جھکا کر کھڑا ہو۔ میں کھڑکی کے پاس کھڑا، دیر تک اُسے دیکھتا رہا۔میرے دل میں خیال آیا کہ اگر برف کا بوجھ اسی طرح بڑھتا رہا تویہ خوبصورت درخت ٹوٹ جائے گا۔میں نے گلی میں دیکھا۔میرے پڑوسی الٰہی بخش ہاتھ میں ایک لمبی لکڑی لیے، آہستہ آہستہ صنوبر کی طرف بڑھ رہے تھے۔ وہ ایک ایک شاخ سے برف ہٹا تے آگے بڑھ رہے تھے۔ میں نے کھڑکی کھولی اور اُنھیں آواز دی:

'' الٰہی بخش!آپ اتنی سردی میں یہ کیا کر رہے ہیں؟''

اُنھوں نے مسکرا کر جواب دیا:

'' بیٹا!اگر ابھی اِس کا بوجھ کم نہ کیا تو یہ ٹوٹ جائے گا۔''

میں نے کہا:

'' لیکن یہ تو صرف ایک درخت ہے، اِس کے لیے اتنی مشقت کیوں؟''

وہ چند لمحے خاموش رہے، پھر کہنے لگے:

'' درخت ہمیں صرف لکڑی ہی نہیں دیتے بلکہ یہ برسوں سے ہمیں سایہ، ہوا اور خوبصورت ماحول دے رہے ہیں۔ آج اس پر مشکل آئی ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کا بوجھ بانٹیں۔''

اُن کے الفاظ میرے دل میں اُتر گئے۔ میں فوراً گرم کپڑے پہن کر باہر آگیا اور ان کے ساتھ برف ہٹانے لگا۔

کچھ ہی دیر میں صنوبر کی شاخیں ہلکی ہونے لگیں۔جو شاخ زمین کی طرف جھک گئی تھی، وہ آہستہ آہستہ دوبارہ آسمان کی طرف اُٹھنے لگی۔ الٰہی بخش نے درخت کی طرف دیکھا اور کہنے لگے:

'' دیکھا بیٹا!کبھی کبھی کسی کو سیدھا کھڑا کرنے کے لیے اُسے سہارا نہیں، صرف بوجھ کم کرنا ہوتا ہے۔''

اُن کی بات سن کرمیں نے بے اختیار پوچھا:

'' کیا انسان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے؟''

وہ مسکرائے:

''انسان تو درختوں سے بھی زیادہ بوجھ اُٹھاتے ہیں۔کسی کے پاس غم کا بوجھ، کسی کے پاس غربت کا بوجھ ہے، کسی کے پاس تنہائی کا اور کسی کے پاس اپنی غلطیوں کا بوجھ ہے۔اگر ہم ان کا تھوڑا سا بوجھ اُٹھا لیں تو شاید وہ بھی دوبارہ سیدھے کھڑے ہو جائیں۔''

اچانک مجھے اپنے ہم جماعت نوید کا خیال آگیا۔پچھلے کئی دنوں سے وہ خاموش تھا۔ ہم اسے کمزور اور سست سمجھ کر اُس کا مذاق اڑاتے تھے لیکن کسی نے جاننے کی کوشش نہیں کی تھی کہ اس کی خاموشی کے پیچھے کیا چھپا ہے۔

اگلے دن میں نے نوید کو اپنے پاس بلایا۔باتوں باتوںمیں معلوم ہوا کہ اس کے والد کئی ماہ سے بیمار تھے اور گھر کی حالت بہت خراب تھی۔ اسی وجہ سے وہ پڑھائی پر توجہ نہیں دے پا رہا تھا۔ مجھے شرمندگی ہوئی کہ ہم اس کے جھکے ہوئے وجود کو دیکھتے رہے مگر اس پر پڑی برف ہٹانے کی کوشش کبھی نہیں کی۔

میں نے اپنے دوستوں کو سب کچھ بتادیا۔ پھر ہم نے مل کر نوید کے لیے کتابیں جمع کیں ،اُس کے نوٹس وغیرہ مکمل کروائے اور جہاں تک ممکن ہوا، اس کے گھر والوں کی بھی مدد کی۔

کچھ دیر بعد بعد نوید کے چہرے پر وہی پرانی مسکراہٹ واپس آگئی۔امتحان میں اُس نے پوری جماعت میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے تھے۔ نتیجہ سن کر وہ میرے پاس آیا اور بولا

'' تم لوگوں نے میری زندگی بدل دی...''

میں نے مسکرایا اور کھڑکی کے باہر صنوبر کے درخت کو دیکھتے ہوئے بولا:

'' نہیں نوید بھائی!ہم نے صرف تمھارا بوجھ تھوڑا سا کم کیا تھا، سیدھے تم تو خود ہوئے ہو۔''

اس دن کے بعد جب بھی سردیوں میں صنوبر پر برف جمتی ہے،میں سب سے پہلے اُس کی شاخوں سے برف ہٹاتا ہوں کیونکہ اب میں جان چکا تھا کہ جو شخص بوجھ سے جھک جائے، اُسے کمزور سمجھ کر کاٹ نہیں دینا چاہیے۔ کبھی کبھی اسے صرف سہارا اور تھوڑی سی محبت درکار ہوتی ہے۔

لکھاری

محمود مجید