عدیل ایک اچھا بچہ تھا. وہ پانچویں کلاس کا طالب علم تھا اور ہر سال اپنی کلاس میں کوئی نہ کوئی پوزیشن ضرور لیتا. وہ بڑوں کی عزت اور احترام کرتا تھا. اس کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ اسے اپنے ملک سے بے حد محبت تھی. اس کے والدین اسے اسلام اور پاکستان سے متعلق کہانیاں اور سچے واقعات سناتے رہتے تھے. یہی وجہ تھی کہ اسے اپنے دین اور ملک سے بہت لگاؤ تھا.
ایک دن اس کے ابو دفتر جانے کی تیاریاں کر رہے تھے کہ وہ بھاگا بھاگا ان کے پاس آیا اور بولا.
’ابو. آج دفتر سے واپسی پر جھنڈیاں ضرور لیتے آئیے گا.‘
’کیسی جھنڈیاں؟‘ اس کے ابو نے چونک کر پوچھا.
’لیجیے آپ کو یاد ہی نہیں کہ پرسوں ۴۱, اگست ہے. پاکستان کی آزادی کا دن. اس دن پورے ملک کو سجایا جاتا ہے. میں بھی اپنے گھر کو جھنڈیاں لگا کر سجاؤں گا.‘ وہ بولا.
’اوہ ہاں میرے تو ذہن سے نکل ہی گیا تھا. ٹھیک ہے میں تمہیں بہت سی جھنڈیاں لا دوں گا.‘ابو نے کہا.
’اور ایک بڑا سا جھنڈا بھی ہونا چاہیے جو ہم اپنی چھت پر لگائیں تاکہ دور دور سے نظر آئے.‘ وہ پرجوش لہجے میں بولا.
’اچھا بابا جھنڈا بھی لا دوں گا.اب خوش.‘ ابو مسکرائے اور باہر نکل گئے.
شام کو جب ابو دفتر سے واپس آئے تو عدیل نے سب سے پہلے پاکستان کی جھنڈ یوں کے متعلق ہی پوچھا.
ابو نے مسکراتے ہوئے چاند ستاروں والی ڈھیر ساری جھنڈیاں اور ایک بڑا سا جھنڈا اس کے حوالے کردیا.عدیل جھنڈیاں دیکھ کر بہت خوش ہوا.
۳۱, اگست کی شام وہ صحن میں جا پہنچا. اس کے ابو نے صحن میں بہت سی ڈور یاں باندھ دیں اور عدیل ان پر گوند سے جھنڈیاں چپکانے لگا.
پھر وہ اور اس کے ابو چھت پر چڑھے. ابو نے جھنڈا ایک لمبے سے بانس پر لگادیا اور بانس چھت پر سیدھا لگادیا.اس وقت تیز ہوا چل رہی تھی. جھنڈا بھی زور زور سے لہرانے لگا.
’دیکھا ابو.جھنڈا کس طرح جھوم رہا ہے.‘ عدیل خوش ہوکر بولا.
’ہاں. یہ بھی جشن آزادی کی خوشی منا رہا ہے.آؤ اب اندر آجاؤ.‘ ابو بولے اور دونوں نیچے اتر آئے.
تھوڑی دیر میں کالے کالے بادل آگئے اور موسم بہت خوش گوار ہوگیا.رات تک خوب ہوا چلتی رہی.عشا ء کی نماز پڑھ کر عدیل سوگیا.
رات کو اچانک بادلوں نے شور مچایا تو عدیل کی امی کی آنکھ کھل گئی. ان کی نظر دائیں طرف پڑی تو وہ چونک اٹھیں.انہوں نے دیکھا کہ عدیل کا بستر خالی ہے.
انوں نے عدیل کو آواز دی مگر کوئی جواب نہ ملا. پھر انہوں نے باتھ روم چیک کیا مگر عدیل وہاں بھی نہ تھا. اب تو وہ پریشان ہوگئیں اور انہوں نے عدیل کے ابو کو جگا دیا.
’حیرت ہے یہ رات کو کہاں چلاگیا.‘ ابو پریشان ہو کر بولے. انہوں نے عدیل گھر میں ہر طرف دیکھا اور آوازیں دیں پھر عدیل کی آواز آئی.
’ابو میں یہاں ہوں.‘
’ارے! یہ تو صحن میں ہے.‘ ابو نے چونک کر کہا اور دونوں جلدی سے صحن کی طرف دوڑے. اس وقت ہلکی ہلکی بارش ہورہی تھی.
’عدیل. تم یہاں کیا کر رہے ہو؟‘ امی نے پوچھا.
’امی دیکھیں نا بارش ہورہی ہے. اگر بارش تیز ہوگئی تو ساری جھنڈیاں بھیگ کر خراب ہوجائیں گی. پھٹ جائیں گی. اور ہماری مس نے کہا تھا کہ ہمیں اپنے قومی پرچم کی حفاظت کرنی چاہیے.‘ عدیل نے کہا.
’واقعی بیٹا تم ٹھیک کہتے ہو. ہمیں تو اس بات کا احساس ہی نہیں ہوا.‘ ابو بولے.
’ہاں ہمارا بیٹا ہم سے ذیادہ ذہین اور ملک سے محبت کرنے والا ہے.‘ امی بھی فخر سے بولیں.
پھر امی اور ابو نے بھی اس کے ساتھ مل کر جلدی جلدی ساری جھنڈیاں اتار لیں.اور سنبھال کر کمرے میں رکھ دیں.
دوسرے دن دھوپ نکل آئی تو عدیل نے ساری جھنڈیاں دوبارہ لگا دیں. پاکستان کی خوبصورت جھنڈیاں ہوا سے ہل ہل کر عدیل اور اس کے امی ابو کا شکریہ ادا کر رہی تھیں کہ جس طرح آپ نے ہمیں بارش میں خراب ہونے سے بچایا ہے. اسی طرح اللہ میاں بھی پاکستان کو ہر آفت سے بچائیں گے. انشاء اللہ.

